कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کہ خونِ صدہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا!

تحریر: قطب اللہ

جنوبی غزہ میں قیامت ٹوٹ پڑی ۔ اسرائیل کی ضد کے آگے شیطانِ بزرگ مجبور۔ نسل وکشی کی نئی تاریخ رقم ۔ دنیا نسل کشی کے اب تک کے سارے واقعات بھول جائے گی۔ امریکہ اوریوروپی ممالک کی یونیورسٹیوں میں ایک بار پھر فلسطین کے حق میں اوراسرائیل کے خلاف احتجاج شروع۔حماس کے جیالوں کے حیرت انگیز کارنامہ تو مزاحمتی گروپوں کے خطرناک شاہین صیہونی شکاریوں پر جھپٹ پڑے ۔ گزشتہ ہفتہ جنگ ِ فلسطین کے کئی رخ نظرآئے جہاں متحدہ اقوام اوراس کے انسانیت نواز اداروں نے جان کی بازی لگاکر دنیا کو امن وآشتی کا نہ صرف پیغام دیا بلکہ ظالم کے بازو مروڑ دینے کے لیے کمربستہ نظرآئے۔
اس وقت جنوبی غزہ میں صیہونی افواج نے نسل کشی کے سارے جدید ترین اسلحہ آزماڈالے ہیں۔ وہ اپنی ناکامی اوربے حیائی کو چھپانے کیلئے رفح سٹی اور اس کے اطراف میں اتنے گولے اوربارود برسادئے جتنے دوسری جنگ عظیم کے دوران استعمال ہوئے تھے لیکن اِن حالات میں فلسطینیوں کی مٹھی بھر جماعت انتہائی صبر وشکر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیل کو ایسا جواب دے رہی ہے کہ وہ بل بلا رہاہے اوراس کی چیخیں ساری دنیا کو سنائی دے رہی ہیں۔
کہنے کو نیتن یاہو لاکھ ڈینگیں مارلیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے وہ شکست خوردہ اورزخمی نظرآرہاہے۔ اپنی شرمندگی مٹانے کے لیے جھوٹے دعوے کررہاہے ،کسی پاگل کی طرح کبھی رونے لگتاہے اورجنگ بندی کی بات کرتاہے توکبھی حماس کے آخری مجاہد کو ختم کرکے پورے فلسطین پر قبضہ کرنے کا اپنا منصوبہ بیان کرنے لگتاہے۔ اس کی ان حرکتوں پر اس پوری اسرائیلی کابینہ گھبراکر اس کی لعنت وملامت کرنے لگی ہے۔
امریکہ کے لاکھ منع کرنے کے باوجود رفح پر نیتن یاہو نے کئی حملے کرڈالے لیکن ہر باراسے منھ کی کھانی پڑی۔ اس کے کئی تجربہ کار اورخطرناک قسم کے (ایلیٹ )دستہ تباہ ہوگئے۔ حال میں اس نے سفاکی کانیا مظاہرہ کیا تودنیا انگشتِ بددنداں رہ گئی۔ اس نے صرف عورتوں اوربچوں کو چن چن کر نشانہ بنایااورانتہائی سفاکانہ طریقہ پر معصوم بچوں اورعورتوں کو قتل کرنا شروع کردیا۔ اپنے اس احساس کے تحت یہ نسل کشی ہمارے لئے اس لئے جائز ہے کہ یہی وہ صنف نازک ہے جوحماس مجاہدین کو جنم دیتی ہے۔ اسی دوران متحدہ اقوام کے حفاظتی عملے نے جنوبی علاقے میں جو لاشیں اورزخمی برآمد کئے ،ان میں اکثریت خواتین اورلڑکیوں کی تھی۔ ان میں حاملہ خواتین کی تعداد اچھی خاصی تھی۔ اس ٹیم کو ایک ایسی خاتون کی لاش ملی جو تازہ تازہ شہید ہوئی تھی وہ حاملہ تھیں جب ڈاکٹروں نے ان کے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر دیکھا تواندازہ ہوا کہ مادرِ شکم میں بچہ حرکت کررہاہے،فوراً ماں کا پیٹ چاک کیاگیا تو ایک بچی ملی جو آخری سانسیں اٹک اٹک کر لے رہی تھی اسے فوراً آکسیجن اوردوسرے طبی تدارک سے بچالیاگیا۔ آج بھی وہ بچی دنیامیں موجود ہے۔ ظالم اورسفاک صیہونیوں سے دنیامیں آنے سے پہلے جو زخم ملے ہیں اسے دیکھ کر پوری دنیا حیرت زدہ رہ گئی ہے ،مجاہدین نے اپنی اس بچی کو ’’ام الغزہ‘‘ کانام دیاہے۔ یہ ہے وہ بہادر قوم جو ظالم کے پنجے توڑدینے کے لیے نبردآزماہے۔
جنوبی غزہ میں رونما ہونے والی تازہ سفاکیت کے خلاف امریکہ اورکچھ یوروپی ممالک آسٹریلیا ،جاپان اورافریقی ممالک کی یونیورسٹیوں کے طلبا ء پھر سڑکوں پر آگے اورزبردست مظاہرے شروع کردئے ، کولمبیا یونیورسٹی کے مظاہرین پر لاٹھیاں برسائی جارہی ہیں ،ترکیہ میں طلباء وطالبات نے حکومت سے مظاہرہ کیا کہ ہمیں محاذ پر غزہ بھیجاجائے توآکسفورڈ یونیورسٹی ، بروکلین یونیورسٹی ، نیویارک یونیورسٹی اوریوروپی ممالک کی اکثرتعلیم گاہوں میں ’’فری فری فلسطین ‘‘ کے نعرے بلند ہونے لگے کتنے طلباء کو امتحانات میں بیٹھنے نہیں دیاجارہاہے تو بہتوں کایونیورسٹی سے اخراج ہوچکاہے۔ کیونکہ وہ فلسطین کے حامی تھے ۔ایشیاء کا غریب ترین ملک نیپال بھی صیہونیوں کی سفاکی کے خلاف سامنے آگیا۔ اگرچہ نیپالیوں کی کثیرتعداد اسرائیل میں روزی روٹی کمانے میں مصروف ہیں،لیکن اس کی پرواہ کئے بغیر کٹھمنڈو کی سڑکوں پر نیپال اورفلسطین کا پرچم لیکر عوام اوریونیورسٹیوں کے طلباء سڑکوں پرآگئے۔ سلوینیا کی پارلیمنٹ کی عمارت پر فلسطین کا پرچم بلند کردیاگیا۔ متحدہ اقوام کے ذریعے اسرائیل کو خود مختار ریاست تسلیم کئے جانے کے بعد دنیا کے کئی ممالک تیزی کے ساتھ اس سے اپنے سفارتی تعلقات بحال کرنے لگے ہیں۔ ان سب سے گھبراکر ایک بارپھر نیتن یاہو امریکہ جانے کی تیاری کرنے لگاہے۔ وہاں وہ امریکی وزیرخارجہ ٹونی ولنکن جو دنیامیں گھوم گھوم کر خود کو یہودی بتانے پر فخر محسوس کررہاہے۔ اس سے خصوصی ملاقات نیتن یاہو کرنے کا ارادہ رکھتاہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ وہ روگاکر ولنکن پر زور ڈالے گاکہ وہ امریکہ سے سفارش کرے کہ مجھے بچالے ورنہ میری کرسی گئی تو پھر اسٹیٹ آف اسرائیل کا وجود صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔ ایسے میں امریکی یہودیوں کا خون جوش مارے گا اورامریکی ہتھیاروں کی سپلائی بائیڈن کے ذریعہ جاری کردی جائے گی۔ ایک بہت بڑا خطرہ امریکہ اوریوروپی ممالک نے ان راسخ العقیدہ یہودیوں سے بھی نیتن یاہو کو پیدا ہوچلاہے جو کئی بار باہر نکل کر فلسطین کو پرچم لیکر جنگ بندی کامطالبہ کرنے لگے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے نیتن یاہو کے خلاف جلوس بھی نکالے اوراس کی حرکات کی مذمت کی۔
ان سیاسی حالات کے تحت مالدیپ جیسے چھوٹے سے ملک نے انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے اپنے ملک میں اسرائیلی پاسپورٹ رکھنے والوں پر سخت پابندی کردی اورمالدیپ جس کی معیشت سیاحت پر منحصر ہے اس نے صاف لفظوں میں اعلان کردیاکہ کوئی بھی یہودی مالدیپ میں داخل نہیں ہوسکتاہے۔
اسرائیل کی سفاکی کاجواب حماس ، حزب اللہ ، حوثی انصاراللہ اورجہادِ اسلامی تنظیم عراق نے چہار طرفہ حملوں میں اورتیزی لاکر دینا شروع کردیاہے۔ غزہ ساحل پر امریکہ نے جس عارضی بندرگاہ کو تیار کیاتھا ،گزشتہ ہفتہ حماس اورحزب اللہ کے راکٹوں کی بارش میں بری طرح تباہ ہوگیا۔ اس کی تصدیق اسرائیلی رونامہ ’ہیری ٹیج‘ اورٹی وی ’12‘نے بھی کی ہے۔ یہ عارضی بندرگاہ بھی ایک بڑی امریکی سازش کا حصہ تھی ،بظاہر تو فلسطینیوں کو غذائی اورطبی امدادی اشیاء کی سپلائی کے لیے تھی لیکن حقیقت اس سے بعید وہاں ایک مستقل بندرگاہ بناکر غزہ کے سمندری علاقے میں واقع تیل اورگیس کے خزانوں پر قبضہ کرناتھا۔ جس پر اسرائیل برسوں سے نظریں گڑائے بیٹھاہے اورموجودہ جنگ کا یہ بھی ایک بڑا سبب ہے۔
حوثی انصاراللہ کو کنڑول کرنے کے لیے امریکہ اوربرطانیہ نے ایک بار پھر فضائی حملہ کردیا لیکن بے سود رہا۔ بہت کم نقصان اٹھانے کے بعد یمن نے فوری جواب دے دیا۔ حوثیوں نے دوامریکی بحری جہازوں المبداء اورجیونا کو اسرائیل کی جانب رواں دواں دیکھ کر حملہ کردیا اور اسے زبردست نقصان پہنچایا جس کے بعد دونوں بحری جہاز بحراحمر میں ناکارہ ہوگئے۔ اس کے بعد یمنی کمانڈر یحیٰ الساری نے ببانگ دہل اعلان کیاکہ ابھی تویہ نمونہ ہے ہم اسرائیلی بندرگاہوں کو بھی مکمل طور پر ناکارہ کرکے امریکی جہازوں کو بحرمتوسط میں روک دیں گے۔ اسی دن ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو بھی حوثیوں نے نشانہ بنایا،جسے زبردست نقصان پہنچا یا جس کی بناء پر اسے راستہ تبدیل کرکے بحر ہند سے بھاگنے پر مجبور ہونا پڑا۔ شام کی گولان پہاڑیوں پر واقع اسرائیلی ٹھکانوں پر عراق کی جہادِاسلامی تنظیم نے حملے تیز کرکے اس کی ناک میں دم کردیاہے اوراسرائیلی ایلیٹ فورس کو زبردست نقصان اٹھاناپڑا۔ایک کارنامہ حزب اللہ نے بھی شمالی مقبوضہ اسرائیل میں صیہونی جاسوسی دواڈوں کو ناکارہ بنادیا۔ موقع اچھا تھا کیونکہ پوری توجہ صیہونیوں کی جنوبی غزہ پر تھی اس کا فائدہ اٹھاکر حزب اللہ نے زبردست حملہ کرکے اسے کئی اہم ٹھکانوں سے محروم کردیااوراس کے تین مقامات پر نصب آئرن ڈوم کو بھی نقصان پہنچایا۔ حزب اللہ نے اس وقت لبنانی سرحد سے متصل اسرائیلی فوجی اڈوں پرتباہی مچارکھی ہے جس سے وہ بری طرح گھبراگیا ۔ اس وقت اسرائیل کو حزب اللہ نے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔
متحدہ اقوام نے گزشتہ ہفتہ ایک اہم اعلان کرکے اسرائیل کی کمرتوڑدی اسے ’’داعش ،القاعدہ اوربوکو حرام ‘‘جیسی سفاک تنظیموں کی فہرست میں شامل کردیاہے ۔ اس طرح صیہونیوں کی ناک رکڑنے کی ایک اورتیاری شروع کردی گئی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے