कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ناندیڑ ساؤتھ : ایک سبق آموز انتخابی تجربہ

’’جو رات میں لٹے نہ تھے وہ دو پہر میں لٹ گئے‘‘

تحریر: ایس ایم صمیم، ناندیڑ
موبائل: 9960942261

الیکشن 2019 کے تناظر میں، ہمارے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ ہم پچھلے انتخابات سے سبق حاصل کریں۔ بحیثیت مسلم، ایک عالمگیر قوم ہونے کے ناطے، ہمیں نئے تجربات کرنا اور نئی حکمت عملیوں کے ساتھ اپنے کھوئے ہوئے مقام کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہماری قومی اور اجتماعی غیرت کا تقاضہ ہے۔
ناندیڑ ساؤتھ ایک نظر میں:
ناندیڑ ساؤتھ کے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں جو تجربات ہوئے، ان پر غور کرنا بہت اہم ہے۔ اس حلقہ اسمبلی میں بی جے پی کے مدِ مقابل تین سیکولر نظریات کے امیدوار میدان میں تھے۔ نمبر ایک کانگریس کے امیدوار تھے جنہوں نے تقریباً 25,000 ہندو ووٹ حاصل کیے، جن میں مراٹھا، OBC، دلت اور دیگر شامل تھے اور 20 سے 21,000 ہزار مسلم ووٹ لے کر کُل 46,000 ووٹ حاصل کیے اور رکن اسمبلی بن گئے۔
دوسرے امیدوار، ونچت بہوجن آگھاڑی کے تھے جنہوں نے 14 سے 16,000 دلت ووٹ اور 11 سے 13,000 مسلم ووٹ کل ملا کر تقریباً 27,000 ووٹ حاصل کر کے دلت مسلم اتحاد کا ایک نیا تجربہ کیا تھا۔ تیسری جانب، آل انڈیا مجلسِ اتحاد المسلمین کے امیدوار تھے جنہوں نے خالص مسلمانوں کے 20,000 ووٹ حاصل کیے۔ ان تمام اعداد و شمار سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ محض مسلم ووٹوں کی بنیاد پر کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں، بلکہ اس میں دلت یا مراٹھا ووٹ بھی شامل ہونا ضروری ہے۔
ووٹوں کی تقسیم کا اثر:
پچھلے انتخابات میں مسلمانوں کا ووٹ تین مختلف جماعتوں یعنی کانگریس، VBA اور ایم آئی ایم میں تقسیم ہوا۔ اس تقسیم نے نہ صرف ہماری سیاسی طاقت کو کمزور کیا بلکہ ہمارے موقف اور سیاسی وزن کو بھی متاثر کیا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ونچت کے امیدوار کے 27,000 ووٹ اور ایم آئی ایم کے امیدوار کے 20,000 ووٹ کو جمع کیا جائے تو یہ کُل 47,000 بنتے ہیں، جب کہ کانگریس کا اُمیدوار صرف 46,000 ووٹ پر رُکن اسمبلی MLA بن کر آپ پر حکومت کرتا ہے۔
صحیح وقت پر صحیح حکمت عملی:
کانگریس کے غیر مسلم سیکولرزم کو لےکر مسلمانوں کی نسبت اتنا سنجیدہ نہیں ہے جتنےکے مسلمان۔ بعض اوقات، مسلمانوں کا ووٹ خوف و ہراس یا ذہنی غلامی کے تحت کانگریس کی طرف چلا جاتا ہے، جبکہ کانگریس کا ہندو ووٹ بی جے پی اور کانگریس میں منتشر ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً، کانگریس ہندو سیکولر ووٹ کو بیلنس نہیں کر پاتی اور پھر وہی ہوتا ہے جس کا ڈر مسلمانوں کو ہوتا ہے
یہ صورتحال ہمیں سبق دیتی ہے کہ ہمیں صحیح وقت پر صحیح حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر، ہم ہمیشہ ایک ایسی صورتحال کا شکار رہیں گے جس میں ہم اپنی ہی طاقت کو کمزور کرتے رہیں گے۔
فیض احمد فیض نے صحیح کہا تھاکہ
چلتے ہیں دبے پاؤں کوئی جاگ نہ جائے
غلامی کے اسیروں کی یہی خاص ادا ہے
ہوتی نہیں جو قوم، حق بات پر یکجا
اس قوم کا حاکم ہی بس ان کی سزا ہے
یہ الفاظ ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ اگر قوم حق بات پر یکجا نہیں ہوتی تو ان کا حاکم ہی ان کی سزا بن جاتا ہے۔ ہمیں اپنی طاقت کو پہچاننا ہوگا اور ایک مؤثر سیاسی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنا ہوگا۔
ناندیڑ ساؤتھ کے گزشتہ اسمبلی انتخاب ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اگر ہم جذبات کو کنٹرول کرتے ہوئے، ہوش و حواس میں رہتے ہوئے ایک اچھا لائحہ عمل اپنائیں تو ان شاء اللہ، اگلا رکن اسمبلی ہمارا یعنی مسلم ہوگا۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنی غلطیوں سے سیکھیں اور متحد ہو کر آگے بڑھیں۔
اس انتخابی تجزیے سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ کامیابی صرف ووٹوں کی تعداد میں نہیں، بلکہ ہماری حکمت عملی اور اتحاد میں ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی شناخت اور طاقت کو سمجھیں اور اپنی قوم کے بہتر مستقبل کے لئے ٹھوس اقدامات کریں۔ اگر ہم نے عقل مندی سے کام لیا تو کامیابی ہمارا مقدر ہوگی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے