कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

قرآن سے گیتا تک: انسانیت، محبت اور بھائی چارے کا پیغام

تحریر: محبوب الحسن مظفرنگری

دنیا میں انسانوں کے درمیان اختلافات ہمیشہ رہے ہیں۔ رنگ، نسل، زبان، علاقے اور مذہب کے اعتبار سے انسان ایک دوسرے سے مختلف ہیں، لیکن ان تمام اختلافات کے باوجود ایک حقیقت سب کو جوڑتی ہے اور وہ ہے انسانیت۔ محبت، ہمدردی، عدل، رواداری اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونا وہ اقدار ہیں جن کے بغیر کوئی معاشرہ پُرامن اور مضبوط نہیں ہوسکتا۔
آج جب معمولی اختلافات بھی نفرت، تعصب اور دوریوں کو جنم دے رہے ہیں، بھائی چارے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ بھائی چارہ صرف ایک دوسرے کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنے کا نام نہیں، بلکہ یہ اس جذبے کا نام ہے جس کے تحت انسان دوسرے انسان کے دکھ کو اپنا دکھ اور اس کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھتا ہے۔
قرآن کا پیغامِ اخوت:
اسلام نے انسانی اخوت اور باہمی تعلق کو بہت اہمیت دی ہے۔ قرآن کریم صاف اعلان کرتا ہے:
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ اِخْوَةٌ
یعنی مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
(الحجرات: 10)
قرآن کریم صرف مسلمانوں کے درمیان اخوت کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ انسانوں کے ساتھ عدل و احسان کا بھی حکم دیتا ہے۔ ارشاد ہے:
اِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ
یعنی بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔
(النحل: 90)
نبی کریم ﷺ نے مسلمان کے تعلق کو ایک مضبوط جسم سے تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا کہ مسلمان باہمی محبت، رحم اور ہمدردی میں ایک جسم کی مانند ہیں؛ جسم کے ایک عضو کو تکلیف ہو تو پورا جسم بے قراری محسوس کرتا ہے۔ یہ تعلیم دراصل اجتماعی زندگی میں احساسِ ذمہ داری اور باہمی تعاون کا سبق دیتی ہے۔
گیتا کا پیغامِ ہمدردی:
بھائی چارے کا تصور صرف اسلامی تعلیمات تک محدود نہیں۔ بھگود گیتا میں بھی دوسروں کے دکھ اور سکھ کو اپنے دکھ اور سکھ کی طرح محسوس کرنے کی تعلیم ملتی ہے۔
گیتا کے چھٹے باب کے 32ویں شلوک میں کہا گیا ہے:
"आत्मौपम्येन सर्वत्र समं पश्यति योऽर्जुन।
सुखं वा यदि वा दुःखं स योगी परमो मतः॥”
یعنی مفہوم یہ ہے کہ اے ارجن! جو شخص دوسروں کو اپنے جیسا سمجھتے ہوئے ان کے سکھ اور دکھ کو اپنے سکھ اور دکھ کی طرح محسوس کرتا ہے، وہ اعلیٰ درجے کا یوگی ہے۔
یہ تعلیم انسانی ہمدردی کی ایک نہایت خوب صورت مثال ہے۔ اگر ہم اپنے پڑوسی کے دکھ کو محسوس کریں، کسی غریب کی ضرورت کو اپنی ذمہ داری سمجھیں اور کسی مصیبت زدہ انسان کی مدد کے لیے آگے بڑھیں تو یہی بھائی چارے کی عملی شکل ہے۔
’’واسودھیو کُٹمبکم‘‘ — پوری دنیا ایک خاندان:
ہندو مذہبی روایت میں مہا اُپنشد کا معروف تصور "وَسُدَھَیْو کُٹُمبَکَم” بھی انسانی وحدت کا خوب صورت پیغام پیش کرتا ہے، جس کا مفہوم ہے:
"پوری دنیا ایک خاندان ہے۔”
یہ تصور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانیت کو نفرت اور تقسیم کے خانوں میں قید کرنے کے بجائے ایک وسیع انسانی خاندان کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
اسی طرح رِگ وید میں اجتماعی اتحاد کی طرف متوجہ کرتے ہوئے معروف منتر آتا ہے:
"संगच्छध्वं संवदध्वं सं वो मनांसि जानताम्”
یعنی مفہوم:
"مل کر چلو، مل کر گفتگو کرو اور تمہارے دل و خیالات ہم آہنگ ہوں۔”
یہ پیغام آج کے معاشرے کے لیے بھی نہایت اہم ہے، جہاں اختلافِ رائے کو اکثر دشمنی میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔
اصل امتحان عملی زندگی میں:
بھائی چارے کی اصل قدر تقریروں میں نہیں بلکہ عمل میں ظاہر ہوتی ہے۔
اگر کسی محلے میں کسی غریب خاندان کے گھر راشن نہیں ہے اور پڑوسی مذہب یا ذات پوچھے بغیر اس کے گھر راشن پہنچاتے ہیں، تو یہ بھائی چارہ ہے۔
اگر کسی طالب علم کے پاس اسکول کی فیس یا کتابیں خریدنے کے پیسے نہیں اور محلے کے لوگ مل کر اس کی تعلیم کا انتظام کرتے ہیں، تو یہ بھائی چارہ ہے۔
اگر کسی گھر میں موت ہوجائے اور آس پاس کے لوگ اس خاندان کے غم میں شریک ہوکر کھانے پینے اور دیگر ضروریات کا انتظام سنبھال لیں، تو یہ بھائی چارہ ہے۔
اگر کسی علاقے میں سیلاب آجائے اور مسجد کا نوجوان مندر کے پڑوسیوں کی مدد کے لیے پہنچے، یا مندر سے وابستہ لوگ اپنے مسلمان پڑوسیوں کے لیے امدادی سامان لے کر پہنچیں، تو یہ صرف امداد نہیں بلکہ زندہ انسانیت کی تصویر ہے۔
اسی طرح سوشل میڈیا پر کسی مذہب، ذات یا طبقے کے خلاف نفرت انگیز پیغام دیکھ کر اسے آگے پھیلانے کے بجائے روک دینا بھی آج کے دور میں بھائی چارے کی ایک اہم عملی صورت ہے۔
اختلاف رہے، دشمنی نہ بنے:
بھائی چارے کا مطلب یہ نہیں کہ تمام لوگ اپنے عقائد، نظریات اور مذہبی شناخت چھوڑ دیں۔ اختلافِ عقیدہ اپنی جگہ رہ سکتا ہے، لیکن اختلاف کو نفرت، ظلم اور دشمنی میں تبدیل نہ کرنا ہی مہذب معاشرے کی پہچان ہے۔
ایک مسلمان اپنے عقیدے پر مضبوط رہتے ہوئے اپنے ہندو، سکھ، عیسائی یا کسی بھی دوسرے مذہب کے پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک کرسکتا ہے۔ اسی طرح دوسرے مذاہب کے ماننے والے بھی اپنے عقائد پر قائم رہتے ہوئے اپنے مسلمان پڑوسی کے دکھ درد میں شریک ہوسکتے ہیں۔
یہی وہ رویہ ہے جو ہندوستان جیسے کثیر مذہبی ملک کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
آج ہمیں کس چیز کی ضرورت ہے؟ـ:
ہمیں ایسے معاشرے کی ضرورت ہے جہاں مسجد اور مندر کی دیواریں اپنی جگہ ہوں، مگر انسانی دلوں کے درمیان دیواریں نہ ہوں؛ جہاں مذہبی شناخت اپنی جگہ محترم ہو، مگر انسانیت سب کے لیے مشترکہ قدر ہو؛ جہاں اختلافِ رائے ہو مگر نفرت نہ ہو؛ جہاں مقابلہ ہو مگر دشمنی نہ ہو؛ اور جہاں مصیبت کے وقت انسان، انسان کے کام آئے۔
قرآن کا "اِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ اِخْوَةٌ” ہو یا گیتا کا دوسروں کے سکھ دکھ کو اپنے سکھ دکھ کی طرح محسوس کرنے کا پیغام، یا اُپنشد کا "واسودھیو کُٹمبکم”—یہ سب ہمیں اپنے اپنے مذہبی و فکری دائرے میں انسان کے ساتھ خیر خواہی اور حسنِ سلوک کی اہمیت کا احساس دلاتے ہیں۔
قومیں صرف سڑکوں، عمارتوں اور معیشت سے مضبوط نہیں ہوتیں؛ قومیں اس وقت مضبوط ہوتی ہیں جب ان کے دل ایک دوسرے کے لیے دھڑکتے ہیں۔
آئیے، ہم نفرت کے بجائے محبت، تعصب کے بجائے انصاف، بدگمانی کے بجائے اعتماد اور انتشار کے بجائے بھائی چارے کو فروغ دیں۔
کیونکہ دل جڑیں گے تو معاشرہ جڑے گا، معاشرہ جڑے گا تو ملک مضبوط ہوگا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے