कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جنہوں نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا، کیا ہم اُن کے لڑکھڑاتے قدموں کا سہارا بنیں گے؟

ہر مسلمان نوجوان، ہر بیٹے اور ہر بیٹی کے نام ایک بیدار کرنے والا پیغام

تحریر: جمیل احمد

انسان جب دنیا میں آتا ہے تو نہ اسے بولنا آتا ہے، نہ چلنا، نہ کھانا پینا اور نہ ہی اچھے برے کی پہچان ہوتی ہے۔ ماں اسے اپنی گود میں پالتی ہے، راتوں کی نیند قربان کرتی ہے، بیماری میں جاگتی ہے، بھوک اور تھکن برداشت کرتی ہے۔ باپ دھوپ، سردی، گرمی اور مشقت سہہ کر اولاد کی ضروریات پوری کرتا ہے، تاکہ اس کے بچے تعلیم حاصل کریں، عزت کی زندگی گزاریں اور ان کا مستقبل بہتر ہو۔
ماں اپنی اولاد کو سینے سے لگاتی ہے، انگلی پکڑ کر چلنا سکھاتی ہے، گرنے پر سنبھالتی ہے اور تکلیف میں خود بے چین ہو جاتی ہے۔ باپ اپنی خواہشات قربان کرکے بچوں کے لیے سہولتیں فراہم کرتا ہے۔ لیکن جب یہی اولاد جوان ہو کر اپنے پیروں پر کھڑی ہو جاتی ہے تو بعض اوقات انہی والدین کو بھول جاتی ہے جنہوں نے اپنی زندگی ان کی پرورش میں گزار دی تھی۔
سوال یہ ہے کہ جنہوں نے ہمیں انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا، کیا ہم ان کے بڑھاپے میں ان کے لڑکھڑاتے قدموں کا سہارا بنیں گے؟
والدین کا مقام قرآن و حدیث میں
اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے حکم کے ساتھ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے:
وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا
ترجمہ: تمہارے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔
(سورۃ بنی اسرائیل: 23)
اسی آیت میں والدین کو اُف تک نہ کہنے، انہیں نہ جھڑکنے اور ان سے عزت و احترام کے ساتھ بات کرنے کی تاکید ہے۔ پھر یہ دعا سکھائی گئی:
رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
ترجمہ: اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما، جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا تھا۔
(سورۃ بنی اسرائیل: 24)
سورۃ لقمان میں اللہ تعالیٰ نے ماں کی تکلیف کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری برداشت کرکے اسے پیٹ میں اٹھائے رکھا۔
(سورۃ لقمان: 14)
ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے تین مرتبہ پوچھا تو آپ ﷺ نے ہر بار ماں کا نام لیا، پھر چوتھی مرتبہ فرمایا: تمہارا باپ۔
(صحیح بخاری: ، صحیح مسلم: )
رسول اللہ ﷺ نے والدین کی نافرمانی کو بڑے گناہوں میں شمار فرمایا۔
(صحیح بخاری: ، صحیح مسلم: )
خدمتِ والدین جنت کے حصول کا ذریعہ
حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ اپنی والدہ کے ساتھ حسنِ سلوک اور خدمت کے لیے معروف تھے۔ صحیح مسلم کی روایت میں ان کی والدہ کے ساتھ نیکی کا ذکر آتا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ان سے دعائے مغفرت کی درخواست کرنے کی ہدایت فرمائی۔
(صحیح مسلم: )
اسی طرح تین آدمیوں کے غار میں پھنس جانے کا واقعہ صحیح بخاری و مسلم میں موجود ہے۔ ان میں سے ایک شخص نے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے اس عمل کا واسطہ دے کر دعا کی کہ وہ اپنے بوڑھے والدین کو پہلے دودھ پلایا کرتا تھا۔ ایک رات والدین سو گئے تو وہ ان کے بیدار ہونے تک دودھ کا پیالہ ہاتھ میں لیے کھڑا رہا۔ اس نے یہ عمل اللہ کی رضا کے لیے کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی۔
(صحیح بخاری: ، صحیح مسلم: )
رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کے لیے سخت تنبیہ فرمائی جو اپنے والدین میں سے کسی ایک یا دونوں کو بڑھاپے میں پائے، مگر ان کی خدمت کرکے جنت حاصل نہ کر سکے۔
(صحیح مسلم: )
والدین کو صرف پیسہ نہیں، اولاد کا وقت بھی چاہیے
آج بہت سے بچے روزگار کے سلسلے میں والدین سے دور رہتے ہیں۔ وہ رقم بھیج کر سمجھتے ہیں کہ ان کی ذمہ داری پوری ہو گئی، حالانکہ والدین کو مالی مدد کے ساتھ اولاد کی محبت، توجہ، گفتگو اور رفاقت بھی درکار ہوتی ہے۔ کبھی فون کرکے خیریت پوچھ لیجیے، ان کی بات سنیے، ان کے ساتھ وقت گزاریے، بیماری میں علاج کا انتظام کیجیے اور انہیں یہ احساس نہ ہونے دیجیے کہ وہ آپ کے لیے بوجھ ہیں۔
نافرمانی اور مکافاتِ عمل کا سبق
بچے اپنے والدین کے رویوں سے سیکھتے ہیں۔ اگر وہ دیکھتے ہیں کہ والدین اپنے بزرگوں کی بے عزتی کرتے ہیں، ان کی خدمت سے گریز کرتے ہیں اور انہیں بوجھ سمجھتے ہیں تو یہی رویہ ان کی تربیت کا حصہ بن سکتا ہے۔ پھر جب وہ بچے بڑے ہو کر اپنے والدین کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کرتے ہیں تو والدین کو اپنی ہی تربیت کا عکس دکھائی دیتا ہے۔ یہ مکافاتِ عمل کا ایک اہم اخلاقی سبق ہے۔
البتہ یہ ضروری نہیں کہ ہر نافرمان والدین کی اولاد بھی لازماً نافرمان ہو۔ قرآن کے مطابق ہر شخص اپنے اعمال کا خود جواب دہ ہے۔
(سورۃ الانعام: 164)
لہٰذا ہر اولاد کو چاہیے کہ وہ والدین کے غلط رویے کی نقل کرنے کے بجائے اللہ کے حکم کے مطابق حسنِ سلوک اختیار کرے۔
وفات کے بعد بھی والدین کے حقوق باقی رہتے ہیں
والدین کے انتقال کے بعد بھی ان کے لیے دعا و استغفار، ان کی طرف سے صدقہ، ان کے قرض کی ادائیگی، جائز وعدوں کی تکمیل، ان کے دوستوں کی عزت اور ان کے رشتہ داروں سے حسنِ سلوک نیکی کے کام ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے والدین کی وفات کے بعد بھی ان کے ساتھ نیکی کے ان طریقوں کی تعلیم دی ہے۔
(سنن ابی داؤد: )
صحیح مسلم میں ہے کہ انسان کے انتقال کے بعد اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے، جن میں نیک اولاد کی دعا بھی شامل ہے۔
(صحیح مسلم: )
والدین کے ترکے کی تقسیم میں بھی شرعی احکام کی پابندی ضروری ہے۔ پہلے مناسب تجہیز و تکفین کے اخراجات، پھر قرض، پھر شرعی حدود کے مطابق جائز وصیت اور اس کے بعد ورثاء میں میراث تقسیم کی جائے۔ کسی وارث کا حصہ اس کی رضامندی کے بغیر صدقہ نہیں کیا جا سکتا۔
اولاد کے نام آخری پیغام
ہر بیٹے اور بیٹی کو سوچنا چاہیے کہ کیا وہ اپنے والدین سے نرم لہجے میں بات کرتا ہے؟ ان کی خیریت پوچھتا ہے؟ ان کے لیے وقت نکالتا ہے؟ ان کی بیماری اور بڑھاپے میں ان کا سہارا بنتا ہے؟ اگر والدین زندہ ہیں تو ان کی قدر کیجیے، ان کے پاس بیٹھئے، ان کے ہاتھ تھامیے اور ان کی خدمت کو اپنی سعادت سمجھیے۔ اگر وہ دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں تو ان کے لیے دعا، استغفار اور صدقے کا اہتمام کیجیے۔
ہم دوسروں سے اپنے والدین کے لیے دعا کی درخواست کرتے ہیں، لیکن ہمیں خود بھی ان کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہی دعا سکھائی ہے: رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا۔
یاد رکھیے! مال، عہدہ اور دنیاوی مصروفیات سب عارضی ہیں۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ ہمارا ہر عمل اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا ذریعہ بنے اور ہم جنت کے مستحق بنیں۔ والدین کی خدمت کو صرف خاندانی ذمہ داری نہیں، بلکہ اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی کا عظیم موقع سمجھیں۔
جن ہاتھوں نے ہمیں سنبھالا، آج ان ہاتھوں کو تھام لیجیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کل آپ ان ہاتھوں کو تھامنا چاہیں اور وہ ہمیشہ کے لیے آپ سے جدا ہو چکے ہوں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں والدین کی خدمت، عزت اور فرمانبرداری کی توفیق عطا فرمائے، ان کی زندگی میں ان کی قدر کرنے والا بنائے اور ان کی وفات کے بعد ان کے لیے دعا و استغفار کرنے والی نیک اولاد بنائے۔ آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے