कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اردو فقط اردو نہیں تہذیب ہے میری

تحریر:ڈاکٹر تبسم آراء
جامعہ عثمانیہ لکچرر اور نیشنل لینگو جس کالج حیدر آباد
2/A/13-6-434/228 سردار باغ مہدی پٹنم رنگ روڈ ، پلر نمبر 89 حیدرآباد

ہندوستان قدیم زمانے سے ہی مختلف نسلوں، قوموں، تہذیبوں، مذہبوں اور زبانوں کا گہوارہ رہا ہے۔ ہندوستان میں قدیم زبانیں ہریانوی، برج وغیرہ کے علاوہ جدید و اہم زبان اردو بھی ہے۔ دراصل اردو زبان محض ایک زبان ہی نہیں بلکہ ایک تہذیب، ایک احساس اور ایک وحدت کا پیغام ہے۔ اور یہ زبان محبت، شیریں گفتاری کا خزینہ ہے۔
تہذیب سے مراد سنوارنا یا اصلاح کرنا، جس میں سماج کے افراد کی سیرت و کردار کی تشکیل ہوتی ہے۔ اور اس میں سماج کے افراد کی زندگی کے خدوخال، رسم و رواج، اصول و ضوابط قائم کئے جاتے ہیں، تہذیب کہلاتی ہے۔ گویا زندگی کا گزر بسر کرنے کا طریقہ (Culture) تہذیب ہے۔
صحافی رضا عابدی اردو دنیا سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اردو کسی زبان کا نام نہیں، بلکہ اردو تہذیب کا نام ہے۔ لہٰذا اردو ایسی تہذیب ہے جس میں بہت سے عوامل شامل ہیں۔ جس میں سلیقہ، طریقہ، قرینہ، رکھ رکھاؤ، اٹھنا، بیٹھنا، کھانا پینا، اوڑھنا، پہننا، رشتے مراسم، قربت، رفاقتیں، نزاکتیں، آرائش، آسائش اور سب سے بڑھ کر عام زندگی کی بولی، بات چیت، اصرار، لب و لہجہ وغیرہ جس کو ہم اردو تہذیب کہتے ہیں۔ کسی قوم کی بقا اور عظمت کی تہذیب سے ہے۔
اردو خالص ہندوستانی زبان ہے۔ اس کی آبیاری میں ملک کے تمام طبقات بلا لحاظ مذہب و ملت، رنگ و نسل اسے سنوارے، نکھارے اور پروان چڑھائے۔
اردو تہذیب کا عکس یعنی آپ، جناب، محترم، صاحب، درخواست، عرض، گزارش، فرمائیے، فرمائش، تشریف رکھئے، آئیے، جائیے، کھائیے، ٹھہریئے وغیرہ جیسے الفاظ گھریلو زندگی سے لے کر مختلف محفلوں تک اردو بولنے والوں میں روزمرہ گفتگو کا حصہ ہیں۔ یہ زبان ہی نہیں بلکہ اردو تہذیب کا مظہر ہے۔ مثلاً اگر بزرگوں سے ادب سے پیش آنا ہو تو "آداب عرض ہے” یا "السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ”، دادا جان یا ابو جان، ما موجان وغیرہ یہ جملے تہذیب کو نمایاں کرتے ہیں۔
مسلمان اور ہندو تہذیب میں میل جول آٹھویں صدی عیسوی کے آغاز میں شروع ہو گیا تھا۔ اردو زبان کی تشکیل و ارتقا میں ہندوستانی مشترکہ کلچر (Common Culture) ہے جس میں مسلمانوں کے علاوہ ہندو، سکھ، عیسائی اور دوسرے مذہب کے لوگ بھی فعال رہے ہیں۔ کدم راؤ پدم راؤ سے لے کر آج تک کی مشہور کتابوں میں ہندوؤں، سکھوں یہاں تک کہ انگریزوں کی تحریر کی ہوئی تصنیفیں بھی شاہکار کا درجہ رکھتی ہیں۔
ڈاکٹر سید محمود اپنی کتاب ”اردو مشترکہ ہندوستانی تہذیب“ میں رقم طراز ہیں کہ یہ زبان جس کو آج ہم ہندو مسلمان بول رہے ہیں ایک ہزار برس کے میل جول سے بنی ہے۔ اس کی آبیاری میں ہمارے ہندو مسلمان دونوں کے بزرگوں کی عمریں بیتی ہیں۔ اور یہ زبان ہندوستان میں قومی یکجہتی کی نشانی ہے۔ چنانچہ اردو زبان اور ہندوستانی ثقافت ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مسلمانوں اور ہندوؤں کے عقائد، رسوم و رواج اور تہذیب و معاشرہ کے تمام عناصر ایک دوسرے سے مختلف ہیں لیکن ان کا ایک دوسرے پر گہرا اثر ہوا ہے اور ان تمام معاملات میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے مابین صدیوں کے باہمی میل جول سے ایک نئی تہذیب وجود میں آئی، جسے ہم مشترکہ تہذیب کہتے ہیں۔ مشترکہ تہذیب کی بنیاد مشترکہ اردو زبان اس تہذیب کی دین ہے۔
اردو زبان و ادب کے عہد بہ عہد ارتقا کا جائزہ لینے سے ہمیں یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اردو زبان و ادب نے ابتدا ہی سے ہندوستانی تہذیب کا حق بخوبی نبھایا ہے۔ امیر خسرو کے دوہے اور لوک گیت، قلی قطب شاہ، علامہ اقبال، غواصی، نشاطی، پریم چند، نظیر اکبر آبادی، میر، سودا، رجب علی بیگ سرور، انشاء اللہ خان انشاء، مصحفی، چک بست وغیرہ کی تخلیقات سے عصر حاضر کے شعراء نے ہندوستانی تہذیب کے موضوعات، وسائل، عید و تہوار، میلے، موسم اور کھیل تماشے کی عکاسی کے ساتھ ساتھ 1857ء سے 1947ء تک جنگ آزادی کے حالات کی تاریخ رقم کی ہے۔
ہندوستان میں صرف عقائد، رسوم و رواج، تہذیب و تمدن، معاشرت، سماجی ثقافت (Common Culture) غالب ہیں۔ جیسے فنون لطیفہ، موسیقی، رقص، نقاشی، مصوری، طرز تعمیر یا کوئی بھی فن (Art) ہو، ہماری تہذیب میں شامل ہیں۔
پروفیسر گوپی چند نارنگ اپنی کتاب "اردو غزل اور ہندوستانی تہذیب” میں لکھتے ہیں کہ اردو زبان ہماری پچھلی کئی صدیوں کی کمائی ہے، جس سے کوئی انصاف پسند نظر نہیں چرا سکتا۔ اہل ظرف جانتے ہیں کہ اردو زبان جینے کا سلیقہ، سوچنے کا انداز ہے۔ اردو محض زبان نہیں، ایک طرزِ زندگی، ایک اسلوبِ زینت بھی اور مشترکہ تہذیب کا وہ ہاتھ ہے جس نے ہمیں بنایا اور سنوارا ہے۔ جسے ہم آج اپنی پہچان کی ایک منزل سمجھتے ہیں۔ اس زبان کے قدیم نام تھے دہلوی، ریختی، کھڑی بولی، لشکری، ہندوی، ہندوستانی وغیرہ۔ بدلتے بدلتے آخر میں اردو کے نام سے مشہور ہو گئی۔ اردو برصغیر ہندو پاک کی تہذیب و روایت کا ایک لازمی حصہ ہے اور یہ زبان مختلف ثقافتی، سماجی، سیاسی پہلوؤں کی عکاسی کرتی ہے۔
اردو خالص ہندوستانی زبان ہے۔ اس کا خمیر ہندو مسلمانوں کے صدیوں کے میل جول اور باہمی تعلقات سے تیار ہوا ہے۔ اس کی آبیاری میں ملک کے تمام طبقات نے بلا لحاظ مذہب و ملت، رنگ و نسل اسے سینچا ہے۔ ڈاکٹر سید عابد حسین لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے ہندوستان آنے کے بعد دہلی کے علاقے میں مقامی بولی اور فارسی کے میل جول سے ایک مشترکہ کاروباری زبان بن گئی تھی، جو آگے چل کر اردو کہلائی۔
غرض اردو تہذیب، ادبی اصناف جو مسلمانوں اور ہندوؤں کے مابین ہیں، مثلاً شاعری، نظم، غزل، قوالی، گیت، داستان، ڈرامے، قصیدہ، رباعی، سلام، مثنوی، نعت شریف، منقبت، مرثیہ، دوہے وغیرہ جیسے کلام ہمیں ان شعراء کی بدولت ملے ہیں۔ ان شعراء میں ہیں امیر خسرو، نانک، غالب، کبیر داس، تلسی، میرا بائی، ولی، میر، جگر مراد آبادی، فیض احمد فیض، اقبال، حسرت موہانی، پریم چند وغیرہ شامل ہیں۔
غیر مسلم شعراء کی نعت گوئی کا آغاز جنوبی ہند سے ہو چکا تھا، اور مسلمان شاعروں کی طرح غیر مسلم شعراء نے بھی عقیدت و محبت کے اظہار کے لئے حضور اکرم ﷺ کی سیرت و نعت کو بھی اپنی تخلیقات کا موضوع بنایا ہے۔ پچھمن نارائن شفیق کا معراج نامہ اور راجہ مکھن لال مکھن کا نعتیہ کلام اظہارِ عقیدت کے نمونے ہیں۔ غیر مسلم شعراء کے کلام میں مشترکہ ہندوستانی تہذیب جو ان کی شاعری کی خصوصیات ہیں۔
شعراء کے کلام ملاحظہ فرمائیے:
(۱) مہاراجہ کشن پرشاد
سلام اس پر جلائی شمعِ عرفاں جس نے سینوں میں
کیا حق کے لئے بے تاب سجدوں کو جبینوں میں
کافر کہو شاد کو، ہے عارف و صوفی
شیدائے محمد ہے، یہ سرائے مدینہ
(۲) کنور مہندر سنگھ:
عشق ہو جائے کسی سے کوئی چارہ تو نہیں
صرف مسلم کا محمدؐ پہ اجارہ تو نہیں
(۳) جگن ناتھ آزاد:
سلام اس ذاتِ اقدس پر سلام اس فخرِ دوراں پر
ہزاروں جس کے احسانات ہیں دنیائے انسان پر
(۴) راجیش ریڈی للت:
اپنے مقسوم کی روٹیاں کھاتا ہے شباب
آپ کا دست نگر ہو یہ ضروری تو نہیں
غیر مسلموں کی نعت شریف سے دلچسپی کی وجوہات بھی ڈاکٹر ریاض مجید نے یوں بیان کی ہیں: ہندو شاعروں کی نعت گوئی کا حقیقی دور 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد ہوا۔ عصر جدید میں ہمیں متعدد ایسے غیر مسلم شعراء ملتے ہیں جنہوں نے مقدار اور معیار ہر اعتبار سے اس روایت کو آگے بڑھایا۔ اس کے بہت سے سیاسی اور معاشرتی عوامل ہیں۔ ایک بڑی وجہ وہ رواداری کی فضا ہے، جو جنگ آزادی کے بعد ہندو مسلم قوموں میں پہلے کی بہ نسبت کچھ نمایاں ہوگئی تھی۔ انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی میں مقصد و منزل کی ہم آہنگی بھی دونوں میں قدر مشترکہ رکھتی ہے۔ مخلوط معاشرے میں اگرچہ ہندو مسلم تعلقات میں کشیدگی ہمیشہ رہی اور دونوں قوموں کے تہذیب و تمدن میں واضح اختلاف رہا، اس کے باوجود اہل فکر و قلم کے حلقوں میں ایک رواداری کی فضا ملتی ہے!
مسلمان شعراء:
ہندوستان کے مشہور نعت گو شاعر حسن کاکوری کا کلام، ہندوستانی ماحول پر شعر ملاحظہ ہو:
سمتِ کاشی سے چلا جانبِ متھرا بادل
برق کے کاندھے پہ لاتی ہے صبا گنگا جل
شاعر مشرق علامہ اقبال ہمیشہ گنگا جمنی تہذیب کے پاسدار رہے ہیں اور اس کو اپنی شاعری میں شامل کیا ہے۔ ان کی نظم ”ترانۂ ہندی“ نہ صرف ہندوستان کی عظمت کا حسین بیان ہے بلکہ ہندوستان کی تہذیب و ثقافت کا بہترین نمونہ بھی ہے۔
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
اے آبِ رودِ گنگا! وہ دن بھی یاد تجھ کو؟
اترا تیرے کنارے جب کارواں ہمارا
نور احمد میرٹھی کی شاعری میں ہندوستانی تہذیب کے عناصر ملتے ہیں۔
نور احمد میرٹھی: (نظم ہماری تہذیب)
ہماری تہذیب ہے پیاری، محبت کا ہے پیغام
یہاں ہر ذات کا انسان رکھتا ہے مساوی مقام
نہ نفرتوں کا ہے سودا، اخوت کا انمول پیار
صفائی، سچ، شرافت ہو، ہو علم کا احترام
یہی ہے رنگ ہندوستانی تہذیب کا پیغام
نہ ذات پات کا جھگڑا، نہ مذہب کی لڑائی
ہزاروں رنگ ہیں پھر بھی دلوں میں ہے یکجائی
الغرض اردو زبان کے مختلف اصناف میں شاعری ایک اہم وسیلہ ہے، جس نے مشترکہ تہذیب کی علامت کو اجاگر کیا ہے۔
بہر حال اردو ہماری پہچان، ہماری تہذیب اور ہمارے جذبات اور روح کی تازگی، مشترکہ ورثہ کی خوشبو ہے۔ اس کا تحفظ صرف لسانی کام نہیں بلکہ ثقافتی فریضہ ہے۔ اگر ہم اردو کی تہذیب کو زندہ رکھیں تو ہم اپنی تہذیب اور اپنی پہچان کو محفوظ رکھ سکتے ہیں اور ہم اردو زبان کو بولنے کا ذریعہ ہی نہ سمجھیں بلکہ اسے اپنائیں کیونکہ اردو زبان ہماری تہذیب کی امین ہے اور ہم اپنی نسلوں کے ذریعہ اسے پروان چڑھائیں تا کہ آنے والے وقت میں نئی نسل یہ کہے کہ اردو فقط اردو نہیں تہذیب ہے میری

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے