कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سرپرست کا اساتذہ کے ساتھ منفی کردار ” ایک سنگین مسئلہ”وجوہات اور حل

از قلم: منور فاطمہ مسعود خان
صدر معلمہ :-اقراء اُردو پرائمری اسکول تراب الحق نگر درگاہ روڈ پربھنی
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

یہ غلط فہمی کا عالم تعلیم کو کمزور بناتا ہے۔
جب دلوں میں نفرت ہو تو علم کا سفر رکتا ہے۔
یہ رشتہ تو احترام کا تھا آج کیوں ٹوٹتا ہے؟
تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے نہایت اہمیت رکھتی ہے ۔اور اس عمل کو کامیاب بنانے میں اساتذہ کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے۔ اساتذہ معاشرے کی ترقی کے رہنما ہوتے ہیں۔ جن کا کام نہ صرف علم دینا ہے بلکہ طلبہ وہ طالبات کو اخلاقی اقدار سکھانا ساتھ میں ذاتی تربیت بھی کرنا ۔اس کے باوجود بہت سے تعلیمی اداروں میں سرپرست (والدین یا کوئی قریبی فرد) اساتذہ، پرنسپل یا انتظامیہ کے ساتھ غیر مناسب رویے کا استعمال کرتے ہیں۔ طلبہ وہ طالبات کی تعلیمی کامیابی کا دارومدار اساتذہ کی محنت ایمانداری اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں پر ہوتا ہیں ۔اساتذہ کی اہمیت کو نظر انداز کرنا ان کے ساتھ منفی رویہ کرنا ان کی کارکردگی کو غیر ضروری طور پر دبا دینا ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ جو تعلیمی معیار کے لیے نقصان دہ ہے ۔
منفی کردار کیوں ہوتا ہے؟
منفی کردار کی وجوہات:-
1۔غلط فہمی :- بعض اوقات سرپرست اور اساتذہ کے درمیان تعلیمی اعتبار سے غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ جس کی وجہ سے بھی منفی رویہ پیدا ہو سکتا ہے۔
2۔طاقت کا غلط استعمال ،:-بعض سرپرست اپنے عہدے کی طاقت کا ناجائز استعمال کرتے ہیں جس سے وہ اساتذہ کو اپنے ماتحت سمجھ کر ان کے ساتھ منفی رویہ اختیار کرتے ہیں ۔
3۔غیر مناسب تربیت:-کچھ سرپرست اپنے کردار اور اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں مناسب تربیت حاصل نہیں کرتے جس کی وجہ سے وہ اساتذہ کے ساتھ غیر پیشہ وارانہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔
4۔ذاتی حملے:- بعض اوقات کچھ لوگ اساتذہ کی کامیابی اور ان کی تدریسی صلاحیتوں سے حسد جلن محسوس کرتے ہیں۔ اس طرح کا جذبہ انہیں اساتذہ کی شخصیت یا ان کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں پر براہ راست حملہ کرنے کی جانب مائل کر دیتا ہے۔اور وہ لوگ اساتذہ کو عوامی طور پر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔
5۔سرپرست کا تعلیم یافتہ نہ ہونا:- غیر تعلیم یافتہ سرپرست اس بات سے ناواقف ہوتے ہیں ۔کہ اساتذہ کی محنت اور کردار معاشرے کی ترقی میں کس حد تک اہم ہیں ۔اساتذہ کو قوم کے معمار سمجھنا اور ان کی قدر کرنا ۔ایک تعلیم یافتہ فرد کی سوچ کا حصہ ہوتا ہے لیکن غیر تعلیم یافتہ سرپرست اس چیز کو نظر انداز کرتے ہیں ۔
6۔کمزور فہم :-جب سرپرست کو تعلیم کا علم نہیں ہوگا۔تب وہ تعلیمی عمل اور اساتذہ کے کردار کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ان کے ساتھ منفی رویہ کا استعمال کرتے ہیں ۔
7۔ملی جھلی سازشوں کے تحت بھی منفی کردار کا عمل پروان چڑھتا ہے ۔
سب سے اہم وجہ انسان کی جہالت ہوتی ہے۔
منفی کردار کے اثرات :
سرپرست کا اساتذہ کے ساتھ منفی کردار نہ صرف اساتذہ کو متاثر کرتا ہے بلکہ تعلیمی ماحول پر بھی منفی اثرات ہوتے ہیں۔
اساتذہ کی ذہنی اور جسمانی صحت پر اثرات :
مسلسل دباؤ توہین اور منفی کردار اساتذہ کی ذہنی اور جسمانی صحت پر منفی اثرات ڈالتے ہیں جس سے ان کی خوشی اور کچھ کر دکھانے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
طلبہ وہ طالبات کی کارکردگی:-
طلبہ و طالبات پر سرپرست اور اساتذہ کے تعلقات کا گہرا اثر پڑتا ہیں۔ اگر والدین اساتذہ کے ساتھ ناراض ہے تو طلبہ و طالبات کی تعلیم پر بھی منفی اثرات ہوتے ہیں۔
مسئلے کا حل:
1۔کمیونیکیشن کو بہتر بنانا :- سرپرست اور اساتذہ کو اپنی بات صاف اور صحیح طریقے سے رکھنا چاہیے تاکہ غلط فہمیاں دور ہو سکے۔
2۔سنجیدہ بات چیت:- سرپرست اور اساتذہ کو مل کر طلبہ و طالبات کی تعلیمی کامیابی اور بہترین نشونما کےلئے مشتر کہ بات چیت کرنی چاہیے۔
3۔احترام اور سمجھوتہ:-سرپرست اور اساتذہ کو ایک دوسرے کی رائے اور کوششوں کا احترام کرنا چاہیے اور مسائل کا حل سمجھوتے کی بنیاد پر نکالنا چاہیے.
4۔قانونی کاروائی:-اساتذہ کو ان کے حقوق اور تحفظ کے لیے مناسب قانونی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے انہیں اس بات کا حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنے سرپرست کے ساتھ منفی رویہ ہونے کی صورت میں قانونی کاروائی کر سکے اور اپنے عزت نفس کی حفاظت کر سکے.
5۔ تعلیم یافتہ سرپرست :- تعلیم یافتہ سرپرست نہ صرف اپنے بچوں کی تعلیمی سفر کی بہتر رہنمائی کرتے ہیں ۔بلکہ اساتذہ کے ساتھ ایک صحت مند اور احترام پر مبنی تعلق قائم رکھتے ہیں وہ اس بات کو سمجھتے ہیں۔ کہ اساتذہ کا کام بہت زیادہ اہم ہے اور ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا منفی کردار معاشرے کی ترقی کے لیے نقصاندہ ہیں ۔تعلیم یافتہ سرپرست اپنے بچوں کو اساتذہ کی قدر کرنے کی تربیت دیتے ہیں ۔جس سے معاشرے میں احترام اور حسن سلوک کی فضا قائم ہوتی ہے ۔
اس مسئلے کاحل تبھی ممکن ہے جب سرپرست اساتذہ کے ساتھ تعاون اور احترام کی بنیاد پر تعلقات قائم کریں اساتذہ کی فلاح اور ادارے کی کامیابی کے ساتھ بچوں کی کامیابی کا راز اساتذہ کے ساتھ مناسب برتاؤ اور ان کی قدر کرنے میں چھپی ہوئی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ سر پرست سمجھے کہ ہم سب مل جل کر احترام سمجھ بوجھ اور ہمدردی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے تاکہ تعلیم کا اصل مقصد حاصل ہو سکے۔
اساتذہ کے بغیر کوئی بھی راہ روشن نہیں
یہی ہے جو بناتے ہیں مستقبل کی زمین
انہیں عزت دو انہیں سلام کرو
یہی ہے جو بناتے ہیں زندگی کو حسین

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے