कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اے آئی کے ٹرینڈ کی اندھی دوڑ ،کہیں ہم خود کو دھوکا تو نہیں دے رہے؟

تحریر: راحیل انجم ناندورہ
7498051020

اے آئی میں آج کل جو ٹرینڈ چل رہا ہے، اس کی جانب اندھا دھند، یا یوں کہیے کہ آنکھیں موند کر دوڑ شروع ہے جو آنے والی پریشانیوں سے چشم پوشی بھی ہو سکتی ہے۔
اب بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے؟
ہاں، ہو سکتا ہے!
ایک بات بتائیے کہ جب آپ اے آئی سے کہتے ہیں کہ ’’یہ میری تصویر ہے، اسے ایسا بنا دو‘‘ تو وہ آپ کی تصویر میں کچھ تبدیلیاں کرکے ایک نئی تصویر بنا دیتا ہے۔ تبدیل شدہ تصویر بظاہر 100 فیصد آپ کی نہیں ہوتی، بلکہ کافی حد تک آپ سے مشابہ ہوتی ہے۔ باقی تبدیلی وہ کیسے کرتا ہے؟
اور جب آپ اے آئی سے کہتے ہیں کہ ’’ایک شخص کو تقریر کرتے ہوئے بناؤ‘‘ تو وہ صرف تقریر کرتے شخص کی تصویر نہیں بناتا، بلکہ ساتھ ایک پورا مجمع بھی بنا دیتا ہے۔
تو سوال یہ ہے کہ اس مجمع میں موجود لوگ کہاں سے آتے ہیں؟
یہاں اصل بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔
اے آئی مختلف تربیتی ڈیٹا، دستیاب تصاویر، نمونوں اور الگورتھمز سے سیکھ کر نئی تصویر تخلیق کرتا ہے۔ ضروری نہیں کہ مجمع میں نظر آنے والا ہر شخص کسی حقیقی شخص کی محفوظ کی گئی تصویر ہو، لیکن یہ ضرور ہے کہ ہم جب اپنی تصاویر، چہرے اور ذاتی معلومات مختلف AI ایپس کو دیتے ہیں تو ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہم اپنا ڈیٹا کس کے حوالے کر رہے ہیں، وہ اسے کیسے استعمال کرتا ہے اور ہماری پرائیویسی کتنی محفوظ ہے؟
آج ہم محض تفریح کے لیے اپنی تصویر کو کارٹون، فلمی کردار، شادی کے لباس، کسی تاریخی شخصیت یا کسی بڑے مجمع کا حصہ بنا رہے ہیں۔ کل یہی ٹیکنالوجی کسی کے چہرے کو غلط جگہ استعمال کرنے، جعلی تصویر بنانے، کردار کشی کرنے یا کسی کو بدنام کرنے کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہے۔
سب سے بڑا خطرہ صرف تصویر کا خوبصورت بن جانا نہیں، بلکہ تصویر کا غلط ہاتھوں میں پہنچ جانا ہے۔
اے آئی کے ذریعے جعلی تصاویر اور ویڈیوز بنانا آسان ہوتا جا رہا ہے۔ کسی کی آواز کی نقل تیار کی جا سکتی ہے، چہرہ کسی دوسرے جسم پر لگایا جا سکتا ہے، اور ایسی ویڈیو بن سکتی ہے جس میں انسان نے حقیقت میں وہ کام کیا ہی نہ ہو۔
سوچیے، اگر کسی کی تصویر یا آواز غلط مقصد کے لیے استعمال ہو جائے تو اس کا نقصان صرف چند منٹ کی تفریح سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔
خاص طور پر ہماری خواتین اور بچیوں کو اس معاملے میں زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ اپنی ذاتی تصاویر ہر AI ایپ یا غیر معروف ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنا معمولی بات سمجھنا درست نہیں۔ خوبصورتی کے نام پر کی گئی ایک چھوٹی سی لاپرواہی مستقبل میں بڑی پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔
اور صرف تصاویر ہی نہیں، بلکہ نام، موبائل نمبر، آواز، دستاویزات، شناختی معلومات اور دیگر ذاتی معلومات بھی بلا ضرورت کسی AI ٹول میں ڈالنے سے گریز کرنا چاہیے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ اے آئی برا ہے۔
اے آئی ایک طاقتور ٹیکنالوجی ہے اور تعلیم، کاروبار، طب، زراعت، بینکنگ اور بے شمار شعبوں میں ہمارے لیے انتہائی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ مسئلہ اے آئی نہیں، اس کا غیر ذمہ دارانہ استعمال ہے۔
لہٰذا ٹرینڈ ضرور اپنائیں، لیکن آنکھیں بند کرکے نہیں۔
ہر تصویر اپ لوڈ کرنے سے پہلے سوچیں:
یہ تصویر کہاں جا رہی ہے؟
اس کا استعمال کس مقصد کے لیے ہوگا؟
کیا مجھے معلوم ہے کہ یہ ایپ میرے ڈیٹا کے ساتھ کیا کرتی ہے؟
اور اگر یہی تصویر کل میرے خلاف استعمال ہوئی تو کیا میں اس کے لیے تیار ہوں؟
یاد رکھیے!
ہر وہ چیز جو ٹرینڈ میں ہو، ضروری نہیں کہ وہ محفوظ بھی ہو۔
تفریح چند لمحوں کی ہے،
لیکن پرائیویسی اور عزتِ نفس کا نقصان کبھی کبھی پوری زندگی کا مسئلہ بن سکتا ہے۔
اس لیے اے آئی استعمال کریں،
اس سے فائدہ اٹھائیں،
مگر اپنی عقل اور آنکھوں کو کھول کر احتیاط کے ساتھ
ٹرینڈ کے پیچھے دوڑنے سے پہلے یہ ضرور دیکھیں کہ کہیں ہم اپنے ہی ہاتھوں اپنی پرائیویسی تو قربان نہیں کر رہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے