कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بکھرتے خواب، جلتے آشیاں: غصب شدہ خوشیوں کے سائے میں غزہ کے نوجوانوں کی شادیاں

غزہ:۲۴؍جون:غزہ کی پٹی میں اب شادی محض دو دلوں کا ملاپ یا زندگی کا کوئی خوبصورت فطری موڑ نہیں رہی، بلکہ یہ ایک ایسا سنگین معاشی اور المناک سماجی گورکھ دھندا بن چکی ہے جس کا رخ مسلسل جاری نسل کشی کی جنگ کے ہولناک اثرات اور زندگی کے تمام شعبوں کی پامالی طے کر رہے ہیں۔سر چھپانے کو چھت میسر نہیں، روزمرہ زندگی کی سسکتی سانسیں گراں ہو چکی ہیں اور اجڑے گھروں کو بسانے کا سامان خواب و خیال بن گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں نوجوان ایک نیا تانا بانا بننے کی بنیادی ترین حسرتوں سے بھی محروم ہو کر رہ گئے ہیں اور اپنوں کو پانے کی امید ایک نامعلوم مسافت کے پیچھے سسک رہی ہے۔
مکان نہیں، اب تو بستی ہی اجڑ گئی!
مصیبتوں کے اس طوفان کے بیچوں بیچ نوجوان حمزہ البیوک ایک ایسی تلخ حقیقت کے روبرو کھڑے ہیں جو دن بہ دن پتھرائی جا رہی ہے۔اپنی منگنی کی بہار کو کئی ماہ گذر جانے کے بعد اب ان کی تمنا کسی محل کی نہیں بلکہ صرف ایک ایسے چھوٹے سے گوشے کی ہے جہاں وہ اپنی شریکِ حیات کے سنگ زندگی کا سفر شروع کر سکیں، مگر پٹی کو اپنے خونی پنجوں میں جکڑنے والے رہائش کے شدید بحران نے اس معصوم سی خواہش کو بھی ایک سنگلاخ چوٹی بنا دیا ہے۔
البیوک نے دل گرفتہ ہو کر کہا کہاب مسئلہ ہمارے عزم یا وسائل کی کمی کا نہیں رہا، بلکہ یہاں تو سانس لینے کے سوا ہر چیز مفقود ہو چکی ہے؛ نہ تو تعمیراتی سامان کا کوئی نام و نشان ہے اور نہ ہی پناہ کا کوئی حقیقی متبادل بچا ہے۔ہزاروں ہنستے کھیلتے آشیانوں کی بربادی اور تعمیراتی مواد کی آمد پر لگی سنگدلانہ پابندیوں نے زمین کا سینہ تنگ کر دیا ہے، جس نے ریل اسٹیٹ مارکیٹ کا گلا گھونٹ کر کرایوں کو آسمان تک پہنچا دیا۔ایک شکستہ اور معمولی سے مکان کا ماہانہ کرایہ 1 ہزار سے 1 ہزار 500 شیکل کے درمیان بھڑک رہا ہے، جبکہ دوسری طرف بے بس خاندانوں کی آمدنی کا چراغ یا تو بالکل گل ہو چکا ہے یا آخری ہچکیاں لے رہا ہے۔اس المیے کی تپش صرف مکانوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ فرنیچر اور گھریلو سامان کے بازاروں کو بھی جھلسا چکی ہے، جہاں پرانے اور استعمال شدہ فرنیچر کی قیمتیں بھی غریب کے بس سے باہر ہو گئی ہیں۔البیوک نے بتایا کہ زندگی کے دن کاٹنے کے لیے ایک سیکنڈ ہینڈ بیڈ روم کی قیمت بھی 10 ہزار شیکل سے تجاوز کر گئی ہے، جو مجبور نوجوانوں کو اس پاکیزہ بندھن کی ضروریات کو مٹی کے بھا لانے یا اس ارمان کو ہمیشہ کے لیے دل کے نہاں خانے میں دفن کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔
موت کے سائے میں زندگی کا رقص
ان سنگین حالات سے سمجھوتہ کرنے کی دردناک کوشش میں، البیوک اپنے آبائی گھر کے ملبے اور چھت پر پلاسٹک کی پٹیوں اور ترپالوں کی مدد سے ایک عارضی خیمہ تاننے پر مجبور ہوئے؛ خام مال کے قحط کے باعث انہوں نے مجبورا بازار سے تیار سامان مہنگے داموں خریدا، جس میں ایلومینیم کا ایک عام سا سنک بھی شامل ہے جس کی قیمت مروت کے سارے بریکٹ توڑ کر 1 ہزار 200 شیکل تک جا پہنچی۔یہ ذہنی اور قلبی دبا صرف چھت اور سامان تک محدود نہیں، بلکہ اس نے شادی کے گیتوں اور جشن کے رنگوں کو بھی پھیکا کر دیا ہے۔شادی کی دہلیز پر کھڑے ایک اور نوجوان اشرف ابو عیسی کا کہنا ہے کہ وہ بھاری دل کے ساتھ اپنے ارمانوں کا گلا گھونٹنے اور سماجی تقریبات سے وابستہ خوبصورت روایات، بڑی ضیافتوں اور محفلوں کو ترک کرنے پر مجبور ہو گئے۔اس کے باوجود، دل کا اصرار تھا کہ اندھیروں کو کچھ لمحوں کے لیے دور کیا جائے، چنانچہ ابو عیسی نے ایک ہال میں تقریبا 2 ہزار شیکل کی لاگت سے ایک انتہائی سادگی سے بھرپور تقریب سجا لی، تاکہ ہر طرف پھیلی ظلمت اور بنیادی خدمات کی عدم دستیابی کے مہیب سائے میں سسکتی ہوئی خوشی کو ایک شام میسر آ سکے۔مگر اصل ستم تو اس مختصر سے جشن کے اختتام پر ٹوٹتا ہے، جب نئے جوڑے خود کو ایک بے رحم زندگی کے سامنے بالکل نہتا پاتے ہیں۔ وہ بہار کے خواب دیکھ کر رخصت ہوتے ہیں اور ان کا استقبال ان خیموں اور عارضی پناہ گاہوں میں ہوتا ہے جو انسانی وقار کی بنیادی ترین سہولیات سے بھی تہی دامن ہیں۔ یہ منظر شروعات کی عارضی خوشی اور روزمرہ زندگی کی ابدی تلخی کے مابین ایک دلدوز خلیج کو نمایاں کرتا ہے۔حالات کے اس جبر نے مہر اور سونا جیسی ناگزیر روایتوں کو بھی بدل کر رکھ دیا ہے۔ ابو عیسی نے بوجھل دل سے اشارہ کیا کہ کئی مقامات پر بیٹیوں کے مہر کی مالیت سمٹ کر محض 1 ہزار 500 دینار رہ گئی ہے، جبکہ آسمان کو چھوتی قیمتوں کے باعث سونے کی چمک بازاروں سے غائب ہو چکی ہے، جو اس معاشی کسمپرسی اور سماجی شکستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے جو جنگ نے مسلط کی ہے۔
روح کو گھائل کرتا معاشی جھٹکا
دوسری جانب معاشی ماہر خالد ابو عامر نے خبردار کیا ہے کہ غزہ اس وقت جس آگ سے گذر رہا ہے وہ روایتی رہائشی بحران سے کہیں آگے کی چیز ہے؛ یہ ایک ایسا کثیر الجہتی معاشی جھٹکا ہے جس نے معاشرے کے وجود اور مارکیٹ کے ڈھانچے کو ایک ساتھ ادھیڑ کر رکھ دیا ہے۔ابو عامر نے ایک پریس بیان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خام مال پر لگی ظالمانہ پابندیوں کے باعث تعمیراتی شعبے کے مفلوج ہونے سے رہائشی مکانات کا قحط پڑ گیا ہے، جبکہ دوسری طرف بے گھر ہونے والے لاکھوں انسانوں کی طلب کا دبا ہے۔ اس توازن کے بگڑنے سے مہنگائی کا ایک ایسا اژدہا نمودار ہوا ہے جس نے کرایوں اور زندگی کے عمومی اخراجات کو زندہ نگل لیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ شادی کے اخراجات کا یہ تضاد دراصل عوام کی قوتِ خرید کے جنازے اور آمدنی کے تمام راستے بند ہونے کا ماتم ہے، جو نوجوانوں کو ایسے کربناک راستے چننے پر مجبور کر رہا ہے جہاں یا تو عمر بھر کی تنہائی ہے یا پھر ایک ایسی غیر مستحکم معیشت کی دلدل جس کا کوئی کنارہ نہیں۔ابو عامر نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر یہ المیہ یونہی برقرار رہا تو اس کے دور رس اور ہولناک سماجی اثرات مرتب ہوں گے؛ شادیاں خواب بن جائیں گی، نوجوانوں کی عمریں ڈھلنے لگیں گی، سماجی و نفسیاتی امراض ڈیرے ڈال لیں گے اور خاندانی استحکام کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ انہوں نے پکارا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ معیشت کی رگوں میں خون دوڑانے، تعمیرِ نو کے بند دروازے کھولنے اور بلکتی آبادی کو جینے کا حق دینے کے لیے فوری اور ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔
نفسیاتی اکھاڑ پچھاڑ اور سماجی بگاڑ
اسی فکر کو آگے بڑھاتے ہوئے سماجیات کے ماہر ڈاکٹر عبداللہ الخطیب کا ماننا ہے کہ غزہ کی پٹی میں شادی کا یہ تعطل اب محض روپیہ پیسے کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ ایک سلگتا ہوا نفسیاتی اور سنگین سماجی ناسور بن چکا ہے جو فلسطینی معاشرے کی روح اور اس کے خاندانی تانے بانے کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ڈاکٹر الخطیب نے ہمارے نامہ نگار کو اپنی تڑپ کا احساس دلاتے ہوئے تصدیق کی کہ شادیوں کا یوں التوا کا شکار ہونا یا نئے جوڑوں کا کسمپرسی کے خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو جانا نوجوانوں کے دلوں سے امنگ، تحفظ اور استحکام کا احساس چھین لیتا ہے۔ ان کے اندر مایوسی، گھٹن اور بے چینی کا ایک ایسا لاوا پک رہا ہے جس کا مستقبل کی معیشت میں کوئی علاج نظر نہیں آتا۔انہوں نے درد بھرے لہجے میں کہا کہ اس وحشیانہ جنگ، بے گھری کے عذاب اور روزگار کے خاتمے نے خاندانوں کو اپنی ترجیحات کے دائرے بدلنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کا براہِ راست اثر شادی کی خوبصورت عادات، مہر کے تقدس، جشن کی رونقوں اور ایک نئے گھر کی آرائش پر پڑا ہے۔ڈاکٹر الخطیب نے جھرجھری لیتے ہوئے چونکایا کہ ان لرزہ خیز حالات کا طویل عرصے تک قائم رہنا معاشرے کی جڑوں کو ہلا دے گا، شادیاں ادھیڑ عمر کا مقدر بن جائیں گی اور پاکیزہ خاندانوں کی تشکیل کے مواقع دم توڑ دیں گے۔ اس تاریکی کو دور کرنے کے لیے فوری طور پر ایسے سماجی اور معاشی امدادی پروگراموں کی ضرورت ہے جو نوجوانوں کا ہاتھ تھام کر انہیں ان کٹھن چیلنجوں کے طوفان سے نکال سکیں۔اس مسلسل جاری جنگ کی ہولناکیوں اور تعمیرِ نو کی راہ میں حائل ستم گری کے سائے میں، غزہ کے افق پر شادی اب ایک ایسا معصوم خواب بن کر رہ گئی ہے جو بارود کی تلخ حقیقت سے ٹکرا کر چکنا چور ہو جاتا ہے۔ یہاں کا نوجوان صرف ایک نئی زندگی یا خاندان شروع کرنے کے امتحان سے نہیں گذر رہا، بلکہ وہ بقا کی ایک ایسی روزمرہ جنگ لڑ رہا ہے جہاں جینے کی کم از کم قیمت بھی بہت بھاری ہے، اور ان کی جائز تمناں اور جنگ کی مسلط کردہ بے رحم حقیقت کے وسائل کے درمیان کا فاصلہ مسلسل بڑھتا ہی جا رہا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے