कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مسلم کمیونٹی اور ان کے عبادت گاہوں پر ہندو تنظیموں کی غیر قانونی حرکتوں کے خلاف مسلم ایڈوکیٹ فورم ناندیڑکا صدر جمہوریہ ہند کو میمورنڈم

ناندیڑ:2؍دسمبر ( نمائندہ اعتبار) ملک کی مختلف ریاستوں میں مسلم کمیونٹی اور ان کے عبادت گاہوں پر ہندو تنظیموں کی غیر قانونی حرکتوں اور اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں مسلم کمیونٹی کے خلاف ہونے والے مظالم کے حوالے سے آج سینئر ایڈوکیٹ ایم زیڈ صدیقی کی قیادت میں مسلم ایڈوکیٹ فورم ناندیڑ کے وفد نے ایک مطالباتی میمورنڈم ضلع کلکٹر کے معرفت صدرجمہوریہ ہند کو روانہ کیا۔ جس میں یہ تحریر کیا گیا کہ گزشتہ کئی دنوں سے ہندوستان میں مسلم کمیونٹی کے افراد کو ہندو تنظیموں کی جانب سے کسی نہ کسی بہانے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کبھی بیف کے نام پر، کبھی لو جہاد کے نام پر، کبھی مساجد اور درگاہوں کے نیچے ہندو مندر ہونے کے جھوٹے دعوے کر کے، تو کبھی ہندو مسلم تنازعہ پیدا کر کے، ملک میں رہنے والے مسلم کمیونٹی کے افراد اور ان کی عبادت گاہوں کو تنازعہ کا شکار بنا کر پریشان کیا جا رہا ہے اور ان کے قتل کیے جا رہے ہیں۔ بے گناہوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ہندوستان کا آئین تمام مذاہب اور سماج کے لوگوں کو ان کے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کا مکمل حق دیتا ہے۔ آئین کی دفعہ 226 کے تحت تمام شہریوں کو یہ آزادی حاصل ہے۔ لیکن جب سے مرکز اور ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت آئی ہے، انہوں نے اس ملک کو ہندو راشٹر قرار دینے کے مقصد سے مختلف ہندو تنظیموں کو متحد کر کے مسلم کمیونٹی کے خلاف اکسایا ہے اور ہندو مسلم تنازعات کو ہوا دے کر اپنی حکومت کو مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے۔یہاں تک کہ مسلم کمیونٹی کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ہندو تنظیموں کی جانب سے یہ جھوٹے دعوے کیے جا رہے ہیں کہ مساجد اور درگاہوں کے نیچے ہندو مندر ہیں۔ہمارے آئین کے مطابق 15 اگست 1947 ء کے بعد سے تمام مذاہب کے عبادت گاہوں کو اسی حالت میں رکھا جائے گا جس میں وہ اس وقت تھیں۔ آئین نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ تمام مذاہب کے ماننے والوں کو اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہو۔ بابری مسجد کے مسئلے کے وقت 1991ء میں ایک قانون بنایا گیا، جس میں واضح کیا گیا کہ 15 اگست 1947ء کے بعد سے تمام مذاہب کے عبادت گاہیں جیسے تھیں ویسی ہی رہیں گی، بابری مسجد کے تنازعے کو چھوڑ کر مستقبل میں کسی بھی عبادت گاہ پر کسی قسم کا تنازعہ یا مقدمہ قبول نہیں کیا جائے گا۔یہ قانون ،جسے دی پلیسز آف ورشپ (اسپیشل پروویژن ایکٹ) کہا جاتا ہے، 11 جولائی 1991 کو نافذ ہوا۔ اس قانون کے تحت یہ طے کیا گیا کہ:
(3) کوئی بھی فرد کسی مذہبی عبادت گاہ کو کسی دوسرے مذہب یا فرقے کی عبادت گاہ میں تبدیل نہیں کر سکتا۔
4(7)، اس کے ذریعے یہ اعلان کیا گیا کہ 15اگست 1947 ء کو جو عبادت گاہ جس مذہب کی تھی، وہ ویسی ہی رہے گی۔
11(2)، اس ایکٹ کے نافذ ہونے پر، 15 اگست 1947 کو موجود کسی بھی عبادت گاہ کے مذہبی کردار میں تبدیلی کے حوالے سے کسی بھی عدالت، ٹریبیونل یا دیگر اتھارٹی کے سامنے زیر التواء کوئی مقدمہ، اپیل یا دیگر کارروائی ختم ہو جائے گی، اور ایسے کسی بھی معاملے کے حوالے سے کوئی مقدمہ، اپیل یا دیگر کارروائی کسی بھی عدالت، ٹریبیونل یا دیگر اتھارٹی میں اس کے نافذ ہونے کے بعد شروع نہیں کی جائے گی۔ یہ قانون کا گزٹ شائع کیا گیا تھا جو آج بھی نافذ العمل ہے۔
اس قانون کے باوجود، ملک کی عدالتوں میں مساجد کے نئے تنازعات کو قبول کیا جا رہا ہے اور ہندو تنظیموں کی جانب سے مساجد کے نیچے مندروں کے جھوٹے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ یہ اقدامات آئین اور 1991 کے قانون دونوں کے خلاف ہیں۔نومبر 2024 ء میں اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں جہاں بی جے پی کی حکومت موجود ہے، ایک پرانی مسجد کو جو 1947 سے پہلے کی ہے، تنازعہ کا نشانہ بنایا گیا۔ ہندو تنظیموں نے سنبھل کی عدالت میں مقدمہ دائر کیا، اور وہاں کے جج نے مسجد کمیٹی یا مقامی لوگوں کو فریق بنائے بغیر مقدمہ قبول کر لیا اور مسجد کی انکوائری کے احکامات جاری کیے۔پہلی انکوائری کے وقت، مقامی لوگوں اور کمیٹی نے تعاون کیا، اور انکوائری پرامن طور پر مکمل ہوئی۔ لیکن یہ بات ہندو تنظیموں کو ہضم نہیں ہوئی۔عدالت میں مقدمہ زیر التواء رہتے ہوئے، ہندو تنظیم نے غیر قانونی طور پر سنبھل کے ریونیو آفیسر سے دوبارہ انکوائری کا حکم جاری کروایا۔اور پولیس، ہندو تنظیموں کے وکلاء اور دیگر افراد کے ساتھ مل کر جئے شری رام کے نعرے لگاتے ہوئے اچانک مسجد میں داخل ہو کر وضو کے حوض کو خالی کروا دیا۔ جب مقامی مسلم کمیونٹی کے لوگوں کو اس کی اطلاع ملی تو وہ معلومات کے لیے مسجد کی طرف بڑھے۔ اس وقت پولیس نے تنازعہ پیدا کر کے معصوم لوگوں پر ظلم کیا اور فائرنگ کر کے 5 افراد کو قتل کر دیا۔اس واقعے کا پہلا ذمہ دار عدلیہ کے جج، دوسرا ریونیو آفیسر اور تیسرا پولیس انتظامیہ ہے۔اس کے بعد، ہندو تنظیموں نے ایک اور تنازعہ کھڑا کیا اور حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کی درگاہ کے بارے میں بھی جھوٹے دعوے کیے کہ وہاں مندر ہے۔ یہ درگاہ، جو تمام مذاہب کے لوگوں کے لیے ایک مقدس مقام ہے، اس پر بھی عدالت میں درخواست دی گئی اور عدالت نے اسے قبول کر لیا، جو غیر آئینی ہے۔ہندوستان ایک آئینی ملک ہے، اور یہاں آئین کی دفعہ 226 کے تحت ہر مذہب اور سماج کے لوگوں کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ 15 اگست 1947 سے تمام مذہبی عبادت گاہوں کو جیسے تھے ویسے رکھنے کا التزام کیا گیا ہے، اس کے باوجود ملک میں بدامنی پھیلائی جا رہی ہے۔جب سے مرکز اور ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت اقتدار میں آئی ہے، تب سے ملک کو’’ہندو راشٹر‘‘بنانے کے نعرے لگا کر ہندو تنظیموں کو مسلم مذہب کے خلاف بھڑکایا جا رہا ہے۔ اس کے ذریعے ملک میں ہندو اور مسلم کے درمیان نفرت پیدا کر کے ملک کی امن و امان کو خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ہم آپ سے عاجزانہ درخواست کرتے ہیں کہ(۱) ملک کی عدلیہ، ریونیو آفیسرز، اور پولیس انتظامیہ آئین اور 1991 کے عبادت گاہوں کے تحفظ کے قانون کے خلاف دباؤ ڈال رہے ہیں۔ اس سے ملک کے اقلیتی مسلم معاشرے میں خوف اور بے اعتمادی پیدا ہو رہی ہے، جسے صرف آپ( معزز صدر جمہوریہ ہند) روک سکتے ہیں۔(۲) اتر پردیش کے سنبھل شہر کے ریونیو آفیسر اور پولیس انتظامیہ کے افسران نے تحقیقات کے نام پر غیر قانونی طور پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 معصوم مسلم بچے شہید ہو گئے اور کئی نوجوانوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ بے گناہ مسلم اقلیت کے لوگوں پر جھوٹے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں اور انہیں گرفتار کیا جا رہا ہے۔ ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ ان عدالتی، ریونیو آفیسرز، اور پولیس انتظامیہ کے افسران کے خلاف فوری تحقیقات کروا کر سخت سے سخت کارروائی کی جائے اور ان سب کو ان کے عہدوں سے برطرف کیا جائے۔(۳) ان تمام مقدمات کو خارج کر دیا جائے جو عدلیہ میں مسلم کمیونٹی کے عبادت گاہوں کے تنازعات کے طور پر داخل کیے گئے ہیں یا زیر التواء ہیں۔سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس چندرچوڑ کے دور میں گیان واپی مسجد کے سروے کے لیے دیا گیا فیصلہ، جو ملک میں ہندو تنظیموں کے لیے ایک بنیاد بن گیا ہے، لارجر بینچ کے سامنے پیش کر کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی ہدایت دی جائے۔ کیونکہ اسی فیصلے کی وجہ سے ہندو تنظیمیں مسلم عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر مختلف عدالتوں میں مقدمات دائر کر رہی ہیں اور ملک کے امن و سکون کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ لہٰذا، اس پر فوری کارروائی کر کے لارجر بینچ کے ذریعے فیصلے کو منسوخ کرنے کی ہدایت جاری کی جائے۔(۴) ملک کے اقلیتی مسلم معاشرے کو تحفظ اور سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے مرکز اور تمام ریاستی حکومتوں کو فوری احکامات جاری کیے جائیں۔ہم امید کرتے ہیں کہ آپ ہماری درخواست پر فوری کارروائی فرمائیں گے۔مذکورہ میمورنڈم پر مسلم ایڈوکیٹ فورم ناندیڑکے سرپرست و سینئر ایڈوکیٹ ایم زیڈ صدیقی ، صدر ایڈوکیٹ ایوب الدین جاگیردار ، نائب صدر ایڈوکیٹ محمد شاہد، سیکریٹری ایڈوکیٹ سید ساجد، جوائنٹ سیکریٹری ایڈوکیٹ واحد احمد، خازن ایڈوکیٹ جاوید پٹھان، خاتون نمائندہ ایڈوکیٹ لبنیٰ فرحین کے علاوہ ایڈوکیٹ ارشاد احمد، ایڈوکیٹ شیخ عامر، ایڈوکیٹ غلام جاوید، ایڈوکیٹ ارشد نائیک، ایڈوکیٹ شیخ حمید حیدر، ایڈوکیٹ نغمہ زم زم ، ایڈوکیٹ سعدیہ چاؤش، ایڈوکیٹ سید ذکی الدین، ایڈوکیٹ مشیر خان ، ایڈوکیٹ ساجد احمد، ایڈوکیٹ عبداللہ، ایڈوکیٹ سید شمس الدین ہاشمی، ایڈوکیٹ فیروز، ایڈوکیٹ رشید، ایڈوکیٹ عادل خان، ایڈوکیٹ ادمنکر، ایڈوکیٹ نوید پٹھان، ایڈوکیٹ ذکی الدین، ایڈوکیٹ یوسف الدین فاروقی، ایڈوکیٹ واصف الدین فاروقی، ایڈوکیٹ ضمیر چاؤش، ایڈوکیٹ محمد سلیم گیگانی، ایڈوکیٹ شیخ ضیاء الدین، ایڈوکیٹ محمد منیر الدین، ایڈوکیٹ عبدالغنی، ایڈوکیٹ رحمت اللہ، ایڈوکیٹ قاضی ظہیر الدین، ایڈوکیٹ نجمہ صدیقی و دیگر کئی وکلاء کے دستخط ثبت ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے