कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

فلسطین میں امن کا قیام ناگزیر

تحریر:سفیان وحید

فلسطین میں نہتے شہریوں حتی کہ بچوں پر اسرائیل کے مظالم اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ اقوام متحدہ نے اسرائیل فوج کوبلیک لسٹ کرنے کاانتباہ دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ میں جنگ بندی کے لئے امریکی تجاویز کی حمایت میں قرارداد منظور کی گئی ہے جس کاحماس نے خیرمقدم کیا ہے تاہم اسرائیل اپنی ہٹ دھرمی جاری رکھے ہوئے ہے ۔وقت آگیا ہے کہ فلسطین میں امن کے قیام کے لئے بھرپوراقدامات کئے جائیں کیونکہ یہ دنیا کے امن اور معصوم انسانوں کے قتل عام کو روکنے کیلئے ناگزیرہے۔ ابولانبیا سمیت اللہ تعالی کے کئی نبیوں و رسولوں نے دین حق کی خاطر ہجرت کی۔ کفار مکہ کے ستائے جانے پر خاتم النبین حضرت محمدﷺ نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی اور جب تک مدینہ میں رہے قبلہ اول یعنی بیت المقدس کی جانب متوجہ ہوکر اللہ کی عبادت کرتے رہے لیکن قبلے کی تبدیلی کا حکم الہی آجانے پر خانہ کعبہ مسلمانوں کا اصل قبلہ قرار پایا۔ اللہ کا حکم ہواکہ مسلمانوں تم جہاں کہیں بھی ہو خانہ کعبہ کی جانب رخ کر کے عبادت کیا کرو۔ اسی ہی طرح حضرت موسی نے فرعون کے جبر سے نجات پانے کے لئے حکم الہی پر مصر سے ارض فلسطین ہجرت کی۔ مقام حجاز اور ارض فلسطین اللہ کی عبادت کے دو اہم مراکز ہیں جہاں دین حق کی سدا ہر وقت سربلندہوتی رہتی ہے لیکن آج جومنظربن گیا ہے وہ بالکل ان مقاصد کے برعکس ہے ۔ جب رومنز حکمرانوں نے اسی سرزمین پر یہودیوں کا جینا حرام کر رکھا تھا ساتھ عیسائیوں کو بھی نقصان پہنچاتے تھے اور رومنز نے یہودیوںکابہیمانہ قتل عام بھی کیا۔ ایسے میں مسلمانوں کے خلیفہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ارض فلسطین کو ایک معاہدے کے بدولت فتح کیا اور اللہ کے نبی و رسول موسی کے پیروکاروں یعنی یہودیوں کو رومنز کے جبر سے نجات ملی۔ اس کے بعد یہودیوں نے پوری دنیا میں آباد ہونے کا فیصلہ کیا تاہم تینوں فریقوں کے معاہدے کے مطابق ارض مقدسہ میں یہودیوں کو بھی عیسائیوں اور مسلمانوں کی طرح عبادت و زیات کا حق و اختیار حاصل ہے۔آج ارض فلسطین بالخصوص غزہ کی پٹی میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم کیاجارہا ہے وہ معاہدے کی سراسرخلاف ورزی ہے ۔بہترہوگا کہ مسلمان اپنی سرزمین کے دفاع کے ساتھ حجاز مقدس یعنی خانہ کعبہ کے گردبھی جمع ہوجائیں اور مدینہ منورہ کاتحفظ بھی یقینی بنایاجائے کیونکہ صیہونیت اب یہودیت کاروپ دھار کر رومنزحکمرانوں کاکھیل کھیلنے لگی ہے ۔فلسطین میں جاری جنگ سفارت کاری کے ذریعے رک جانے کی توقع تھی لیکن اب تک ایسانہیںہوسکا ہے حالانہ فلسطین میں امن کاقیام ناگزیر ہے بصورت دیگر بڑی تباہی ہوسکتی ہے مگراب تک اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی مسلم فلسطینیوں کاقتل عام روکنے میں ناکام رہی ہیں دنیابھرمیں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے بھی ہورہے ہیں اس کے باوجود جنگ مزید پھیلنے کے خدشات ہیں ۔دنیابھر کے طالب علم اور درددل رکھنے والے لوگ آزاد فلسطینی ریاست کے حق اور فلسطینیوں کے نسل کشی کو رکوانے کے لئے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھی آزاد خودمختار فلسطینی ریاست کے حق میں قراردار اکثریتی رائے پر منظور کی ۔عالمی عدالت انصاف نے بھی اسرائیل کو فلسطین میںقتل عام روکنے کاحکم دیا ہے لیکن اسرائیلی اب بھی مسلم فلسطینیوں کے نسل کشی کی راہ پرگامزن ہے ۔فلسطین میںتنازع کی اصل وجہ دارالحکومت کامعاملہ ہے جس پرجس پر اسرائیلی صیہونی قوت نے قبضہ کیا ہوا ہے یعنی یوروشلم جبکہ وہ سرزمین تین انبیاکی سرزمین ہے جس کوایک آزاد شہر بننا ہے یعنی کہ UN Buffer Zone ۔اس حوالے سے حضرت عمر کے امن معاہدے کو آگے بڑھاتے ہوئے امریکی ابراہم ایکارڈ نامی معاہدے کی حمایت کی گئی ہے ۔معاہدے کے مطابق مسلمان،یہودی اور عیسائی سرزمین مقدسہ پرعبادت اور زیارت کے یکساں حقدار ہوں گے۔یہ سرزمین نبی اور رسول عیسی علیہ السلام کی جائے پیدائش ہے ۔دنیا میں ان کی واپس آمد پر ان ہی کی بادشاہی قائم ہوگی اور وہ پوری دنیا میں اللہ تعالی کی وحدانیت کاپرچارکریں گے ۔ مسلمان اقوام متحدہ کے دوریاستی حل کی قراردار کے ساتھ کھڑے رہیں کیونکہ غزہ پٹی مسلم فلسطینیوں کی سرزمین ہے جس کا اعلان امریکہ کرچکا ہے اور مغربی ممالک اس پر متفق ہیں۔ ابراہیم ایکارڈپرعملدرآمد کی صورت میں ہی فلسطین کی سرزمین پرامن قائم ہوسکتا ہے بصورت دیگردنیابھرمیں آنے والی تباہی کوروکنا بہت مشکل بلکہ ناممکن ہوگا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے