कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اسرائیل میں کرسی کی جنگ، غزہ میں زندگی کی جنگ

اسرائیلی انتخابات، اقتدار کا تعطل اور فلسطینیوں کے حقِ زندگی و خود اختیاری کا سوال

تحریر:ڈاکٹر اسداللہ خان

قسط دوم: غزہ کا حساب:
جمہوریت کی ایک خاموش حد ہوتی ہے: وہ صرف اپنے ووٹروں کو جواب دہ ہوتی ہے۔ پہلی قسط میں ہم نے اسرائیل کے ایوان کی وہ ریاضی دیکھی جس میں ترپن، اڑتالیس اور انیس کے ہندسے ایک دوسرے سے الجھے ہوئے ہیں۔ مگر اس ریاضی کے سب سے بھاری نتائج ان لوگوں پر پڑتے ہیں جن کا نام کسی ووٹر فہرست میں نہیں: غزہ کے بیس لاکھ سے زائد باشندے اور مغربی کنارے کے فلسطینی، جو یروشلم کے فیصلوں کے سائے میں جیتے ہیں مگر انہیں بدلنے کا کوئی بیلٹ نہیں رکھتے۔
یہ تضاد کسی ایک انتخاب کا پیدا کردہ نہیں، مگر ہر انتخاب اسے نمایاں کر دیتا ہے۔ اسرائیلی ووٹر نے اپنی ترجیحات کا اظہار کیا: سلامتی، معیشت، عدالتوں کا وقار، ایک قائد پر اعتماد یا بے اعتمادی۔ غزہ کی ترجیح ان سے کہیں سادہ اور کہیں سنگین ہے: اگلا ہفتہ کیسے گزرے۔ جب ایک ہی فیصلہ دو اتنے مختلف سوالوں کا جواب بننے لگے تو باہر سے دیکھنے والے کو دونوں سوال الگ الگ سننے پڑتے ہیں۔
یہ قسط اسی دوسرے سوال کو سننے کی کوشش ہے۔ پہلے غزہ اور مغربی کنارے کی موجودہ حالت، پھر ایران کا وہ محاذ جس کی آنچ پورے خطے تک پہنچتی ہے، پھر مسلم دنیا کی ذمہ داری، اور آخر میں ہماری اپنی، یعنی خبر کو دیانت سے پڑھنے کی ذمہ داری۔
یروشلم میں ایوان کی گنتی جاری ہے اور غزہ میں زندگی کی۔ اکتوبر ۲۰۲۵ء میں اعلان ہونے والی جنگ بندی کو ایک برس گزر چکا ہے، مگر اقوامِ متحدہ کے انسانی امور کے دفتر کی ۲۹ اکتوبر کی رپورٹ بتاتی ہے کہ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک پندرہ سو سے زائد افراد جان سے جا چکے ہیں، اور صرف اکتوبر کے آخری ہفتے میں تینتیس اموات درج ہوئیں۔ خوراک کے پارسل پانے والوں کی ضرورت کا بمشکل نصف پورا ہو پا رہا ہے، اور ایک ہی ہفتے میں آٹے اور تازہ غذا کی قیمتوں میں ستر فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔ سردی دستک دے رہی ہے، اور نشیبی کیمپوں میں ہزاروں خاندان سیلاب کے خطرے کے سامنے ہیں۔
مغربی کنارے کی تصویر بھی پرسکون نہیں۔ اسی رپورٹ کے مطابق اکتوبر ۲۰۲۶ء میں آبادکاروں کے حملوں کی تعداد اب تک کے کسی بھی مہینے سے زیادہ رہی، جب سے ۲۰۰۶ء میں ان کا اندراج شروع ہوا؛ ان میں بڑا حصہ زیتون کی فصل کے موسم سے جڑا تھا۔ ۲۳ اکتوبر کو الخلیل میں فائرنگ سے دو اسرائیلی فوجی مارے گئے، جس کے بعد شہر میں بڑی کارروائی ہوئی اور سیکڑوں اسکول آن لائن تدریس پر منتقل کرنے پڑے۔ تشدد کا یہ دائرہ عام شہریوں کو دونوں طرف زخمی کرتا ہے، اور بین الاقوامی انسانی قانون ریاستوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں، دونوں پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔
غزہ کے مستقبل پر اکثر تعمیرِ نو کی زبان میں بات ہوتی ہے: کتنے ارب ڈالر، کتنے ہسپتال، کتنے اسکول۔ یہ سوال ضروری ہیں، مگر اصل سوال ان سے گہرا ہے۔ دیواریں اٹھ بھی جائیں تو یہ کون طے کرے گا کہ ان دیواروں میں رہنے والے اپنی سرحدیں، اپنی حکومت اور اپنی نقل و حرکت کے فیصلے خود کر سکیں؟ اقوامِ متحدہ بار بار غزہ کی بحالی کو ایک قابلِ اعتبار سیاسی تصفیے سے جوڑتی ہے۔ جو تعمیر اختیار کے بغیر ہو، وہ مکان تو دیتی ہے، گھر نہیں؛ اور ایک محتاج آبادی امداد کی قطار میں کھڑی کھڑی ایک نسل گزار دیتی ہے۔
اس سوال کی کئی پرتیں ہیں، اور ہر پرت ایک الگ مذاکرے کی متقاضی ہے۔ غزہ کا انتظام کون چلائے گا: فلسطینی اتھارٹی، غیر سیاسی ماہرین کی کوئی انتظامیہ، یا بین الاقوامی نگرانی میں کوئی عبوری ڈھانچہ؟ اس کی گزرگاہوں، ساحل اور فضا پر اختیار کس کا ہوگا؟ جن علاقوں میں اسرائیلی فوج اب بھی موجود ہے، وہاں سے انخلا کب اور کن شرائط پر ہوگا، اور اس کے بعد سلامتی کی ذمہ داری کس کے کندھوں پر ہوگی؟ جو خاندان بے گھر ہوئے، کیا وہ کسی دباؤ کے بغیر اپنے محلوں کو لوٹ سکیں گے؟ اور تعمیر کا خرچ کون اٹھائے گا، اور کس شرط پر؟ یہ سوال اسرائیل کی آنے والی حکومت کی میز پر بھی ہوں گے، عرب دارالحکومتوں کی میز پر بھی، اور فلسطینی قیادت کی میز پر بھی۔ جب تک ان کا جواب کسی ایسے انتظام میں نہیں ڈھلتا جسے غزہ کے لوگ اپنا سمجھیں، ہر جنگ بندی ایک وقفہ رہے گی، حل نہیں۔
ایک معلم کی حیثیت سے میری نگاہ بار بار ان بچوں پر جا ٹھہرتی ہے جن کی تعلیم تین برس سے ٹوٹی ہوئی ہے۔ کلاس روم کی جگہ خیمہ، کتاب کی جگہ قطار، اور استاد کی جگہ خوف۔ قوموں کی تعمیر اینٹ سے پہلے بچے کے ذہن میں ہوتی ہے، اور وہی اینٹ سب سے پہلے گرتی ہے۔ اگر اس نسل کی تعلیم کو تعمیرِ نو کے ابتدائی نقشے میں جگہ نہ ملی تو کل کی غزہ میں عمارتیں بھلے کھڑی ہو جائیں، ان میں رہنے والے ذہن ملبے تلے دبے رہیں گے۔
اس ساری گفتگو میں ایک مہمان ایسا بھی ہے جس کی کرسی ایوان میں نہیں، مگر جس کا سایہ ہر مذاکرے پر پڑ رہا ہے۔ جون ۲۰۲۵ء میں اسرائیل اور ایران کے درمیان بارہ روزہ جنگ ہو چکی ہے، جس میں امریکا نے بھی ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے تھے۔ پہلی قسط میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ اس محاذ پر نیتن یاہو اور آئزنکوٹ ایک ہی خطرہ دیکھتے ہیں، فرق صرف طریقے کا ہے۔ اس میں ایک اضافہ ضروری ہے: نیتن یاہو نے انتخابی مہم میں یہ اشارہ بھی دیا کہ ان کے اقتدار میں رہنے کی صورت میں امریکا دوبارہ کارروائی کر سکتا ہے۔
یہاں ایک پوشیدہ خطرہ بھی ہے جس کی طرف بعض تجزیہ نگار توجہ دلا رہے ہیں۔ سیاسی تعطل کے زمانے میں بیرونی کشیدگی اندرونی سیاست کا آلہ بھی بن سکتی ہے۔ اگر محاذ دوبارہ گرم ہو جائے تو قومی یک جہتی کی پکار اٹھتی ہے، اور وہی پکار مخالف کو مخلوط حکومت میں شامل ہونے پر مجبور کر سکتی ہے، جیسا کہ ۷ اکتوبر کے بعد ہوا تھا۔ اس خدشے کو ثابت شدہ حقیقت کے طور پر بیان کرنا درست نہیں، مگر اسے نظر انداز کرنا بھی دانش مندی نہیں۔
ایران کا سوال صرف میزائلوں اور تنصیبات کا نہیں؛ یہ لبنان، شام، عراق، یمن اور خلیجی ممالک تک پھیلے ہوئے ایک پورے نظام کا سوال ہے۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کی توانائی کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس خطے میں جنگ کا ایک شعلہ بھی ہمارے یہاں پٹرول کی قیمت، مصارف کی اشیا کے نرخ، اور خلیج میں مزدوری کرنے والے ہمارے بیٹوں کی روزی تک محسوس ہوتا ہے۔ یوں یروشلم کے ایوان میں بننے والی حکومت کا مزاج ممبرا کے کسی گھر کے مہینے کے بجٹ سے بھی جڑا ہوا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس خطے کے ممالک کبھی ایسا سلامتی انتظام بنا سکیں گے جس میں کسی ایک فریق سے اپنی جائز سلامتی سے دستبردار ہونے کا مطالبہ نہ کیا جائے؟ بین الاقوامی نگرانی میں جوہری معاہدے اور باضابطہ سفارتکاری مشکل راستے ہیں، مگر بار بار کی جنگ کا راستہ ان سے کہیں مہنگا ثابت ہوتا ہے۔ اسرائیل میں چہرہ بدل جائے تب بھی یہ بنیادی تزویراتی کشمکش اپنی جگہ رہے گی، اور یہی نکتہ ہمیں جذباتی امیدوں سے بچاتا ہے۔
مسلم دنیا کی نگاہیں اس انتخاب پر لگی ہیں، مگر یہ نگاہیں ایک سی نہیں۔ کچھ حکومتیں ۲۰۲۰ء کے ابراہیمی معاہدوں کے ذریعے اسرائیل سے تعلقات قائم کر چکی ہیں، کچھ نے مزید معمول پر لانے کو فلسطینی ریاست کی جانب ٹھوس پیش رفت سے مشروط کیا ہے، اور کچھ ایران کو اسرائیل سے بڑا خطرہ سمجھتی ہیں۔ اس تنوع کو محض منافقت کہہ دینا آسان ہے، مگر یہ دراصل مختلف قومی مفادات، سلامتی کے خدشات اور معاشی رشتوں کا نتیجہ ہے۔
مگر اس تسلیم کے بعد بھی ایک کڑوا سوال باقی رہتا ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم کی قراردادیں برسوں سے منظور ہوتی آ رہی ہیں، مگر غزہ کی سرحد پر کھڑے امدادی ٹرکوں کی قطار کسی قرارداد سے چھوٹی نہیں ہوئی۔ جب تک اعلان اور عمل کے درمیان یہ فاصلہ باقی ہے، مسلم دنیا کی آواز خطیبوں کی زبان میں تو بلند ہوگی، مذاکرات کی میز پر دبی رہے گی۔
اختلافات کے باوجود چند ایسے دائرے ضرور ہیں جہاں مشترکہ عمل ممکن ہے: انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی، غزہ کے اسکولوں اور ہسپتالوں کی بحالی، اور بین الاقوامی قانون کے یکساں نفاذ کا مطالبہ۔ جو ممالک ایران یا حماس پر متفق نہیں، وہ بھی ایک بچے کے بستے اور ایک ماں کے آٹے کے تھیلے پر متفق ہو سکتے ہیں۔ سیاست کے بڑے اختلاف انسانی ضرورت کے چھوٹے فیصلوں کو یرغمال نہ بنائیں، یہ مطالبہ کسی ایک کیمپ کا نہیں، ہر با ضمیر انسان کا ہے۔
ہندوستان اس منظر میں ایک الگ مقام رکھتا ہے۔ ہمارا ملک اسرائیل کے ساتھ گہرے دفاعی اور تکنیکی تعلقات رکھتا ہے، خلیجی ممالک کے ساتھ توانائی اور روزگار کے رشتوں میں بندھا ہے، اور سرکاری طور پر مذاکرات کے ذریعے دو ریاستی حل کی حمایت کا اعلان کرتا آیا ہے۔ یہ توازن آسان نہیں، مگر یہی اسے ایک ایسا ملک بناتا ہے جس کی بات دونوں طرف سنی جا سکتی ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں، دانش وروں اور صحافیوں کی ذمہ داری یہاں نعرے سے زیادہ ٹھوس ہے: انسانی امداد کو معتبر اور شفاف ذرائع سے پہنچانا، بین الاقوامی قانون اور شہریوں کے تحفظ کی بات کو کسی ایک فریق کے حق یا مخالفت میں نہیں، اصول کے طور پر اٹھانا، اور اپنے قارئین کو ایسی معلومات دینا جو جذبات بھڑکانے کے بجائے سمجھ پیدا کریں۔ اپنے ملک کے دستوری دائرے میں رہ کر اٹھائی گئی پرامن، باوقار اور مدلل آواز ہی وہ آواز ہے جو دیر تک سنی جاتی ہے۔
اس انتخاب کی خبریں ہم تک زیادہ تر مختصر ویڈیوز اور آگے بڑھائے گئے پیغامات کی صورت میں پہنچی ہیں۔ ان میں سے کئی میں حکومت سازی کی وہ پوری منزل غائب تھی جس کا ذکر پہلی قسط میں آیا، کئی میں پارلیمان کے حلف کو حکومت کا حلف کہا گیا، اور کئی میں دو مختلف عرب جماعتوں کو ایک ہی نام دے دیا گیا۔ یہ غلطیاں چھوٹی دکھائی دیتی ہیں، مگر ان پر بننے والی رائے بڑی ہوتی ہے۔
اس موضوع پر غور کرتے ہوئے یہ سوال بھی سامنے آتا ہے کہ ہم خبریں کس طرح پڑھتے ہیں۔ کسی واقعے کی اطلاع اور اس پر دی گئی رائے میں فرق ہوتا ہے۔ کسی جماعت کو کتنی نشستیں ملیں، یہ ایک خبر ہے؛ اس کامیابی سے غزہ کی تقدیر بدل جائے گی، یہ ایک اندازہ ہے۔ اسی لیے ہر عدد کا معتبر ماخذ دیکھنا اور ہر دعوے کا ثبوت جانچنا ضروری ہے۔ جو خبر ہماری خواہش کے مطابق ہو، اسے بھی تحقیق کے بغیر درست نہیں مان لینا چاہیے۔
خبر کے الفاظ پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ ایک ہی واقعے کو کوئی ذریعہ "فوجی کارروائی” کہتا ہے اور کوئی "حملہ” ؛ کوئی شہریوں کی ہلاکت کا ذکر نمایاں کرتا ہے، تو کوئی اسے چند سطروں میں سمیٹ دیتا ہے۔ اس فرق سے خبر پیش کرنے والے کا زاویۂ نظر سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ بہتر یہی ہے کہ ایک سے زیادہ معتبر ذرائع کو پڑھا جائے، ان کے شواہد دیکھے جائیں اور پھر اپنی رائے قائم کی جائے۔
تاریخ سے مثالیں لیتے وقت بھی احتیاط ضروری ہے۔ کسی ملک میں سیاسی تعطل یا بار بار انتخابات کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا انجام بھی ماضی کے کسی دوسرے ملک جیسا ہوگا۔ ہر معاشرے کے حالات، ادارے اور مسائل مختلف ہوتے ہیں۔ تاریخی مثالیں صورتِ حال کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہیں، مگر صرف انہی کی بنیاد پر مستقبل کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
خبر کو سمجھنے کی ایک سادہ عادت یہ ہے کہ اسے دو معتبر ذرائع سے پڑھا جائے اور دیکھا جائے کہ دونوں کن باتوں پر متفق ہیں، کہاں اختلاف رکھتے ہیں اور اپنے دعووں کے لیے کیا ثبوت دیتے ہیں۔ گھروں، تعلیمی اداروں اور روزمرہ کی گفتگو میں ایسے سوالوں کی گنجائش ہو تو سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے کے بجائے سوچ سمجھ کر رائے قائم کرنے کا رجحان بڑھ سکتا ہے۔
اس بحث کا مرکز بالآخر وہ لوگ ہیں جن کی زندگی اسرائیلی ایوان کے فیصلوں سے متاثر ہوتی ہے، مگر ان فیصلوں میں ان کا کوئی ووٹ نہیں۔ غزہ کو عمارتوں کی تعمیر کے ساتھ اپنے مستقبل پر اختیار بھی چاہیے۔ مغربی کنارے کے لوگوں کو تشدد سے تحفظ درکار ہے، جبکہ ایران کے ساتھ کشیدگی پورے خطے کے امن اور معیشت کو متاثر کر سکتی ہے۔ مسلم دنیا کے سامنے بھی سوال یہی ہے کہ اس کے اعلانات عملی مدد میں کیسے بدلیں۔ ان حالات میں ہماری رائے کی بنیاد معتبر معلومات، شہریوں کے حقوق اور حکومتوں کے عملی فیصلے ہونے چاہییں۔
اس صورتِ حال میں فوری خوشی یا مکمل مایوسی کے بجائے آنے والی حکومت کے عملی فیصلوں کو دیکھنا ہوگا۔ کیا وہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد کو روکتی ہے؟ کیا غزہ تک امداد کی رسائی آسان ہوتی ہے؟ اور کیا ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کو موقع دیا جاتا ہے؟ انہی سوالوں کے جواب بتائیں گے کہ اقتدار کی تبدیلی سے زمینی حالات میں کتنا فرق پڑا۔ ہماری ذمہ داری بھی یہی ہے کہ معتبر معلومات کی بنیاد پر رائے قائم کریں، ضرورت مندوں تک بلا رکاوٹ امداد پہنچانے کا مطالبہ کریں اور اپنی روزمرہ گفتگو میں خبر اور رائے کا فرق واضح رکھیں۔
یروشلم میں اہلِ سیاست اکسٹھ ناموں کی فہرست بنانے میں مصروف ہیں۔ غزہ کی کسی خیمہ بستی میں ایک ماں ایک دوسری فہرست بنا رہی ہے: آٹا، پانی، ایک کمبل، اور بچے کے لیے ایک کاپی۔ پہلی فہرست پوری ہو جائے تو ایوان میں تالیاں بجیں گی۔ مگر کسی حکومت کی اصل پہچان اس دن ہوگی جب دوسری فہرست میں سے کوئی چیز کم ہونے لگے گی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے