कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سالگرہ مبارک، چچا غالب!

مضمون نگار – راجبیر دیسوال
منجیت سنگھ،کرکشیترا یونیورسٹی

ہوئی مدت کہ غالب مر گیا، پر یاد آتا ہے
وہ ہر اک بات پہ کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا
شاعری میں آمنے سامنے
(غالب اور ذوق کی نوک جھونک)
دہلی نے ادب، صوفی روایت اور شاعری کو ایسے بے شمار نایاب گوہر عطا کیے ہیں جن کی چمک آج بھی برقرار ہے۔ حضرت نظام الدین اولیا، امیر خسرو، بہادر شاہ ظفر، داغ دہلوی، مرزا غالب اور شیخ ابراہیم ذوق—ان سب نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے دہلی کی تہذیب کو ہمیشہ کے لیے زندہ جاوید کر دیا۔
مرزا اسد اللہ خاں "غالب” اور شیخ ابراہیم "ذوق” ہم عصر تھے اور اردو و فارسی کے بے مثال شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ غالب اپنی بے فکری، روایتی مذہبی تصورات سے کسی حد تک مختلف سوچ، شراب نوشی اور رنگین مزاجی کے لیے معروف تھے، جبکہ ذوق شاہی سرپرستی سے بہرہ مند تھے۔ وہ خود بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے استاد تھے اور ظفر بھی ایک عمدہ شاعر تھے۔
اگرچہ غالب کی ادبی عظمت کسی اعتبار سے ذوق سے کم نہ تھی، مگر ذوق اکثر غالب کی بے باک شاعری اور طنزیہ انداز سے ناخوش رہتے تھے۔ وہ کئی مرتبہ بادشاہ سے شکایت کرتے کہ غالب ان پر چوٹ کرتے ہیں اور اشاروں کنایوں میں شاہی دربار تک کو نہیں بخشتے۔
ایک مرتبہ غالب نے ذوق کی موجودگی میں یہ مصرع پڑھ دیا:
"ہوا ہے شہ کا مصاحب، پھرے ہے اِتراتا۔”
یعنی: بادشاہ کا مقرب بن کر اکڑتا پھرتا ہے۔
ذوق نے فوراً بادشاہ سے شکایت کر دی۔ دربار کے مشاعرے میں غالب سے وضاحت طلب کی گئی، مگر غالب تو حاضر جواب تھے۔ انہوں نے فی البدیہہ دوسرا مصرع کہہ دیا:
"وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے۔”
یعنی: اگر میں بادشاہ کے قریب نہ ہوتا تو شہر میں میری کیا حیثیت ہوتی؟
بادشاہ مسکرا اٹھے اور ذوق خاموش رہ گئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ غالب پوری غزل سنائیں، حالانکہ ایسی کوئی غزل موجود نہ تھی۔ روایت ہے کہ غالب نے وہیں فی البدیہہ پوری غزل کہہ ڈالی، جس کا آغاز ان مشہور اشعار سے ہوتا ہے:
"ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ ‘تو کیا ہے’
تم ہی کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے۔”
اس طرح غالب نے نہ صرف خود کو بچا لیا بلکہ اپنی حاضر جوابی کا بھی لوہا منوا لیا۔
بعد ازاں انہوں نے چٹکی لیتے ہوئے کہا:
"تھی خبر گرم کہ ‘غالب’ کے اڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گئے تھے، پر تماشا نہ ہوا۔”
ایک اور واقعہ بہادر شاہ ظفر کی محبوب بیگم زینت محل سے متعلق ہے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کی شادی کے لیے غالب سے سہرا لکھنے کی فرمائش کی۔ غالب نے سہرا تو لکھا، مگر اس میں اپنی شاعرانہ خود اعتمادی کچھ زیادہ ہی نمایاں کر دی۔ انہوں نے لکھا:
"ہم سخن فہم ہیں، غالب کے طرف دار نہیں
دیکھیں، کہہ دے کوئی اس سہرے سے بڑھ کر سہرا۔”
یعنی: ہم شعر کو سمجھنے والے ہیں، غالب کے جانبدار نہیں؛ اگر کسی میں ہمت ہو تو اس سے بہتر سہرا لکھ کر دکھائے۔
ذوق نے بھی جواب میں کہا:
"جن کو دعویٰ ہو سخن کا، یہ سنا دو ان کو
دیکھ اس طرح سے کہتے ہیں سخنور سہرا۔”
بادشاہ کو غالب کا یہ انداز پسند نہ آیا اور ان سے معذرت نامہ لکھوایا گیا، جسے "قطعۂ معذرت” کہا جاتا ہے۔ مگر غالب نے اس میں بھی ایسی باریک طنز شامل کی کہ ہر شعر میں ذوق پر ایک پوشیدہ چوٹ موجود تھی۔
اگر غیر جانب دارانہ نگاہ سے دیکھا جائے تو ذوق کے ساتھ بھی انصاف نہیں ہوا۔ دربار سے قربت کے باعث ان کی شاعری کا جائزہ اکثر تعصب کے ساتھ لیا گیا۔ ان کا مشہور شعر:
"ان دنوں گرچہ دکن میں ہے بڑی قدرِ سخن
کون جائے ‘ذوق’ پر دہلی کی گلیاں چھوڑ کر۔”
اکثر اس معنی میں لیا جاتا ہے کہ وہ دکن جانے سے گھبراتے تھے، حالانکہ یہ دہلی سے ان کی بے پناہ محبت کا اظہار بھی ہو سکتا ہے۔
شاعری کی دنیا ہمیشہ اپنے فنی اصولوں کے لیے معروف رہی ہے۔ بحر، قافیہ اور ردیف اس کی روح سمجھے جاتے ہیں۔ بعد میں آزاد نظم اور بلینک ورس نے بھی ترقی کی، مگر کلاسیکی شاعری کی اپنی ایک منفرد جمالیاتی روایت تھی۔
اردو مشاعروں میں "طرحِ مصرع” کی روایت نہایت دلچسپ ہوتی تھی۔ اس میں منتظمین ایک مصرع دیتے اور تمام شعرا اسی بحر، قافیہ اور ردیف کے ساتھ مکمل غزل کہتے۔
اسی طرح فی البدیہہ شعر کہنے کی روایت بھی تھی، جس میں شاعر کو بغیر کسی تیاری کے فوراً شعر کہنا پڑتا تھا۔ یہی اس کی اصل آزمائش سمجھی جاتی تھی۔
ادیبوں اور فنکاروں کی اپنی اپنی نگاہ ہوتی ہے۔ ایک ہی موضوع پر دو عظیم شاعر بالکل مختلف نتائج اخذ کر سکتے ہیں۔
شکیل بدایونی نے تاج محل کو محبت کی علامت قرار دیا:
"اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل
ساری دنیا کو محبت کی نشانی دی ہے۔”
جبکہ ساحر لدھیانوی نے اسی تاج محل کو سماجی نابرابری کے تناظر میں دیکھا:
"اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق۔”
یہی ادب کا حسن ہے کہ ایک ہی حقیقت مختلف زاویوں سے سامنے آتی ہے۔
غالب ہوں یا ذوق، ساحر ہوں یا شکیل—اختلافِ رائے، تنقید اور ادبی رقابت ہمیشہ سے ادب کا حصہ رہی ہیں۔ انہی سے مکالمہ، بحث اور نئی تخلیقات جنم لیتی ہیں۔
آخر میں ذرا مسکرا لیجیے۔ غالب کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ آج بھی کوئی بھی دلچسپ یا مزاحیہ شعر ان کے نام سے منسوب کر دیا جاتا ہے، مثلاً:
"بے وقوفوں کی کمی نہیں، غالب
ایک ڈھونڈو، ہزار ملتے ہیں۔”
حقیقت یہ ہے کہ یہ شعر غالب کا نہیں ہے، مگر شاید یہی ان کی سب سے بڑی مقبولیت ہے کہ لوگ آج بھی ہر چبھتی ہوئی بات انہی کے نام سے منسوب کر دیتے ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے