कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اللہ کا ڈر، اور ندامت کے آنسو

تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی، پربھنی
9881836729
بذریعہ نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

بنو اسرائیل کے زمانے کا ایک مشہور واقعہ ہے جس کو واعظین نے نقل کیا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں قحط پڑا، جانور مرنے لگے اور زمین بنجر ہو گئی۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے لوگوں کو نمازِ استسقاء کے لیے جمع کیا، اور نمازِ استسقاء پڑھائی۔ اللہ رب العزت کی طرف سے ایک وحی نازل ہوئی، اللہ نے فرمایا کہ اے موسیٰ، تمہاری قوم میں ایک شخص ایسا ہے جو 40 سال سے مسلسل نافرمانی کرتا رہا اور وہ گناہ گار ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے اعلان کیا کہ وہ گنہگار شخص اس مجمع سے اٹھ کر چلا جائے۔ مجمع سے کوئی بھی ٹس سے مس نہیں ہوا۔ تو اب یہ گنہگار شخص نے سمجھا کہ واقعی میرے بارے میں ہی کہا جا رہا ہے۔ اگر میں اٹھ کر جاؤں تو رسوائی کا معاملہ ہے۔ اور اگر نہ جاؤں تو لوگ بارش سے محروم رہیں گے۔ چنانچہ وہ دبے پاؤں اور چادر اوڑھ کر باہر نکل گیا۔ اور اس شخص نے کہا اے میرے پروردگار! میں 40 سال تک گناہ کرتا رہا، اور تو نے میری پردہ پوشی کی۔ میں سچے دل سے توبہ کرتا ہوں۔ اس شخص کی توبہ مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ آسمان میں گھنے بادل چھا گئے اور اللہ رب العزت نے اپنی رحمتوں کا نزول فرمایا، اور بارش ہوئی۔ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے کہا کہ مجمع سے کوئی بھی نہیں اٹھا، اچانک برسات کیسے ہو گئی؟ اللہ نے ارشاد فرمایا۔ اے موسیٰ! جس کی وجہ سے میں نے برسات روکی تھی، اسی کی وجہ سے میں نے برسات نازل کر دی۔ کیونکہ اس نے مجھ سے سچی توبہ کی ہے۔
چنانچہ اللہ کو اعلان والی توبہ پسند نہیں ہے، بلکہ اللہ کا ڈر اور ندامت والے آنسو پسند ہے۔ اگر آج ایسا ہو، اور کہا جائے کہ مجمع میں کوئی گنہگار ہو تو وہ مجمع سے چلا جائے۔ کوئی نہیں اٹھے گا۔ ہر شخص اپنے آپ کو پاک دامن اور معصوم عن الخطا سمجھے گا۔ لیکن وہ خدا سب جانتا ہے، اور یہ بھی جانتا ہے کہ کون سیدھے اور مستقیم کے راستہ پر ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ساری کائنات کے لیے رحمت للعالمین بنا کر مبعوث کیے گئے ہیں۔ جنہوں نے ہمیں یہ طریقہ سکھایا کہ اللہ سے کس طرح طلب کیا جائے۔ اپنی حاجتوں کو کس طرح مانگیں۔ ہم روزانہ نمازوں میں دعا کرتے ہیں، اپنی عبادتوں میں دعا کرتے ہیں، یہاں تک کہ ہم حج جیسے مقدس مقام پر بھی دعائیں کرتے ہیں۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتی؟ کیا وجہ ہے کہ ہماری دعاؤں میں وہ اثر نہیں ہوتا جو ہونا چاہیے۔ کیونکہ جس چیز میں اخلاص پایا جاتا ہے، اللہ کے نزدیک قابلِ قبول ہوتا ہے۔ حدیث شریف میں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اعمال کا دارومدار نیتوں پر منحصر ہے۔
ہم نے علمِ دین تو سیکھا ہے، لیکن عمل سے دور ہیں۔ آج جن کے پاس (Abilities) صلاحیتیں ہیں، جن کے پاس علم کا خزانہ ہے۔ وہ خود نمائی اور ریاکاری کی سبقت میں دوڑ لگائے ہوئے ہیں۔ جب اہلِ علم خود نمائی اور ریاکاری کی دوڑ میں سبقت کریں گے، تو بیچارے مساکین اور غرباء کا کیا حال ہوگا۔ اور ان پر کیسے (Positive) مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
آج کے دور میں ہر ذی صلاحیت انسان (Glamour) دنیا میں اپنے آپ کو نمایاں بتانے کی کوشش اور سعی میں لگا ہوا ہے، اور ایک دوسرے کو کم بتانے میں پس و پیش نہیں کرتا۔ بلکہ بس چلا تو کسی کو کمتر دکھانے میں مال بھی خرچ کرنے میں پس و پیش نہیں کرتا۔ تو اللہ ہم پر رحم و کرم کا معاملہ تب ہی فرمائے گا جب ہم ایک دوسرے سے عداوت نہیں رکھیں گے، ہمارے ہر عمل اور ہر قول میں اخلاص کی ہوا ہوگی۔ اور ریاکاری سے اجتناب، اور جان لو کہ ریاکاری ایک شرکِ اصغر ہے۔ جو گناہ کے مترادف ہے۔ اور ہر ایک سے خندہ پیشانی سے پیش آئیں۔
آج یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ، ایک دوسرے کو سلام کرنے میں پس و پیش کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ انتظار کرتے ہیں کہ کوئی ہمیں پہلے سلام کرے۔ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔ جس کا مفہوم ہے، ہر اس شخص کو سلام کیا کرو جس کو آپ پہچانتے ہو، اور اس کو بھی سلام کیا کرو جسے آپ نہیں پہچانتے۔ اور کسی کا ناحق نہ کھائیں، کسی پر ظلم نہ کریں۔ اللہ رب العزت حقوق اللہ تو معاف کر سکتا ہے لیکن حقوق العباد کبھی معاف نہیں کر سکتا۔ ہم اپنی سگی بہن کو وراثت میں حصہ دینے سے پس و پیش کرتے ہیں، جو سراسر ظلم کے مترادف ہے۔ ہر ایک کی عزتِ نفس کا خیال رکھیں، اور کینہ بغض کو جگہ نہ دیں۔
بہت سی صلاحیتیں اور علم رکھنے والے، اپنے علم اور فضل پر تکبر کرتے ہیں، جن کی پند و نصائح کا اوروں پر کوئی اثر مرتب نہیں ہوتا۔ احترام کرنا ایک الگ بات ہے، اور شخصیت پرستی الگ۔ اور شخصیت پرستی بت پرستی سے بھی خطرناک ہوتی ہے (Personalism is dangerous than idol worship) آج کے اس دور میں شخصیت پرستی بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ جو کہ ایک خطرناک عمل ہے۔ کیونکہ بت کو آنکھ نہیں ہوتی، جس سے وہ دیکھ سکتا ہے، بت کو کان نہیں ہوتے، جس سے وہ سن سکتا، بت کو دل نہیں ہوتا، جس سے اس میں کوئی بڑائی کا احساس پیدا ہو۔ لیکن آپ جس کی شخصیت پرستی کر رہے ہیں، اس کو آنکھ ہوتی ہے جس سے وہ دیکھتا ہے، اور خوش ہوتا ہے، اسے کان بھی ہوتے ہیں جس سے وہ سن سکتا ہے، وہ آپ کے بہت زیادہ تعریفی کلمات سن کر یہ محسوس کرتا ہے کہ واقعی میں میں اعلیٰ و ارفع ہوں۔ اس کے پاس دھڑکتا دل بھی ہوتا ہے جس سے وہ محسوس کر سکتا ہے۔
چنانچہ کچھ غلو کرنے والوں نے فرعون سے کہا کہ دریا کی موجیں آپ کے پیروں کو لمس کر رہی ہیں۔ گویا کہ وہ آپ کو سجدہ کر رہی ہیں۔ فرعون نے کہا، واقعی سجدہ کر رہی ہیں۔ پھر تو میں خدا ہو گیا۔ اور پھر اس کے خدائی کا یہ بھی ایک سبب بنا۔ اس نے خدائی کا دعویٰ کیا۔
بہت دکھ اور تکلیف ہوتی ہے کہ جب کوئی باریش اور اہلِ علم منبر پر لوگوں کو یہ حدیث بتائے کہ جو مسلمان اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطعِ کلام رکھے، جہنم رسید ہوگا، اور وہ خود اس کا مرتکب ہو۔ اور یہ کہے کہ ریاکاری بڑا گناہ ہے۔ اور وہ خود اس میں ملوث ہو۔ اور یہ کہے کہ سلام کو عام کریں، اور وہ خود سلام کا منتظر ہو۔
علامہ یوسف القرضاوی اپنی کتاب "اسلامی بیداری: انکار اور انتہا پسندی کے نرغے میں” رقم طراز ہیں۔ کچھ نوجوانوں نے صرف کتاب پر اعتماد کیا ہے۔ کیونکہ انہیں پیشہ ور علماء، اور خاص طور سے وہ علماء اور اہلِ علم، جو فرماں رواؤں کے قریب ہوتے ہیں، اعتماد اور بھروسہ نہ رہا۔ کیونکہ وہ حاکموں کی خوشنودی حاصل کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ جن کے فیصلے اللہ کی اتاری ہوئی شریعت کے خلاف ہوتے ہیں اور یہ اسے جانتے بھی ہیں۔ پھر یہ علماء اور اہلِ علم ظالم کو ظالم کہنے سے خاموش رہنے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ تعریف اور تحسین کے کلمات سے نوازتے ہیں۔ آپ بڑے انصاف پرور ہیں۔ آپ بہت ہی عظیم ہیں۔ آپ ہیرو ہیں۔ کاش اگر حق بات کہنے سے یہ لوگ خاموش رہتے تو باطل کو حق بتانے کی کوشش تو نہ کرتے۔
پھر کیسے اللہ کی رحمتوں کا نزول ہوگا۔ اس کے لیے تو اللہ کا ڈر، اور ندامت والے آنسوؤں کی ضرورت ہے۔ اللہ اپنی اس کائنات کو ایسے متقی لوگوں کے عوض میں چلا رہا ہے۔ جو دنیاوی دوڑ میں گمنام ہیں، لیکن ان کی دعائیں عرش پر قبول ہوتی ہیں۔ جو اللہ کا ڈر اور ندامت سے کی جاتی ہیں۔
اللہ ہمیں اللہ خوف اور گناہوں سے اجتناب کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور ہمیں گناہ اور عصیان سے اتنے دور کر دے، جتنا مشرق اور مغرب کا فاصلہ ہے۔ اور ہر ایک کی عزتِ نفس، اور عاجزی و انکساری عطا فرما۔آمین یا رب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے