कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اگر وقف بورڈ ٹھیک کام کرتا تو مسلمانوں کی حالت بہتر ہوتی: مفتی شہاب الدین رضوی

بریلی: 4 اگست:آل انڈیا مسلم جماعت کے قومی صدر مولانا مفتی شہاب الدین رضوی بریلوی نے وقف بورڈ ایکٹ میں ترمیم کے مرکزی حکومت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ مولانا مفتی شہاب الدین رضوی بریلوی نے اسے قابل ستائش قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت وقف بورڈ کے حوالے سے پارلیمنٹ میں بل لانے جا رہی ہے۔ پورے ہندوستان کی نظریں اس قانون پر لگی ہوئی ہیں، دیکھنا یہ ہے کہ اس میں کیا تبدیلیاں کی جاسکتی ہیں۔ میری حکومت سے ایک ہی درخواست ہے کہ وقف میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی کو روکنے کے لیے سخت قوانین بنائے جائیں۔‘‘ انہوں نے کہا، "ہندوستان میں تمام وقف بورڈ کے چیئرمین، افسران اور اراکین وقف املاک میں بدعنوانی کے لیے لینڈ مافیا کے ساتھ ملی بھگت کر رہے ہیں۔ اگر وقف بورڈ نے اپنا کام صحیح طریقے سے کیا ہوتا تو پورے ملک کے مسلمانوں میں ترقی نظر آتی۔ پورے ملک میں کوئی مسلمان سڑکوں پر بھیک مانگتا نظر نہیں آتا۔ لیکن کچھ لوگوں نے صرف کرپشن کا کام کیا۔ مولانا نے مرکزی حکومت کے اس فیصلے میں تاخیر پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وقف بورڈ میں جاری من مانی کو روکنے کے لیے اس طرح کا قانون پہلے لانا چاہیے تھا۔ اگر حکومت اسے پہلے لے آتی تو وقف بورڈ کی آڑ میں جاری بدعنوانی کے کھیل کو روکا جا سکتا تھا۔ دوسری جانب مولانا خالد رشید نے وقف ایکٹ کا ذکر کرتے ہوئے حکومت پر سوالات اٹھا دیئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں وقف ایکٹ 1995 ہے جس میں 2013 میں ترمیم کی گئی تھی۔ اس کے تحت ہی وقف املاک کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ حکومت وقف املاک پر موجود سرکاری دکانوں کو دیکھے۔ میرے خیال میں حکومت جو ایکٹ کرنے جا رہی ہے اس میں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر ایسا کیا جا رہا ہے تو سب کی رائے لینی چاہیے۔‘‘

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے