कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کمبھ کے حادثات انتظامیہ اور عوام کیلئے لمحہ فکریہ

تحریر: سید شاہ واصف حسن واعظی
9235555776

مہا کمبھ کا میلہ ہر 12 برس میں ایک مرتبہ منعقد ہوتا ہے جس میں کروڑوں افراد شرکت کرتے ہیں۔ اس سال کامہاکمبھ 13 جنوری کو شروع ہوا تھا اور تقریباً چھ ہفتے جاری رہے گا۔ اس میں دنیا بھر سے آنے والے عقیدت مند سنگم پر اشنان کرتے ہیں، یہ وہ مقام ہے جہاں ہندو عقیدے کے مطابق مقدس دریا گنگا، جمنا اور اساطیری دریا سرسروتی ملتے ہیں۔
بدھ کو اُتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ مہا کمبھ کے دوران وہاں ایک بہت بڑا جمِ غفیر اْمڈ آیا ہے اور اب تک تقریباً تین کروڑ افراد وہاں اشنان کر چکے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ صورتحال قابو میں ہے اور کسی کو منفی خبریں نہیں پھیلانی چاہئیں کیونکہ اس کے نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔لیکن چند دنوں قبل وہاں بھگدڑ مچ گئی اوربڑی تعداد میں لوگ ہلاک بھی ہوئے اور زخمی بھی اور افراء تفری کا ایسا نظارہ سامنے آیا جس نے سارے انتظامات کے سلسلے میں سوالات کھڑے کردئے یہاں تک کہ شنکر اچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی نے اس کیلئے منتظمین خاص طور پر وزیراعلیٰ اترپردیش کو ذمہ دارقرار دیتے ہوئے ان کے استعفیٰ کامطالبہ کیاجبکہ اُتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ کے مطابق میلے میں بھگدڑ رات ’ایک اور دو بجے کے درمیان‘ مچی جب کچھ عقیدت مندوں نے پولیس کی جانب سے رکاوٹیں ہٹا کر سنگم پہنچنے کی کوشش کی۔لیکن اس حادثے سے متاثر ہونے والے افراد کمبھ میلے کی انتظامیہ اور وہاں کیے جانے والے انتظامات پر انگلیاں اُٹھاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس طرح کا واقعہ پہلی بار رونمانہیں ہوا ہے بلکہ ماضی میںبھی کئی المناک سانحات ہو چکے ہیں۔ خاص طور پر 2013 میں الہ آباد ریلوے اسٹیشن پر پیش آنے والے سانحے، 1954 کے بھگدڑ اور دیگر واقعات پیش آچکے ہیں۔
1954 میں الہ آباد میں کمبھ میلے کے دوران ہونے والی بھگدڑ ہندوستان کی تاریخ کے بدترین حادثات میں شمار کی جاتی ہے۔ اس حادثے میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 800 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے تھے۔ اس سانحے کی بنیادی وجوہات میں ناقص انتظامات، ضرورت سے زیادہ بھیڑ، اور وی آئی پی موومنٹ شامل تھے، جس کی وجہ سے کئی راستے بلاک ہو گئے اور لوگوں میں افراتفری مچ گئی۔
2013 کے کمبھ میلے میں ایک اور بڑا حادثہ الہ آباد ریلوے اسٹیشن پر پیش آیا، جب لاکھوں عقیدت مندوں کی آمد و رفت کے دوران پل گرنے کی افواہ پھیل گئی، جس کے نتیجے میں بھگدڑ مچ گئی۔ اس حادثے میں کم از کم 36 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اسٹیشن پر اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو سنبھالنے کے لیے مناسب انتظامات نہیں کیے گئے تھے، اور پل پر حد سے زیادہ بھیڑ ہونے کے باعث یہ حادثہ پیش آیا۔
2019 کے کمبھ میلے میں ایک اور بڑا حادثہ پیش آیا جب ایک خیمہ کیمپ میں آگ لگ گئی، جس سے متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ اس واقعے نے میلے کے دوران حفاظتی اقدامات کی خامیوں کو بے نقاب کر دیا، کیونکہ آگ بجھانے کے آلات اور ایمرجنسی انخلا کیلئے مناسب راستے موجود نہیں تھے۔
کمبھ میلے کے حادثات کی وجوہات: کمبھ میلے میں حادثات کی سب سے بڑی وجہ ناقص حکومتی انتظامات ہوتے ہیں۔ لاکھوں عقیدت مندوں کی آمد کے باوجود بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور بھیڑ کو منظم کرنے کیلئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جاتے۔ 1954، 2013 ،2019 اور2025کے حادثات میں بھی یہی عنصر سب سے نمایاں تھا۔
ہجوم کا غیر منظم رویہ:جب لاکھوں لوگ ایک ہی مقام پر محدود وقت کے لیے جمع ہوتے ہیں، تو بھگدڑ اور دیگر حادثات کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ بہت سے زائرین اپنے مذہبی جوش و خروش میں نظم و ضبط کی پرواہ نہیں کرتے، جس سے صورتحال مزید بگڑ جاتی ہے۔ بنیادی سہولیات کی کمی،میلے کے مقامات پر مناسب طبی سہولیات، ایمرجنسی راستے، اور فائر سیفٹی کے انتظامات اکثر ناکافی ہوتے ہیں۔ 2013 کے حادثے میں بھی پل گرنے کی افواہ پھیلنے سے افراتفری مچ گئی، جو کئی جانوں کے ضیاع کا سبب بنی۔ وی آئی پی موومنٹ اور راستوں کی بندش،وی آئی پی مہمانوں کے لیے خصوصی راستے بنانے کے باعث عام زائرین کے لیے دستیاب جگہ کم ہو جاتی ہے، جس سے بھگدڑ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ 1954 کے حادثے میں بھی یہی عنصر نمایاں تھا، جب وی آئی پیز کی آمد کے باعث بہت سے راستے بند کر دیے گئے تھے۔
ممکنہ حل اور اصلاحی اقدامات: جدید ٹیکنالوجی کا استعمال،کمبھ میلے جیسے بڑے اجتماعات میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتظامی مسائل کو کم کر سکتا ہے۔ سی سی ٹی وی کیمروں، ڈرونز، اور ہجوم کے انتظام کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی نظاموں کا استعمال ضروری ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کو بروقت کنٹرول کیا جا سکے۔، بنیادی ڈھانچے کی بہتری،ریلوے اسٹیشنز، پل، سڑکیں، اور داخلی و خارجی راستوں کی تعمیر کو مزید مضبوط اور وسیع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لاکھوں زائرین کی آمد و رفت کو آسان بنایا جا سکے۔
وی آئی پی کلچر کا خاتمہ:وی آئی پیز کیلئے علیحدہ انتظامات کرنے کی بجائے عام زائرین کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے، تاکہ عوام کے لیے راستے بلاک نہ ہوں اور حادثات سے بچا جا سکے۔کمبھ میلہ ہندوستان کی ایک عظیم ثقافتی اور مذہبی روایت ہے، مگر اس کے دوران ہونے والے حادثات انتظامیہ اور عوام کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔ ہر بار حادثے کے بعد تحقیقات تو ہوتی ہیں، مگر عملی اقدامات کی کمی کے باعث یہی غلطیاں بار بار دہرائی جاتی ہیں۔ اگر حکومت، انتظامیہ اور عوام مل کر جدید ٹیکنالوجی، بہتر منصوبہ بندی، اور نظم و ضبط پر توجہ دیں، تو ان حادثات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ کمبھ میلے کا اصل مقصد روحانی سکون حاصل کرنا ہے، نہ کہ افراتفری اور جان لیوا حادثات کا شکار ہونا۔ اس لیے ہمیں ان مسائل پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا تاکہ مستقبل کے کمبھ میلوں کو محفوظ اور منظم بنایا جا سکے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے