कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں

تحریر: معاذ حیدر، کلکتہ (متعلم: دارالعلوم دیوبند )

عورت کی تخلیق اور اسلام کا نکتہ نظر
اسلام نے عورت کی تخلیق کو ایک عظیم مقصد کے تحت پیش کیا ہے۔ ان کی زندگی کے مختلف مراحل کو مقدس رشتوں کے ساتھ جوڑا ہے اور ہر فرد کو ان کی زندگی کے تمام پہلوؤں سے متعلق اہم ذمہ داریاں سونپی ہیں۔ شریعتِ مصطفوی نے عورت کی پیدائش کو رحمت کا سبب قرار دیا ہے، ان کی عمدہ تربیت اور نگہداشت کو مغفرت کا ذریعہ بتایا ہے، اور ان کے اقدار کی حفاظت کو دینی معاشرے کی تشکیل میں ایک اہم عنصر سمجھا ہے۔عورت کے وجود کو انسان کی بقا کے لیے لازم قرار دیا گیا ہے۔ دنیا کی رونق، کائنات کی دلکشی، زمانے کی کروٹیں اور وقت کے بدلتے مناظر سب ان ہی کے وجود کی بدولت ہیں۔ جیسا کہ علامہ اقبال نے فرمایا:
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں
موجودہ تاثرِ نسواں: ایک المیہ
مگر افسوس کہ موجودہ دور میں "حقوقِ نسواں” کے نام پر عجیب و غریب تصورات نے جنم لیا ہے۔ یہ تصورات ہماری آنکھوں کو نم اور دلوں کو غم سے بھر دیتے ہیں۔ ہمیں بے انتہا دکھ ہے کہ روشنی کے اس منبع سے نور چھین لیا جا رہا ہے اور رحمت کے بادلوں کو زمین سے دور رکھنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
آر جی کار میڈیکل کا اندوہناک حادثہ
٩ اگست کو پیش آنے والے دل سوز واقعے نے ہمیں اندر سے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ہماری روح غم سے دب گئی ہے اور دل میں رنج و الم کی کیفیت چھا گئی ہے۔ بقول مرزا غالب:
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں
اس واقعے کے بعد سے ہمارا ذہن مستقل "عصمت دری کی روک تھام” اور "آبروریزی کے اسباب کا خاتمہ” کے طریقوں پر غور کر رہا ہے، جس کا عکس آئندہ سطور میں پیش کیا جا رہا ہے۔
عصمت دری اور آبروریزی: اسباب اور عوامل
عصمت دری کے بڑھتے ہوئے واقعات کا بڑا سبب سماج میں رونما ہونے والی نئی تبدیلیاں ہیں۔ موبائل اور انٹرنیٹ کا بے تحاشا استعمال، آزادانہ اختلاط، لیو اِن ریلیشن شپ، جنسی تعلقات کا جائز تصور، اور نکاح کی سنت کو بوجھ سمجھنا ایسے عوامل ہیں جو اس جرم کے بڑھنے کا سبب بن رہے ہیں۔عریاں مناظر، مخرب اخلاق رسائل، نیم عریاں رقص، اور ایسے اشتہارات جو عورت کی شبیہ کو مسخ کر رہے ہیں، نمایاں لباس، تعلیمی اداروں اور تفریحی مقامات پر آزادانہ میل جول، منشیات کا بے دریغ استعمال، اور ایسے افراد کا اقتدار میں آنا جو ان جرائم میں ملوث ہیں، یہ سب اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
حل کی طرف قدم
اس مسئلے کے سدباب کے لیے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس سیلاب کو روکنا کسی ایک فرد یا طبقے کا کام نہیں ہے۔ یہ اجتماعی جدوجہد کا متقاضی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اس قبیح عمل سے محفوظ رکھے اور اس مسئلے کے حل کے لیے ہمیں متحد کرے۔ آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے