कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

عہد ساز شخصیت ڈاکٹر علامہ اقبالؒ کی ابتدائی زندگی

تحریر: سعدیہ فاطمہ عبدالخالق
(معلمہ مدینتہ العلوم گرلز پرائمری اسکول ناندیڑ مہاراشٹر )

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور ساری نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں ، کہا جاتا ہے کہ جب کبھی دنیا میں قحط الرجال ہوتا ہے تو قدرت کی جانب سے ایسا انتظام ہوتا ہے کہ عام انسانوں میں سے ہی ایک مثالی شخصیت نمودار ہوتی ہے جو اپنے ہمہ جہت کارناموں سے نہ صرف اپنے عہد کو بلکہ آنے والے زمانے اور نسلوں کو روشنی پہونچاتی ہے ، ڈاکٹر علامہ اقبال بھی ان ہی شخصیات میں سے ایک ہیں ، یہ ایک معروف شاعر ، مصنف ، قانون داں ، سیاست داں تھے ، آج کے اس انگریزی و عصری تعلیمی دور میں اُردو کی بقاء اور ترقی کے لئے ڈاکٹر علامہ اقبال کی یوم ولادت کو ہم یوم اُردو مناتے ہیں اور ہمیشہ مناتے رہیں گے ، علامہ اقبال 09/نومبر 1877ء (بمطابق 03/ذی القعدہ 1294ھ) کو برطانوی ہندوستان کے شہر سیال کوٹ میں شیخ نور محمد کے گھر پیدا ہوئے ماں باپ نے نام محمد اقبال رکھا مختلف تاریخ دانوں کے مابین علامہ کی تاریخ ولادت پر کچھ اختلاف رہا ہے لیکن سرکاری طور پر 09 نومبر 1877ء عیسوی کو ہی علامہ اقبال کی تاریخ پیدائش تسلیم کی جاتی کی جاتی ہے ، شیخ نور محمد دین دار آدمی تھے بیٹے کے لیے دینی تعلیمی کافی سمجھتے تھے سیالکوٹ کے اکثر مقامی علماء کے ساتھ دوستانہ مراسم تھے اقبال بسم اللہ کی عمر کو پہنچے تو انہیں مولانا غلام حسن کے پاس لے گئے مولانا ابو عبداللہ غلام حسن محلہ شیوالہ کی مسجد میں درس دیا کرتے تھے شیخ نور محمد کا وہاں آنا جانا تھا یہاں سے اقبال کی تعلیم کا آغاز ہوا ، حسب دستور قران شریف سے ابتداء ہوئی تقریبا سال بھر تک یہ سلسلہ چلتا رہا کہ شہر کے ایک نامور عالم مولانا سید میر حسن ادھر آنکلے ایک بچے کو بیٹھے دیکھا کہ صورت سے عظمت اور سعادت کی پہلی جوت چمکتی نظر آرہی تھی پوچھا کہ کس کا بچہ ہے معلوم ہوا تو وہاں سے اُٹھ کر شیخ نور محمد کی طرف چل پڑے دونوں آپس میں قریبی واقف تھے مولانا نے زور دے کر سمجھایا کہ اپنے بیٹے کو مدرسے تک محدود نہ رکھو اس کے لیے جدید تعلیم بھی بہت ضروری ہے انہوں نے خواہش ظاہر کی کے اقبال کو ان کی تربیت میں دے دیا جائے کچھ دن تک تو شیخ نور محمد کو پس و پیش رہا مگر جب دوسری طرف سے اصرار بڑھتا چلا گیا تو اقبال کو میر حسن کے سپرد کر دیا ان کا مکتب شیخ نور محمد کے گھر کے قریب ہی کوچہ میر حسام الدین میں تھا یہاں اقبال نے اُردو فارسی اور عربی ادب پڑھنا شروع کیا تین سال گزر گئے اس دوران میں سید میر حسن نے اسکاچ مشن اسکول میں بھی پڑھانا شروع کر دیا اقبال بھی وہیں داخل ہو گئے مگر پرانے معلومات اپنی جگہ رہے اسکول سے آتے تو استاد کی خدمت میں پہنچ جاتے میر حسن ان عظیم استادوں کی یادگار تھے جن کے لیے زندگی کا بس ایک مقصد ہوا کرتا تھا پڑھنا اور پڑھانا ، لیکن یہ پڑھنا اور پڑھانا نری کتاب خوانی کا نام نہیں اس اچھے زمانے میں ، استاد ، مرشد ہوا کرتے تھے ، میر حسن بھی یہی کہا کرتے تھے ، تمام اسلامی علوم سے آگاہ تھے جدید علوم پر بھی اچھی نظر تھی اس کے علاوہ ادبیات ، معقولات ، لسانیات اور ریاضیات میں بھی مہارت رکھتے تھے شاگردوں کو پڑھاتے وقت ادبی رنگ اختیار کرتے تھے تاکہ علم فقط حافظے میں بند کر نہ رہ جائے بلکہ طرز احساس بن جائے عربی فارسی اُردو اور پنجابی کے ہزاروں شعر ازبر یاد تھے ، ایک شعر کھولنا ہوتا تو بیسیوں مترادف اشعار سنا ڈالتے ، مولانا کی تدریسی مصروفیات بہت زیادہ تھیں مگر متعلقہ معمول خزاں نہیں کرتے تھے قران کے حافظ بھی تھے اور عاشق بھی شاگردوں میں شاہ صاحب کہلاتے تھے انسانی تعلق کا بہت تھا حد درجہ شفیق سادہ قانع ، متین ، منکسر المزاج اور خوش طبع بزرگ تھے روزانہ کا معمول تھا کہ فجر کی نماز پڑھ کر قبرستان جاتے عزیزوں اور دوستوں کی خبروں پر فاتحہ پڑھتے ، فارغ ہوتے تو شاگردوں کو منتظر پاتے واپسی کا راستہ سبق سننے اور دینے میں کٹ جاتا یہ سلسلہ گھر پہنچ کر بھی جاری رہتا یہاں تک کہ اسکول کو چل پڑتے شاگرد ساتھ لگے رہتے دن بھر اسکول میں پڑھاتے شام کو شاگردوں کو لیے ہوئے گھر آتے پھر رات تک درس چلتا رہتا اقبال کو بہت عزیز رکھتے تھے خود وہ بھی استاد پر فدا تھے اقبال کی شخصیت کی مجموعی تشکیل میں جو عناصر بنیادی طور پر کار فرما نظر آتے ہیں ان میں سے بیشتر شاہ صاحب کی صحبت اور تعلیم کا کرشمہ ہے سید میر حسن سر سید کے بڑے خیال تھے علی گڑھ تحریک کو مسلمانوں کے لیے مفید سمجھتے تھے ان کی زیر اثر اقبال کے دل میں بھی سر سید کی محبت پیدا ہو گئی جو بعض اختلافات کے باوجود آخر دم تک قائم رہی ، مسلمانوں کی خیر خواہی کا جذبہ تو خیر اقبال کے گھر کی چیز تھی مگر میر حسن کی تربیت نے اس جذبے کو ایک علمی اور عملی سمت دی ، اقبال سمجھ بوجھ اور ذہانت میں اپنے ہم عمر بچوں سے کہیں اگے تھے بچپن ہی سے ان کے اندر وہ انہماک اور استغراق موجود تھا جو بڑے لوگوں میں پایا جاتا ہے مگر وہ کتاب کے کیڑے نہیں تھے کتاب کی لت پڑ جائے تو آدمی محض ایک دماغی وجود بن جاتا ہے زندگی اور اس کے بیچ فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے زندگی کے حقائق اور تجربات میں دماغ میں منجمد ہو کر رہ جاتے ہیں خونِ گرم کا حصہ نہیں بنتے انہیں کھیل کود کا بھی شوق تھا بچوں کی طرح شوخیاں بھی کرتے تھے حاضر جواب بھی بہت تھے شیخ نور محمد یہ سب دیکھتے مگر منع نہ کرتے ، جانتے تھے کہ اس طرح چیزوں کے ساتھ اپنائیت اور بے تکلفی پیدا ہو جاتی ہے جو بے حد ضروری اور مفید ہوتی ہے غرض اقبال کا بچپن ایک فطری کشادگی اور بے ساختگی کے ساتھ گزرا قدرت نے انہیں صوفی باپ اور عالم استاد عطا کیا جس سے ان کا دل اور عقل یکسو ہو گئے دونوں کا ہدف ایک ہو گیا یہ جو اقبال کے یہاں حس اور فکر کی نادر ایک جائی نظر آتی ہے اس کے پیچھے یہی چیز کار فرما ہیں باپ کے قلبی فیضان میں جن حقائق کو اجمالاً محسوس کروایا تھا استاد کی تعلیم سے تفصیلاً معلوم بھی ہو گئے سولہ برس کی عمر میں اقبال نے میٹرک کا امتحان پاس کیا فرسٹ ڈویژن آئی اور تمغہ اور وظیفہ بھی ملا اسکاچ مشن مشن اسکول میں انٹرمیڈیٹ کی کلاسز بھی شروع ہو چکی تھی لہذا اقبال کو ایف اے کے لیے کہیں اور نہیں جانا پڑا وہیں رہے یہ وہ زمانہ ہے جب ان کی شاعری کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے یوں تو شعر و شاعری سے ان کی مناسبت بچپن ہی سے ظاہر تھی لیکن کبھی کبھی خود بھی شعر موضوع کر لیا کرتے تھے مگر اس بارے میں سنجیدہ نہیں تھے نہ کسی کو سناتے نہ محفوظ رکھتے لکھتے اور پھاڑ کر پھینک دیتے لیکن ان شعر گوئی ان کے لیے فقط ایک مسغلہ نہ رہی تھی بلکہ روح کا تقاضا بن چکی تھی اس وقت پورا برصغیر داغ کے نام سے گونج رہا تھا خصوصا اُردو زبان پر ان کی معجزانہ گرفت کا ہر کسی کو اعتراف تھا اقبال کو یہی گرفت درکار تھی شاگردی کی درخواست لکھ بھیجی جو قبول کر لی گئی مگر اصلاح کا یہ سلسلہ زیادہ دیر جاری نہ رہ سکا داغ جگ استاد تھے متحدہ ہندوستان میں اور اُردو شاعری کے جتنے بھی روپ تھے ان کی تراش خراش میں داغ کا قلم سب سے آگے تھا لیکن یہ رنگ ان کے لیے بھی نیا تھا گویا اس وقت تک اقبال کے کلام کی امتیازی خصوصیت ظاہر نہ کریں ہوئی تھی مگر داغ اپنی بے مثال بصیرت سے بھاگ گئے کہ اس ہیرے کو تراشنا نہیں جا سکتا یہ کہہ کر فارغ کر دیا کہ اصلاح کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے مگر اقبال اس مختصر سی شاگردی پر بھی ہمیشہ نازاں رہے کچھ یہی حال داغ کا بھی رہا ، استاد اور شاگرد کی مکمل جوڑی نے دنیا کوایک نیا چمکتا ہوا روشن ستارہ مہیا کیا ، سچی محنت اور سچی لگن ہو تو راہیں ہموار ہوتی ہیں ، اللہ تعالیٰ ایسے ہی قابل استاد اور ہنر مند شاگرد دنیا کو مہیا کرتے رہیں ، اللہ ہمارے علم و عمل کو قبول فرمائے اور اللہ ہم سب سے راضی ہوجائے ،آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے