कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سیاسی فیصلے اور علماء کی رہنمائی – آزادانہ رائے کی ضرورت

تحریر: خورشید احمد، ناندیڑ
فون نمبر: 9923032126

سیاست میں علماء کی آراء کی اہمیت ایک معقول بحث کا موضوع ہے۔ حال ہی میں مولانا سجاد نعمانی نے مہاراشٹر اسمبلی الیکشن 2024 میں حصہ لینے والے چند مخصوص امیدواروں کی حمایت کا اعلان کیا، جو کہ بعض حلقوں میں ایک غیر دانشمندانہ اقدام تصور کیا جا رہا ہے۔ اس کا براہ راست اثر سیکولر ووٹوں کی پولرائزیشن کی صورت میں سامنے آیا ہے، اور اس مسئلے پر مسلمانوں کے درمیان ایک فکری مباحثہ ضروری ہو گیا ہے۔
علماء دین کی رہنمائی میں قابل احترام مقام رکھتے ہیں، اور دینی مسائل میں ان کی آراء کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، سیاسی معاملات ایک الگ نوعیت کے حامل ہیں اور ان کا تعلق زمینی حقائق، سماجی مسائل، اور موجودہ حالات سے ہوتا ہے۔ ہر مسلمان کو آزادانہ طور پر اپنے سیاسی فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے، اور اس پر دباؤ ڈالنا غیر مناسب ہے۔
غیر مسلم حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ مسلمان علماء جو بھی کہیں، وہ عوام کے لیے فتویٰ کا درجہ رکھتی ہے، خواہ وہ دنیاوی معاملات ہوں یا دینی۔ یہ تصور غلط فہمیوں اور تعصبات کو جنم دیتا ہے اور مسلم معاشرے کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ مسلمانوں کو اس بات کا احساس دلانا ضروری ہے کہ سیاسی فیصلے آزادانہ طور پر کرنے چاہئیں اور علماء کی رائے کو محض ایک رہنمائی کی حیثیت حاصل ہونی چاہیے، نہ کہ کوئی قطعی حکم۔
مولانا نعمانی نے چند مخصوص علاقوں میں غیر مسلم امیدواروں کی حمایت کا اعلان بھی کیا ہے، جو ان کے سیکولر نظریے کی نمائندگی کرتا ہے۔ تاہم، اس اعلان کو سیاسی حلقوں میں بی جے پی کی جانب سے مسلمانوں کے سیکولر ووٹوں کی تقسیم کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ بی جے پی اس موقع کا فائدہ اٹھا کر اپنے ہندو ووٹرز کو یہ باور کروا رہی ہے کہ مسلمانوں کی حمایت کا رخ صرف کانگریس یا اس کی اتحادی جماعتوں کی طرف ہے، جبکہ مولانا نے اتحادی جماعتوں کے علاوہ دیگر جماعتوں کے مسلم امیدواروں کی بھی حمایت کی ہے۔
مولانا سجاد نعمانی کے اعلان کے بعد،ناندیڑ چند مقامی علماء نے دیگر مسلم امیدواروں کی حمایت کا اعلان کیا، جس سے مسلم ووٹرز میں مزید تقسیم پیدا ہو گئی۔ یہ صورت حال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ سیاسی معاملات میں علماء کی رائے ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتی ہے اور اس کی بنیاد دینی معاملات کی بجائے سیاسی حقائق پر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، مقامی علماء نے کسی دوسری سیاسی پارٹی کے امیدوار کے حق میں بھی اپنی تائید کا اعلان کیا ہے، جس سے مسلم ووٹرز کے درمیان سیاسی تقسیم مزید گہری ہو گئی ہے۔
انتخابات کے ابتدائی ایام میں ہی، ملک کی اہم تنظیم جمعیت علماء ہند نے اتحادی جماعت کی باضابطہ تائید کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کی روشنی میں، جمعیت علماء ہند کا مؤقف اتحادی جماعتوں کی حمایت میں تھا، جو سیکولر قوتوں کو مضبوط بنانے کی حکمت عملی پر مبنی تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ علماء میں بھی سیاسی مسائل پر اختلاف رائے موجود ہے، اور ان کا انتخابی مؤقف مختلف ہو سکتا ہے۔
یہ صورت حال کانگریس اور دیگر سیکولر جماعتوں کے لیے باعث تشویش ہے، کیونکہ ان کے ہندو ووٹرز یہ محسوس کر سکتے ہیں کہ مسلمان سیکولر قوتوں کو ووٹ دینے کی بجائے اپنی کمیونٹی کے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس تاثر کی وجہ سے سیکولر جماعتیں اپنی حمایت کھو سکتی ہیں، اور ووٹ بی جے پی کے حق میں جا سکتے ہیں، جو اکثر ہندو اکثریت کے مفادات کے تحفظ کا دعویٰ کرتی ہے۔
مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ سیاسی فیصلے آزادانہ اور حالات کی روشنی میں کریں، اور علماء کی رائے کو صرف مشورے کی حیثیت میں رکھیں۔ اس طرح وہ سیکولرزم کے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے ایک مضبوط سیاسی موقف اختیار کر سکتے ہیں۔ علماء کی رائے کا احترام برقرار رکھنا اہم ہے، لیکن سیاسی خودمختاری بھی ایک لازمی جزو ہے جو مسلم معاشرے کو آگے بڑھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
اللہ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے، اور ہمیں اپنے فیصلوں میں دانائی اور حکمت عطا کرے۔ آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے