कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

پٹاخے، آتش بازی، مسلم محلے اور معاشرتی بے حسی

(بے جا اسراف، والدین کی خاموشی، انسانی صحت کو لاحق خطرات اور اسلامی تہذیب و شناخت کا سوال)

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

ہمارے معاشرے میں خوشی منانے کے طریقے بھی وقت کے ساتھ بدلتے جا رہے ہیں۔ تہذیب، شائستگی، اخلاقی ذمّہ داری اور دوسروں کے حقوق کا احساس رفتہ رفتہ کمزور پڑتا دکھائی دیتا ہے۔ بالخصوص بعض مسلم محلوں میں مخصوص تہواروں کے مواقع پر پٹاخوں اور آتش بازی کا بڑھتا ہوا رجحان ایک ایسا معاشرتی مسئلہ بن چکا ہے جس پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔ سوال محض یہ نہیں کہ پٹاخے جلانا درست ہے یا غلط، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہماری خوشی کسی دوسرے انسان کے سکون، صحت، سلامتی اور زندگی کے معمولات کو متاثر کرنے کا جواز بن سکتی ہے؟ کیا چند لمحوں کی مصنوعی چمک کے لیے کسی بیمار کی رات کی نیند، کسی بزرگ کا ذہنی سکون، کسی معصوم بچّے کا اطمینان اور کسی ضرورت مند خاندان کا محدود سرمایہ قربان کر دینا دانش مندی ہے؟
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض علاقوں میں پٹاخے جلانا محض تفریح یا وقتی خوشی کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی، سماجی مقابلہ آرائی، نمود و نمائش اور بعض اوقات غیر ضروری تہوارانہ تقلید کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس رجحان میں بعض مسلم نوجوانوں اور بچّوں کی شرکت بھی بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔ وہ لوگ جو ایک طرف معاشی تنگی، تعلیمی اخراجات، گھریلو ضروریات اور معاشرتی مسائل سے دوچار ہیں، دوسری طرف چند گھنٹوں کی آتش بازی پر اپنی محنت کی کمائی بے دریغ خرچ کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ صورتِ حال صرف مالی اسراف کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی ترجیحات، تربیتی نظام اور تہذیبی شعور کے بارے میں بھی کئی سوالات اٹھاتی ہے۔
مسلم محلہ محض چند گھروں، گلیوں اور عمارتوں کا مجموعہ نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک تہذیبی اور معاشرتی اکائی بھی ہوتا ہے۔ اس کی اپنی اقدار، روایات، اخلاقی ترجیحات اور اجتماعی ذمّہ داریاں ہوتی ہیں۔ ایک مثالی مسلم معاشرے کی پہچان یہ ہونی چاہیے کہ وہاں عبادت کا ماحول ہو، علم و تعلیم کی قدر ہو، بزرگوں کا احترام ہو، بچّوں کی تربیت کا اہتمام ہو، پڑوسیوں کے حقوق کا لحاظ رکھا جائے اور معاشرتی زندگی میں امن، سکون اور باہمی احترام کو بنیادی اہمیت حاصل ہو۔ لیکن جب انہی محلوں میں رات گئے تک پٹاخوں کی گونج سنائی دیتی ہے، گلیوں میں بارود کا دھواں پھیلتا ہے، گھروں کے دروازوں اور کھڑکیوں کے قریب آتش بازی کی جاتی ہے، بیمار اور بزرگ افراد پریشان ہوتے ہیں اور معصوم بچّے خوف زدہ ہو کر اپنے والدین سے لپٹ جاتے ہیں، تو یہ محض تفریح کا معاملہ نہیں رہتا، بلکہ اجتماعی شعور کے فقدان کی علامت بن جاتا ہے۔
مسلمانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ تہذیبی شناخت کا مطلب دوسروں سے نفرت یا معاشرتی فاصلے پیدا کرنا نہیں، بلکہ اپنی دینی و اخلاقی اقدار کے مطابق ایک باوقار طرزِ زندگی اختیار کرنا ہے۔ کسی دوسرے مذہب کے ماننے والوں کے ساتھ حسنِ سلوک، رواداری، احترام اور پُرامن بقائے باہمی اسلامی تعلیمات کا حصّہ ہیں؛ تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان اپنی دینی شناخت اور اخلاقی اصولوں کو نظر انداز کرکے ہر رسم و رواج کو بلا سوچے سمجھے اختیار کر لے۔ پٹاخوں کے معاملے میں ایک بنیادی مسئلہ بے جا اسراف ہے۔ آج ایک عام خاندان کے سامنے تعلیم، علاج، مہنگائی، روزگار، رہائش اور دیگر بنیادی ضروریات کے بے شمار مسائل موجود ہیں۔ بہت سے والدین اپنے بچّوں کی تعلیمی فیس ادا کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں، بعض گھرانوں میں دو وقت کی معیاری غذا کا انتظام مشکل ہوتا ہے، بیمار افراد مناسب علاج سے محروم رہ جاتے ہیں اور کئی نوجوان روزگار کی تلاش میں پریشان ہیں۔ ایسے حالات میں محض چند لمحوں کی آواز، دھوئیں اور روشنی کے لیے ہزاروں روپے خرچ کر دینا کس قدر غیر دانش مندانہ طرزِ عمل ہے!
پٹاخوں کی ایک بڑی مقدار چند سیکنڈ یا چند منٹ میں جل کر راکھ ہو جاتی ہے۔ اس پر خرچ ہونے والی رقم نہ کسی دیرپا ضرورت کو پورا کرتی ہے، نہ کسی خاندان کی زندگی میں حقیقی بہتری لاتی ہے اور نہ ہی معاشرے کے کسی تعمیری مقصد میں حصّہ ڈالتی ہے۔ اس کے برعکس یہی رقم کسی غریب طالب علم کی کتابوں، کسی مریض کی دوا، کسی ضرورت مند خاندان کے راشن، کسی یتیم بچے کی تعلیم یا کسی مستحق کی مدد پر خرچ کی جا سکتی ہے۔ اسلام نے مال کو اللّٰہ تعالیٰ کی امانت قرار دیتے ہوئے اس کے استعمال میں اعتدال اور ذمّہ داری کی تعلیم دی ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: "وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا ۔ إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ؛ اور فضول خرچی نہ کرو، بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں” (سورۃ الإسراء: 26-27)۔ یہ قرآنی تعلیم ہمیں متوجہ کرتی ہے کہ مال خرچ کرنے کا معاملہ محض ذاتی پسند و ناپسند تک محدود نہیں، بلکہ اس میں اخلاقی ذمّہ داری بھی شامل ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی خوشی کے نام پر وسائل کو بے مقصد ضائع کرتا ہے، جب کہ اس کے آس پاس ضرورت مند انسان بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، تو اسے اپنے طرزِ عمل پر ضرور غور کرنا چاہیے۔
اس پورے معاملے کا ایک نہایت اہم اور تشویش ناک پہلو والدین کی خاموشی ہے۔ بچے جب پٹاخے خریدتے ہیں، انہیں گلیوں میں لے کر پھوڑتے ہیں، خطرناک آتش بازی کرتے ہیں، راہ گیروں کے قریب پٹاخے پھینکتے ہیں یا دوسروں کے گھروں کے سامنے دھماکے کرتے ہیں، تو اکثر والدین اسے بچّوں کی معمولی شرارت یا تفریح سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ بعض والدین خود بھی اس سرگرمی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور بچوں کو پیسے فراہم کرتے ہیں۔ گویا جس عمر میں بچّے کو ذمّہ داری، ضبطِ نفس اور دوسروں کے حقوق کا شعور دیا جانا چاہیے، اسی عمر میں اسے بے احتیاطی اور شور و ہنگامے کی آزادی دے دی جاتی ہے۔
یہ خاموشی درحقیقت غیر جانب داری نہیں، بلکہ تربیتی ذمّہ داری سے فرار ہے۔ والدین کا فرض صرف بچّوں کی خواہشات پوری کرنا، انہیں اچھا لباس پہنانا، مہنگے کھلونے خرید کر دینا یا ان کی تفریح کا انتظام کرنا نہیں، بلکہ انہیں ایک ذمّہ دار، مہذب اور بااخلاق انسان بنانا بھی ہے۔ بچّے جو کچھ اپنے والدین کو کرتے دیکھتے ہیں، اکثر اسی کو معمول اور قابلِ قبول سمجھنے لگتے ہیں۔ اگر گھر میں فضول خرچی کو معمول بنایا جائے، شور شرابے کو خوشی سمجھا جائے اور دوسروں کی تکلیف کو نظر انداز کیا جائے تو یہی رویے بچّوں کی شخصیت کا حصّہ بن سکتے ہیں۔ والدین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ تربیت کا حقیقی امتحان اس وقت ہوتا ہے جب بچّے کی کسی خواہش کو پورا کرنے کے بجائے اسے اخلاقی بنیادوں پر سمجھایا جائے۔ محبت کا مطلب ہر مطالبہ تسلیم کرنا نہیں، بلکہ کبھی کبھی کسی غلط خواہش کو حکمت اور شفقت کے ساتھ روک دینا بھی محبت ہی کی اعلیٰ صورت ہے۔
پٹاخوں کا سب سے زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ان کے اثرات صرف انہیں جلانے والوں تک محدود نہیں رہتے، بلکہ اس شور اور دھوئیں کا سامنا ان لوگوں کو بھی کرنا پڑتا ہے جن کا اس سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ بالخصوص ضعیف العمر افراد، دل اور سانس کے مریض، دمے کے مریض، حاملہ خواتین، نومولود بچّوں اور کم سن معصوم بچّوں کے لیے یہ صورتِ حال انتہائی تکلیف دہ ہو سکتی ہے۔ ایک بزرگ شخص جو اپنی عمر کے آخری حصّے میں سکون اور آرام کا محتاج ہے، جب اچانک کان پھاڑ دینے والے دھماکوں کی آواز سنتا ہے تو وہ خوف، اضطراب اور بے چینی محسوس کر سکتا ہے۔ دل کے مریضوں کے لیے اچانک شدید آوازیں جسمانی و ذہنی دباؤ کا سبب بن سکتی ہیں۔ ہائی بلڈ پریشر، اعصابی کمزوری اور دیگر طبی مسائل سے دوچار افراد کے لیے بھی یہ شور پریشانی میں اضافہ کر سکتا ہے۔
معصوم بچّوں کی صورتِ حال اس سے بھی زیادہ حساس ہے۔ چھوٹے بچّے اچانک ہونے والے دھماکوں کی آواز سے گھبرا جاتے ہیں، رونے لگتے ہیں، والدین سے لپٹ جاتے ہیں اور بعض اوقات ان کے معمول کے سونے جاگنے کے نظام میں خلل پڑتا ہے۔ نومولود بچّوں اور حسی طور پر حساس بچّوں کے لیے تیز آوازیں خاص طور پر پریشان کن ہو سکتی ہیں۔ بعض بچّوں میں اس طرح کے تجربات خوف، بے چینی اور نیند کے مسائل کو بڑھا سکتے ہیں۔ یہاں ایک بنیادی اخلاقی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ہماری خوشی اتنی اہم ہے کہ اس کے لیے کسی دوسرے کے گھر کا سکون چھین لیا جائے؟ کیا کسی بیمار کی تکلیف، کسی بوڑھے کی بے بسی اور کسی معصوم بچّے کے خوف کی کوئی اہمیت نہیں؟ اگر ہم اپنے گھر میں معمولی سی آواز پر پریشان ہو جاتے ہیں تو ہمیں دوسروں کے گھروں میں پیدا ہونے والی اس اذیت کا احساس کیوں نہیں ہوتا؟
پٹاخوں سے پیدا ہونے والا دھواں، باریک ذرات، کیمیائی مادے اور شدید آوازیں انسانی صحت کے لیے مختلف نوعیت کے خطرات پیدا کرتی ہیں۔ آتش بازی کے دوران فضا میں باریک ذرات، دھاتی مرکبات اور مختلف گیسیں خارج ہو سکتی ہیں۔ ان میں بعض ایسے اجزا بھی شامل ہوتے ہیں جو فضائی آلودگی میں اضافہ کرتے ہیں اور حساس افراد کے لیے سانس لینے میں دشواری پیدا کر سکتے ہیں۔ دمے، برونکائٹس اور دیگر تنفسی امراض کے مریضوں کو پٹاخوں کے دھوئیں سے کھانسی، سینے میں جکڑن، سانس کی تنگی اور سانس کی تکلیف میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بچّوں کے پھیپھڑے نشوونما کے مراحل میں ہوتے ہیں، اس لیے فضائی آلودگی سے ان کی حفاظت خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اسی طرح بزرگوں اور پہلے سے بیمار افراد میں بھی آلودہ فضا کے منفی اثرات زیادہ نمایاں ہو سکتے ہیں۔
پٹاخوں سے پیدا ہونے والی صوتی آلودگی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ انتہائی بلند آواز سماعت کو متاثر کر سکتی ہے، کانوں میں عارضی یا مستقل نقصان کا سبب بن سکتی ہے اور مسلسل شور ذہنی دباؤ، چڑچڑاپن اور نیند میں خلل پیدا کر سکتا ہے۔ خاص طور پر کان کے قریب پھٹنے والے پٹاخے سماعت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاؤہ آتش بازی کے نتیجے میں ہاتھوں، انگلیوں، آنکھوں اور چہرے پر جلنے کے واقعات، آگ لگنے کے حادثات اور بعض اوقات شدید جسمانی چوٹیں بھی پیش آتی ہیں۔ چھوٹے بچّے اگر والدین کی نگرانی کے بغیر پٹاخوں کے ساتھ کھیلیں تو حادثات کا امکان مزید بڑھ جاتا ہے۔ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ آتش بازی کے بعد فضا میں موجود آلودگی کا اثر فوری طور پر ختم نہیں ہو جاتا۔ باریک ذرات کچھ وقت تک ماحول میں موجود رہ سکتے ہیں اور ہوا کے معیار کو متاثر کر سکتے ہیں۔ لہٰذا پٹاخوں کا مسئلہ محض چند منٹ کی تفریح نہیں، بلکہ صحتِ عامہ اور ماحولیاتی ذمّہ داری سے بھی تعلق رکھتا ہے۔
کسی معاشرے کی ترقی کا اندازہ صرف اس کی بلند عمارتوں، سڑکوں، تجارتی مراکز اور جدید سہولتوں سے نہیں لگایا جاتا، بلکہ اس بات سے بھی لگایا جاتا ہے کہ اس کے افراد ایک دوسرے کے حقوق کا کتنا احترام کرتے ہیں۔ اگر کسی محلے میں رہنے والے افراد ایک دوسرے کے آرام، صحت اور تحفّظ کا خیال نہیں رکھتے تو وہاں سماجی ترقی کا دعویٰ کھوکھلا محسوس ہوتا ہے۔ پٹاخوں کے ذریعے پیدا ہونے والا شور کئی مرتبہ محلے کے ماحول کو خوف زدہ اور غیر محفوظ بنا دیتا ہے۔ راہ گیروں کے قریب پٹاخے پھوڑنا، چلتی گاڑیوں کی طرف آتش بازی کرنا، گلیوں میں جلتے ہوئے پٹاخے پھینکنا، عمارتوں کی بالکونیوں سے آتش بازی کرنا اور دوسروں کو خوف زدہ کرکے لطف اندوز ہونا محض غیر ذمّہ داری نہیں بلکہ خطرناک معاشرتی رویہ ہے۔
ایسے ماحول میں بچّوں کے اندر بھی یہ تصور پیدا ہو سکتا ہے کہ دوسروں کو خوف زدہ کرنا تفریح ہے، شور مچانا خوشی ہے اور اپنی خواہش کو دوسروں کے حقوق پر ترجیح دینا کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں۔ یہی ذہنیت آگے چل کر معاشرتی بے حسی، عدم برداشت اور اجتماعی نظم و ضبط کی کمزوری کا سبب بن سکتی ہے۔ ایک مہذب معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں انسان اپنی آزادی کے ساتھ دوسروں کی آزادی کا بھی احترام کرے۔ جہاں کسی کی خوشی دوسرے کے لیے مصیبت نہ بنے، جہاں تفریح کے نام پر کسی کی جان خطرے میں نہ ڈالی جائے اور جہاں اجتماعی زندگی کے اصولوں کو انفرادی خواہشات پر ترجیح دی جائے۔
یہ موضوع ایک اہم دینی، تہذیبی اور فکری پہلو بھی رکھتا ہے۔ اسلام نے مسلمانوں کو ایک واضح دینی شناخت، مخصوص عبادات، اخلاقی اقدار اور اجتماعی تہذیب عطا کی ہے۔ اس شناخت کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان اپنی زندگی کے معاملات میں اسلامی تعلیمات کو رہنما بنائیں اور کسی بھی معاشرتی رسم یا روایت کو اختیار کرنے سے پہلے اس کے مفہوم، مقصد اور نتائج پر غور کریں۔ اسلام دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ عدل، احسان، رواداری اور حسنِ سلوک کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے: لَا يَنْهَاكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ۔ اللّٰہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جنہوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا” (سورۃ الممتحنہ: 8)۔ اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام غیر مسلموں کے ساتھ اچھے برتاؤ اور انصاف کا مخالف نہیں، بلکہ اس کی تاکید کرتا ہے۔ تاہم حسنِ سلوک اور مذہبی شناخت کے امتیاز کو سمجھنا ضروری ہے۔ کسی غیر مسلم پڑوسی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا، اس کی خوشی اور غم کے موقع پر انسانی ہمدردی کا اظہار کرنا اور اس کے حقوق کا خیال رکھنا ایک بات ہے، جب کہ اس کے مذہبی شعائر یا مخصوص مذہبی رسوم کو اپنی مذہبی و تہذیبی شناخت کا حصہ بنا لینا ایک الگ معاملہ ہے۔
ہر معاشرتی روایت کو محض اس بنیاد پر رد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ غیر مسلم معاشرے میں رائج ہے، کیونکہ دنیا کے بہت سے معمولات مشترک انسانی تہذیب کا حصّہ ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہر رائج رسم کو بلا تحقیق اپنا لینا بھی درست طرزِ فکر نہیں۔ اس کا فیصلہ اس رسم کی نوعیت، اس کے مذہبی مفہوم، اس میں پائے جانے والے ممنوع عناصر اور اس کے معاشرتی اثرات کو سامنے رکھ کر کیا جانا چاہیے۔ پٹاخوں کے معاملے میں ایک اور اہم فرق سمجھنا ضروری ہے: آتش بازی بذاتِ خود ہر صورت میں کسی مخصوص مذہب کا شعیرہ نہیں، اور نہ ہی ہر جگہ اسے مذہبی عقیدے کے طور پر اختیار کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر کوئی مسلمان محض دیکھا دیکھی، معاشرتی دباؤ، نمود و نمائش یا کسی مخصوص مذہبی تہوار کی نقالی میں ایسی سرگرمی اختیار کرتا ہے جو اسراف، آلودگی، ایذا رسانی اور خطرے کا سبب بن رہی ہو تو اسے اپنے طرزِ عمل پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ مسلمان کی اصل پہچان یہ نہیں کہ وہ دوسروں سے نفرت کرے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے عقیدے پر ثابت قدم، اپنے اخلاق میں بلند، اپنے معاملات میں منصف اور اپنے معاشرتی کردار میں ذمّہ دار ہو۔ تہذیبی خود اعتمادی کا مطلب دوسروں کے ساتھ تصادم نہیں، بلکہ اپنی اقدار کے ساتھ باوقار وابستگی ہے۔
اسلامی تعلیمات میں پڑوسی کے حقوق کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ رسول اللّٰہﷺ نے پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک کی بار بار تاکید فرمائی۔ ایک حدیث میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا: "مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ۔ جو شخص اللّٰہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے” (صحیح بخاری و صحیح مسلم)۔ یہ حدیث ہمارے موضوع کے لیے ایک بنیادی اخلاقی اصول فراہم کرتی ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے گھر کے سامنے، گلی میں یا پڑوسی کے مکان کے قریب پٹاخے پھوڑتا ہے، جس سے بیمار، بزرگ، بچّے یا دیگر رہائشی پریشان ہوتے ہیں، تو اسے اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ آیا اس کا عمل پڑوسی کے حقوق کے منافی تو نہیں؟ اسلامی اخلاقیات کا حسن یہی ہے کہ وہ انسان کو صرف اپنی ذات کے دائرے میں محدود نہیں رکھتیں، بلکہ اسے دوسروں کی راحت، سلامتی اور عزّت کی کا محافظ بناتی ہیں۔ مسلمان کی موجودگی دوسروں کے لیے اطمینان اور خیر کا باعث ہونی چاہیے، نہ کہ خوف، شور اور اذیت کا ذریعہ۔
کسی بھی معاشرے کا مستقبل اس کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ نوجوانوں میں توانائی، جوش، تخلیقی صلاحیت اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہوتا ہے۔ اگر اس توانائی کو مثبت سمت دی جائے تو یہی نوجوان تعلیمی، سماجی، علمی اور معاشی ترقی میں انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر ان کی صلاحیتیں محض بے مقصد تفریح، نمود و نمائش، شور شرابے اور وقتی جذبات کے اظہار میں صرف ہونے لگیں تو معاشرہ اپنی قیمتی انسانی قوت سے محروم ہو جاتا ہے۔ مسلم نوجوانوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ ان کی اصل کامیابی پٹاخوں کی تعداد، آتش بازی کی بلندی یا خرچ کی جانے والی رقم میں نہیں، بلکہ ان کے علم، کردار، صلاحیت، خدمتِ خلق اور مثبت سماجی کردار میں ہے۔ وہ اپنے محلے میں تعلیمی بیداری کی مہم چلا سکتے ہیں، غریب بچوں کے لیے کتابیں فراہم کر سکتے ہیں، بیماروں کی مدد کر سکتے ہیں، صفائی اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کر سکتے ہیں اور اپنے بزرگوں کے لیے سہولتیں پیدا کر سکتے ہیں۔ یہی وہ سرگرمیاں ہیں جو نوجوانوں کی شخصیت کو نکھارتی اور معاشرے کو حقیقی معنوں میں مضبوط بناتی ہیں۔ ہمیں ایسی نسل تیار کرنے کی ضرورت ہے جو صرف خوشی منانا نہ جانتی ہو، بلکہ خوشی کے اخلاقی تقاضوں کو بھی سمجھتی ہو۔
اس مسئلے کا حل صرف انفرادی نصیحت سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے اجتماعی بیداری اور منظم سماجی کوششوں کی ضرورت ہے۔ علمائے کرام، ائمہ مساجد، اساتذہ، سماجی کارکنان، محلہ کمیٹیاں اور بااثر افراد اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مساجد کے منبر و محراب سے اسراف، پڑوسیوں کے حقوق، انسانی صحت، ماحولیات اور معاشرتی ذمّہ داریوں کے موضوعات پر مسلسل گفتگو ہونی چاہیے۔ جمعہ کے خطبات میں اس بات کو واضح کیا جائے کہ اسلام میں خوشی منانے کی بھی اخلاقی حدود ہیں۔ والدین کو بچّوں کی تربیت کی طرف متوجہ کیا جائے اور نوجوانوں کو سمجھایا جائے کہ کسی دوسرے انسان کی تکلیف ان کی تفریح کا ذریعہ نہیں بننی چاہیے۔
محلہ کمیٹیاں مقامی سطح پر شعور بیداری کی مہم چلا سکتی ہیں۔ اسکولوں، تعلیمی اداروں اور سماجی تنظیموں میں بچّوں کو صوتی و فضائی آلودگی کے نقصانات سے آگاہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر کسی علاقے میں آتش بازی کے باعث حادثات یا مسلسل شور کا مسئلہ پیدا ہو تو متعلقہ انتظامیہ اور پولیس سے قانونی حدود کے اندر تعاون حاصل کیا جانا چاہیے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ اس موضوع کو کسی مذہبی طبقے کے خلاف نفرت یا الزام تراشی کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ ہمارا مقصد کسی کی مذہبی آزادی میں مداخلت نہیں، بلکہ اپنے معاشرے کے افراد کو ذمّہ دارانہ طرزِ عمل کی دعوت دینا ہے۔ اصلاح کا پیغام محبت، حکمت، دلیل اور خیر خواہی کے ساتھ دیا جائے تو اس کے اثرات زیادہ پائیدار ہوتے ہیں۔
اسلام خوشی کا مخالف نہیں، بلکہ خوشی کو پاکیزگی، شکر گزاری، اعتدال اور اخلاقی حدود کے ساتھ منانے کی تعلیم دیتا ہے۔ عیدین مسلمانوں کی خوشی کے نمایاں مواقع ہیں، جن میں عبادت، شکر، باہمی ملاقات، صلہ رحمی، غریبوں کی مدد اور اجتماعی مسرت کو اہمیت حاصل ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ خوشی کے مواقع معاشرے میں محبت، خیر خواہی اور اتحاد پیدا کریں، نہ کہ فضول خرچی، مقابلہ آرائی اور دوسروں کے لیے اذیت کا سبب بنیں۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ خوشی کی حقیقی قدر اس کے شور میں نہیں، بلکہ اس کے مثبت اثرات میں ہے۔ کسی غریب کے گھر میں راشن پہنچانا، کسی یتیم کے چہرے پر مسکراہٹ لانا، کسی بیمار کی عیادت کرنا، کسی بزرگ کی ضرورت پوری کرنا اور کسی پریشان حال انسان کے لیے آسانی پیدا کرنا ایسی خوشیاں ہیں جن کے اثرات دیرپا ہوتے ہیں۔
قرآنِ مجید کا اصول ہے: "وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ۔ کھاؤ اور پیو، لیکن اسراف نہ کرو، بے شک اللّٰہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا” (سورۃ الأعراف: 31)۔ یہ اصول زندگی کے ہر شعبے میں اعتدال کی اہمیت واضح کرتا ہے۔ خواہ وہ کھانے پینے کا معاملہ ہو، لباس اور رہائش کا ہو یا تفریح اور تقریبات کا، مسلمان کو ہر حال میں میانہ روی اور ذمّہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
پٹاخوں کا مسئلہ صرف انسانوں کی صحت تک محدود نہیں، بلکہ ماحول اور قدرتی وسائل کے تحفّظ سے بھی تعلق رکھتا ہے۔ دھواں، باریک ذرات، جلنے کے بعد باقی رہ جانے والا کچرا، کاغذ اور پلاسٹک کی باقیات، اور آتش بازی سے پیدا ہونے والی آلودگی ہمارے ماحول کو متاثر کرتی ہے۔ اس کے علاؤہ جانور اور پرندے بھی شدید آوازوں سے خوف زدہ ہوتے ہیں۔ پالتو جانوروں میں گھبراہٹ، بے چینی اور فرار کی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے، جب کہ پرندوں کے قدرتی معمولات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسلامی تصورِ امانت ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ زمین اور اس کے وسائل انسان کی بے لگام خواہشات کے لیے نہیں، بلکہ ایک ذمّہ داری کے طور پر ہمارے سپرد کیے گئے ہیں۔ اس لیے ایک مسلمان کو اپنے ماحول کی حفاظت بھی اپنے اخلاقی فرائض کا حصّہ سمجھنا چاہیے۔
اگر ہم اپنے بچّوں کو صاف ستھری فضا، محفوظ گلیاں اور صحت مند ماحول فراہم نہیں کر سکتے تو ہماری ترقی کے دعوے کس قدر بامعنی رہ جاتے ہیں؟ ہمیں ایسی تفریح اور سرگرمیوں کو ترجیح دینی چاہیے جن سے کسی انسان، جانور، پرندے یا ماحول کو نقصان نہ پہنچے۔ مذہبی رواداری اور تہذیبی خودداری میں توازن، اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے یہ توازن برقرار رکھنا بھی ضروری ہے کہ کسی بھی مذہب یا تہذیب سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف تحقیر آمیز رویہ اختیار نہ کیا جائے۔ ہندوستان جیسے کثیرالمذاہب اور کثیرالثقافتی معاشرے میں باہمی احترام، امن، رواداری اور قانونی حقوق کا تحفّظ نہایت اہم ہے۔ ہر شہری کو اپنے مذہبی عقائد کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے، بشرطیکہ اس کا طرزِ عمل دوسروں کے قانونی حقوق اور سلامتی کو نقصان نہ پہنچائے۔
لہٰذا ہمارا اعتراض کسی مخصوص مذہب کے تہوار یا اس کے ماننے والوں کی خوشیوں پر نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ان غیر ذمّہ دارانہ سرگرمیوں پر ہونا چاہیے جو انسانی صحت، معاشرتی سکون، مالی اعتدال اور شہری نظم و ضبط کو متاثر کرتی ہیں۔ اگر کوئی مسلمان اپنی دینی شناخت کے تحفّظ کے ساتھ اپنے غیر مسلم پڑوسی کے مذہبی حقوق کا احترام کرتا ہے تو یہ اس کے اسلامی کردار کی خوب صورتی ہے۔ لیکن اگر وہ کسی بھی تہوار کے نام پر اسراف، شور، آلودگی اور ایذا رسانی میں شریک ہوتا ہے تو اسے اپنے عمل کا محاسبہ ضرور کرنا چاہیے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم پٹاخوں کے مسئلے کو محض ایک موسمی یا تہوارانہ سرگرمی سمجھ کر نظر انداز نہ کریں، بلکہ اسے اپنے معاشرتی شعور، اخلاقی تربیت، دینی شناخت، انسانی ہمدردی اور اجتماعی ذمّہ داری کے تناظر میں دیکھیں۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ حقیقی خوشی دوسروں کو خوف زدہ کرنے میں نہیں، بلکہ ان کے چہروں پر مسکراہٹ لانے میں ہے۔ حقیقی بہادری دھماکوں کی آواز بلند کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے نفس اور خواہشات پر قابو پانے میں ہے۔ حقیقی خوش حالی مال کو آگ میں جھونکنے میں نہیں، بلکہ اسے کسی تعمیری اور فلاحی مقصد کے لیے استعمال کرنے میں ہے۔
مسلم معاشرے کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنی نئی نسل کو شور و ہنگامے، بے جا اسراف، اندھی تقلید اور وقتی نمائش کی راہ پر ڈالنا چاہتا ہے یا علم، تہذیب، کردار، خدمتِ خلق اور ذمّہ دارانہ طرزِ زندگی کی طرف رہنمائی کرنا چاہتا ہے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ایک پٹاخہ صرف آواز پیدا نہیں کرتا، بلکہ کبھی کسی بیمار کے دل میں خوف، کسی بچّے کی آنکھوں میں آنسو، کسی بزرگ کے سکون میں خلل، کسی پرندے کے لیے دہشت اور کسی خاندان کے لیے حادثے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ اس لیے خوشی کے نام پر دوسروں کی اذیت کو معمولی سمجھنا کسی بھی مہذب معاشرے کے شایانِ شان نہیں۔
آئیے! ہم اپنے گھروں، گلیوں، محلوں اور معاشرے میں ایسی فضا قائم کرنے کی کوشش کریں جہاں خوشی ہو مگر شور نہ ہو، روشنی ہو مگر آلودگی نہ ہو، مسرت ہو مگر اسراف نہ ہو، آزادی ہو مگر دوسروں کے حقوق کی پامالی نہ ہو اور تہذیبی وابستگی ہو مگر نفرت و تعصب نہ ہو۔ ہمیں اپنے بچّوں کے ہاتھوں میں پٹاخے نہیں، کتابیں دینی ہیں؛ ان کے ذہنوں میں شور نہیں، شعور پیدا کرنا ہے؛ ان کے دلوں میں نمود و نمائش نہیں، خدمتِ خلق کا جذبہ بیدار کرنا ہے۔ کیونکہ قوموں کی عظمت چند لمحوں کی آتش بازی سے نہیں، بلکہ ان کے کردار، علم، اخلاق اور اجتماعی ذمّہ داری سے متعین ہوتی ہے۔ اور آخر میں ایک سوال ہم سب کے ضمیر کے سامنے ہے: کیا چند لمحوں کی مصنوعی خوشی کے لیے کسی بیمار کی نیند، کسی بزرگ کا سکون، کسی معصوم بچّے کا اطمینان، کسی غریب کی جمع پونجی اور پورے محلے کا امن قربان کر دینا واقعی دانش مندی ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر ہمیں اپنی ترجیحات، اپنے رویوں اور اپنی اجتماعی زندگی میں تبدیلی لانے کا آغاز آج ہی کرنا ہوگا۔
🗓 (06.11.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے