कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

محراب کا مسافر

از قلم : عارف محمد خان، جلگاؤں

فجر کی اذان کی پہلی صدا ابھی فضا میں تحلیل ہی ہوئی تھی کہ مسجد کے صحن میں ٹھنڈی ہوا کے ساتھ ایک مانوس آواز گونجی۔ برسوں سے یہی آواز اس محلے کی صبح جگاتی تھی۔ لوگ اسے امام صاحب کہتے تھے، مگر اس کا اپنا نام شاید بہت کم لوگوں کو یاد تھا۔
وہ ہر بچے کے کان میں قرآن کی پہلی آیت اتارتا، ہر نوجوان کے نکاح کا گواہ بنتا، ہر میت کے جنازے میں دعا کرتا اور ہر غم زدہ گھر کی دہلیز پر سب سے پہلے پہنچتا۔ اس کی زندگی دوسروں کے لیے وقف تھی، مگر اس کی اپنی زندگی کا کوئی حال پوچھنے والا نہ تھا۔
ایک دن اس کی بوڑھی ماں شدید بیمار پڑ گئی۔
ڈاکٹر نے چند ٹیسٹ لکھ دیے۔ پرچی ہاتھ میں لیے وہ کافی دیر اسپتال کے برآمدے میں کھڑا رہا۔ جیب میں چند سکے تھے اور آنکھوں میں بے بسی۔
اگلے دن وہ مسجد کمیٹی کے صدر کے سامنے بیٹھا تھا۔
"اگر ممکن ہو تو دو ماہ کی تنخواہ ایڈوانس مل جائے… والدہ کا علاج کرانا ہے۔”
صدر نے رجسٹر بند کرتے ہوئے خشک لہجے میں کہا، "مولوی صاحب! مسجد کوئی بینک نہیں ہے۔”
اتنا کہہ کر وہ دوسرے کاغذات میں مصروف ہو گیا۔
امام صاحب خاموشی سے اٹھے، سلام کیا اور باہر نکل آئے۔ انہیں محسوس ہوا جیسے ان کے قدموں کی آواز بھی مسجد کی دیواروں نے سننے سے انکار کر دیا ہو۔
چند ہی دن بعد اعلان ہوا کہ مسجد میں نیا ایرانی قالین بچھایا جائے گا۔
چندہ آیا، مبارک بادیں ملیں، تصویریں بنیں، تعریفوں کے پل باندھے گئے۔
امام صاحب نئے قالین پر سجدہ کرتے ہوئے سوچتے رہے کہ شاید اس مسجد میں قالین کے دھاگے انسان کے دل سے زیادہ قیمتی ہیں۔
قرض لے کر ماں کا علاج تو ہو گیا، مگر قرض کی زنجیر ان کے قدموں سے لپٹ گئی۔
عید قریب آئی تو ان کا چھوٹا بیٹا کئی دنوں سے نئے کپڑوں کی ضد کر رہا تھا۔
وہ بازار گئے، ایک معمولی سا جوڑا خریدا اور واپسی پر ایک جاننے والے نے دیکھ لیا۔
اگلے دن مسجد کے دروازے پر کسی نے ہنستے ہوئے کہا، "واہ مولوی صاحب! آج کل تو بڑی خریداری ہو رہی ہے!”
وہ بھی مسکرا دیے۔
کچھ سچ ایسے ہوتے ہیں جنہیں آنسو بھی بیان نہیں کر سکتے۔
وقت گزرتا رہا۔
پھر ایک شام مسجد کمیٹی کا اجلاس ہوا۔
فیصلہ ہوا کہ اب نیا امام رکھا جائے۔
کوئی الزام نہ تھا، کوئی شکایت نہ تھی، بس کچھ لوگوں کی پسند بدل گئی تھی۔
انہیں اطلاع ملی کہ ایک ہفتے کے اندر کمرہ خالی کر دیں۔
اس رات وہ دیر تک جاگتے رہے۔
دیوار پر لگی گھڑی کی ٹک ٹک انہیں برسوں کی اذانوں کی بازگشت لگ رہی تھی۔
انہیں یاد آیا کہ اسی حجرے میں ان کا پہلا بچہ پیدا ہوا تھا، اسی کمرے میں ماں نے آخری سانس لی تھی، اسی مسجد میں ان کے بال سیاہ سے سفید ہوئے تھے۔
اب وہی مسجد ان کے لیے تنگ ہو چکی تھی۔
فجر کا وقت آیا۔
انہوں نے اذان دی، مگر آج آواز میں عجیب سی کپکپاہٹ تھی۔
نماز پڑھاتے ہوئے جب سورۂ فاتحہ کی آیت "إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ” زبان پر آئی تو ان کی آواز بھرّا گئی۔
نماز ختم ہوئی۔
لوگ معمول کے مطابق مصافحہ کرتے ہوئے اپنے گھروں، دکانوں اور دفتر وں کی طرف روانہ ہو گئے۔
صحن چند لمحوں میں خالی ہو گیا۔
امام صاحب محراب کے پاس اکیلے بیٹھے رہے۔
سورج کی پہلی کرن مسجد کے نئے قالین پر پڑ رہی تھی، مگر ان کے چہرے پر اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔
انہوں نے آہستہ سے محراب کی دیوار پر ہاتھ رکھا اور جیسے خود سے کہا،
"شاید مسجد کا سب سے قریب رہنے والا آدمی ہی اس کا سب سے اجنبی ہوتا ہے۔”
دیوار خاموش رہی۔
اور اس خاموشی میں ایک پوری زندگی کی اذان دفن ہو گئی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے