कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

یہ بات سچ ہے میرا باپ کم نہیں ماں سے!

تحریر: عبد اللہ یوسف
17/ شوال المکرم 1448ھ۔
3/ جولائی 2026ء جمعہ

والدِ محترم کا تذکرہ اس سایہ کی مانند ہے جس کے سر پر موجود ہونے کے وقت تک تو احساس ہی نہیں ہو پاتا کہ سر پر کوئی محافظ ہے بھی یا نہیں، مگر جب وہ جدا ہو جاتا ہے تو سمجھ آتا ہے کہ سر سے صرف سایہ نہیں ہٹا، بل کہ ہمارے سکون واطمینان کا جو راز تھا وہ ختم ہو گیا، جس کے باعث ہم چین وسکون سے اپنے ہر کام میں مصروف تھے وہ سبب باقی نہیں رہا، جس کے طفیل ہم گھر میں بیٹھے سکون کا سانس لے رہے تھے، اب وہ ہماری نظروں سے اوجھل ہو گیا، جس کی بدولت گھر کا چولہا جل رہا تھا، اب وہ روپوش ہو گیا، جس کے سبب گھر میں خوش حالی رہتی تھی اب وہ خاک کے سپرد ہو چکا۔
غرض کہ والدِ محترم کی محبت اور اس کی مشقت ومحنت سے عبارت حیات وزندگی کو جیتے جی ہم محسوس نہیں کر پاتے، والد اپنے نکلے پسینہ کا کبھی بھولے سے بھی تذکرہ نہیں کرتا، بل کہ کہیے کہ باپ اولاد کی خاطر اپنی صحت و زندگی اور اپنے خون کا سودا کر لیتا ہے، مگر کبھی اولاد کو پشیمان دیکھنا گوارہ نہیں کرتا، باپ اپنی محبت کو محسوس نہیں ہونے دیتا، بس اپنی محبت کا نذرانہ خون پسینہ کی شکل میں دیتا رہتا ہے اور خود ہڈیوں کا ڈھانچہ بن جاتا ہے۔
اولاد کے لیے موت وحیات کی وادیوں سے گزر جاتا ہے، سخت سے سخت تر مصائب وآفات کو ہنس کر سہ لیتا ہے، ہر ممکن حد تک اولاد کے لیے آسانی اور سہولت حاصل کرنے کی تگ ودو میں لگا رہتا ہے، اولاد کے لیے ہر خطرے سے کھیل جاتا ہے اور بڑی سے بڑی مصیبت سے ٹکرا جاتا ہے۔ نہ اسے جان کی پرواہ ہوتی ہے اور نہ صحت کی فکر، نہ اسے اچھے کپڑوں کی خواہش ہوتی ہے اور نہ لذیذ اور ذائقہ دار کھانوں کی چاہت، غرض یہ کہ کوئی بھی شخص باپ باپ ہونے کے بعد اپنی خوشی بھلا بیٹھتا ہے اور اولاد کی خوشی کو اپنی خوشی کے قالب میں ڈھال دیتا ہے۔ کسی نامعلوم شاعر نے بہترین ترجمانی کی ہے۔
مجھ کو چھاؤں میں رکھا اور خودہی وہ جلتا رہا
میں نے دیکھا اک فرشتہ باپ کی پرچھائیں میں
حاصل یہ کہ باپ کے ہوتے ہوئے سر بوجھل نہیں ہوتا، باپ کی زندگی میں سر پر مشقت کا بار نہیں پڑتا، باپ کی حیات میں آنکھوں میں اشک نہیں دیکھنے پڑتے، باپ کی موجودگی میں اکیلا پن محسوس نہیں ہوتا، باپ کے موجود ہوتے ہوئے زندگی مسکراہٹوں سے عبارت لگتی ہے، باپ کے ہوتے ہوئے غم عارضی لگتے ہیں، باپ کی زندگی میں اولاد صاحبِ اولاد ہونے کے باوجود اپنے کو مضبوط اور کسی محفوظ سایہ تلے محسوس کرتی ہیں۔ کسی شاعر نے باپ کے وجود کو کیا ہی خوب صورت قالب میں ڈھالا ہے۔
ان کے ہونے سے بخت ہوتے ہیں
باپ گھر کے درخت ہوتے ہیں
ماں اور باپ کا رشتہ جہاں آپس میں ایک بہت ہی اہم، متبرک اور مقدس رشتہ ہے، اس سے کہیں زیادہ وہ اولاد کے لیے ماں اور باپ کی شکل ہو کر سامنا آتا ہے، ماں سے بچہ گلے لپٹ کر رو لیتا ہے، باپ اس رونے کی دوا تلاش کر کے لاتا ہے، ماں کے سامنے اولاد کی محبت ظاہر ہو جاتی ہے؛مگر باپ کی محبت دل میں دبی کے دبی رہ جاتی ہے، ماں بچہ کو کھانا لا کر دیتی ہے؛ مگر باپ اس کھانے کو اپنا خون پسینہ ایک کر کے کما کر لاتا ہے، باپ کی شخصیت میں باری تعالی نے فطری رعب رکھا ہے، باپ کے قلب کو مضبوط اور سخت بنایا ہے، وہ ہر چیز پر جذباتی نہیں ہوتا، باپ میں صبر اور تحمل کا مادہ زیادتی کے ساتھ ودیعت ہوا ہے۔ وہ خطرات سے مقابلہ کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتا ہے، وہ اپنی جان کی پرواہ نہیں کرتا، وہ اپنی صحت پر دھیان نہیں دیتا، وہ اپنے کھانے کی فکر نہیں کرتا، وہ اپنے پہننے پر توجہ نہیں دیتا؛ گویا وہ اپنی خواہشات کو بھلا بیٹھتا ہے۔ وہ اپنے پچوں کے ہر غم کو محسوس کرتا ہے، مگر ظاہر نہیں ہونے دیتا، صرف دل ہی دل میں کڑھتا ہے اور اس کا حل تلاش کرتا ہے، وہ پچوں کے سامنے اشک نہیں بہاتا؛ مگر تنہائی میں وہ سسکتا اور بلبلاتا ہے۔ پڑھئے قیصر الجعفری کو:
گھر لوٹ کے روئیں گے ماں باپ اکیلے میں
مٹی کے کھلونے بھی سستے نہ تھے میلے میں
کانٹوں پہ چلے ؛ لیکن ہونے نہ دیا ظاہر
تلووں کا لہو دھویا چھپ چھپ کے اکیلے میں
بچوں کی فکر میں اسے رات کی تاریکی بےچین رکھتی ہے، غرض کہ اولاد کا باپ سے ایک ایسا گہرا تعلق ہوتا ہے کہ جس میں محبت ہوتی ہے؛ مگر اظہار نہیں، جس میں چاہت ہوتی ہے، مگر چاہت کے الفاظ نہیں، جس میں عشق ہوتا ہے، پیار ہوتا ہے، تعلق اور لگاؤ ہوتا ہے، خلوص ہوتا ہے، سبھی کچھ ہوتا ہے، لیکن یہ سب جذبات قلوب میں مخفی ہی رہ جاتے ہیں، طرفین سے اظہار ہی نہیں ہو پاتا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ باپ اس کا انتظار کرتا ہے کہ اس کی اولاد اس کے سامنے اپنی محبت کا نذرانہ پیش کرے، اپنے لگاؤ اور تعلق کا اظہار کرے ؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ تو باپ ہی اس حقیقت کو بیان کر پاتا ہے اور نہ اولاد کے پاس اس مفہوم کی ادائیگی کے الفاظ ہوتے ہیں۔ مگر کیوں پڑھیے طاہر شہیر کے الفاظ میں:
وہ ماں کے کہنے پہ کچھ رعب مجھ پہ رکھتاہے
یہی ہے وجہ مجھے چومتے جھجھکتا ہے
وہ آشنا مرے ہر کرب سے رہے ہر دم
جو کھل کے رو نہیں پاتا مگر سسکتا ہے
عزیز تر رکھتا ہے وہ مجھے رگِ جاں سے
یہ بات سچ ہے میرا باپ کم نہیں ماں سے !

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے