कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سیرتِ نبوی ﷺ اور آج کا مسلمان

تحریر:(قاری) محبوب الحسن محبوؔب مظفرنگری

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے اور اس کی عملی تصویر ہمیں رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی مبارک زندگی میں نظر آتی ہے۔ آپ ﷺ کی سیرت صرف تاریخ کا ایک روشن باب نہیں بلکہ قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے ہدایت، رہنمائی اور کامیابی کا مکمل دستور ہے۔ آج جب مسلمان مختلف فکری، اخلاقی، معاشرتی اور تہذیبی مسائل سے دوچار ہے، ایسے وقت میں سیرتِ نبوی ﷺ کی طرف رجوع پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہوگیا ہے۔
سیرت صرف پڑھنے کے لیے نہیں، اپنانے کے لیے ہے:
آج ہم رسول اللہ ﷺ سے محبت کا اظہار تو کرتے ہیں، نعتیں پڑھتے ہیں، جلسے منعقد کرتے ہیں اور سیرت کے واقعات بیان کرتے ہیں؛ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ہماری زندگی میں سیرتِ نبوی ﷺ کا کتنا حصہ موجود ہے؟
رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ عبادت کے ساتھ اخلاق، معاملات کے ساتھ دیانت، طاقت کے ساتھ عفو و درگزر، اختلاف کے باوجود انصاف اور مشکلات کے باوجود صبر اختیار کیا جائے۔ اگر سیرت ہمارے گھروں، بازاروں، اداروں، تجارت، سیاست، تعلیم اور معاشرتی رویوں میں نظر نہیں آتی تو ہمیں اپنے طرزِ عمل کا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔
عبادت کے ساتھ حسنِ اخلاق:
نبی کریم ﷺ نے انسان کے کردار کو غیر معمولی اہمیت دی۔ آپ ﷺ نے سچائی، امانت، وعدہ وفائی، رحم، عفو، صلہ رحمی اور حسنِ سلوک کو اسلامی زندگی کا بنیادی حصہ بنایا۔
آج ایک مسلمان بظاہر عبادت گزار ہوسکتا ہے، لیکن اگر اس کے معاملات میں جھوٹ، خیانت، بددیانتی، بدزبانی، تکبر اور ظلم موجود ہے تو اسے اپنی اصلاح کی ضرورت ہے۔ سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ اللہ کی مخلوق کے حقوق کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔
گھر سے معاشرے تک:
رسول اللہ ﷺ بہترین شوہر، بہترین والد، بہترین پڑوسی، بہترین قائد اور بہترین انسان تھے۔ آپ ﷺ نے کمزوروں، یتیموں، مسکینوں، بیواؤں اور محتاجوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دی۔
آج اگر ہم سیرتِ نبوی ﷺ کو اپنی زندگی میں نافذ کرنا چاہتے ہیں تو اس کا آغاز اپنے گھر سے ہونا چاہیے۔ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، اولاد کی صحیح تربیت، میاں بیوی کے درمیان محبت و احترام، رشتہ داروں سے اچھا برتاؤ اور پڑوسیوں کے حقوق کی ادائیگی ہی سیرت کے عملی تقاضے ہیں۔
نوجوان اور سیرتِ رسول ﷺ:
آج کا نوجوان سوشل میڈیا، انٹرنیٹ اور مختلف تہذیبی اثرات کے درمیان اپنی شناخت تلاش کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں اسے صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ کیا غلط ہے؛ بلکہ اسے رسول اللہ ﷺ کی زندگی کا ایسا روشن نمونہ پیش کرنا ضروری ہے جو اس کے دل کو متاثر کرے اور اسے مقصدِ زندگی عطا کرے۔
نوجوان اگر سیرتِ نبوی ﷺ سے جڑ جائے تو وہ وقت کی قدر، علم کی طلب، پاکیزہ کردار، محنت، خود اعتمادی اور خدمتِ خلق کا راستہ اختیار کرسکتا ہے۔ موبائل کی اسکرین پر گزرنے والے بے شمار گھنٹوں کے بجائے اگر ہماری نسل کا کچھ وقت سیرتِ رسول ﷺ کے مطالعے اور اس پر عمل میں صرف ہو جائے تو معاشرے میں ایک بڑی مثبت تبدیلی پیدا ہوسکتی ہے۔
اختلاف میں بھی اخلاق:
آج امت کا ایک بڑا مسئلہ باہمی اختلاف، بدگمانی، الزام تراشی اور ایک دوسرے کی تحقیر ہے۔ اختلافِ رائے انسانی معاشرے کا حصہ ہے، لیکن سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں اختلاف کے باوجود عدل، حکمت، صبر اور حسنِ اخلاق کا درس دیتی ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی مسلمان سے اختلاف ہمیں اس کی عزت پامال کرنے، اس کی نیت پر حملہ کرنے یا اسے حقیر سمجھنے کا حق نہیں دیتا۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت ہمیں اختلاف کے آداب اور دلوں کو جوڑنے کا راستہ دکھاتی ہے۔
خدمتِ خلق؛ سیرت کا روشن پہلو:
رسول اللہ ﷺ نے انسانیت کی خدمت کو بڑی اہمیت دی۔ آج کا مسلمان اگر سیرتِ نبوی ﷺ کا حقیقی پیروکار بننا چاہتا ہے تو اسے اپنے اردگرد کے ضرورت مند انسانوں کا سہارا بننا ہوگا۔
غریب کی مدد، بیمار کی عیادت، یتیم کی کفالت، مظلوم کی حمایت، بھوکے کو کھانا کھلانا، پریشان حال انسان کی دل جوئی اور معاشرے میں امن و خیر کو فروغ دینا یہ سب سیرتِ طیبہ کے عملی تقاضے ہیں۔
آج ضرورت ایک نئے عہد کی ہے:
آج ہمیں صرف سیرت کانفرنسیں منعقد کرنے کی نہیں بلکہ سیرت کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم نماز کی پابندی کریں گے، حلال و حرام کی تمیز کریں گے، معاملات میں دیانت اختیار کریں گے، والدین کا احترام کریں گے، پڑوسیوں کے حقوق ادا کریں گے، اپنے گھروں میں اسلامی تربیت کو فروغ دیں گے اور نفرت کے بجائے محبت و خیر خواہی کو عام کریں گے۔
رسول اللہ ﷺ کی سیرت ہمارے لیے ماضی کی داستان نہیں بلکہ حال اور مستقبل کی رہنمائی ہے۔ دنیا آج امن، انصاف، اخلاق اور انسانیت کے بحران سے گزر رہی ہے، اور سیرتِ مصطفیٰ ﷺ ان تمام مسائل کے لیے ایک جامع اور روشن عملی نمونہ پیش کرتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سیرت کو صرف زبان سے محبت کا موضوع نہ بنائیں بلکہ اپنے کردار، معاملات اور معاشرتی زندگی سے محبتِ رسول ﷺ کا ثبوت دیں۔
اگر آج کا مسلمان سیرتِ نبوی ﷺ کو حقیقی معنوں میں اپنا لے تو اس کی ذات بھی سنور سکتی ہے، اس کا گھر بھی، اس کا معاشرہ بھی اور پوری امت کا مستقبل بھی۔ یہی سیرتِ رسول ﷺ کا حقیقی پیغام اور آج کے مسلمان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے