कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اکھلیش یادو صاحب! ضد چھوڑئے، اویسی سے ہاتھ ملائیے، مسلمانوں کو انتشار سے بچائیے!

تحریر: محبوب الحسن محبوؔب مظفرنگری
8267863057

اترپردیش میں سیکولر اتحاد وقت کی ضرورت ہے، سیاسی انا اور الزام تراشی کا وقت گزر چکا ہے!
اکھلیش یادو صاحب!
اب وقت آگیا ہے کہ آپ سیاسی ضد، انا اور الزام تراشی کی روش سے باہر نکلیں۔ تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اترپردیش کی تمام سیکولر جماعتوں اور ان کے قائدین کو ایک وسیع تر سیاسی اتحاد کے لیے متحد کرنے میں پہل کریں۔ خصوصاً مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسدالدین اویسی کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائیے۔
آخر کب تک ایک دوسرے پر الزامات عائد کرکے سیاسی فاصلے بڑھائے جاتے رہیں گے؟ کب تک اویسی کو مسلمانوں کے انتشار کا ذمہ دار ٹھہرا کر اپنی سیاسی ذمہ داریوں سے دامن بچایا جاتا رہے گا؟
یہ محض کسی ایک شخص کی آواز نہیں، بلکہ وقت کی پکار اور بدلتے ہوئے سیاسی حالات کا تقاضا ہے۔
اترپردیش کی سیاست میں مسلمانوں کو محض ووٹ بینک سمجھنے کے بجائے ان کے سیاسی وجود، نمائندگی اور جمہوری حقوق کا احترام کرنا ہوگا۔ اگر واقعی آپ مسلمانوں کے ووٹوں کے خواہش مند ہیں، اگر واقعی آپ اترپردیش میں سیکولر حکومت قائم کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں تو پھر اس خواب کی تعبیر کے لیے وسیع القلبی کا مظاہرہ بھی کرنا ہوگا۔
اویسی کو موردِ الزام ٹھہرانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ مجلس اتحاد المسلمین بھی اسی جمہوری نظام کا حصہ ہے، اسے بھی اپنی سیاسی جدوجہد کرنے اور عوام کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا حق حاصل ہے۔ اختلافِ رائے کا مطلب دشمنی نہیں ہوتا اور سیاسی مقابلے کا مطلب مستقل محاذ آرائی بھی نہیں ہونا چاہیے۔
اکھلیش یادو صاحب! ذمہ داری صرف اویسی کی نہیں، آپ کی بھی ہے۔ اگر آپ خود کو اترپردیش میں سیکولر سیاست کا ایک اہم چہرہ سمجھتے ہیں تو آپ کو پہل کرنی چاہیے۔ سیاسی بالغ نظری اسی کا نام ہے کہ اپنے مخالفین سے بھی مذاکرات کے دروازے بند نہ کیے جائیں۔
ایک بات اور بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اترپردیش کا مسلمان اب سیاسی طور پر پہلے جیسا بے خبر نہیں رہا۔ وہ حالات کو سمجھتا ہے، سیاسی جماعتوں کے کردار کو دیکھتا ہے، ان کے بیانات اور عملی اقدامات میں فرق محسوس کرتا ہے۔ اسے محض جذباتی نعروں اور انتخابی وعدوں سے مطمئن نہیں کیا جاسکتا۔
بی جے پی سے قربت کے الزامات ہوں یا سیکولرزم کے دعوے، عوام ہر جماعت کے کردار کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس لیے کسی ایک جماعت یا رہنما کو نشانہ بنانے کے بجائے تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے اپنے کردار کا احتساب کرنا چاہیے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف مسلمانوں کے ووٹوں کی تقسیم کا رونا رونے سے کام نہیں چلے گا؛ اس تقسیم کو روکنے کے لیے سیاسی حکمت عملی، باہمی احترام اور عملی اتحاد کی ضرورت ہے۔
اکھلیش یادو صاحب! سیاست میں بڑے دل کا مظاہرہ کیجیے۔ اویسی سے ہاتھ ملانے میں آپ کی سیاسی حیثیت کم نہیں ہوگی، بلکہ اگر یہ اتحاد جمہوری اقدار، آئینی حقوق اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے تحفظ کے لیے ہے تو یہ آپ کی سیاسی بصیرت کا ثبوت ہوگا۔
اترپردیش کے مسلمانوں کو مزید سیاسی انتشار کا شکار مت ہونے دیجیے۔ الزام تراشی کی سیاست سے آگے بڑھ کر اتحاد کی سیاست کا راستہ اختیار کیجیے۔ وقت آپ سے مطالبہ کر رہا ہے کہ آپ ذاتی اور جماعتی مفادات سے بلند ہوکر ایک وسیع تر سیکولر اتحاد کی بنیاد رکھنے میں پہل کریں۔
یاد رکھیے! انتخابات میں صرف دعوے نہیں، سیاسی فیصلے بھی بولتے ہیں۔ مسلمان کسی جماعت کا مستقل پابند نہیں، وہ اپنے سیاسی مفاد، عزت، حقوق اور مستقبل کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنے کا حق رکھتا ہے۔
اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے: الزام تراشی یا مفاہمت؟ سیاسی ضد یا وسیع القلبی؟ انتشار یا اتحاد؟
اترپردیش کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا سیاسی جماعتوں کی نہیں، بلکہ جمہوریت، آئین اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے متحد قیادت کی ضرورت ہے۔
اکھلیش یادو صاحب! پہل کیجیے، اویسی سے بات کیجیے، اختلافات کو مذاکرات کی میز پر لائیے اور اترپردیش میں ایک مضبوط، وسیع تر اور باوقار سیکولر اتحاد کی راہ ہموار کیجیے۔ یہی وقت کا تقاضا ہے اور یہی سیاسی بصیرت کا امتحان بھی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے