कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

۱۲ ربیع الاول سیرتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی درس

تحریر:محمد عادل ارریاوی
10 ربیع الاول 1448ھ
8235703061

اسلام ایک جامع اور کامل و مکمل دین ہے اس دین کی یہ خصوصیت ہے کہ جتنی باتیں ضروری اور لازمی تھیں وہ سب پہلے ہی بیان کر دی گئیں کسی بھی چیز کو ادھوری اور نامکمل نہیں رکھا گیا چاہے وہ عقائد کے بارے میں ہو یا عبادات کے بارے میں معاملات کے بارے میں ہو یا رہنے سہنے اور حسن سلوک کے بارے میں اخلاق کے بارے میں ہو یا کسی اور چیز کے بارے میں یہاں تک کہ دکھ درد خوشی اور غم ہر چیز کے بارے میں اسلام میں واضح ہدایات ملتی ہیں اس لئے ہمیں ہر کام میں اسلامی تعلیمات کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔
محبت ایک معروف لفظ ہے اور اس کے معنی بھی معروف و مشہور ہیں اور وہی مراد ہیں البتہ اہل ایمان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جو محبت مطلوب ہے وہ محبت طبعی نہیں بلکہ عقلی اور روحانی ہے یعنی اللہ اور رسول کے ساتھ اہل ایمان کو جو محبت ہوتی ہے وہ ماں باپ اور بیوی بچوں کی محبت کی طرح خونی رشتوں یا دوسرے طبعی اسباب کی وجہ سے نہیں ہوتی ( کیونکہ محبت طبعی اختیاری نہیں ) بلکہ وہ روحانی اور عقلی ہوتی ہے ( اور یہ انسان کے اختیار میں ہے ) اور جب وہ کامل ہو جاتی ہے تو اس کے سوا دوسری وہ تمام محبتیں جو طبعی یا نفسانی اسباب کی وجہ سے ہوتی ہیں اس سے مغلوب ہو جاتی ہیں اور اس بات کو ہر شخص سمجھ سکتا ہے جس کو اللہ نے اس کا کوئی حصہ نصیب فرمایا ہو۔
الغرض احادیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جو محبت مطلوب ہے اس محبت سے مراد محبت عقلی اختیاری ہے یعنی اس چیز کا اختیار کرنا جس کو عقل بہتر سمجھے اور اختیار کرنا پسند کرے اگرچہ طبیعت کے خلاف ہی ہو۔ جیسے مریض کڑوی دوا کو برا سمجھتا ہے اور اس کی طبیعت کو اس سے نفرت ہوتی ہے اس کے باجود اس کی طرف اپنے اختیار سے مائل ہوتا ہے اور عقل اسی کو کھانا چاہتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میری تندرستی اسی میں ہے اسی طرح مومن جب یہ جان لیتا ہے کہ رسول کی تمام وہ باتیں جن کا وہ ہم کو حکم کرتے ہیں یا منع کرتے ہیں وہی ہیں جن میں ہماری دین و دنیا کی بھلائی ہے تو وہ تمام دنیا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ترجیح دے کر ان کے حکموں کو بجا لاتا ہے اور ان کی منع کی ہوئی باتوں سے بچتا ہے اور یہی وہ بات ہے جس کے بغیر ایمان حاصل نہیں ہوتا ۔
حکیم الامت مجدد ملت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی اور دیگر اکابر نے لکھا کہ پیدائش کے واقعات تو بہت بڑی چیز ہے ان کی جوتیوں کا تذکرہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کا تذکرہ ان کے نوکروں اور خادموں کا تذکرہ ان کی سواری لے جانے والے جانوروں کا تذکرہ ان کے شہر کی گلیوں کا تذکرہ اور ان کے شہر کے گرد و غبار کا تذکرہ بھی ہم باعث برکت سمجھتے ہیں ان کے غلاموں کے غلاموں کا تذکرہ بھی ہم باعث سعادت سمجھتے ہیں لیکن شرط یہی ہے کہ محبت کے اظہار میں آپ بے ادب نہ ہو جا ئیں محبت کے اظہار میں آپ شریعت کے حدود کو پامال کرنے والے نہ بن جائیں عشق کے اظہار میں آپ انسانیت کو اور اس کی راحتوں کو اس کے چین کو پامال کرنے والے ختم کرنے والے نہ بن جائیں۔
میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملات کیسے تھے؟ معاشرت کیسی تھی؟ ان کے اخلاق کیسے تھے؟ ان کا برتاؤ ان کے چھوٹوں کے ساتھ کیسا تھا ؟ ان کا برتاؤ ان کے بڑوں کے ساتھ کیسا تھا؟ ان کے قرض لینے ان کے قرض دینے کا طریقہ کیسا تھا؟ ان کا اپنی بیٹیوں کے ساتھ داماد کے ساتھ برتاؤ کیسا تھا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے سسر کے ساتھ سلوک کیسا تھا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے رشتہ داروں کے ساتھ معاملہ کیسا تھا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھریلو زندگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا انداز کیسا تھا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تاجرانہ سیاسی میدان کیسا تھا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داعیانہ زندگی کیسی تھی؟ مشرکوں کے ساتھ کیسا برتاؤ تھا ؟ یہودیوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلقات کیسے تھے؟ عیسائیوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاہدے وغیرہ کیسے تھے یہ سارے وہ موضوعات ہیں جن پر گفتگو کی جانی چاہیے جو امت کو بتلانا چاہیے کہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ میں دشمنوں کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا قتال کے آداب کیا تھے ؟ جزیہ کب لیا جاتا ہے؟ یہ وہ پیغام ہے کہ جو اس امت کی گردن پر ہے کہ امت اس پیغام کو ساری انسانیت تک پہنچائے۔
بتاؤ کہ یہ کون سا میلاد کا جلسہ ہے؟ یہ کون سی میلاد ہے کہ میرے نبی پیدا ہوئے تو میں محلہ میں کسی کو سونے نہیں دوں گا میرے نبی رحمتہ للعالمین بن کر آئے تو میں ہر ایک کی جیب سے پیسے وصول کروں گا میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہو گئی اب میں سارے محلہ میں چراغاں کر کے اور ایسی نمائشیں اور ایسے ماڈلس اور ایسی فضول خرچیاں اور ایسی لا یعنی حرکتیں کہ زبردستی سڑک پر سے گزرنے والوں کو پکڑ کر کھلاؤں گا چاہے سال بھر اپنی ماں کو پیسے لا کر نہ دوں چاہے اپنی بوڑھی ہونے والی بہن کے نکاح کا انتظام نہ کروں چاہے کبھی کسی محلہ کی بیوہ کی خبر نہ لوں لیکن بارہ ربیع الاول کو ہر گذر نے والے کو پکڑ کر میں کھانا کھلاؤں گا یہ کون سا عشق ہے ہمیں پتہ نہیں ہے یہ کون سا میلاد کا مہینہ ہے ہمیں پتہ نہیں ہے کہ قوالیاں لگائی جا رہی ہوں میوزک بجائے جارہے ہوں اماں جان حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک لڑکی آئی جس کے پیر میں گھنگرو والا زیور تھا اماں جان حضرت عائشہ نے فرمایا کہ یا اس بچی کو یہاں سے لے جاؤ یا اسکے پیر میں جو گھنگرو ہے اسے نکالو میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر گھنٹی کے ساتھ شیطان ہے ہر میوزک کے ساتھ شیطان ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ ربّ العزت نے تمہیں لوگوں کے تہواروں کے بدلے میں ان سے بہتر دو دن عطا فرمائے ہیں ایک عید الاضحی کا دن اور عید الفطر کا دن۔ کسی مسلمان سے یہ مخفی نہیں کہ عید الفطر شوال کی پہلی تاریخ اور عید الاضحی ذوالحجہ کی دس تاریخ کو ہوتی ہے۔ عید الفطر اور عید الاضحی کا متعین تاریخوں میں پایا جانا دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے متواتر طریقہ پر چلا آرہا ہے۔ اگر 12 ربیع الاول کو ایک اجتماعی تیسری عید یا کسی اجتماعی عمل کا بھی وجود ہوتا تو یقینا اس کا ثبوت بھی عید الفطر اور عید الاضحی کی طرح ہوتا۔ اس سے واضح ہوا کہ 12 ربیع الاول کو عید کا دن قرار دینا درست نہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم ولادت اور یوم وفات کے ساتھ کوئی اجتماعی یا انفرادی شرعی عمل بھی وابستہ نہیں ۔
اے اللہ ربّ العزت ہمیں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت کامل اتباع اور سنت پر استقامت عطا فرما۔ آمین یارب العالمین۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے