कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

انٹرویو:ناندیڑ کی سیاسی روایات: رہنماؤں کے تجربات اور نوجوانوں کے لیے راہنمائی

آج ہم یہاں ناندیڑ کی سیاسی تاریخ میں دو عظیم رہنماؤں، جناب فاروق پاشا اور نوراللہ خان، کی خدمات اور قیادت کی خصوصیات کا جائزہ لینے کے لیے موجود ہیں تاکہ ان کی بصیرت کو آج کے نوجوانوں کے لیے راہنمائی کا ذریعہ بنایا جا سکے۔
یہ انٹرویو اس لیے اہم ہے کیونکہ ہم آج کے نوجوانوں کو ان بزرگ رہنماؤں کی سوشل انجینئرنگ، خلوص، اور قیادت کے بارے میں آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔ ہم جاننے کی کوشش کریں گے کہ کیسے ان شخصیات نے سیاست اور سماجی خدمات میں اپنا مقام بنایا اور آج کے نوجوانوں کے لیے ان کی مثالیں کس طرح کارآمد ثابت ہو سکتی ہیں۔
انٹرویو لینے والے نوجوان، محمد مفسر الدین دانش، کو صحافت کا شوق ہے۔ ان کی دلچسپی اس بات میں ہے کہ وہ معاشرتی مسائل اور سیاست کے بارے میں لوگوں کے خیالات کو جان سکیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ وہ ان رہنماؤں کی کہانیوں کو نئی نسل تک پہنچائیں تاکہ وہ ان کی مثالی قیادت کے پہلوؤں سے سیکھ سکیں۔ دانش کی صحافت کی شوق کا اثر اس بات پر ہے کہ وہ نہ صرف خبریں پیش کرنے میں ماہر ہیں بلکہ وہ لوگوں کی کہانیوں کو بھی موثر انداز میں بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
آئیں، اس گفتگو کا آغاز کرتے ہیں اور ان تجربات کا نچوڑ حاصل کرتے ہیں جو ہماری نئی نسل کے رہنماؤں کے لیے راہنمائی فراہم کر سکتے ہیں۔ ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کس طرح ماضی کی قیادت کی خصوصیات کو آج کے نوجوان سیاستدان اپنے عمل میں شامل کر سکتے ہیں، اور اس سلسلے میں محمد مفسر الدین دانش کی جدوجہد اہمیت رکھتی ہے۔
(یہ گفتگو یوٹیوب پر دیکھی جاسکتی ہے: لنک: https://youtu.be/rMqwKP7Rx0A?si=bO8iXgqgI6sHBrS-)
——————

دانش: سیاست اور قیادت کے حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ کے خیال میں سیاست کس انداز میں ہونی چاہیے، اور ایک کامیاب رہنما میں کون سی خصوصیات ہونی ضروری ہیں؟ ناندیڑ میں کئی ایسی نمایاں شخصیات گزری ہیں جنہوں نے سماجی خدمات اور سیاسی میدان میں شاندار کام کیا۔ آج ہم ان شخصیات کو یاد کرنے کے لیے ناندیڑ کی نوجوان نسل کو آگاہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میرے ساتھ موجود ہیں ‘جناب خورشید سر، جو استادالاساتذہ ہیں اور 33 سال تک اتواراہ کے ضلع پریشد اسکول میں تعلیم دیتے رہے ہیں۔ وہ ناندیڑ کے قابل ترین اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ کے دور میں دو اہم سیاست دان، نوراللہ خان صاحب اور فاروق پاشا صاحب، کی حیثیت سے گزرے ہیں۔ آپ ان دونوں شخصیات کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے؟ ان کی قیادت اور سماجی خدمات کا کیا کردار رہا؟
خورشید سر: ترتیب میں آپ نے پہلے نوراللہ خان صاحب کا ذکر کیا، لیکن میرے خیال میں فاروق پاشا کا نام پہلے آنا چاہیے۔ فاروق پاشا ایک انتہائی شریف، دیانتدار، مہربان اور عوام دوست شخصیت تھے۔ انہوں نے سماجی خدمات اور تعلیمی امور میں اپنی بصیرت اور مفید مشوروں کے ذریعے قوم میں شعور پیدا کیا۔ وہ ہمیشہ معیشت کی بہتری، تعلیم کی اہمیت، اور کردار کی خوبیوں پر زور دیتے رہے۔ ان کی سماجی سرگرمیوں کی بدولت کانگریس نے مہاراشٹر سے ایم ایل اے کے لیے انہیں ٹکٹ دیا، حالانکہ ان کے مد مقابل ایک طاقتور کمیونسٹ لیڈر تھے۔ جب انہوں نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تو سب نے حیرت کا اظہار کیا کہ ایک نوجوان نے اتنی بڑی شخصیت کو ہرایا۔
ایم ایل اے بننے کے بعد، انہوں نے اپنے فرائض کو بہترین انداز میں نبھایا اور ایک سیکولر شخصیت کے طور پر ناندیڑ کے مختلف مذاہب کے لوگوں کو یکجا کیا۔ پاشا صاحب کی خدمات اور ان کی قابلیت کا کوئی ثانی نہیں۔ اب جہاں تک موجودہ سیاست اور ماضی کی سیاست کا تعلق ہے، دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ماضی میں ہم نے خدمت گزار اور قد آور لیڈروں کی مثالیں دیکھی ہیں، جبکہ آج کے لیڈروں کی کارکردگی اس کے مقابلے میں کمزور نظر آتی ہے۔

دانش: کیوں۔۔۔۔؟
خورشید سر: ماضی کے لیڈران عوام کی خدمت اور ترقی کے لیے ہر شعبے میں کام کرتے تھے۔ وہ لوگوں کو ترقی کے لیے ہمیشہ ابھارتے رہتے تھے۔ جبکہ آج ہم ایک تکلیف دہ مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ موجودہ سوسائٹی میں تبدیلی آئی ہے کہ نہ صرف عوام بلکہ قائدین بھی قوم کی خدمت کے بجائے ذاتی مفادات کے پیچھے لگے ہوئے ہیں، چاہے وہ قائدین ہوں یا عام لوگ۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ اب پاشا صاحب جیسے خدمت گزار اور سچے خیر خواہ کی مثالیں کم ہو گئی ہیں۔ اگر ہم پاشا صاحب کے کاموں پر نظر ڈالیں تو ہمیں یہ واضح ہوگا کہ ان کی خدمت کا کوئی ثانی نہیں۔

دانش: کیا آپ کے ساتھ کبھی ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہے جس میں انھوں نے خدمت گزاری کی بہترین مثال قائم کی ہو؟
خورشید سر: جی، ایک واقعہ ضرور یاد آتا ہے جو خدمت گزاری کی ایک بہترین مثال ہے۔ جب قدیم بستی میں تعلیمی حالات نہایت پسماندہ تھے اور تعلیمی کمی کو پورا کرنے کی ضرورت تھی، تو مدینۃ العلوم کے قیام کی منصوبہ بندی کی گئی۔ اس ادارے نے تعلیمی میدان میں بے پناہ خدمات سرانجام دیں، اور آج اس کے تعلیم یافتہ طلباء زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں، چاہے وہ طب ہو، انجینئرنگ ہو، یا سیاست۔ مدینۃ العلوم کی یہ کامیابیاں دراصل پاشاہ صاحب کی دور اندیشی اور عزم کا نتیجہ ہیں۔ اُن کے ساتھ جڑے لوگ بھی شریف النفس اور ملی درد رکھنے والے تھے، جنہوں نے اس ادارے کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم، آج کے حالات ماضی سے مختلف ہیں۔ اب نہ ہماری قیادت کی توجہ تعلیم پر ہے، نہ صحت پر اور نہ ہی قوم کی معاشی ترقی پر کوئی واضح سوچ نظر آتی ہے، جو کہ ہمارے لیے بدقسمتی کی بات ہے۔

دانش: فاروق پاشا کے زمانے میں ناندیڑ کے دو انتخابی حلقے نہیں تھے، تو اس وقت غیر مسلم بھائیوں کے ساتھ ان کے تعلقات کیسا تھا؟
خورشید سر: یہ ساٹھ کی دہائی کی بات ہے۔ آج کا ماحول بہت بھیانک ہے، لیکن اُس وقت یہ کیفیت مختلف تھی۔ اس وقت مسلمان ٹکٹ کے لیے اس طرح احتجاج نہیں کر رہے تھے جیسے آج کر رہے ہیں۔ کانگریس نے کردار کی بنیاد پر مسلمانوں کی نمائندگی کے لیے پہلے ولایت علی خان کو منتخب کیا، جو الیکشن ہار گئے۔ اس کے بعد فاروق پاشا کا انتخاب کیا گیا، اور ماشائاللہ، وہ کامیاب ہوئے۔ آج جو ٹکٹ کا شور مچایا جا رہا ہے کہ ہمیں ٹکٹ چاہیے، اس پر غور کرنا چاہیے کہ کیا واقعی ہم قوم کی خدمت کرنے کی ہمت رکھتے ہیں؟ جدید دور میں سیکولر انداز میں کام کرنے کی استطاعت کا محاسبہ کرنا ضروری ہے۔ آج ہر کوئی چاہتا ہے کہ انہیں بڑا عہدہ ملے تاکہ وہ قوم کی خدمت کر سکیں، لیکن اس کی کیفیت آج بالکل مختلف ہے۔ آج کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ قوم کے لیے کام کرے گا، کیونکہ ذاتی مفادات سب سے زیادہ اہم ہوگئے ہیں۔

دانش: کیا خلوص کا مسئلہ ہے؟
خورشید سر: بالکل، خلوص کی کمی ہے۔ جب ذاتی مفاد آ جاتے ہیں تو ہر طرح کا خلوص ختم ہو جاتا ہے۔

دانش: اس کے بعد جناب نوراللہ خان صاحب کا دور آتا ہے، وہ بھی ایک کامیاب سیاستدان ہیں جنہوں نے یہاں انتخاب لڑا اور کامیابی حاصل کی۔ نوراللہ خان صاحب کے بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے؟
خورشید سر: نوراللہ خان صاحب ایک تعلیم یافتہ شخصیت تھے، چاہے اردو ہو یا انگریزی، ان کو دونوں زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ ان کی سیاست میں شمولیت اس وقت ہوئی جب مسلم لیگ دو دھڑوں میں بٹ گئی، ایک ضیائالدین بخاری کے ساتھ اور دوسری بمبئی کے لوگوں کے ساتھ۔ نوراللہ خان صاحب نے ضیائالدین بخاری کی مسلم لیگ کی نمائندگی کی۔
نوراللہ خان صاحب ایک نوجوان، بہترین مقرر اور خوبصورت تقریر کرنے والے تھے، جس کی وجہ سے انہوں نے ناندیڑ کی عوام کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ ان کا مزاج ایسا تھا کہ وہ سوشلزم، سیکولرزم اور دستور کی بنیادی باتوں پر زور دیتے تھے۔ انہوں نے قوم کی نمائندگی کی طرف زیادہ توجہ دی، لیکن ان کی سیاست میں ٹکراؤ کی پالیسی نمایاں رہی۔
جماعت اسلامی سے متاثر ہونے کیسبب، انہوں نے ہندوستانی سیاست کے بنیادی مقاصد جیسے کہ سیکولرزم، مساوات، اور یکجہتی پر اتنی توجہ نہیں دی۔ ان کی تقریریں بہت لوگوں کو متاثر کرتی تھیں، مگر بنیادی مسائل کو سمجھنے میں ناکام رہے۔
ایمرجنسی کے بعد، جب جنتا دل کا وجود عمل میں آیا تو وہ جنتا دل کے ٹکٹ پر مسلم لیگ کے نمائندے کی حیثیت سے شامل ہوئے اور کامیابی حاصل کی۔ ان کی کامیابی میں ہندو، سکھ، دلت، اور مسلمان سب کے ووٹ شامل تھے۔

دانش: جیسا کہ آپ نے کہا، فاروق پاشا صاحب اور نوراللہ خان صاحب نے سوشل انجینئرنگ کے ذریعے اچھا کام کیا۔ میرا سوال یہ ہے کہ آج کے مسلمان سیاستدانوں کو یہ سوشل انجینئرنگ کیوں نہیں سمجھ آ رہی؟
خورشید سر: پہلی بات تو یہ ہے کہ تعلیم کی کمی ہے۔ دوسرا، سوشل کنٹیکٹ کی بھی کمی ہے۔ پھر نیک نیتی، دیانتداری، اور شرافت کی جو خصوصیات ہیں، وہ بھی مشکل سے ملتی ہیں۔ جب آپ اپنے ہی قوم کے لوگوں کے ساتھ دھوکہ کرتے ہیں تو آپ سوشل انجینئرنگ کے راستے پر نہیں آ سکتے۔
ہر سیاستدان کو اپنی حیثیت کا تجزیہ کرنا چاہیے اور یہ سوچنا چاہیے کہ وہ قوم کے لیے کس حد تک مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ یہاں ”قوم” سے مراد وہ عوام ہیں جو آپ کو ووٹ دیتے ہیں، جن میں مسلمان، غیر مسلم، اور سکھ سب شامل ہیں۔ ان کی خدمات اور ترقی کے لیے جو بھی پروگرام بنائے جائیں، ان پر عملدرآمد کرکے عوام کو فائدہ پہنچانا چاہیے۔
لیکن یہاں پر جو بات آ رہی ہے، وہ یہ ہے کہ نہ تو عوام میں دیانتداری رہی ہے اور نہ ہی قائدین میں۔ یہ قافلہ کب تک روکے گا؟ موجودہ حالات میں تاریکی کا عالم نظر آتا ہے۔

دانش: میرا آخری سوال یہ ہے کہ نوجوان جو، اب سیاست میں آ رہے ہیں، وہ سوشل انجینئرنگ، خلوص اور اخلاص کے ساتھ کس طریقے سے کام کریں؟
خورشید سر: یہ ایک بہت اچھا سوال ہے۔ میں ان نوجوانوں کو سلام کرتا ہوں جو قوم اور ملک کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں۔ لیکن اس راہ میں بڑی مشکلات بھی ہیں۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ ایسے نوجوانوں کو اخلاص اور دیانتداری کے ساتھ آگے بڑھنے کی توفیق دے۔ انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ قوم کی خدمت کے ساتھ ساتھ ملک کی خدمت بھی بہت ضروری ہے، اور ہمیں سیکولر پیٹرن کو نہیں بھولنا چاہیے۔ یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہیے کہ کامیابی کا راستہ صرف دیانتداری اور نیک نیتی سے ہی نکلتا ہے۔
————————-

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے