कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

شکلِ جمیل بنام ہنرِ دست

تحریر:ایمن فردوس بنت عبدالقدیر

ہمارے کاشانۂ عافیت میں تین دوشیزائیں (بیٹیاں) ربّ کریم کی عطا ہیں۔ سبھی اپنے اپنے قرینے پر نازاں، مگر خدانخواستہ اگر ہمارے مطلعِ خانہ داری پر ’’مسابقۂ ہنر‘‘ کا آفتاب طلوع ہو جائے، تو میری دونوں بہنیں مسندِ امیدوار پر جلوہ فروز ہوں گی اور میں مسندِ داوری پربیٹھوں گی؛ اس سبب نہیں کہ میں گوہرِ نایاب و یگانہ ہوں، بلکہ اس اعتراف کے ساتھ کہ میرے طغرائے اعمال میں گنوانے کو متاعِ ہنر مختصر ہے۔
بڑی بہن کو ہی ملاحظہ فرمایئے! ماشاءاللہ، پیکرِ ذہانت، سراپا سلیقہ، چابکدست و کوشاں۔ خیاطی اس کے زیرِ نگیں، زرّدوزی و کڑھائی میں یدِ طولانی، تاروں کی بُنائی معجزہ نما، نقاش و رنگ شناس ایسی کہ بے جان شے میں روح پھونک دے۔ دستکاری (کرافٹ) کی شہزادی، تحفہ ہائے لطیف کی خالق اور آرائشِ مکاں کی معمار۔ باورچی خانے میں قدم رنجہ ہو تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوہِ طور پر تجلی اترنے والی ہو۔
اس کے دستِ نازک میں کپڑا تھما دیجیے تو وہ فردا کے نقش و نگار بننے لگتی ہے، دھاگا ملے تو سلکِ مروارید سجنے لگتی ہے، اون کا گولہ ہو تو سرداری رت اتر آتی ہے، رنگ و برش ہوں تو مانی و بہزاد شرما جائیں، اور چند ردی کے ٹکڑے رکھ دیجیے تو وہ کوڑے سے زرِ خالص تراش لاتی ہے۔ ہمارے مکاں میں اگر کوئی شے بے مصرف ٹھہر کر پوچھے، ’’میرا انجام کیا ہوگا؟‘‘ تو بڑی بہن کا تبسم آمیز حکم ہوتا ہے، ’’تجھ سے یہ شاہکار بنے گا!‘‘
شؤونِ خانہ داری میں اس کی برق رفتاری دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ایک کارنامہ تمام نہیں ہوتا کہ دوسرا طرۂ دستار بن جاتا ہے۔ طعام بھی تیار، مکاں بھی تاباں، لباس کی طہارت بھی محفوظ، اور طُرّہ یہ کہ کوئی ایسی دستی تخلیق بھی تیار کہ گھر والے ششدر رہ جائیں—یہ ساعتیں اس کے شب و روز میں آتی کہاں سے ہیں؟ مجھے تو اکثر شبہ گزرتا ہے کہ اس کے لیے ربّ العزت نے چوبیس کے بجائے اڑتالیس گھنٹوں کا پیمانہ مقرر کیا ہے۔
اب دوسری بہن کا تذکرہ چھیڑیے۔ وہ بھی کسوٹی پر کامل اترتی ہے۔ خیاطی و کڑھائی کی مہارت کے ساتھ درس و تدریس (ٹیوشن) اور رزقِ حلال کی ملازمت کا سنگم۔ اپنی بازوؤں کی کمائی سے مکاں میں فراوانی و آسانی کے دیپ جلانے والی۔ صبح کارزارِ ملازمت، پھر حلقۂ درس، اور پھر مطلعِ خانہ داری کے ہنگامے—یہ پیکرِ توانائی کہاں سے لاتی ہے کہ ہر مورچہ فتح کر لیتی ہے۔
اطفال کی معلمہ، تدبیرِ منزل کی سالار، طعام کی ماہر، اور بوقتِ ضرورت خیاطی کی استاد۔ میں اسے دیکھ کر متحیّر رہ جاتی ہوں کہ یہ صنفِ نازک ہے یا مملکتِ خانہ داری کا چلتا پھرتا ’’ملٹی پرپز پیکیج‘‘!
اور پھر دائرے کے مرکز میں آتی ہے یہ فقیرِ بے ہنر ذات!
جی ہاں، اس مکاں کی تیسری بیٹی۔
میرے حصے میں بھی ربِ ذوالجلال نے ایک استعاراتی انعام رکھا ہے۔ خلائق مجھے دیکھتی ہے اور زمزمۂ تحسین بلند ہوتا ہے:
’’ماشاءاللہ! کتنی خوب صورت ہے!‘‘
کوئی کہتا ہے: ’’سبحان اللہ، پیکرِ نور ہے۔‘‘
کوئی پکارتا ہے: ’’الحمدللہ، گلزارِ حسن کی شہزادی ہے۔‘‘
اور میں دل کی نہج پر سوچتی ہوں کہ چلو، رب نے ایک ایسی سندِ بے زحمت عطا فرمائی ہے جس کے لیے کسی ریاضتِ پیہم، امتحانی عذاب، مشقِ جانکاہ یا سرٹیفکیٹ کی حاجت نہیں۔
مگر جاں گداز المیہ یہ ہے کہ میری دونوں بہنوں کا تعارف ان کے ہنر کے طغرغوں سے ہوتا ہے، اور میرے نام کے آگے صرف آئینہ خانے کی تلاوت چپکا دی جاتی ہے۔
بڑی بہن نے کوئی شے تراشی تو صدا اٹھی: ’’واہ! کیا یدِ بیضا ہے!‘‘
دوسری بہن نے کسبِ معاش اور تدریس سے گھر کا بوجھ ہلکا کیا تو صدا آئی: ’’شاباش! مدبر و فرزانہ!‘‘
اور میں سامنے آؤں تو: ’’ماشاءاللہ، کیا سروِ سیمتن ہے!‘‘
بس! یہیں ہماری طومارِ تعریف پر قفلِ ابد لگ جاتا ہے۔
کبھی کبھی تمنا مچلتی ہے کہ کوئی چہرۂ زیبا کی زیارت کے بعد یہ بھی پرسش کر ڈالے:
’’صورت تو نازنین ہے ہی، ترکش میں تیرِ ہنر کتنے ہیں؟‘‘
تاکہ مجھے بھی اپنے خفِیّہ جوہروں کی کھوج کا سامان میسر آتا!
اگرچہ یہ بھی بہتانِ عظیم ہو گا کہ مجھے خانہ داری کی الفت یا ادراک نہیں آتیں۔ جھاڑو کی گردش، برتنوں کی صیقل، فرش کی طہارت، طعام کی تیاری، لباس کی شکنیں—سب بطریقِ احسن انجام پاتی ہیں۔ مگر میری حیثیتِ عمل بس ’’ہو جانے کی حد‘‘ تک محدود ہے۔
سندِ کمال میسر نہیں۔ جھاڑو کی بابت کہوں گی، ’’ہاں، سمیٹ دیتی ہوں۔‘‘ برتنوں پر کہوں گی، ’’ہاں، شفاف ہو جاتے ہیں۔‘‘ طعام پر کہوں گی، ’’ہاں، قابلِ ہضم ہے۔‘‘ مگر کوئی طعنہ دے کہ ’’کیا شاہانہ طعام بناتی ہو؟‘‘ تو میں دیدہ و دل باختہ ہو کر موضوع کی بساط لپٹ دوں گی۔
میری بہنیں باورچی خانے میں قدم رکھیں تو مشک و عنبر کی آمیزش سے فضائیں معطر ہوں اور پرسش ہو: ’’آج کون سا طرب‌انگیز طعام پک رہا ہے؟‘‘
میں طعام پکاؤں تو اہل خانہ پہلے محتاط نگاہوں سے جانچتے ہیں کہ آیا یہ مائدۂ زمینی ’’قابلِ تلفظ و تناول‘‘ بھی ہے یا نہیں! یہ تفاوتِ مراتب کچھ کم جاں گداز نہیں۔
خیاطی آتی ہے، مگر اتنی نہیں کہ محلہ در محلہ لباسوں کے انبار میرے آستانے پر ڈھیر ہوں۔ ضرورت پڑنے پر شیرازہ بند کر لوں، مگر وہ طلاطم خیز تخیل کہاں کہ کپڑے کو دیکھ کر دہائیوں ڈیزائن جھلملانے لگیں۔
کڑھائی؟ لاطینی طلسمات۔
بُنائی؟ تار عنکبوت کی الجھن۔
نقاشی و پینٹنگ؟ اللہ کی پناہ!
دستکاری (کرافٹ)؟ نام سن کر ہی اعصاب شل ہونے لگتے ہیں۔
مہندی؟ میری مہندی کی نقاشی دوسرے دن خود صاحبِ نقش سے پوچھتی رہتی ہے کہ آیا تو نے مجھے گلاب کی پنکھڑی سمجھ کر سجایا تھا یا کسی سیلابِ بلاخیز کا نقشۂ زمینی!
رنگ آمیزی؟ رنگوں سے میرا رشتہ ایسے ہی ہے جیسے کسی گنگا جمنی بولنے والے کا عبرانی یا سنسکرت کے قدیم صحیفوں سے۔
اور خطاطی (کیلی گرافی)؟ آیاتِ قرآنیہ کی تجلی کو قرینے سے اتارنے کا ہنر! دل مچلتا ہے، مگر قلم اور قرطاس مجھے دیکھتے ہی سہم جاتے ہیں کہ آج پھر اس نادان نے تجربہ گاہ سجا دی!
اصل عقدہ یہ ہے کہ ہم نے دامنِ دل کو قلم کی سیاہی سے وابستہ رکھا اور ہاتھ کے ہنر کو ’’فردا‘‘ کی مطلعِ بے ثبات پر ادھورا چھوڑ دیا۔ اور وہ موعودہ ’’فردا‘‘ کبھی طلوعِ خورشید سے آشنا نہ ہوا۔
جب کبھی کسی نئے ہنر کا شوق عود کر آتا ہے تو آغازِ کار کچھ یوں ہوتا ہے:
یومِ اول: ’’اب تو یہ کوہِ گراں سر کر کے رہوں گی!‘‘
یومِ دوم: ’’کچھ دشوار سہی، مگر دستِ تسخیر میں آ جائے گا۔‘‘
یومِ سوم: ’’سہل ہے، بس ذرا سا تواتر درکار ہے۔‘‘
یومِ چہارم: ’’آج بدن کو کوفت ہے۔ کل سے باقاعدہ آغاز ہو گا۔‘‘
اور پھر وہ ’’فردا‘‘ اتنی طویل مسافت ط طے کرتا ہے کہ ہنر خود انتظار کی صلیب پر دم توڑ دیتا ہے!
بہنوں کے شاہکار دیکھ کر دل آرزو مند ہوتا ہے کہ کاش! پھر ذہن صدع دیتا ہے کہ ریاضت درکار ہوگی۔ بس، یہی فقرہ آرزو کی تمنا کا قتلِ عام کر دیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جو عزمِ مصمم کر لے، سنگِ گراں بھی موم ہو جاتا ہے۔ اوّلین دس تخلیقات نگاہوں کو مجروح کریں گی، مگر گیارہواں نقش منور ہو گا۔ مگر میں نے اس گیارہویں زینہ تک پہنچنے کے لیے ابتدائی دس زینو کی مسافت ہی طے کب کی ہے! لہٰذا اس بے ہنری کا ملزم حالات سے زیادہ میری یہ عذر تراش ذات ہے۔
پھر بھی، دلِ بیدار اس حقیقت کا اسیر ہے کہ خالقِ کون و مکاں نے سب کو ایک سانچے میں نہیں ڈھالا۔ کسی کو یدِ بیضا دیا، کسی کو خردِ رسا، کسی کو صبرو استقامت، کسی کو روحِ خدمت، کسی کو فن کی معراج، کسی کو فکرِ رسا اور کسی کو حسنِ مسجّد۔ اگر سب یکساں ماہر ہوتے، تو یہ بساطِ ہستی بے مزہ ہو جاتی۔
اور جمالِ ظاہر بھی تو ربّ جلیل کا عطا کردہ ایک معجزۂ عظیم ہے۔ حمد و ثنا کا حق ادا نہ ہو سکے۔ الحمدللہ، ماشاءاللہ، سبحان اللہ! جو عطا ہوا، وہ خیر و حیا کے حصار میں قائم رہے۔
فتنہ تب جنم لیتا ہے جب جمالِ ظاہر کو میرا واحد استعارہ بنا دیا جائے اور ہر کوتاہی کو بہنوں کے فضائل کے ترازو میں تولا جائے۔
ہمارے خاندانی ایوانوں میں یہ تقابلِ جاں گداز کچھ زیادہ ہی رواں ہے۔
’’دیکھو، اسے کیا کیا کمال آتا ہے!‘‘
’’کیسا مدبر ذہن پایا ہے!‘‘
’’خانگی امور، ملازمت، تدریس—سہ رخی یلغار!‘‘
’’وہ کیسی زرنگار چیزیں تراشتی ہے، تمہارا دامن خالی کیوں ہے؟‘‘
اور خنجرِ آخریں:
’’تمہیں تو سلیقہ ہی نہیں!‘‘
ایسے اقوالِ قاطع سن کر انسان حیاتِ گزشتہ کی بازیافت میں نکل پڑتا ہے کہ شاید کوئی مخفی جوہر برآمد ہو!
دل سوچتا ہے: کچھ تو دامن میں ہے!
فہرست تشکیل پاتی ہے:
خیاطی… معمولی سی۔
طعام… قابلِ اعتماد۔
جھاڑو… بر قرار۔
برتن… شفاف۔
فرش… طاہر۔
مطالعہ… عمیق!
قلم کاری… الحمدللہ!
تمام شد!
سامنے بہنوں کی دیوانِ کمال کھولیے تو یوں لگتا ہے جیسے کسی نے معارفِ ہنر کی شرحِ کبیر رقم کر دی ہو۔
یہی باعث ہے کہ احساسِ ندامت کے بجائے شعور بیدار ہوتا ہے کہ انسان تقابلِ باطل کے بجائے ذات کی باطنی کیمیا دیکھے۔ کسی کو دس فن ملے تو ضروری نہیں گیارہواں بھی اسی کی ملکیت ہو۔ اور دو ہنر جاننے والا بے کارِ مطلق نہیں ہوتا۔
جو ناواقف ہے، وہ آموزگار کی دہلیز تک جا سکتا ہے۔
جو مفقود ہے، وہ طلب سے پایا جا سکتا ہے۔
اور شکایت کی گرد جھاڑنے سے پہلے عمل کا دیپ جلانا لازم ہے۔
میرے دامن کا عیب یہی ہے کہ میں نے طلب کی زحمت کم اٹھائی۔ ثبوت مانگو تو یہی فائل میرے خلاف گواہی دے گی۔
پھر بھی، بہنوں کی کامرانیاں میرے لیے باعثِ افتخار ہیں۔ ان کا عروج میری شکست کا استعارہ نہیں اور میرا حسن ان کے فضائل کی نفی نہیں۔
بس! تمنا کی لو یہ ہے کہ لوگ ترازو کو طاق پر رکھ کر ہر گل کو اس کی اپنی شاخ پر دیکھیں۔
میری بہن ہنرمند ہے، تو اسے تاجِ ہنر پہنائیے۔
دوسری بہن تدبیرِ معاش اور علم کی شمع جلا رہی ہے، تو اس کے بازوؤں کو سلام کیجیے۔
اور میں اگر ہنر کی اس کہکشاں میں ابھی طفلِ مکتب ہوں، تو مجھے میری رفتار سے چلنے کی مہلت دیجیے۔
ہر مسافر کا افق جداگانہ ہے۔
کوئی زود فہم ہے، کوئی دیرپا۔
کوئی یدِ ہنر کا شہزادہ ہے، کوئی قلم کی سلطنت کا مالک۔
اور کوئی محض اس لیے پس ماندہ ہے کہ اس نے ابھی تک اپنے اندر کی خوابیدہ چنگاری کو ہوا نہیں دی۔
شاید میری حالت بھی یہی ہے۔
بہنوں کے پاس ہنر کی جامع منڈی ہے، اور میرے حصے میں قلم کا ایک مختصر سا کاؤنٹر آیا ہے۔
مگر دکانِ حیات ہنوز مقفل نہیں ہوئی!
کیا عجب کہ کل کو میں بھی کوئی انوکھا نقش تراش لوں اور مکاں کے در و دیوار کے سامنے فخر سے ندا لگاؤں:
’’دیکھیے! یہ میری قلم اور فکر کا جوہر ہے!‘‘
اور اس روز کوئی مسکرا کر کہے:
’’ماشاءاللہ، خوب صورت ہے!‘‘
تو میں تبسم کے ساتھ جواب دوں گی:
’’خوب صورت تو ازل سے تھی، اب ہنر آشِنا بھی ٹھہری!‘‘

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also
Close