कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بھاگوت کے بیانیے اور ایجنڈے میں تضاد

از قلم: ڈاکٹر سید تابش امام
رابطہ۔ 9934933992

آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے گزشتہ دنوں اپنے دورۂ امریکہ کے دوران مسلمانوں کے حوالے سے جو نسبتاً نرم اور حقیقت پسندانہ لہجہ اختیار کیا، وہ بظاہر ایک مثبت تبدیلی کا اشارہ محسوس ہوتا ہے۔ تاہم، اگر اس بیان کو آر ایس ایس کے دیرینہ نظریاتی موقف اور گزشتہ چند برسوں کے سیاسی و سماجی حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بیانیہ حقیقت پسندانہ کم اور مصلحت پسندانہ زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کے بارے میں بھاگوت کی سوچ واقعی تبدیل ہوئی ہے تو پھر آر ایس ایس کے نظریاتی دائرے میں سرگرم تنظیموں اور ملک کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کے خلاف اختیار کیے جانے والے رویوں میں اس تبدیلی کی جھلک کیوں دکھائی نہیں دیتی؟
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ آر ایس ایس کی تشکیل اور اس کے نظریاتی سفر پر ہندو قوم پرستی کا گہرا اثر رہا ہے۔ اس نظریے کے تحت ہندوستان کی تہذیبی شناخت کو ایک مخصوص اکثریتی تصور سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ وقت کے ساتھ اس نظریے کو قوم پرستی، ثقافتی احیا اور قومی یکجہتی جیسے تصورات کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا گیا، لیکن اس کے ناقدین کا ہمیشہ یہ اعتراض رہا ہے کہ اس تصور میں ہندوستان کی کثیر مذہبی، کثیر لسانی اور کثیر ثقافتی حقیقت کے لیے مطلوبہ وسعت موجود نہیں ہے۔
آر ایس ایس کے زیرِ اثر یا اس سے نظریاتی قربت رکھنے والی متعدد تنظیمیں ملک کے مختلف حصوں میں سرگرم ہیں۔ ان میں سے بعض تنظیموں پر مسلم مخالف بیان بازی اور سرگرمیوں کے الزامات بھی عائد ہوتے رہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں سے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر، مذہبی مقامات سے متعلق تنازعات، مساجد و مدارس پر سوالات، معاشی بائیکاٹ کی اپیلوں اور مسلمانوں کی املاک کے خلاف کارروائیوں کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں آر ایس ایس سربراہ کا مسلمانوں کے بارے میں نسبتاً مفاہمت آمیز بیان یقیناً توجہ کا مرکز بنتا ہے، مگر محض بیانات سے نظریاتی تبدیلی ثابت نہیں ہوتی؛ اس کے لیے زمینی سطح پر عملی تبدیلی بھی نمایاں ہونا ضروری ہے۔
بھاگوت کے حالیہ بیانیے کو اسی پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر وہ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ ہندوستان کی ترقی اور قومی یکجہتی کے لیے مسلمانوں کو ساتھ لے کر چلنا ناگزیر ہے تو یہ ایک خوش آئند احساس ہے۔ لیکن پھر یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اس سوچ کا اطلاق ان تمام حلقوں پر کیوں نہیں ہوتا جو اکثریتی جذبات کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کرتے ہیں؟ کیا آر ایس ایس اور اس سے نظریاتی وابستگی رکھنے والی تنظیمیں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے والی زبان اور طرزِ عمل سے واضح طور پر لاتعلقی اختیار کرنے کے لیے تیار ہیں؟
مرکز میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں مذہبی شناخت سے متعلق تنازعات میں جو اضافہ محسوس کیا گیا، اس نے ہندوستان کے سیکولر اور جمہوری کردار کے بارے میں سنجیدہ سوالات کھڑے کیے ہیں۔ بعض ریاستوں میں مذہبی مقامات، حجاب، حلال، لاؤڈ اسپیکر، بین مذہبی شادیوں اور مسلمانوں کی آبادی یا املاک سے متعلق معاملات سیاسی مباحث کا حصہ بنتے رہے ہیں۔ بعض مواقع پر ریاستی انتظامیہ کی کارروائیوں کو بھی مسلم مخالف زاویے سے دیکھا گیا۔ ایسے میں حکومتوں اور حکمراں جماعتوں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ قانون کے نفاذ میں مذہب، ذات یا برادری کی بنیاد پر کسی امتیاز کا تاثر پیدا نہ ہونے دیں۔
حالیہ واقعات اس تشویش کو مزید تقویت دیتے ہیں۔ سہارنپور میں قدیم مسجد کی مسماری ہو یا آسام میں مسلمانوں کے مکانات کے خلاف انہدامی کارروائی، اگر انتظامی فیصلے قانونی ضابطوں کے تحت کیے گئے ہوں، تب بھی ان کی شفافیت، یکساں معیار اور متاثرہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ بنیادی سوال بن جاتا ہے۔ آسام میں زرعی زمین پر تعمیرات اور زمین کے استعمال سے متعلق ضابطوں کی خلاف ورزی کے نام پر ۵۰ سے زائد مکانات منہدم کیے جانے کے واقعات پر بھی یہ سوال اٹھا کہ کیا قانون کا اطلاق سب پر یکساں طور پر ہوا؟ اسی طرح سہارنپور کے معاملے میں بھی مذہبی مقام سے متعلق انتظامی کارروائی نے اقلیتی برادری میں پیدا ہونے والے عدم تحفظ کے احساس کو نظرانداز کرنا مشکل بنا دیا ہے۔
جمہوریت میں کسی بھی حکومت یا انتظامیہ کو قانون کی خلاف ورزی کے خلاف کارروائی کا حق حاصل ہے، لیکن قانون کی حکمرانی کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ قانون سب کے لیے یکساں ہو۔ اگر ایک ہی نوعیت کی خلاف ورزی پر مختلف طبقات کے لیے مختلف پیمانے اختیار کیے جائیں تو کارروائی قانونی ہونے کے باوجود اس کی غیر جانب داری پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں موہن بھاگوت کے بیانیے اور زمینی صورتِ حال کے درمیان تضاد نمایاں ہوتا ہے۔
آر ایس ایس سربراہ اگر امریکہ میں یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ہندوستانی مسلمانوں کو ملک کے قومی دھارے کا حصہ سمجھنا چاہیے، ان کے ساتھ مل کر ملک کی تعمیر کرنی چاہیے اور انہیں شک کی نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہیے تو ہندوستان کے اندر بھی اسی پیغام کی عملی ترجمانی ہونی چاہیے۔ بیرونِ ملک دیا گیا مفاہمت کا پیغام اسی وقت قابلِ اعتبار ہوگا جب ملک کے اندر بھی مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہمات، اشتعال انگیز بیان بازی اور امتیازی رویوں کے خلاف واضح موقف سامنے آئے۔ محض ایک مثبت بیان، اس وقت تک پائیدار اعتماد پیدا نہیں کرسکتا جب تک اس کے اثرات زمینی سطح پر بھی محسوس نہ ہوں۔
یہاں ایک اور پہلو بھی اہم ہے۔ امریکہ جیسے ملک میں ہندوستان کی شبیہ، جمہوری اقدار اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق سوالات عالمی سطح پر زیرِ بحث رہتے ہیں۔ ہندوستان کی اقتصادی ترقی، عالمی سفارت کاری اور بین الاقوامی اثر و رسوخ کے لیے یہ ضروری ہے کہ ملک کو ایک ایسے جمہوری معاشرے کے طور پر دیکھا جائے جہاں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے ماننے والوں کو برابر کے شہری حقوق حاصل ہوں۔ ایسے ماحول میں مسلمانوں کے بارے میں نرم اور متوازن زبان اختیار کرنا یقیناً سفارتی اور سیاسی اعتبار سے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ لیکن ہندوستانی مسلمان یہ دیکھنا چاہیں گے کہ یہ زبان محض عالمی سامعین کے لیے ہے یا واقعی اندرونِ ملک پالیسی اور رویوں میں بھی اس کا عکس نظر آئے گا۔
ہندوستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اس ملک کی طاقت اس کی مذہبی اور ثقافتی گوناگونی میں رہی ہے۔ یہاں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، بدھ، جین اور دیگر مذاہب کے ماننے والے صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے آئے ہیں۔ ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں بھی مختلف مذہبی برادریوں نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ آئین نے اسی مشترکہ ورثے کو شہری مساوات، مذہبی آزادی اور انصاف کے اصولوں کے ذریعے تحفظ فراہم کیا ہے۔ اس لیے کسی بھی نظریے یا سیاسی منصوبے کو آئینی اقدار سے بالاتر نہیں رکھا جا سکتا۔
موہن بھاگوت کے لیے یہ ایک موقع بھی ہے اور امتحان بھی۔ اگر ان کا موجودہ بیانیہ محض سیاسی مصلحت نہیں بلکہ واقعی فکری تبدیلی کا نتیجہ ہے تو انہیں اس تبدیلی کو اپنے وسیع تر نظریاتی حلقے میں بھی مؤثر بنانا ہوگا۔ مسلم مخالف نفرت انگیز بیان دینے والوں کے خلاف واضح موقف، مذہبی مقامات کے تنازعات میں قانون اور آئین کی بالادستی، املاک کے انہدام میں یکساں معیار اور مسلمانوں کے خلاف پیدا کیے جانے والے خوف کے ماحول پر سنجیدہ مداخلت—یہ وہ اقدامات ہیں جن سے ان کے بیانیے کی صداقت پرکھی جا سکتی ہے۔ فکری تبدیلی کا اصل ثبوت بھی یہی ہوگا کہ وہ محض تقریروں تک محدود نہ رہے بلکہ اس کے نتیجے میں رویوں اور ترجیحات میں بھی نمایاں تبدیلی آئے۔
صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ مسلمان بھی ہندوستان کے برابر کے شہری ہیں۔ اس تصور کو سیاسی، سماجی اور انتظامی سطح پر محسوس بھی ہونا چاہیے۔ اگر ایک طرف مسلمانوں کو ملک کا برابر کا حصہ دار قرار دیا جائے اور دوسری طرف انہیں مسلسل شبہ، خوف اور سیاسی بیان بازی کا موضوع بنایا جاتا رہے تو یہ تضاد خود اس بیانیے کی ساکھ کو کمزور کرے گا۔ مساوی شہریت کا تصور صرف الفاظ کا محتاج نہیں؛ اس کی بنیاد مساوی مواقع، یکساں قانونی تحفظ اور بلاامتیاز انصاف پر قائم ہوتی ہے۔
اصل مسئلہ کسی ایک بیان یا کسی ایک شخصیت کا نہیں بلکہ اس نظریاتی ماحول کا ہے جس میں مذہبی شناخت کو سیاسی مفاد کے لیے استعمال کرنے کا رجحان مضبوط ہوا ہے۔ مضبوط، پُرامن اور ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے لیے لازم ہے کہ نفرت کی سیاست کے بجائے اعتماد کی سیاست کو فروغ دیا جائے۔ ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ضروری ہے کہ مسلمانوں کو رعایت نہیں، مساوی شہری حقوق درکار ہیں؛ ہمدردی نہیں، آئینی تحفظ چاہیے؛ اور محض بیانات نہیں، عملی انصاف چاہیے۔ اسی اصول پر ملک کے ہر شہری کو بلاامتیاز اپنی شناخت، عقیدے اور آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
موہن بھاگوت کا تازہ بیانیہ اسی لیے اہم ہے کہ وہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان عدم تحفظ اور سیاسی بے اعتمادی کے احساس پر مسلسل بحث ہو رہی ہے۔ ایسے ماحول میں آر ایس ایس جیسی بااثر تنظیم کے سربراہ کی جانب سے مسلمانوں کے حوالے سے اختیار کیا جانے والا لہجہ یقیناً اہمیت رکھتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ بیانیہ ہندوستان واپس آنے کے بعد کس حد تک عملی سیاست اور سماجی رویوں میں تبدیل ہوتا ہے۔
اگر یہ تبدیلی واقعی دل سے ہے تو اس کے اثرات سب سے پہلے ان لوگوں پر نظر آنے چاہئیں جو آر ایس ایس اور اس کے وسیع نظریاتی حلقے سے وابستہ ہیں۔ نفرت انگیز مہمات اور مسلم مخالف بیان بازی کے خلاف واضح اور دوٹوک موقف اس تبدیلی کا پہلا ثبوت ہو سکتا ہے۔ اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو یہ سوال برقرار رہے گا کہ بھاگوت کا نیا بیانیہ نظریاتی تبدیلی کا اعلان ہے یا بدلتے ہوئے عالمی ماحول میں اختیار کی گئی ایک مصلحت پسندانہ زبان۔
ہندوستان کے مسلمانوں کو الفاظ سے زیادہ عمل پر یقین ہوگا۔ کیونکہ جمہوریت میں کسی تنظیم یا رہنما کی نیت کا سب سے معتبر پیمانہ اس کے الفاظ نہیں، بلکہ ان الفاظ کے بعد اٹھائے جانے والے عملی قدم ہوتے ہیں۔ بھاگوت کے موجودہ بیانیے کی اصل آزمائش بھی یہی ہے کہ کیا یہ الفاظ ہندوستان کے سماجی اور سیاسی ماحول میں اعتماد، مساوات اور آئینی انصاف کی صورت میں تبدیل ہوتے ہیں یا محض ایک خوش نما بیان بن کر رہ جاتے ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے