कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جب کتابوں کے صفحات بولنے لگتے ہیں

تحریر: محمد عادل ارریاوی

ہماری زندگی میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں، مگر دلوں سے کبھی رخصت نہیں ہوتے۔ کچھ آوازیں خاموش ہوجاتی ہیں، مگر ان کی گونج صدیوں تک سنائی دیتی رہتی ہے۔ کچھ چہرے ایسے ہوتے ہیں جنہیں ہماری آنکھوں نے کبھی دیکھا تک نہیں، لیکن ان کی محبت دل میں اس طرح گھر کرلیتی ہے کہ کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ہمارے سامنے بیٹھے ہوں، ہم سے باتیں کررہے ہوں اور زندگی کے کسی موڑ پر ہماری رہنمائی کررہے ہوں۔
میری زندگی میں بھی ایسے بہت سے اہلِ علم، اہلِ قلم اور اہلِ دل گزرے ہیں جن کی زیارت نصیب نہ ہوسکی، جن کی مجلس میں بیٹھنے کا موقع نہیں ملا، جن کے ہاتھ چومنے کی سعادت حاصل نہ ہوئی؛ لیکن ان کی کتابوں نے مجھے ان سے اس قدر قریب کردیا ہے کہ کبھی کتاب کے صفحات پلٹتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ یہ کسی زندہ شخصیت کی آواز ہے جو براہِ راست میرے دل سے مخاطب ہے۔
کبھی کوئی نصیحت دل کو روک لیتی ہے، کبھی کوئی واقعہ آنکھیں نم کردیتا ہے، کبھی کوئی جملہ دیر تک سوچنے پر مجبور کرتا ہے اور کبھی کسی بزرگ کی تحریر پڑھتے ہوئے دل بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کاش میں اس زمانے میں ہوتا، ان کے سامنے بیٹھتا، ان کی باتیں سنتا اور ان کی مجلس سے کچھ سیکھنے کا موقع پاتا۔
لیکن زندگی ہر خواہش پوری نہیں کرتی۔ اللہ ربّ العزت نے بہت سے بزرگوں کی زیارت ہمارے مقدر میں نہیں لکھی، مگر ان کی کتابوں اور تحریروں کو ہمارے لیے باقی رکھا۔ انسان دنیا سے چلا جاتا ہے، مگر اس کے الفاظ رہ جاتے ہیں؛ جسم مٹی میں اتر جاتا ہے، مگر اس کی فکر کتابوں میں زندہ رہتی ہے۔ آواز خاموش ہوجاتی ہے، مگر تحریر بولتی رہتی ہے۔
حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمہ اللہ سے ملاقات کی خواہش بھی میرے دل میں مدتوں رہی۔ مدرسے کی زندگی میں جب کچھ شعور پیدا ہوا اور ان کی کتابوں و بیانات سے واسطہ پڑا تو دل میں ایک عجیب سی تڑپ پیدا ہوئی۔ ان کی گفتگو سنتا تو محسوس ہوتا کہ ان کے الفاظ دل کی گہرائیوں میں اتر رہے ہیں۔ ان کی کتابیں پڑھتا تو دل چاہتا کہ کبھی ان کے سامنے بیٹھنے، ان سے اصلاحی تعلق قائم کرنے اور ان کی صحبت سے فیض اٹھانے کا موقع ملے۔
دعائیں بھی کرتا رہا، خواہش بھی دل میں لیے پھرتا رہا، مگر وقت نے مہلت نہ دی اور پھر وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ دل میں ایک ایسی حسرت چھوڑ گئے جس کا اب کوئی مداوا نہیں۔ آج جب ان کی کتاب کھولتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ جن سے ملاقات کے لیے کبھی دل تڑپتا تھا، وہ آج سامنے تو نہیں، مگر ان کے الفاظ میرے ہاتھوں میں ہیں۔ شاید یہی اللہ ربّ العزت کی طرف سے ایک راستہ ہے کہ ان کی تحریروں سے فیض حاصل کروں اور ان کی نصیحتوں کو اپنی زندگی کا حصہ بناؤں۔
اسی طرح حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی رحمہ اللہ کو پڑھتا ہوں تو دل ایک عجیب دنیا میں پہنچ جاتا ہے۔ ان کی تحریروں میں امت کا درد، ملت کا غم اور اصلاحِ معاشرہ کی فکر اس طرح محسوس ہوتی ہے جیسے کوئی درد مند دل براہِ راست ہم سے گفتگو کررہا ہو۔ نہ ان کا زمانہ ملا، نہ زیارت نصیب ہوئی، نہ ان کی مجلس میں بیٹھ سکا لیکن ان کی کتابوں نے ایک ایسا تعلق قائم کردیا جسے زمانے کی دوری بھی ختم نہیں کرسکتی۔
ماضی قریب میں حضرت مفتی سعید احمد پالن پوری رحمہ اللہ کا زمانہ بھی ملا، مگر ان کی زیارت اور براہِ راست استفادے کی سعادت حاصل نہ ہوسکی۔ کبھی کبھی اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ کتنی بڑی محرومی ہے کہ جن اہلِ علم کا زمانہ ہمیں ملا، ہم ان سے قریب نہ ہوسکے اور ان کے علم کے سمندر سے جتنا فیض اٹھانا چاہیے تھا، نہ اٹھا سکے۔
اور حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ اور حضرت مولانا مناظر احسن گیلانی نور اللہ مرقدہ ان کی کتابیں تو میں سب سے زیادہ پڑھتا ہوں۔ جب ان کی کوئی کتاب کھولتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی شفیق مربی کے سامنے بیٹھا ہوں، جو میری کمزوریوں، غفلتوں اور کوتاہیوں کو سامنے رکھ کر میری اصلاح فرما رہے ہوں۔ اگرچہ جب ہم اس دنیا میں آئے بھی نہ تھے کہ اس وقت وہ رخصت ہوچکے تھے، لیکن ان کی تحریروں نے ہمیں ان کی مجلس کے فیض سے بالکل محروم نہیں ہونے دیا۔
یہی تو کتاب کی عظمت ہے کہ یہ زمانوں کی دیواریں گرا دیتی ہے، ماضی کو حال سے ملا دیتی ہے اور گزرے ہوئے لوگوں کو آنے والی نسلوں سے متعارف کراتی ہے۔ انسان کتاب کے ذریعے ان شخصیات کی صحبت میں بیٹھ سکتا ہے جنہیں اس نے کبھی دیکھا تک نہیں۔
مجھے اکابرین سے محبت ہے، ایسی محبت جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ میرے لیے دنیا کی خوب صورت ترین مجلسوں میں سے ایک وہ مجلس ہے جہاں اکابرین کا تذکرہ ہو، ان کی زندگی کے واقعات بیان کیے جائیں، ان کی علمی و دینی خدمات یاد کی جائیں اور ان کی کتابیں کھولی جائیں۔
کبھی کبھی خواب میں بھی بڑے بڑے علماء اور اکابرین نظر آجاتے ہیں۔ آنکھ کھلتی ہے تو دل میں ایک عجیب سی خوشی ہوتی ہے، پھر خیال آتا ہے کہ حقیقی زندگی میں تو زیارت نصیب نہ ہوسکی، خواب ہی میں سہی، چند لمحوں کے لیے ملاقات تو ہوگئی۔
شاید محبت کا یہی عالم ہے کہ انسان حقیقت میں نہ مل سکے تو خواب میں ملاقات پر بھی دل شکر ادا کرتا ہے۔
اسی لیے میں مطالعے کو صرف مشغلہ نہیں سمجھتا۔ کتابیں صرف معلومات نہیں دیتیں، بلکہ انسان کو سوچنا سکھاتی ہیں، اس کے اندر احساس بیدار کرتی ہیں، اسے اپنے ماضی اور محسنین سے جوڑتی ہیں اور زندگی کے سفر میں صحیح سمت متعین کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ خصوصاً اکابرین کی کتابیں پڑھنا گویا اپنے سے پہلے گزرنے والی ایک پوری نسل سے ملاقات کرنا ہے۔
ہم نے ان کا زمانہ نہیں دیکھا تو کیا ہوا؟ ان کی کتابیں تو ہمارے پاس ہیں۔ ان کی مجلس میں نہیں بیٹھ سکے تو کیا ہوا؟ ان کی تحریریں تو پڑھ سکتے ہیں۔ ان کی زبان سے نصیحت نہیں سن سکے تو کیا ہوا؟ ان کے قلم سے نکلی ہوئی نصیحت کو تو اپنے دل میں اتار سکتے ہیں۔ کیا معلوم کسی کتاب کا ایک صفحہ ہماری زندگی کا رخ بدل دے، کسی بزرگ کا ایک جملہ برسوں کی غفلت توڑ دے اور کسی تحریر کا ایک اقتباس ہمارے اندر اصلاح و تبدیلی کا جذبہ پیدا کردے۔
اس لیے مطالعہ کیجیے، خوب مطالعہ کیجیے۔ اپنے اکابرین کو پڑھیے، ان کی سوانح، ان کے خطوط، ان کے واقعات اور ان کی تصانیف سے رشتہ جوڑیے کیونکہ جو قوم اپنی کتابیں پڑھنا چھوڑ دیتی ہے، وہ رفتہ رفتہ اپنی تاریخ اور اپنے محسنین کو بھی بھولنے لگتی ہے۔ پھر ایک وقت آتا ہے کہ نئی نسل اپنے ہی علمی و فکری ورثے سے ناواقف ہوجاتی ہے۔
آج بھی جب کسی بزرگ کی کتاب کھولتا ہوں تو دل میں یہی خیال آتا ہے کہ شاید میری قسمت میں ان کی مجلس میں بیٹھنا نہیں تھا، مگر ان کی کتابوں کے ذریعے ان سے ملاقات ضرور لکھی تھی۔ اور کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کتاب کے صفحات سے کوئی بزرگ مجھے مخاطب ہوکر کہہ رہا ہو اپنی زندگی سنوار لو، وقت بہت کم ہے۔
شاید یہی مطالعے کی سب سے بڑی برکت ہے کہ انسان گزرے ہوئے لوگوں سے ملتا ہے، ان کے تجربات سے سیکھتا ہے، ان کی فکر سے روشنی حاصل کرتا ہے اور ان کے نقشِ قدم پر چل کر اپنے آج اور کل کو بہتر بناتا ہے۔
میرے پیارو کتابیں صرف پڑھی ہی نہیں جاتیں کبھی کبھی وہ انسان کو پڑھتی ہیں، اسے اپنا آئینہ دکھاتی ہیں اور خاموشی سے اس کی پوری زندگی بدل دیتی ہیں۔
اللہ ربّ العزت ہمیں عمل کی توفیق دے صحیح سمجھ عطافرماۓ آمین یارب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے