कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مسلمانوں کی آبادی بڑھی اور وزن کم ہوگیا

تحریر: عارف عزیز (بھوپال)

گزشتہ صدی میں پوری دنیا کی آبادی کے تناسب سے مسلمانوں کی آبادی میں سات فیصد کا اضافہ ہوا ہے جبکہ عیسائیوں کی آبادی کا تناسب کم ہوا ہے۔ اس وقت دنیا کی آبادی چھ ارب سے زیادہ ہے جس میں 1.2 ارب مسلمان ہیں اور دو ارب عیسائی ہیں۔ یعنی ہر تین عیسائی پر دو مسلمان ہیں۔ اس کے بالمقابل ۱۹۰۰ء میں ہر تین عیسائیوں پر ایک مسلمان تھا۔
اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی مجموعی آبادی میں مسلمانوں کا اضافہ 19.6 فیصد تک ہوا ہے جبکہ 1900ء میں یہ اضافہ 12.3 فیصد سے گر کر اب 31.2 فیصد پر آگیا ہے۔ ان دو بڑے مذاہب کے علاوہ دیگر مذاہب اور فرقوں کے تناسب میں تغیر برائے نام ہی رہا ہے۔
رپورٹ میں عیسائی آبادی میں ہونے والی اس کمی کی تاویل کرتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ ان ممالک میں جہاں عیسائیت سرکاری مذہب کی حیثیت رکھتی ہے، وہاں کی شرح پیدائش مسلمان ممالک کی شرح پیدائش کے مقابلے میں کم ہے۔ حالانکہ صحیح بات یہ ہے کہ عیسائیوں کی آبادی کے تناسب میں یہ کمی شرح پیدائش میں کمی یا بیشی کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ اصل وجہ یہ ہیکہ اسلام کی ہدایت سے بہرہ ور ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن اس حقیقت سے مذکورہ رپورٹ میں قصداً اعراض برتا گیا ہے اور مسلمانوں کی آبادی میں اضافے کے اس اہم سبب کو تجاہل عارفانہ برتتے ہوئے نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عیسائی مذہب مشنری و تبلیغی مذہب ہے۔ اس کے لئے یہ اعتراف گلے کی ہڈی سے کم نہیں کہ عالمی پیمانے پر اس کی مشنری کوششوں کے باوجود لوگ عیسائیت کے بجائے اسلام کی طرف زیادہ تیزی سے جارہے ہیں۔ عیسائی ادارے اور مشنریاں اس حقیقت سے واقف نہ ہوں۔ اسے بھی تسلیم نہیں کیا جاسکتا کیونکہ خود عیسائی مذہب کو چھوڑ کر اسلام کی طرف آنے کا سلسلہ سب سے زیادہ یوروپی ممالک ہی میں ہے۔ جہاں عیسائیت کا غلبہ ہے۔
دوسری طرف اسلام کے تعلق سے دنیا کی اس حقیقت حال میں مسلمانوں کے لئے مقام شکر بھی ہے اور مقام فکر بھی۔ مقام شکر یہ ہے کہ وہ ایک ایسے مذہب کے پیرو ہیں جس کی حقانیت کو تسلیم کرکے دنیا آہستہ آہستہ اس کی طرف آرہی ہے۔ مقام فکر یہ ہے کہ اسلام خود بھی ایک دعوتی و تبلیغی مذہب ہے اور مسلمان ایک داعی امت ہیں۔ لیکن وہ اپنے اس منصب اور فریضے سے غافل نہ ہوتی تو یقینا لوگ اسلام کی طرف ایک ایک کرکے نہ آتے بلکہ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوتے نظر آتے۔ غور کرنے اور سوچنے کی دوسری بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی آبادی میں دوہرا اضافہ ہورہا ہے۔ ایک تو افزائش نسل کے فطری طریقے سے اور دوسرے نو مسلموں کی شکل میں۔ لیکن اس اضافہ آبادی کے باوجود مسلمانوں کا وزن عالمی پیمانے پر کم ہوتا جارہا ہے۔ گزشتہ ایک صدی کا ہی جائزہ لیں تو مسلمان اپنا وزن کھو کر کہیں سے کہیں پہنچ چکے ہیں۔ اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کا تعلق اپنے دین اور اپنی رہنما کتاب سے مسلسل کم ہوتا جارہا ہے اور دنیا سے محبت بڑھتی جارہی ہے۔ اگر امت کا یہی حال رہا تو مسلمانوں کی تعداد تو بڑھتی رہے گی لیکن ان کا وزن اسی طرح کم ہوتا رہے گا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے