कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اردو ادب سے دوری: اس چمن کی ویرانی کا ذمہ دار کون؟ کیا ہم خود ہیں؟

از قلم صحافی محمد احسان سر، ملکاپور، ضلع بلڈھانہ ( مہاراشٹر )

اردو صرف ایک زبان کا نام نہیں، بلکہ یہ ہماری تہذیب، شائستگی، فکر، احساس، محبت اور صدیوں پر محیط ادبی ورثے کی امین ہے. اردو ادب نے ہمارے معاشرے کو ایسے شاعر، ادیب، افسانہ نگار، محقق، صحافی اور دانشور عطا کیے جنہوں نے اپنے قلم سے معاشرے کی رہنمائی کی اور انسان کو انسان سے جوڑنے کا کام کیا. لیکن آج ایک نہایت سنجیدہ سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے کہ کیا ہم خود اپنی اس ادبی میراث سے دور ہوتے جا رہے ہیں؟
آج معاشرے میں اردو ادب کی محفلوں، ادبی نشستوں، مشاعروں، مطالعاتی مجالس اور فکری پروگراموں سے لوگوں کی دلچسپی کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے. کتاب پڑھنے، اخبار بینی کرنے اور ادبی و فکری گفتگو میں حصہ لینے کا شوق بھی پہلے جیسا نہیں رہا. افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اردو ادب سے وابستہ اور اس میدان میں پہچانے جانے والے بعض افراد بھی اس صورتِ حال سے بے نیاز نظر آتے ہیں.
ادبی محفل منعقد ہو تو شرکت کے لیے وقت نہیں، کتاب شائع ہو تو مطالعے کی فرصت نہیں، شاعر یا ادیب کی حوصلہ افزائی کا موقع آئے تو چند الفاظ کہنا بھی گراں محسوس ہوتا ہے. جو لوگ اپنی ذاتی مصروفیات سے وقت نکال کر اردو ادب کے چراغ کو روشن رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، ہم اکثر ان کی محنت کو وہ اہمیت بھی نہیں دیتے جس کے وہ مستحق ہیں.
یہ سوال کسی ایک فرد، ادارے یا تنظیم سے نہیں، ہم سب سے ہے.
آخر اردو ادب کی محفلیں کیوں کم ہو رہی ہیں؟ نوجوان کتاب سے کیوں دور ہو رہے ہیں؟ ادبی نشستوں میں کرسیاں خالی کیوں نظر آتی ہیں؟ اخبارات اور رسائل کا مطالعہ کیوں کم ہوتا جا رہا ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کیوں نہیں کی جاتی؟
اس صورتِ حال کا ذمہ دار صرف زمانہ، موبائل فون، سوشل میڈیا یا نئی نسل کو قرار دینا آسان ہے، مگر مکمل حقیقت یہ ہے کہ اس چمن کی ویرانی میں ہمارا اپنا بھی بڑا حصہ ہے.
ہم چاہتے ہیں کہ اردو زندہ رہے، مگر اس کے لیے وقت نہیں دیتے. ہم چاہتے ہیں کہ ادبی محفلیں آباد ہوں، مگر خود شرکت نہیں کرتے. ہم چاہتے ہیں کہ نوجوان کتابیں پڑھیں، مگر انہیں کتاب سے جوڑنے کی عملی کوشش نہیں کرتے. ہم چاہتے ہیں کہ شاعر اور ادیب تخلیق کرتے رہیں، مگر ان کی حوصلہ افزائی کرنا بھول جاتے ہیں.
محض اردو سے محبت کا دعویٰ کافی نہیں؛ محبت کا ثبوت عمل سے دینا ہوگا.
ہمیں چاہیے کہ اپنے گھروں میں کتابوں کے لیے جگہ بنائیں، بچوں کو اردو کتابیں پڑھنے کی ترغیب دیں، اخبارات و رسائل کا مطالعہ کریں، ادبی پروگراموں میں شرکت کریں، مقامی شاعروں اور ادیبوں کی حوصلہ افزائی کریں اور جہاں کہیں اردو کے فروغ کے لیے کوئی مثبت کوشش ہو، وہاں اپنی موجودگی اور تعاون سے اس کوشش کو مضبوط کریں.
خصوصاً اردو سے وابستہ اساتذہ، صحافیوں، ادیبوں، شعراء، سماجی کارکنوں اور اہلِ ذوق کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے. اگر ہم ہی اردو ادب کی محفلوں سے کنارہ کش ہو جائیں گے تو آنے والی نسلوں کو اردو ادب کی محبت اور اس کی اہمیت کون سمجھائے گا؟
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ادبی محفل صرف شعر و شاعری کا نام نہیں. یہ فکر کے تبادلے، تہذیب کی حفاظت، زبان کی ترقی اور نئی نسل کی ذہنی تربیت کا ایک مؤثر ذریعہ ہے. ایک اچھی ادبی نشست کسی نوجوان کے اندر مطالعے کا شوق پیدا کر سکتی ہے، ایک اچھی کتاب اس کی سوچ بدل سکتی ہے اور ایک حوصلہ افزا جملہ کسی نئے قلم کار کو زندگی بھر لکھنے کا حوصلہ دے سکتا ہے.
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم شکایت کرنے کے بجائے اپنی ذمہ داری قبول کریں.
اگر ہمارے شہر میں اردو کی کوئی ادبی محفل منعقد ہوتی ہے تو ہم وہاں جائیں. اگر کوئی نوجوان شعر یا مضمون لکھتا ہے تو اس کی حوصلہ افزائی کریں. اگر کوئی شخص اردو کے فروغ کے لیے اپنی جیب، وقت اور صلاحیت صرف کر رہا ہے تو اس کا ساتھ دیں. اگر کوئی ادبی تنظیم پروگرام منعقد کرتی ہے تو اس میں شرکت کو محض ایک رسمی دعوت نہ سمجھیں بلکہ اسے اردو کی خدمت میں اپنا حصہ سمجھیں.
یاد رکھیے! چمن صرف مالی، کتابوں اور عمارتوں سے آباد نہیں ہوتا؛ اسے زندہ رکھنے کے لیے اہلِ ذوق، اہلِ فکر اور اہلِ عمل کی ضرورت ہوتی ہے.
اردو ادب کا یہ چمن ہمارا مشترکہ ورثہ ہے. اگر ہم نے آج اس کی آبیاری نہ کی تو آنے والے کل میں صرف یہ شکایت رہ جائے گی کہ کبھی یہاں اردو ادب کی محفلیں سجتی تھیں، کبھی کتابیں پڑھی جاتی تھیں، کبھی شعر و سخن کی نشستیں ہوا کرتی تھیں اور کبھی اہلِ قلم کی قدر ہوتی تھی.
آئیے، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، ہم سب اپنا کردار ادا کریں.
ایک کتاب پڑھیں، ایک ادبی محفل میں شرکت کریں، ایک شاعر یا ادیب کی حوصلہ افزائی کریں، ایک نوجوان کو مطالعے کی طرف راغب کریں اور اردو کے لیے کم از کم اتنا ضرور کریں کہ اس زبان کا چراغ ہمارے ہاتھوں بجھنے نہ پائے.
کیونکہ آخر میں تاریخ ہم سے یہ سوال ضرور کرے گی:
اردو کا یہ خوبصورت چمن جب ویران ہو رہا تھا، تو ہم کہاں تھے؟
اور اس سوال کا جواب ہمارے پاس صرف اسی صورت میں ہوگا جب آج سے ہم اردو ادب کے لیے تماشائی نہیں، کردار ادا کرنے والے بن جائیں. اردو زندہ رہے گی تو ہماری تہذیبی شناخت، ہماری ادبی روایت اور ہماری آنے والی نسلوں سے ہمارا رشتہ بھی زندہ رہے گا.
بچوں کو دیگر زبانوں کی تعلیم دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ زبانوں کا علم ان کے لیے ترقی، روزگار اور وسیع دنیا سے رابطے کے دروازے کھولتا ہے؛ لیکن اس کے ساتھ اپنی مادری اور تہذیبی زبان اردو کو بھلا دینا دانش مندی نہیں. ہمیں اپنے بچوں کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ ہماری تاریخ، تہذیب، ادب، اخلاق، روایات اور بزرگوں کی علمی میراث کی امین ہے. انگریزی، ہندی، مراٹھی یا دیگر زبانیں ضرور سکھائیں، مگر اردو پڑھنے، لکھنے، بولنے اور اس کے ادب سے محبت کرنے کی عادت بھی پیدا کریں. گھروں میں اردو گفتگو، اردو کتابوں کا مطالعہ، اخبارات و رسائل کی عادت اور ادبی و ثقافتی پروگراموں میں بچوں کی شرکت کو فروغ دیا جائے۔ دوسری زبانیں سیکھنا ترقی ہے، مگر اپنی زبان اور ورثے کو بھول جانا اپنی شناخت سے دوری ہے،. ہمیں اپنے بچوں کو کئی زبانوں کا ماہر بنانا ہے، مگر اپنی اردو سے بے خبر نہیں.

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے