कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اُردو صحافیوں کا تحریکِ آزادی میں حصہ

تحریر:عارف عزیز(بھوپال)

اردو صحافت کی دوسو سالہ سال کی تاریخ اردو کے صحافیوں کی قربانیوں سے بھری ہوئی ہے، اس مدت میں ہندوستان کے مختلف علاقوں سے اخبارات اوررسالے جاری ہوئے جن کا مقصد تجارت نہیں ملک و قوم کی خدمت تھا،خاص طورپر ۱۸۵۷ء سے ۱۹۴۷ء تک اردو کے اخباروں کی اشاعت تحریکِ آزادی سے جڑی ہوئی تھی ،’’انقلاب زندہ باد‘‘ کے نعروں اور’’ سرفروشی کی تمنا‘‘ نے اردو صحافیوں کے دلوں کو گرمار رکھا تھا اور حب الوطنی کے اسی جذبے کو انہوں نے ہندوستان کے عام لوگوں میں پیدا کرنے کی کوشش کی ، ان میں ہندو ، مسلمان ،سکھ اور عیسائی سب شامل تھے۔
اردوکا پہلا اخبار ’’جامِ جہاں نما‘‘ تھا جس کے ایڈیٹر منشی سدا سکھ مرزا پوری ، مالک ہری ہردت اور ناشر ایک انگریز ولیم ہوپ کنگ تھے۔ اس اخبار میں کبھی طنز کبھی مزاح کے پیرایے میںانگریزوں کی زیادتیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا تھا ۔ یہ ہفتہ وار اخبار ۱۸۲۲ء میں شائع ہوا، اس کے ایک سال بعد ۱۸۳۳ء میں انگریز حاکموں نے ایک آرڈی ننس جاری کرکے بنگال میں اخبار نکالنے کے لیے لائسنس حاصل کرنے کی پابندی لگا دی ۔ اس کے خلاف برہمو سماج کے بانی راجہ رام موہن رائے نے پہلے سپریم کورٹ میں اور اس کے بعد شاہ انگلستان سے اپیل کی ، راجہ صاحب اس وقت فارسی کا ہفتہ وار ’’مرآۃ الاخبار ‘‘ نکالتے تھے ۔ یہ اپیل نا منطور ہونے پر انہوں نے لائسنس لینے سے انکار کرکے اپنا اخبار بند کر دیا۔ اس طرح اخبارات کی آزادی کے لیے کسی ہندوستانی نے سب سے پہلے آواز اٹھائی۔
اُس وقت کے حالات کی سختی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ’’جام جہاں نما‘‘ کے بعد تیرہ سال تک اردو کا کوئی اخبار شائع نہیں ہوا ۔ دوسر اخبار جس کا ہمیں ذکر ملتا ہے ، وہ ’’دہلی اردو اخبار‘‘ ہے ، یہ ہفتہ وار مولانا محمد حسین آزاد کے والد مولوی محمد باقر نے ۱۸۳۶ء میںنکالنا شروع کیا اور ۱۸۵۷ ء تک یہ مسلسل شائع ہوتا رہا، اس میں دہلی دربار کی خبروں کے ساتھ ساتھ وہاں کی بد انتظامی پر بھی تبصرے ہوتے تھے۔ ایسی خبریں اور رپورٹیں شائع کی جاتی تھیں، جن سے عام لوگ انگریزوں کے ظلم و ستم اور چالاکی و مکاری کا اندازہ کر سکیں ، دہلی پر انگریزوں کے دوبارہ قبضے کے بعد مولوی محمد باقر کو گرفتار کرکے باغیوں کی مدد اور انگریزوں کے خلاف بغاوت کے جرم میں دوسرے مجاہدینِ آزادی کے ساتھ توپ سے اڑا دیا گیا ۔ محمد حسین آزاد کے نام بھی گرفتاری کا وارنٹ تھا لیکن وہ انگریزوں کے ہاتھ نہ آئے، مولوی محمد باقر شمالی ہندوستان میں اردو صحافت کے بانی ، لیتھو طباعت کے موجد اور آزاد صحافت کے امین تھے، ان کے ہم عصر ’’صادق الاخبار‘‘ کے ایڈیٹر جمیل الدین ہجر پر بھی بغاوت کا مقدمہ چلا اور تین سال کی سزا سنا کر ان کی جائیداد ضبط کرلی گئی ۔ اسی طرح کلکتہ کے اخبار’’گلشنِ نو بہار ‘‘ کو پریس ایکٹ کی خلاف ورزی کرکے باغیانہ مضامین شائع کرنے کے جرم میں بند کر دیا گیا اور اخبارکا پریس ضبط ہوگیا۔ اس اخبار کے ایڈیٹر عبدالقادر نے اودھ کے نواب واجد علی شاہ کی برطرفی کے خلاف کھل کر آواز اٹھائی تھی ، اخبار فارسی اور اردو دونوں زبانوں میں شائع ہوتا تھا۔
۱۸۵۹ء میں منشی نولکشور نے لکھنؤ سے ’اودھ اخبار‘ جاری کیا ، اِس اخبار نے جنگ آزادی میں براہ راست حصہ نہیں لیا لیکن اس میں اور آگرہ سے شائع ہونے والے مکند لال کے ماہنامہ ’’تاریخ بغاوت ہند ‘‘ میں انگریز افسروں اور ان کے ہمدرد دیسی کارندوں پر اکثر تنقید ہوتی تھی ، جنگِ آزادی کے مجاہدوں کے خلاف چلنے والے مقدموں کی کارروائی بھی شائع کی جاتی تھی ۔ اجمیر سے منشی ایودھیا پرساد نے ہفت روزہ ’خیر خواہ خلق‘ کے نام سے اور بنگلور سے محمد شریف نے ’منشورِ محمدی ‘ کے نام سے جو اخبارات نکالے اُن کو بھی آزادی کی تحریک کی بھر پور حمایت کرنے پر عتاب کا سامنا کرنا پڑا ، اسی طرح میرٹھ کے اخبار ’جلوہ ٔ طور‘ کے ایڈیٹر سید ظہیر الدین طور کو آزادی کی لڑائی میں حصہ لینے پر توپ سے اڑا دیا گیا ۔’سائنٹفک سوسائٹی ‘ علی گڑھ کے ایڈیٹوریل اسٹاف کے رکن مولانا محمد اسمعٰیل کو ایک مضمون لکھنے کے جرم میں تین سال انڈر گرائونڈ رہنا پڑ ا اور آخر میں اُن کی جائیداد ضبط کرکے نیلام کر دی گئی۔
اردو کے صحافیوں کی اِس قربانی سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان میں بیداری پیدا کرنے اور غلامی کے خلاف لوگوںکے دلوں میں نفرت کی آگ بھڑکانے میں اردو صحافیوں کا کتنا اہم رول رہا ہے۔
بیسویں صدی کے آغاز سے پہلے ہی اردو میں تقریباً ہر قسم کے اخبارات اور رسالے نکلنے لگے تھے، اور ان میں سیاسی ، سماجی ، ادبی ، ثقافتی اور طنزیہ و مزاحیہ ہر قسم اور ہر مذاق کے اخبارات تھے، ان کا دائرہ بھی کافی بڑا تھا۔ ایسا ہی ایک اخبار ’اودھ پنج‘‘ تھا، جس کے ایڈیٹر منشی سجاد حسین کاکوروی نے طنز و مزاح کے پردے میں انگریز حکومت سے زیادہ مغربی تہذیب و تمدن اور اخباری کارٹونوں کے ذریعے انگریز حکام کو مذاق کا نشانہ بنا کر اُن کے دبدبے کو کم کرنے کی کوشش کی ۔
انیسویں صدی کی اردو صحافت اورصحافیوں کی یہ روایت بیسویں صدی میں بھی قائم رہی بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ہوگئی ۔ مشہورِ اہلِ قلم ادیبوں اور شاعروں نے صحافت سے وابستگی اختیار کرکے صحافت و ادب کے رشتے کو ہی مضبوط نہیں کیا صحافت کا معیار بھی بلند کر دیا ، اِن معروف ادیبوں اور شاعروں میں مولانا حسرت موہانی ، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا ظفر علی خاں اور مولانا محمد علی جوہر کے نام سرِ فہرست ہیں، اردو کے یہ چاروں مجاہد اس کی انقلابی صحافت کے بھی علمبردار ہیں۔
مولانا حسرت موہانی کے رسالے ’اردو ے معلی‘ ظفر علی خاں کے روزنامہ ’زمیندار‘ ، مولانا آزاد کے ’الہلال‘ اور مولانا محمد علی جوہر کے ’ہمدرد‘ حقیقت میں اخبار نہیں بلکہ تحریک تھے ، جن کی وجہ سے پورے ملک میں سیاسی و سماجی شعور، ظلم و زیادتی کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ اور ہندوستان کے لوگوں میں مل جل کر آزادی کے لئے لڑائی لڑنے کا جذبہ پیدا ہوا۔
اِس دور کے دوسرے اخبارات میں بجنور سے حامد الانصاری غازی کی ادارت میں شروع ہونے والے اخبار ’مدینہ‘ کو بھی ایک اہم مقام حاصل ہوا ۔ اس کے بعدمیں بنے ایڈیٹروں میں ممتاز صحافی ابو سعید بزمی کا نام بھی آتا ہے جو بھوپال میں پیدا ہوئے اور صحافت کے خدمتگار نیز آزادی کے حوصلہ مند مجاہد کی حیثیت سے بار بار مختلف مقدمات میں ماخوذ ہوکر قید اور دوسری سزائوں سے گذرتے رہے، ایسے ہی ایک صحافی بشن سہائے آزاد تھے، جنہوں نے اپنے اخبار ’آزاد ، کے ذریعہ نہایت دلیری کے ساتھ انگریزوں کو یہ باور کرانے کی سعی کی کہ ان کے کسی ایسے قانون کی پابندی نہیں کی جاسکتی جو اصولی حق پرستی اور سچائی کے خلاف ہو، اِن کے علاوہ مہاشہ کرشن کے لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ ’پرتاپ‘ لالہ لاجپت رائے کے ’بندے ماترم‘ جمعیتہ علمائے ہند کے ’الجمیعتہ ‘ کانگریس کے ’قومی آواز‘ مولانا عبدالماجد دریا بادی کے ’سچ‘ اور صد ق جدید ’مولانا عبدالمجید سالکؔؔ اور غلام رسول مہرؔ کے ’انقلاب‘ (لاہور) سردار دیوان سنگھ مفتونؔ کے ریاست (دہلی) خوش حال چند کے ’ملاپ‘ (لاہور) وہ اخبارات اور اُن میں کام کرنے والے صحافی ہیں جنہوں نے حق گوئی اور اظہار رائے کی آزادی کا پرچم بلند کرتے ہوئے ہر طرح کی قربانیوں سے کبھی منہ نہ موڑا، خلافت تحریک ہو یا ترک ِ موالات یا پھر ہندوستان چھوڑو جدوجہد اِن سب میں اردو پریس اور اس کے صحافیوں نے جتنا بڑھ چڑھ کر حصہ لیا وہ ناقابل فراموش ہے۔ سابق ریاست بھوپال میں بھی اردو کے جیالے صحافیوں نے حق گوئی کی روشن مثالیں قائم کیں، یہاں سے شائع ہونے والے اخبار و رسائل میں عبدالکریم اوج کا ’صداقت‘ وہ اخبار ہے جس کو شخصی راج کے خلاف آواز اٹھانے پر ریاست بدر کر دیا گیا اور بعد میں انہوں نے ہوشنگ آباد سے ’’موجِ نربدا‘ کے نام سے دوسر اخبار نکالا، اسی طرح بھوپال سے شائع ہونے والے ’صبح وطن، رہبر وطن ، اور ’رہنما‘ نے بھی جدو جہد آزادی میں اہم حصہ لیا اور بحیثیت مجموعی اردو کے صحافی ملک کے عوام میں سیاسی بیداری کی روح پھونکنے میں کامیاب ہوئے اور اسی کے نتیجے میں یہاں آزادی کا سورج طلوع ہو سکا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے