कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

انسان اپنے ہی احساسات سے فرار کیوں اختیار کرتا ہے؟

جذبات سے گریز Emotional Avoidance ۔ ایک سماجی و نفسیاتی جائزہ

بقلم :شیخ محمود علی لکچرر
8055402819

تمہید:
انسانی شخصیت کی تشکیل میں جذبات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ خوشی غم، محبت نفرت خوف احساسِ محرومی پچھتاوا اور تنہائی انسانی زندگی کے فطری تجربات ہیں۔ لیکن بعض اوقات انسان اپنے جذبات کا سامنا کرنے کے بجائے ان سے فرار اختیار کرنے لگتا ہے۔ نفسیات میں اس رویے کو Emotional Avoidance (جذبات سے گریز) کہا جاتا ہے۔
یہ ایک ایسا نفسیاتی رویہ ہے جس میں انسان اپنے اندر پیدا ہونے والے ناخوش گوار احساسات تکلیف دہ یادوں اور ذہنی کشمکش کا سامنا کرنے کے بجائے انہیں دبانے نظرانداز کرنے یا ان سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔
جذبات سے گریز کی نفسیاتی وجوہات:
انسان جذبات سے گریز کیوں کرتا ہے؟ اس کے پیچھے کئی نفسیاتی اور سماجی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔
1. ماضی کے تلخ تجربات- بعض افراد ماضی میں ایسی جذباتی اذیت سے گزرتے ہیں جس کا سامنا دوبارہ کرنے سے انہیں خوف محسوس ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ ان یادوں کو ذہن سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
2 . ردِعمل کا خوف: بعض لوگوں کو یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ اگر انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کیا تو لوگ انہیں کمزور، حساس یا ناکام سمجھیں گے۔
3. سماجی تربیت: ہمارے معاشرے میں خصوصاً مردوں کو بچپن سے یہ باور کرایا جاتا ہے کہ رونا، دکھ کا اظہار کرنا یا مدد طلب کرنا کمزوری کی علامت ہے۔ نتیجتاً وہ اپنے جذبات کو چھپانے کی عادت اپنا لیتے ہیں۔
4. احساسِ محرومی: محبت میں ناکامی، رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ، بے وفائی اور عدم توجہی انسان کو جذباتی طور پر محتاط بنا دیتے ہیں۔ بعض اوقات وہ آئندہ کسی تعلق میں جذباتی وابستگی سے بھی گریز کرنے لگتا ہے۔
جذبات سے گریز کی نمایاں علامات:
اس رویے کا شکار انسان بظاہر معمول کی زندگی گزارتا دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے اندر ایک مسلسل نفسیاتی کشمکش جاری رہ سکتی ہے۔
ہر وقت خود کو مصروف رکھنا۔
تنہائی سے گھبرانا اور خاموشی سے فرار اختیار کرنا۔
اپنے مسائل پر گفتگو سے گریز کرنا۔
تکلیف دہ یادوں کو دبانے کی کوشش کرنا۔
دوسروں کے سامنے ہر حال میں مضبوط دکھائی دینا۔
جذباتی تعلقات میں قربت سے خوف محسوس کرنا۔
موبائل، سوشل میڈیا، کام یا دیگر سرگرمیوں میں غیر معمولی مصروفیت اختیار کرنا۔
یہ علامات بذاتِ خود کسی نفسیاتی بیماری کی تشخیص نہیں ہیں، تاہم مسلسل اور شدید ہونے کی صورت میں یہ ذہنی دباؤ کی طرف اشارہ کر سکتی ہیں۔
جذباتی گریز اور انسانی تعلقات:
جذبات سے گریز کا سب سے گہرا اثر انسانی تعلقات پر مرتب ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص اپنے احساسات کا اظہار نہیں کرتا تو اس کے قریبی رشتوں میں غلط فہمیاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔
شوہر اور بیوی کے درمیان خاموشی والدین اور اولاد کے درمیان جذباتی فاصلہ، دوستی میں عدم اعتماد اور محبت میں عدم تحفظ اکثر اسی طرزِ عمل سے مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔
ایک شخص جو اپنے دکھ کا اظہار نہیں کر پاتا ضروری نہیں کہ وہ بے حس ہو؛ ممکن ہے وہ اپنے جذبات کے اظہار کا طریقہ ہی نہ جانتا ہو۔
کیا جذبات کو دبانا مضبوطی ہے؟
یہاں ایک اہم نفسیاتی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اپنے جذبات کو چھپانا واقعی مضبوط شخصیت کی علامت ہے؟
بظاہر ایسا انسان بہت مضبوط دکھائی دیتا ہے جو مشکل حالات میں بھی خاموش رہتا ہے کسی کے سامنے نہیں روتا اور اپنے مسائل خود حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن حقیقی جذباتی مضبوطی کا مطلب احساسات سے انکار نہیں بلکہ انہیں تسلیم کرنے، سمجھنے اور صحت مند انداز میں ان کا اظہار کرنے کی صلاحیت ہے۔
نفسیاتی اعتبار سے جذبات کو مسلسل دبانے کے بجائے ان کی شناخت اور قبولیت زیادہ مفید حکمتِ عملی ہے۔
اس رویے سے نجات کیسے ممکن ہے؟
جذباتی گریز سے نکلنے کے لیے سب سے پہلے انسان کو اپنے احساسات تسلیم کرنا ہوں گے۔
اپنے جذبات کو پہچانیے اور ان کے اظہار سے نہ گھبرائیے۔
کسی قابلِ اعتماد شخص سے اپنے مسائل پر گفتگو کیجیے۔
ماضی کے تلخ تجربات کو سمجھنے کی کوشش کیجیے۔
تنہائی کو محض فرار کا ذریعہ بنانے کے بجائے خود شناسی کا وسیلہ بنائیے۔
ضرورت محسوس ہو تو ماہرِ نفسیات سے مشاورت حاصل کیجیے۔
یاد رکھیے کہ ہر دکھ کا فوری حل ضروری نہیں بعض اوقات اپنے دکھ کو سمجھ لینا ہی صحت یابی کی جانب پہلا قدم ہوتا ہے۔
تجزیہ:
انسان کی سب سے بڑی نفسیاتی جدوجہد کبھی کبھی دوسروں سے نہیں بلکہ اپنے آپ سے ہوتی ہے۔ وہ پوری دنیا کے سامنے مسکراتا ہے، لوگوں کے مسائل سنتا ہے دوسروں کو حوصلہ دیتا ہے، لیکن اپنے اندر کی ٹوٹ پھوٹ کو کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیتا۔
وہ سمجھتا ہے کہ خاموش رہنا، مصروف رہنا اور ہر بات کو نظرانداز کر دینا ہی زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ ہے۔ حالانکہ جذبات کو مسلسل نظرانداز کرنے سے وہ ختم نہیں ہوتے، بلکہ بعض اوقات مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔
زندگی میں اصل قوت اپنے جذبات کو دفن کرنے میں نہیں بلکہ ان کا سامنا کرنے کا حوصلہ پیدا کرنے میں ہے۔
کیونکہ جو انسان اپنے باطن کو سمجھ لیتا ہے، وہ دوسروں کی توثیق اور ہمدردی کا محتاج ہوئے بغیر بھی اپنی ذات کے ساتھ ایک صحت مند تعلق قائم کر سکتا ہے۔
تحریری و سماجیاتی نقطۂ نظر:
یہ موضوع نفسیات اور عمرانیات دونوں سے گہرا تعلق رکھتا ہے بالخصوص مردانہ سماجی کردار (Masculinity) جذباتی تربیت اور خاندانی نظام اور معاشرتی توقعات کے تناظر میں اس کا مطالعہ نہایت اہم ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے