कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

رنگ حجازآج بھی اس کی نواؤں میں ہے

تحریر:قطب اللہ

فلسطین اورصیہونی ریاست کے مابین جنگ اب آٹھویں ماہ میں داخل ہوچکی ہے اگرچہ امریکہ اورصیہونیوں میں رشتے کچھ تلخ ہوگئے ہیں لیکن اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو شکست خوردہ ہوکر مزید ضدی ہوگیاہے اس نے جنوبی غزہ پر دنیا بھر کے ممالک اورمتحدہ اقوام کے منع کرنے کے باوجود حملہ کردیا توحماس اوردوسرے مزاحمتی گروپوں کے منھ توڑ جواب سے اس کے قدم اکھڑتے نظرآرہے ہیں۔ تنظیم اسلامی کانفرنس کے علاوہ ایک اور تنظیم عرب لیگ نے بھی اپنی کانفرنس بحرین میں کرڈالی۔ واضح ہو کہ یہ تنظیم مدت ہوئی مردہ ہوچکی تھی۔ لیکن امریکہ اوراس کے کچھ عرب دوستوں نے شطرنج کی بساط پرایک نئی چال چل دی ہے۔ عرب لیگ کی آڑ میں ایران اوردوسرے غیرعرب مسلم ملکوں کو علاحدہ کرنے کی یہ ایک سازش ہے۔
اس وقت مغربی ایشیاء میں جنگ جاری ہے لیکن جارح اسرائیلی فوج ایک تھکے ہوئے اور شکست خوردہ سپاہی کا رول ادا کررہی ہے ۔ امریکی گولہ بارود کی فراہمی بند ہوجانے کے باوجود صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو نے بڑے تکبر کے ساتھ کہاتھا کہ ہم امریکی ہتھیاروں کے محتاج نہیں ہیںاگرہم نہتھے بھی ہوگئے تب بھی اپنے ناخونوں سے آخری دم تک لڑیں گے ، لیکن اس کی یہ رعونت چند دنوں بعد ہی مٹی میں ملتی نظرآئی جب اس کی کابینہ کی میٹنگ میں ہی اس مسئلے پر اختلافات کھل کر عروج پر آگئے ۔ اس میٹنگ میں تلخ کلامی اتنی بڑھی کہ اسے ’’وارروم ‘‘کا نام دے دیاگیا۔ اسرائیلی پارلیمنٹ کے باہر اورتل ابیب کی سڑکوں پر اگرایک طرف عوام اوراسرائیلی یرغمالی فوجیوں کے گھروالوں اوررشتہ داروں کے مظاہرے ہورہے ہیں تو دوسری جانب پارلیمنٹ ہاؤس میں نتین یاہو ان کے حامیوں اوران کے مخالفین ممبران پارلیمنٹ اوروزراء آستینیں چڑھاکر برسرپیکارنظرآرہے ہیں۔ یہ سب نیتن یاہو کو غزہ کی جنگ کا اصل ویلین قرار دے رہے ہیں۔ سب نے نتین یاہو گروپ پر پھبتیاں کسیں اورپوچھا کہ کیا حماس ختم ہوگیا؟سرنگیں پکڑلی گئیں ؟ کیاہمارے یرغمالی رہاہوکر آگئے؟ ۔
اس بیچ اسرائیلی وزیردفاع گیلن نے تویہاں تک کہہ دیا کہ نیتن یاہو آپ ایک ناکام لیڈر ہیں جس نے پوری قوم کو ایک بڑی آزمائش میں مبتلا کررکھاہے۔ اس کے بعد گیلن نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اس نے وزیراعظم کو ایک ناسمجھ لیڈر قرار دیااوریہ بھی کہاکہ شروع میں ہی ہم نے سمجھایاتھاکہ یہ حماس اب وہ نہیں ہے جو اینٹ ،پتھر اورغلیلوں سے لڑاکرتاتھااوراسے ہم مارپیٹ کر دوچار لاشیں گراکر ہفتہ بھر میں خاموش کردیاکرتے تھے اب اس کے پاس بہترین تربیت یافتہ فوجی جوان ہیں جو راکٹ ،میزائیل اورڈرون کا نہ صرف استعمال کررہے ہیںبلکہ وہ اس قسم کے اسلحے تیار بھی کررہے ہیں۔ اب وہاں جو مزاحمتی گروپ ہیں وہ اس جنگ کو کئی نسلوں تک لیجاسکتے ہیں۔ اس وقت عالمی برادری بھی ان کے حق میں کھل کر سامنے آچکی ہے۔ یہی نہیں بلکہ ہمیں عالمی عدالت میں گھسیٹ لائے ہیں۔ ایسے میں بہتر ہے کہ حماس نے جنگ بندی پر جو رضامندی ظاہر کی تھی اسے ہمیں قبول کرلیناچاہیے تھا لیکن اپنی شرمندگی مٹانے اورکرسی بچانے کیلئے انکار کرکے قوم کو ایک بڑی آزمائش میں ڈال دیاہے۔ یہ نیتن یاہو کا بہت بڑا بلنڈر (فاش غلطی )ہے۔
گیلن کے ایک اورساتھی نے کہا کہ ہمارے اب بھی ایک سوپچاس فوجی حماس کے قبضہ میں ہیں ،ہم انہیں بچاسکتے ہیں ،لیکن نیتن یاہو کی غلط پالیسیوں نے ہماری طاقت اورافواج کی قلعی اتار کررکھدی ہے۔ آٹھ ماہ کی جنگ کے بعد بھی ہم کہیں سے کامیاب نظرنہیں آرہے ہیں اوردنیا ہمارا مذاق اڑارہی ہے۔ ایک ممبرپارلیمنٹ شوکہ نمر نے بھی اسی قسم کے الزامات عائد کرکے استعفیٰ دے دیاہے۔ اُس کا کہناتھاکہ خون خرابہ بندکرکے اپنے یرغمالیوں کو رہا کرانا ہمارا پہلا مشن ہوناچاہیے تھا لیکن ہم ایسا کرنے میں ناکام رہے۔ ایک اورفوجی افسر ران حلیمہ نے بھی اپنی شرمندگی کا احساس کرکے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔
اسی اثناء اسرائیل کا سب سے زیادہ خونخوار فوجی ’’دستہ یہودہ بٹالین‘‘پر امریکہ نے پابندی لگادی ہے ۔ روزنامہ واشنگٹن پوسٹ اوردوسرے مغربی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بتایاگیاہے کہ جوبائیڈن نے ایک ترجمان نے انکشاف کیا کہ یہودہ بٹالین نے ہی غزہ میں سب سے زیادہ معصوم بچوں اورخواتین کا خون بہایاہے نیز اس کی ایک اورمعاون بٹالین ’شیہرا ‘نے شہید فلسطینیوں کے اعضائے رئیسہ کی چوری کرکے عربوں ڈالرکمائے ہیں وہ انسانیت کے نام پر سیاہ دھبہ ہیں۔
اس ہفتہ عرب لیگ کی مناما کانفرنس بھی مضحکہ خیز رہی ۔ یہ وہی عرب لیگ ہے جو یاسرعرفات،جمال عبدالناصر،حافظ الاسداورصدام حسین کے نظریات پر مبنی مغربی ایشیاء میں کبھی سرگرم تھی اور عرب قومیت کی بنیاد پر اس کے لیڈران اسلامی عقائد اورایرانی طاقت پر ذرہ برابر بھی بھروسہ نہیں کرتے تھے،بلکہ ان کا مذاق اڑایاکرتے تھے، جس کا نتیجہ یہ سامنے آیاکہ مصر،شام ،عراق اور فلسطین کے الفتح گزشتہ صدی کی چھٹی اورساتویں دہائی میں اسرائیل کے ایک ہلے میں ہی ڈھیر ہوگئے تھے اوربڑی آسانی کے ساتھ اسرائیل نے فلسطین کے علاقوں پر قبضہ کرکے ناجائز بستیاں بسالیں تھیں ۔بعداز خرابی ٔبسیار یہ پتہ چلاکہ مذکورہ تنظیموں کے کئی ممبران صیہونیوں کیلئے مخبری کاکام کرتے تھے۔ اس گروپ کے لیڈر آج کل محمود عباس ہیں۔ جنہوں نے اپریل کے آخری ہفتہ میں ایک بیان میں حماس کو موردالزام قراردیاتھا کہ حالیہ جنگ اسی نے بھڑکائی ہے لیکن جب چین نے بیچ میں پڑکر حماس اورالفتح کو اپنے یہاں بلاکر حقیقت سے آگاہ کیا اورگفتگو کے ٹیبل پر بیٹھاکر دونوں میں سمجھوتہ کرادیا اس کے بعد غزہ کے مزاحمتی گروپوں کو بڑی طاقت ملی اورمغربی کنارے میں بھی صیہونیوں کو زبردست مصیبت کاسامنا کرنا پڑا۔
مذکورہ عرب قومیت کے نام پرمغربی طاقتوں نے اپنے ایک بڑے ایجنٹ بحرین کی سربراہی میں یہ جلسہ طلب کیاتھاجس پردنیا کے تمام انصاف پسند ممالک کو افسوس ہوا ،ایک طرف ایران اوردوسرے غیرعرب مسلم ممالک قرآن کے اصولوں کے مطابق دنیامیں امن کے خواہاں ہیں توامریکہ بہادر ایران کی دشمنی میں اوراسلامی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کیلئے عرب قومیت کا راگ الاپنے کی کوشش میں لگ گیاہے تاکہ فلسطین کا قضیہ دوبارہ سردخانہ کی نذر کیاجاسکے ۔ لیکن ایسا ہوتانظرنہیں آرہاہے۔
جس وقت جنوبی غزہ میں صیہونی افواج داخل ہوئی تھی تواسے نیتن یاہو نے اس مغالطہ میں ڈال رکھاتھاکہ جاؤ اورپورے خطے پر قبضہ کرلو یہیں سے حماس کی سرنگوں پر کنٹرول ہوتاہے اورہمارے یرغمالی بھائی یہیں چھپاکر رکھے گئے ہیں لیکن انہیں وہاں پہنچ کر مایوسی ہاتھ لگی کہ وہاں بارود ی سرنگوں کا جال بچھاہواتھا اورحماس کے کئی مزاحمتی گروپ یہیں پر سادہ لباس میں پہلے سے چھپے بیٹھے تھے ،جس کا پتہ لگانے میں امریکی اوراسرائیلی خفیہ ایجنسیاں ایک بار پھر ناکامی کا شکار ہوئیں۔ ان کے بہت سے فوجی مارے گئے ،لاتعداد فوجی گاڑیاں تباہ ہوئیں جن میں انتہائی قیمتی مرکاوا ٹینک اورڈرون بھی شامل ہیں۔ اس سے انکار نہیں کہ اس میں حماس کے جوان بھی شہید ہوئے ۔
حال میں جب اسرائیلی فوج کو اورامریکی انٹلیجنس کو پریشان کرنے والے یحیٰ السنوار اسماعیل ہانیہ اوران کی بہن بحری جنگ کے ماہر یحیٰ الساری یمنی کھل کر سامنے آگئے۔ جنہوں نے مزاحمتی گروپوں کو مبارک باد دی اورظالم کو زیر کرنے والے آہن صفت جوانوں کی پیٹ تھپتھپائی ،خبررساں ایجنسی الصفیٰ کے مطابق یحیٰ السنوار جس سے صیہونی افواج پر لرزا طاری ہوجاتاہے۔ پہلے دن وہ شمالی غزہ میں نظرآئے تودوسرے دن امریکی اور اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں کی آنکھوں میں دھول جھوک کر رفح علاقہ میں نمودار ہوگئے۔ اس کانتیجہ یہ ہواکہ یمن شمالی اسرائیل ،جولان کی پہاڑیاں ،عراق میں امریکی آڈے اوریمن کے محاذ پر نیا جوش عود کرآیا۔ اور اسرائیل پر چھ جانب سے حملے شروع ہوگئے۔ اس موقع پر اسماعیل ہانیہ کی بہو کا یہ بیان بھی مغربی میڈیامیں نمایاںجگہ حاصل کررہاہے ،جنہوں نے عرب لیگ کے نمائندوں کو غیرت دلاتے ہوئے کہا کہ ہم دنیابھرسے مدد مانگ سکتے ہیں جو زندہ قومیں ہیں ہم ان سے امید رکھتے ہیںلیکن تم عربوں سے ہم کیا امید رکھیں جو مردہ ہوچکے ہیں۔ ہم مردوں سے کوئی توقع نہیں رکھتے۔
یمن نے بحراحمر ہی نہیں بلکہ بحرہند ،بحیرۂ عرب میں تازہ حملے کرکے اسرائیلی جہازوں اوران کیلئے امیدادی اشیاء لیکر جانے والے دوسرے ممالک کے جہازوں کو تازہ حملہ کرکے روک دیاہے جس سے صیہونیوں کی کمرٹوٹ چکی ہے۔ حزب اللہ نے شمالی اسرائیل کے ایک بڑے علاقے پر خطرناک ایرانی میزائل الماس سے ضرب لگاکر کئی شہروں کو قبرستان میں تبدیل کردیاہے ،اب وہاں چھپ چھپ کر صیہونی فوجی نقل ورحرکت کررہے ہیں لیکن غیرقانونی یہودی آباد کار ،راہ فرار اختیار کرکے ناواپس آنے کا ارادہ ظاہر کردیاہے۔ عراق کی جہاد اسلامی تنظیم نے ایلات اورحیفہ بندرگاہوںکا ناکارہ بنادیاہے توجولان کی پہاڑیوں پر قابضہ اسرائیلی فوج کو نیچے ڈھکیل دیاہے۔ 19مئی کی شب میں حماس مجاہدین نے مشرقی رفح میں ایک مکان میں چھپے بیٹھے پندرہ اسرائیلی فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتاردیاہے۔ اس طرح نیتن یاہو کی چھیڑی ہوئی یہ جنگ اب گھسٹنے کے کگار پر پہنچ چکی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے