कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جب ضمیر بھی بازار میں بکنے لگے

(معاشرتی زوال، بدعنوانی اور اقدار کی تجارت)

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

یہ کیسا عہد ہے کہ یہاں صرف اشیا نہیں، اصول بھی فروخت ہوتے ہیں، ضمیر بھی، عہدے بھی، فیصلے بھی اور کبھی کبھی انسان کی مجبوری بھی! بازار صرف وہ جگہ نہیں رہا جہاں ضرورت کی چیزیں خریدی اور بیچی جاتی ہیں۔ بازار کا تصور اب ہماری اجتماعی زندگی کے بہت سے شعبوں میں سرایت کرچکا ہے۔ سیاست ہو یا تعلیم، خوراک ہو یا صحت، تعمیرات ہوں یا سرکاری ادارے—ہر طرف ایک ایسا تجارتی مزاج دکھائی دیتا ہے جہاں قدر و قیمت کا معیار حق، اہلیت اور دیانت نہیں بلکہ مفاد، تعلق، طاقت اور قیمت بنتا جارہا ہے۔
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کچھ لوگ بدعنوان ہیں۔ اصل المیہ یہ ہے کہ بدعنوانی بعض جگہوں پر فرد کا جرم نہیں رہی بلکہ نظام کا معمول بنتی جارہی ہے۔ جب کسی معاشرے میں حلال و حرام، جائز و ناجائز، حق و باطل اور امانت و خیانت کے درمیان فرق کمزور پڑنے لگے تو پھر بازار صرف دکانوں میں نہیں رہتا؛ وہ اداروں، سیاست، تعلیم، صحت اور اجتماعی اخلاق تک پھیل جاتا ہے۔
سیاست کا بازار جہاں ضمیر کی بھی قیمت لگتی ہے۔ سیاست دراصل عوامی خدمت، اجتماعی قیادت اور قومی امانت کا میدان ہونا چاہیے۔ سیاست دان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے ذاتی مفاد کو پیچھے رکھ کر عوام کے حقوق کی حفاظت کرے گا، قانون کی بالادستی قائم کرے گا اور کمزور کی آواز بنے گا۔ لیکن جب سیاست اصول کی جگہ مفاد، خدمت کی جگہ اقتدار اور امانت کی جگہ تجارت بن جائے تو پھر سیاسی بازار میں سوال یہ نہیں رہتا کہ کون حق پر ہے؛ سوال یہ بن جاتا ہے کہ کس کی قیمت کیا ہے؟ انتخابی وفاداریاں تبدیل ہوتی ہیں، نظریات ضرورت کے مطابق بدلے جاتے ہیں، وعدے موسم کی طرح بدلتے ہیں اور بعض اوقات عوامی مینڈیٹ بھی ذاتی یا گروہی مفاد کے سودے میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
ایسے ماحول میں سیاست دان کا سب سے بڑا سرمایہ اس کا کردار نہیں بلکہ اس کی سودے بازی کی طاقت بن جاتی ہے۔ پھر ایک خطرناک ذہنیت جنم لیتی ہے: قیمت اچھی لگاؤ، ضمیر فروش قیادت حاصل کرو! یہ صرف سیاست دان کی خرابی نہیں؛ یہ پورے معاشرے کے اخلاقی بحران کی علامت ہے۔ کیونکہ جو معاشرہ اصول پسند انسان کو کمزور اور مفاد پرست کو کامیاب دیکھتا ہے، وہاں نئی نسل بھی یہی سیکھتی ہے کہ کردار سے زیادہ اہم قیمت ہے۔
خوراک کا بازار جہاں زندگی بھی منافع کا ذریعہ بن جائے؟ انسان اپنی زندگی کی بنیادی ضرورت کے لیے خوراک خریدتا ہے۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ جو چیز اس کی میز پر پہنچ رہی ہے وہ صحت اور زندگی کے لیے محفوظ ہوگی۔ لیکن جب منافع انسانی جان پر غالب آجائے تو پھر سڑی ہوئی، ناقص یا غیر معیاری اشیا بھی خوب صورت پیکنگ میں پیش کی جاسکتی ہیں۔ باہر سے رنگ، خوشبو اور خوب صورت لیبل؛ اندر سے ملاوٹ، ناقص معیار اور صحت کے لیے خطرہ! یہاں سوال صرف ملاوٹ کا نہیں، امانت کے خاتمے کا ہے۔
ایک چیز تیار کرنے والے سے لے کر اسے ذخیرہ کرنے والے، منتقل کرنے والے، فروخت کرنے والے اور نگرانی کرنے والے اداروں تک اگر ہر مرحلے پر کسی نہ کسی شکل میں بدعنوانی داخل ہوجائے تو صارف کے پاس بظاہر انتخاب تو ہوتا ہے، لیکن محفوظ انتخاب کا یقین نہیں رہتا۔ سب سے افسوس ناک صورت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ناقص غذا کسی انسان کی صحت بگاڑ دے، بیماری کا سبب بنے یا جان لے لے، اور اس پورے عمل کے پیچھے بھی کسی کا کمیشن، منافع یا مفاد موجود ہو۔ یہاں انسان کی جان ایک مقدّس امانت نہیں رہتی؛ وہ منافع کی ایک عددی اکائی بن جاتی ہے۔
تعلیم کا بازار جہاں مستقبل بھی نیلام ہونے لگے۔ تعلیم کسی قوم کا مستقبل تعمیر کرتی ہے۔ ایک اچھا تعلیمی نظام صرف ڈگریاں نہیں دیتا؛ وہ انسان پیدا کرتا ہے، کردار بناتا ہے، تحقیق کا ذوق پیدا کرتا ہے اور معاشرے کو اہل، دیانت دار اور ذمّہ دار افراد فراہم کرتا ہے۔ لیکن اگر تعلیم بھی خرید و فروخت کا بازار بن جائے تو سب سے بڑا نقصان صرف چند طلبہ کا نہیں ہوتا؛ پوری نسل کا مستقبل متاثر ہوتا ہے۔ بڑے امتحانات کے پرچوں کا لیک ہونا، نقل کے منظم ذرائع، داخلوں میں بے ضابطگیاں، جعلی اسناد، تعلیمی اداروں کے نام پر مالی بے قاعدگیاں اور بعض جگہ تقرریوں کے لیے رشوت یا سفارش کا چلن—یہ سب مل کر میرٹ کے تصور کو زخمی کرتے ہیں۔
سوچیے!
ایک طالب علم برسوں محنت کرتا ہے، راتیں جاگتا ہے، اپنے والدین کی امیدوں کا بوجھ اٹھاتا ہے اور پھر اسے معلوم ہوتا ہے کہ امتحان بھی ایک ایسے بازار کا حصّہ بن چکا ہے جہاں سوال نامہ پہلے ہی کسی قیمت پر دستیاب ہے۔ اس سے صرف ایک امتحان کی شفافیت متاثر نہیں ہوتی؛ محنت پر سے اعتماد اٹھتا ہے۔ اور جب اساتذہ کی تقرری میں اہلیت سے زیادہ سفارش، رشوت یا تعلق کام کرے تو کلاس روم میں کھڑا ہونے والا شخص صرف ایک استاد نہیں رہتا؛ وہ آنے والی نسل کے فکری معیار کا ذمّہ دار بن جاتا ہے۔ اسی طرح اسکولوں اور تعلیمی اداروں کے لیے مختص فنڈز اگر تعمیر، کتاب، لیبارٹری، فرنیچر یا طلبہ کی سہولت کے بجائے کاغذی منصوبوں اور مالی گھپلوں کی نذر ہو جائیں تو سب سے زیادہ نقصان ان بچّوں کا ہوتا ہے جو پہلے ہی محرومی کا شکار ہیں۔ تعلیم میں کرپشن دراصل مستقبل میں کرپشن کی سرمایہ کاری ہے۔
صحت کا بازار جہاں مریض بھی ایک "کیس” بن جاتا ہے۔ صحت کا شعبہ انسان کی زندگی کے سب سے نازک مرحلے سے متعلق ہے۔ بیمار انسان ڈاکٹر کے پاس صرف علاج لینے نہیں آتا؛ وہ اپنی زندگی، اپنی امید اور اپنے خاندان کی جمع پونجی لے کر آتا ہے۔ اس لیے صحت کے شعبے میں امانت کی ذمّہ داری سب سے زیادہ ہونی چاہیے۔ لیکن جب صحت بھی مکمل طور پر تجارتی ذہنیت کے تابع ہو جائے تو مریض انسان سے کیس، کیس سے بل اور بل سے آمدنی کا ذریعہ بننے لگتا ہے۔
غیر ضروری ٹیسٹ، غیر ضروری ادویات، غیر ضروری طریقۂ علاج، بعض جگہوں پر کمیشن کے مفادات، مریضوں کے نام پر مالی بے ضابطگیاں اور صحت کی سہولتوں کے نام پر وسائل کا غلط استعمال—یہ سب اس وقت انتہائی خطرناک ہوجاتا ہے جب نظامِ نگرانی کمزور ہو۔ اس شعبے میں معمولی سی بددیانتی بھی کسی انسان کی زندگی کو متاثر کرسکتی ہے۔ یہاں سوال یہ ہونا چاہیے: کیا بیمار انسان ہمارے لیے صرف ایک صارف ہے یا ایک امانت؟ اگر جواب صرف "صارف” ہے تو پھر مسئلہ کسی ایک اسپتال، ڈاکٹر یا ادارے کا نہیں؛ مسئلہ پورے معاشرے کی اخلاقی ترجیحات کا ہے۔
تعمیرات اور ترقی کا بازار جہاں سڑک سے پل تک کمیشن طے ہوتے ہیں؟ ترقیاتی منصوبے کسی ملک کی تعمیر کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ سڑکیں، پل، اسکول، اسپتال، پانی کے منصوبے، رہائشی اسکیمیں اور عوامی سہولتیں—یہ سب عوام کے ٹیکس اور قومی وسائل سے بنتے ہیں۔ لیکن اگر ہر منصوبے کو کمیشن کے زاویے سے دیکھا جائے تو پھر سوال یہ نہیں رہتا کہ کام کتنا مضبوط ہے؟
سوال یہ بن جاتا ہے: کمیشن کتنا ہے؟ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کاغذ پر منصوبہ مکمل، افتتاح بھی شاندار، تصویریں بھی خوب صورت؛ مگر چند برس بعد سڑک ٹوٹ جاتی ہے، پل کمزور ہو جاتا ہے، عمارت میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں اور عوام دوبارہ اسی منصوبے کی مرمت کے لیے قومی خزانہ خرچ کرتے ہیں۔ یعنی ایک ہی کام پر پہلے تعمیر کا خرچ، پھر کرپشن کی قیمت، اور آخر میں دوبارہ تعمیر کا خرچ—اور اس پورے بوجھ کو بالآخر عوام برداشت کرتے ہیں۔
سرکاری ادارے جہاں فائل بھی قیمت مانگتی ہے؟ جب بدعنوانی ادارہ جاتی ثقافت بننے لگے تو عام شہری کے لیے جائز کام بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ فائل آگے بڑھانے کے لیے سفارش چاہیے، کام جلدی کرانے کے لیے واسطہ چاہیے، حق لینے کے لیے کسی بااثر شخص کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ یہ کیفیت ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کو کمزور کرتی ہے۔ ریاستی ادارہ دراصل شہری کی خدمت کے لیے ہوتا ہے۔ اگر شہری اپنے جائز حق کے لیے بھی رشوت، سفارش یا تعلق کا محتاج ہوجائے تو یہ صرف انتظامی کمزوری نہیں؛ ریاستی اخلاقیات کا بحران ہے۔
یہاں اصل مسئلہ پیسہ نہیں، اخلاق ہے۔ ہم اکثر بدعنوانی کو صرف مالی مسئلہ سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ اس کی جڑ زیادہ گہری ہے۔ کرپشن کی اصل بنیاد اخلاقی زوال ہے۔ جب انسان کے اندر یہ احساس کمزور ہوجائے کہ اسے اپنے ہر عمل کا جواب دینا ہے، جب امانت کا تصور صرف مذہبی کتابوں تک محدود رہ جائے، جب قانون سے بچ جانا کامیابی سمجھا جائے اور جب معاشرہ بدعنوان شخص کو برا کہنے کے بجائے اس کی "کامیابی” کی داستانیں سنانے لگے، تو پھر کرپشن صرف رشوت نہیں رہتی۔ وہ ایک ثقافتی رویہ بن جاتی ہے۔ پھر ہر شخص اپنے حصّے کا جواز تلاش کرلیتا ہے: "سب کرتے ہیں”۔ "میرے اکیلے نہ کرنے سے کیا فرق پڑے گا؟”۔ "موقع ملا ہے تو فائدہ اٹھانا چاہیے”۔ "اوپر تک سب کا حصّہ جاتا ہے”۔ یہ جملے دراصل کسی معاشرے کے اخلاقی زوال کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔
بازار کا سب سے خطرناک مرحلہ وہ ہوتا ہے جب انسان خود بکنے لگے۔ اشیا کی خرید و فروخت اپنی جگہ ایک معاشی ضرورت ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بازار کی منطق انسانی اقدار پر غالب آجائے۔ جب منصب بکنے لگے تو اہلیت مرتی ہے۔ جب ووٹ بکنے لگے تو عوامی نظام کمزور ہو جاتا ہے۔ جب انصاف بکنے لگے تو قانون بے معنی ہو جاتا ہے۔ جب تعلیم بکنے لگے تو مستقبل تباہ ہوتا ہے۔ جب صحت بکنے لگے تو انسان کی زندگی منافع کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اور جب ضمیر بکنے لگے تو پھر معاشرے میں کچھ بھی غیر فروخت شدہ نہیں رہتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں رک کر سوچنا ہوگا: ہم نے بازار کو اپنی ضرورت کے لیے بنایا تھا یا خود بازار کے اصولوں کے غلام بن گئے ہیں؟
اصلاح کہاں سے شروع ہوگی؟
اس سوال کا جواب صرف قانون سازی میں نہیں۔ قانون ضروری ہے، مگر قانون اس وقت مؤثر ہوتا ہے جب اس کے پیچھے اخلاقی شعور، شفاف ادارے اور مضبوط احتساب موجود ہوں۔ اصلاح کے لیے کم از کم پانچ محاذوں پر بیک وقت کام ضروری ہے:
اول: فرد کی اصلاح:
دیانت داری کو صرف تقریر کا موضوع نہیں بلکہ عملی زندگی کا اصول بنانا ہوگا۔
دوم: اداروں کی شفافیت:
ہر ادارے میں فیصلوں، مالی معاملات، تقرریوں اور وسائل کے استعمال کا قابلِ اعتماد نظامِ نگرانی ضروری ہے۔
سوم: میرٹ کی بالادستی:
تقرری، داخلہ، امتحان اور ترقی میں سفارش، رشوت اور تعلق کے بجائے اہلیت بنیادی معیار بنے۔
چہارم: مؤثر احتساب:
ایسا احتساب جو کمزور کے لیے الگ اور طاقتور کے لیے الگ نہ ہو۔ قانون کی نظر میں شخصیت نہیں، عمل دیکھا جائے۔
پنجم: اجتماعی اخلاق کی تشکیل:
سب سے اہم کام یہ ہے کہ معاشرہ بدعنوانی کو "چالاکی” کہنا چھوڑ دے اور دیانت دار انسان کو "سادہ لوح” سمجھنا بند کرے۔
کیونکہ جب تک سماجی عزّت کے پیمانے تبدیل نہیں ہوں گے، قانونی سزائیں بھی بدعنوانی کی جڑیں مکمل طور پر نہیں کاٹ سکتیں۔
ہمیں ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کرنی ہے جہاں ہر چیز کی قیمت نہ ہو۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ترقی کو صرف بلند عمارتوں، کشادہ سڑکوں اور بڑے بجٹوں سے نہ ناپیں۔ اصل ترقی یہ ہے کہ کھانا خالص ہو، تعلیم شفاف ہو، علاج امانت ہو، سیاست خدمت ہو، سرکاری منصب ذمّہ داری ہو، عدالت انصاف ہو، کاروبار دیانت ہو،اور انسان کی عزّت ناقابلِ فروخت ہو۔
معاشرہ اس وقت مہذب نہیں ہوتا جب اس کے بازار بڑے ہو جائیں؛ معاشرہ اس وقت مہذب ہوتا ہے جب اس کے ضمیر زندہ ہوں۔ ہمیں ایسے بازار نہیں چاہییں جہاں ہر چیز فروخت ہوتی ہو؛ ہمیں ایسا معاشرہ چاہیے جہاں کچھ چیزیں ایسی ہوں جن کی قیمت مقرر ہی نہ کی جاسکے: ضمیر، انصاف، امانت، انسانی جان، انسانی عزّت، اور حق۔ کیونکہ جس دن ضمیر کی قیمت لگ گئی، اس دن انسان کی آزادی ختم ہو جاتی ہے۔ اور جس دن انصاف خریدنے اور بیچنے کی چیز بن گیا، اس دن ریاست صرف عمارتوں، قوانین اور اداروں کا مجموعہ رہ جاتی ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ہمارے بازار میں کیا کیا فروخت ہورہا ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہمارے اندر ابھی کیا کچھ ایسا باقی ہے جسے ہم کسی قیمت پر فروخت کرنے کے لیے تیار نہیں؟ اگر اس سوال کا جواب ہمارے پاس موجود ہے تو اصلاح کی امید ابھی زندہ ہے۔ اور اگر اس سوال پر بھی خاموشی چھا جائے تو پھر واقعی خطرہ صرف بازار کا نہیں— انسان کے اندر بسنے والے انسان کا ہے۔
🗓 (August 2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے