कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مجاہدِ آزادی کی سماجی و ادبی خدمات

از قلم: ڈاکٹر اسما بنت رحمت اللہ

"قوموں کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو صرف اپنے عہد کی ضرورت پوری نہیں کرتیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے فکر، عمل اور کردار کی ایسی روشن مثالیں قائم کر جاتی ہیں جن کی روشنی صدیوں تک انسانیت کے سفر کو منور کرتی رہتی ہے۔ مجاہدینِ آزادی بھی انہی عظیم انسانوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی جان، مال، عزت، علم، قلم اور کردار کو وطن کی آزادی، انسان کی عزت اور معاشرے کی اصلاح کے لیے وقف کر دیا۔ ان کی جدوجہد صرف سیاسی آزادی تک محدود نہ تھی بلکہ اس کا مقصد ایک ایسے معاشرے کی تشکیل تھا جہاں علم، انصاف، مساوات، اخوت، رواداری، خودداری اور انسانی وقار کی حکمرانی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی سماجی اور ادبی خدمات آزادی کی تحریک کا ایسا روشن باب ہیں جس کی اہمیت وقت گزرنے کے ساتھ مزید نمایاں ہوتی جا رہی ہے۔”
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا:
﴿إِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ﴾
"بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے۔” (سورۃ الرعد: 11)
یہ آیت دراصل انسانی تاریخ کے ہر انقلابی دور کا خلاصہ ہے۔ دنیا کی کوئی بھی قوم اس وقت تک غلامی کی زنجیروں سے آزاد نہیں ہو سکتی جب تک اس کے اندر خود اعتمادی، اتحاد، قربانی، علم اور کردار کی قوت پیدا نہ ہو۔ یہی وہ اوصاف تھے جنہوں نے مجاہدینِ آزادی کو عام انسانوں سے ممتاز کیا اور انہیں تاریخ کا لازوال کردار بنا دیا۔
تاریخِ عالم اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی ظلم نے اپنے قدم جمائے، جب بھی استبداد نے انسانی آزادی کو سلب کرنے کی کوشش کی، جب بھی قوموں کی شناخت، زبان، تہذیب، مذہب اور ثقافت کو مٹانے کی سازشیں ہوئیں، اس وقت کچھ ایسے مردانِ حق پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے خون سے حریت کی شمع روشن کی۔ ان کے ہاتھوں میں کبھی تلوار تھی، کبھی قلم، کبھی کتاب، کبھی اخبار اور کبھی اصلاحِ معاشرہ کا پرچم۔ یہی لوگ قوموں کے اصل محسن اور تاریخ کے حقیقی معمار ہوتے ہیں۔
برصغیر کی تحریکِ آزادی بھی ایسی ہی بے مثال قربانیوں سے عبارت ہے۔ اس تحریک نے صرف سیاسی تاریخ ہی نہیں بلکہ سماجی، تعلیمی، مذہبی، ادبی اور ثقافتی تاریخ کو بھی ایک نئی جہت عطا کی۔ اگر ایک طرف میدانِ جنگ میں بے شمار مجاہدین نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تو دوسری طرف اہلِ قلم، شعرا، صحافی، مصلحین اور اساتذہ نے قوم کے ذہنوں کو بیدار کیا۔ انہوں نے عوام کو یہ احساس دلایا کہ غلامی صرف جسموں کی نہیں بلکہ ذہنوں کی بھی ہوتی ہے، اور جس قوم کے افکار غلام ہو جائیں، وہ آزادی حاصل کر کے بھی آزاد نہیں رہ سکتی۔
علامہ محمد اقبال نے اسی حقیقت کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا ہے:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے۔
یہ شعر محض انفرادی خودی کا درس نہیں بلکہ قومی خود اعتمادی، فکری آزادی اور اجتماعی بیداری کا ابدی منشور ہے۔ اقبال کے نزدیک وہی قوم زندہ رہ سکتی ہے جو اپنی شناخت، اپنی تہذیب، اپنی زبان اور اپنی روحانی اقدار کو زندہ رکھے۔ یہی فکر تحریکِ آزادی کے مجاہدین کی عملی زندگی میں نمایاں نظر آتی ہے۔
مجاہدینِ آزادی کی جدوجہد کا ایک نمایاں پہلو سماجی اصلاح تھا۔ وہ بخوبی جانتے تھے کہ غلامی صرف سیاسی طاقت سے قائم نہیں رہتی بلکہ جہالت، غربت، نااتفاقی، مذہبی تعصب، ذات پات، طبقاتی تقسیم اور اخلاقی انحطاط بھی غلامی کو مضبوط بناتے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے اپنی تحریک کو صرف انگریز حکومت کے خلاف محدود نہیں رکھا بلکہ معاشرے کے اندر موجود کمزوریوں کو بھی دور کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے تعلیم کو عام کیا، مطالعے کی روایت کو فروغ دیا، عوام میں اتحاد پیدا کیا، خواتین کی تعلیم کی حمایت کی، نوجوانوں میں خود اعتمادی پیدا کی اور خدمتِ خلق کو قومی فریضہ قرار دیا۔
رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:
"خَيْرُ النَّاسِ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ.”
"لوگوں میں بہترین وہ ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ نفع پہنچائے۔”
یہی حدیث مجاہدینِ آزادی کی عملی زندگی کی روح تھی۔ ان کی نگاہ میں وطن سے محبت کا مطلب صرف نعرے لگانا نہیں بلکہ عوام کی خدمت کرنا، محروم طبقات کو سہارا دینا، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اور معاشرے میں عدل و مساوات قائم کرنا تھا۔
تاریخ اس حقیقت پر بھی گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنے اہلِ علم اور اہلِ قلم کی قدر کی، وہی ترقی کی منازل طے کر سکیں۔ برصغیر کی تحریکِ آزادی میں اردو ادب نے ایسا کردار ادا کیا جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ شاعری، صحافت، افسانہ، مضمون، خطابت اور تحقیق سب نے مل کر قومی شعور کو بیدار کیا۔ شاعر نے اپنے اشعار سے حوصلہ پیدا کیا، ادیب نے اپنی تحریروں سے غلامی کی قباحت واضح کی، صحافی نے حق گوئی کا علم بلند کیا اور استاد نے نئی نسل کے ذہنوں میں آزادی کی شمع روشن کی۔
الطاف حسین حالی نے فرمایا:
اے خاصۂ خاصانِ رسل! وقتِ دعا ہے
اُمت پہ تری آ کے عجب وقت پڑا ہے۔
یہ اشعار ایک ایسے دور کی ترجمانی کرتے ہیں جب قوم زوال، غلامی اور مایوسی کا شکار تھی، لیکن اہلِ قلم نے امید کا چراغ بجھنے نہیں دیا۔ یہی امید آگے چل کر آزادی کی تحریک کا سرمایہ بنی۔
قلم کی طاقت ہمیشہ تلوار سے زیادہ دیرپا ثابت ہوئی ہے۔ تلوار ایک جنگ جیت سکتی ہے لیکن قلم نسلوں کی فکر بدل دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ استعماری قوتیں ہمیشہ اہلِ قلم سے خوفزدہ رہیں۔ انہوں نے کتابیں ضبط کیں، اخبارات بند کیے، صحافیوں کو قید کیا، شاعروں کو نگرانی میں رکھا، لیکن آزادی کی آواز کو خاموش نہ کر سکیں، کیونکہ سچائی کی طاقت کسی جبر سے مغلوب نہیں ہوتی۔.دنیا کی تاریخ کا مطالعہ اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ ہر دور میں ایسی شخصیات پیدا ہوتی رہی ہیں جنہوں نے اپنے ذاتی مفادات کو قوم کے اجتماعی مفاد پر قربان کر دیا۔ یہی وہ افراد ہوتے ہیں جنہیں تاریخ "مجاہدِ آزادی” کے نام سے یاد رکھتی ہے۔ ان کی عظمت صرف اس بات میں نہیں کہ انہوں نے دشمن کے سامنے سینہ سپر ہو کر جنگ لڑی بلکہ ان کی اصل عظمت اس امر میں ہے کہ انہوں نے غلام قوم کے اندر عزتِ نفس، خود اعتمادی، اجتماعی شعور، اخلاقی جرات اور فکری آزادی پیدا کی۔ انہوں نے یہ حقیقت واضح کی کہ آزادی صرف سرحدوں کا نام نہیں بلکہ انسان کے ضمیر، اس کی فکر، اس کی تہذیب، اس کی زبان، اس کی ثقافت اور اس کی شناخت کی حفاظت کا نام بھی ہے۔
جب برصغیر میں استعماری اقتدار مضبوط ہوتا گیا تو اس کے اثرات صرف سیاسی میدان تک محدود نہ رہے بلکہ معاشرت، معیشت، تعلیم، تہذیب، مذہبی اقدار اور قومی وحدت بھی متاثر ہونے لگی۔ عوام میں احساسِ کمتری پیدا کیا گیا، مقامی زبانوں کو کمتر ثابت کرنے کی کوشش کی گئی، تاریخی شعور کو کمزور کیا گیا اور نوجوان نسل کو اپنی تہذیبی جڑوں سے دور کرنے کی تدبیریں اختیار کی گئیں۔ ایسے نازک حالات میں مجاہدینِ آزادی نے صرف احتجاج ہی نہیں کیا بلکہ ایک مثبت سماجی تحریک برپا کی۔ انہوں نے لوگوں کو اپنی تاریخ پڑھنے، اپنی زبان سے محبت کرنے، اپنی تہذیب پر فخر کرنے اور علم و کردار کو اپنی قوت بنانے کی تلقین کی۔
علامہ محمد اقبال نے اسی احساس کو نہایت بلیغ انداز میں بیان کیا:
اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
سرِ آدم ہے ضمیرِ کن فکاں ہے زندگی
یہ شعر غلام ذہنیت کے خاتمے اور خود اعتمادی کی تعمیر کا پیغام دیتا ہے۔ مجاہدینِ آزادی بھی یہی چاہتے تھے کہ قوم دوسروں کی محتاج نہ رہے بلکہ اپنے علم، اپنی محنت اور اپنی صلاحیت سے اپنی تقدیر خود لکھے۔
تحریکِ آزادی کی کامیابی میں سماجی خدمت کا کردار غیر معمولی تھا۔ مجاہدین نے محسوس کیا کہ ایک بھوکا، جاہل، بیمار اور منتشر معاشرہ آزادی کی حفاظت نہیں کر سکتا۔ اس لیے انہوں نے تعلیم، صحت، صفائی، غربت کے خاتمے، خواتین کی فلاح، دیہی ترقی، یتیموں کی کفالت اور سماجی مساوات جیسے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے مختلف علاقوں میں قومی مدارس، لائبریریاں، مطالعہ گاہیں اور ادبی انجمنیں قائم کیں تاکہ عوام کے اندر شعور پیدا ہو۔ ان کی نظر میں ہر پڑھا لکھا فرد آزادی کی تحریک کا ایک سپاہی تھا۔
قرآن کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى﴾
"نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔” (المائدہ: 2)
یہ آیت اجتماعی تعاون کی ایسی تعلیم دیتی ہے جو ہر قومی تحریک کی بنیاد ہے۔ مجاہدینِ آزادی نے اسی جذبے کو عملی زندگی میں اختیار کیا اور ہر طبقے کے افراد کو ایک دوسرے کا دست و بازو بننے کی دعوت دی۔
تحریکِ آزادی کا ایک نہایت اہم پہلو اردو زبان و ادب کا کردار ہے۔ ادب ہمیشہ سے معاشرے کا آئینہ بھی رہا ہے اور اس کی تعمیر کا ذریعہ بھی۔ جب ظلم بڑھتا ہے تو سب سے پہلے حساس دل رکھنے والا شاعر تڑپتا ہے، ادیب کا قلم حرکت میں آتا ہے، صحافی کی آواز بلند ہوتی ہے اور دانشور اپنی فکر کے ذریعے معاشرے کو بیدار کرتا ہے۔ برصغیر کی آزادی کی تحریک میں اردو ادب نے یہی تاریخی کردار ادا کیا۔
اردو شاعری نے حب الوطنی کو صرف ایک جذباتی کیفیت نہیں رہنے دیا بلکہ اسے ایک فکری اور اخلاقی ذمہ داری میں تبدیل کر دیا۔ قومی نظمیں جلسوں میں پڑھی جاتیں، انقلابی اشعار نوجوانوں کے لبوں پر ہوتے، مضامین عوام کے دلوں میں امید پیدا کرتے اور اخبارات آزادی کی آواز کو دور دراز علاقوں تک پہنچاتے تھے۔
حسرت موہانی کا شہرۂ آفاق شعر آج بھی آزادی کی جدوجہد کی علامت ہے:
سر فروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
یہ شعر صرف ایک انقلابی نعرہ نہیں بلکہ ظلم کے خلاف عزم، قربانی اور استقلال کی علامت بن گیا۔ اسی طرح رام پرساد بسمل کی شاعری نے نوجوانوں میں ایسا ولولہ پیدا کیا جس نے انہیں وطن پر جان نچھاور کرنے کے لیے آمادہ کیا۔
جوش ملیح آبادی نے آزادی کی روح کو یوں بیان کیا:
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول زباں اب تک تیری ہے
اگرچہ یہ مصرع فیض احمد فیض کی نظم سے معروف ہے، مگر آزادیِ اظہار اور حق گوئی کی یہی روایت تحریکِ آزادی کے ادبی مزاج کی نمائندہ تھی۔ اہلِ قلم نے ثابت کیا کہ جب زبان سچ بولنے لگتی ہے تو ظلم کے ایوان لرزنے لگتے ہیں۔
اردو صحافت نے بھی اس میدان میں بے مثال خدمات انجام دیں۔ اخبارات نے قومی بیداری کو فروغ دیا، سیاسی شعور پیدا کیا، عوام کو عالمی حالات سے آگاہ کیا اور آزادی کی تحریک کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی وجہ سے متعدد اخبارات پر پابندیاں لگائی گئیں، مدیران کو قید کیا گیا اور مطابع بند کیے گئے، لیکن حق کی آواز کو دبایا نہ جا سکا۔
مجاہدینِ آزادی کی سماجی خدمات کا ایک اہم پہلو مذہبی ہم آہنگی اور قومی اتحاد تھا۔ انہوں نے یہ واضح کیا کہ وطن کسی ایک مذہب، زبان یا علاقے کا نہیں بلکہ تمام باشندوں کا مشترکہ سرمایہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تحریکِ آزادی میں مختلف مذاہب، مختلف زبانوں اور مختلف علاقوں کے لوگوں نے مل کر قربانیاں دیں۔ یہ اتحاد ہی دراصل آزادی کی سب سے بڑی طاقت ثابت ہوا۔
بہادر شاہ ظفر کی یہ درد انگیز صدا آج بھی دلوں کو جھنجھوڑ دیتی ہے:
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائیدار میں
اور پھر ان کا وہ مشہور شعر:
کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
یہ اشعار ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ وطن کی محبت انسان کے وجود کا حصہ ہوتی ہے اور آزادی کی قیمت وہی جان سکتا ہے جس نے غلامی یا جلاوطنی کا دکھ برداشت کیا ہو۔
مجاہدینِ آزادی کی جدوجہد کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ قومیں صرف جنگوں سے نہیں بلکہ تعلیم، تحقیق، اخلاق، اتحاد، محنت اور علم سے ترقی کرتی ہیں۔ اگر آزادی کے بعد قومیں اپنے علمی، اخلاقی اور سماجی فرائض کو فراموش کر دیں تو آزادی کی روح کمزور پڑ جاتی ہے۔ اس لیے آج بھی ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم وطن کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں، نئی نسل کو اپنی تاریخ سے روشناس کرائیں، انہیں مطالعے کا شوق دیں، اپنی زبان و ادب سے محبت سکھائیں اور قومی یکجہتی کو مضبوط بنائیں۔
اقبال کے یہ اشعار آج بھی ہماری رہنمائی کرتے ہیں:
یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
یہی وہ اوصاف ہیں جنہوں نے مجاہدینِ آزادی کو عظمت بخشی اور یہی اوصاف آج بھی کسی قوم کی ترقی، عزت اور بقا کی ضمانت ہیں۔جب کسی قوم کی آزادی سلب کر لی جاتی ہے تو صرف اس کی حکومت ہی اس کے ہاتھ سے نہیں جاتی بلکہ اس کا وقار، اس کی تہذیب، اس کی زبان، اس کا علمی سرمایہ اور اس کی اجتماعی خود اعتمادی بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔ استعماری طاقتیں ہمیشہ یہی کوشش کرتی ہیں کہ محکوم قوم اپنی تاریخ کو بھول جائے، اپنی زبان سے دور ہو جائے، اپنی تہذیب کو حقیر سمجھے اور اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو فراموش کر دے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ہر تحریکِ آزادی میں سیاسی مزاحمت کے ساتھ ساتھ فکری، تعلیمی، سماجی اور ادبی جدوجہد بھی برابر جاری رہی۔ برصغیر کی تحریکِ آزادی اس حقیقت کی روشن مثال ہے، جہاں مجاہدینِ آزادی نے بندوق اور تلوار کے ساتھ ساتھ قلم، کتاب، اخبار، درس گاہ، خطابت اور شاعری کو بھی آزادی کا مؤثر ترین ذریعہ بنایا۔
یہ حقیقت ناقابلِ تردید ہے کہ کسی بھی معاشرے کی تعمیر صرف قوانین سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے افراد کے اخلاق، تعلیم، شعور اور کردار سے ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجاہدینِ آزادی نے آزادی کی جدوجہد کو محض اقتدار کے حصول کی تحریک نہیں بنایا بلکہ اسے انسان سازی کی تحریک میں تبدیل کر دیا۔ ان کی نگاہ میں حقیقی آزادی وہ تھی جس میں ہر انسان کو تعلیم حاصل کرنے کا حق، اپنی رائے کے اظہار کی آزادی، مذہبی رواداری، معاشرتی مساوات اور انسانی وقار میسر ہو۔ وہ چاہتے تھے کہ آنے والی نسلیں خوف، غلامی اور احساسِ کمتری سے آزاد ہو کر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں اور ایک ایسے ہندوستان کی تعمیر کریں جہاں انصاف، علم اور اخوت کو بنیادی حیثیت حاصل ہو۔
مولانا ابوالکلام آزاد ان عظیم رہنماؤں میں سے تھے جنہوں نے اپنی علمی بصیرت، بے مثال خطابت، صحافت اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے قوم کو بیدار کیا۔ ان کے مضامین، خطبات اور تحریریں محض سیاسی بیانات نہ تھے بلکہ وہ ایک ایسی فکری تحریک کا حصہ تھے جو قوم کو غلامی کے اندھیروں سے نکال کر علم و آگہی کی روشنی کی طرف لے جانا چاہتی تھی۔ مولانا آزاد کا یقین تھا کہ تعلیم ہی وہ طاقت ہے جو کسی بھی قوم کو دائمی آزادی عطا کر سکتی ہے۔ اسی لیے آزادی کے بعد انہوں نے تعلیمی اداروں کی ترقی، سائنسی تحقیق، ادبی فروغ اور ثقافتی احیاء کو قومی ترقی کی بنیاد قرار دیا۔
اسی طرح مولانا محمد علی جوہر کی صحافت، اشفاق اللہ خان کی قربانی، رام پرساد بسمل کا جذبۂ ایثار، سبھاش چندر بوس کی جرأت، ٹیپو سلطان کی خودداری اور بے شمار مجاہدین کی خدمات اس حقیقت کی غماز ہیں کہ آزادی کی جدوجہد کسی ایک طبقے یا ایک فرد کی کوشش کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ یہ پوری قوم کی اجتماعی قربانیوں کا ثمر تھی۔
ٹیپو سلطان کا یہ تاریخی قول آج بھی آزادی پسند انسانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے:
"شیر کی ایک دن کی زندگی، گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔”
یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ آزادی، عزت اور خودداری کا ایسا فلسفہ ہے جس نے ہزاروں نوجوانوں کو ظلم کے سامنے ڈٹ جانے کا حوصلہ عطا کیا۔
اردو ادب نے تحریکِ آزادی میں جو کردار ادا کیا وہ دنیا کی ادبی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے۔ شاعر نے جب وطن کی محبت کو شعر کا موضوع بنایا تو وہ صرف جذبات کا اظہار نہیں تھا بلکہ وہ ایک فکری انقلاب تھا۔ ادیب نے جب غلامی کے نقصانات بیان کیے تو اس کا مقصد صرف شکایت کرنا نہیں تھا بلکہ قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑنا تھا۔ صحافی نے جب سچ لکھا تو وہ صرف خبر نہیں تھی بلکہ آزادی کی آواز تھی۔ استاد نے جب اپنے شاگرد کو تاریخ پڑھائی تو وہ صرف معلومات نہیں دے رہا تھا بلکہ اس کے دل میں وطن کی محبت کا چراغ روشن کر رہا تھا۔
علامہ اقبال نے فرمایا:
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں
اگرچہ یہ شعر خواتین کے مقام کو واضح کرتا ہے، لیکن تحریکِ آزادی میں خواتین کی خدمات کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ بے شمار خواتین نے تعلیم، سماجی خدمت، تنظیم سازی، تحریکی سرگرمیوں، طبی امداد اور سیاسی شعور کی بیداری میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنے گھروں کو مجاہدین کی پناہ گاہ بنایا، نوجوانوں میں جذبۂ قربانی پیدا کیا اور آنے والی نسلوں کو حب الوطنی کی تعلیم دی۔ اس طرح تحریکِ آزادی صرف مردوں کی تحریک نہ رہی بلکہ پوری قوم کی اجتماعی جدوجہد بن گئی۔
اردو شاعری میں وطن سے محبت ایک مستقل موضوع کی حیثیت اختیار کر گئی۔ ہر شاعر نے اپنے انداز میں آزادی، قربانی، اخوت اور قومی یکجہتی کا پیغام دیا۔ اکبر الٰہ آبادی نے طنز و مزاح کے ذریعے غلام ذہنیت پر ضرب لگائی، حالی نے اصلاحِ قوم کی آواز بلند کی، اقبال نے خودی، عمل اور حریت کا فلسفہ پیش کیا، جوش نے انقلابی ولولہ پیدا کیا اور فیض نے ظلم کے خلاف امید کا چراغ روشن رکھا۔
فیض احمد فیض کے یہ اشعار آزادی کی جدوجہد کے بعد بھی امید کا استعارہ بنے رہے:
ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
یہ اشعار اس یقین کا اظہار ہیں کہ ظلم ہمیشہ باقی نہیں رہتا اور حق و انصاف کی روشنی ایک نہ ایک دن ضرور طلوع ہوتی ہے۔
تحریکِ آزادی نے اردو صحافت کو بھی ایک نئی سمت عطا کی۔ اخبارات صرف اطلاعات کا ذریعہ نہ رہے بلکہ قومی تربیت، فکری بیداری اور سیاسی شعور کے مراکز بن گئے۔ مدیران نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، جرمانے ادا کیے، اخبارات ضبط ہوئے، مگر قلم فروخت نہ ہوا۔ یہی وہ کردار تھا جس نے صحافت کو قوم کی آواز بنا دیا۔
آج جب ہم آزادی کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ مجاہدینِ آزادی کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ انہوں نے قوم کو مایوسی سے نکال کر امید دی، غلامی سے نکال کر خود اعتمادی دی، جہالت سے نکال کر علم کی طرف بلایا اور انتشار سے نکال کر اتحاد کا راستہ دکھایا۔ یہی ان کی سماجی اور ادبی خدمات کا حقیقی سرمایہ ہے، جسے ہر نسل تک منتقل کرنا ہماری علمی، قومی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔تاریخِ اقوام کا غیر جانب دار مطالعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ آزادی کی تحریکیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جاتیں بلکہ ان کی کامیابی کے پیچھے فکری بیداری، سماجی اصلاح، تعلیمی ارتقا، ادبی تحریکوں اور قومی شعور کی طویل جدوجہد کارفرما ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برصغیر کی تحریکِ آزادی کو اگر صرف سیاسی انقلاب قرار دیا جائے تو یہ اس عظیم تحریک کی وسعت اور ہمہ گیری کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔ یہ ایک ایسی جامع تحریک تھی جس نے انسان کی سوچ، معاشرے کے مزاج، تعلیم کے رخ، ادب کے موضوعات، صحافت کی ذمہ داری اور قومی کردار سب کو نئی زندگی عطا کی۔
مجاہدینِ آزادی نے اس حقیقت کو بہت پہلے سمجھ لیا تھا کہ جس قوم کے نوجوان اپنی تاریخ سے بے خبر، اپنی زبان سے بیگانہ، اپنے ادب سے دور اور اپنی تہذیب سے شرمندہ ہوں، وہ قوم سیاسی آزادی حاصل کرنے کے باوجود ذہنی غلامی سے نجات حاصل نہیں کر سکتی۔ اسی لیے انہوں نے نئی نسل کی فکری تربیت کو اپنی جدوجہد کا لازمی حصہ بنایا۔ ان کے نزدیک آزادی کا مطلب صرف بیرونی اقتدار سے نجات نہیں بلکہ انسان کو خوف، جہالت، تعصب، ناانصافی اور احساسِ کمتری سے آزاد کرنا بھی تھا۔
قرآنِ حکیم انسان کو عدل، احسان، اتحاد اور خیر خواہی کی تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
﴿إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ﴾
"بے شک اللہ انصاف اور بھلائی کا حکم دیتا ہے۔”
(سورۃ النحل: 90)
یہی وہ اصول تھا جسے مجاہدینِ آزادی نے اپنی سماجی جدوجہد کی بنیاد بنایا۔ انہوں نے معاشرے کے ہر طبقے کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آزادی کسی ایک فرد یا ایک جماعت کی میراث نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ امانت ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:
"المؤمن للمؤمن كالبنيان يشد بعضه بعضاً.”
"ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے، جس کا ہر حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔”
یہ حدیث اجتماعی تعاون اور اتحاد کا بہترین نمونہ پیش کرتی ہے، اور یہی جذبہ تحریکِ آزادی کی کامیابی کا سب سے بڑا راز تھا۔
ادب نے ہمیشہ معاشرے کے نبض شناس معالج کا کردار ادا کیا ہے۔ اردو ادب نے غلامی کے تاریک دور میں امید کی شمع روشن رکھی۔ شاعر نے خواب دکھایا، ادیب نے شعور عطا کیا، صحافی نے حق گوئی کا علم بلند کیا اور دانشور نے قوم کو اس کے ماضی، حال اور مستقبل سے روشناس کرایا۔ یہی وجہ ہے کہ اردو ادب کا سرمایہ صرف حسن و عشق کی داستانوں تک محدود نہیں بلکہ اس میں وطن، آزادی، قربانی، اخوت، انسانی مساوات اور قومی بیداری کی ایک عظیم روایت بھی موجود ہے۔
علامہ اقبال نے فرمایا:
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
یہ شعر ہر اس قوم کے لیے امید کا پیغام ہے جو مشکلات سے دوچار ہو۔ مجاہدینِ آزادی نے اسی امید کو عمل میں تبدیل کیا اور قوم کو مایوسی سے نکال کر جدوجہد کی راہ دکھائی۔
جوش ملیح آبادی نے آزادی کی روح کو ان الفاظ میں بیان کیا:
انقلاب آتا نہیں آواز دینے سے فقط
زندگی قربان کرنا بھی ضروری ہے کبھی۔
اسی طرح فیض احمد فیض کی یہ صدا آج بھی ہر عہد میں تازگی کا احساس دلاتی ہے:
دل نہ اُمید تو نہیں، ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے۔
یہ اشعار اس یقین کی ترجمانی کرتے ہیں کہ ظلم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، حق اور آزادی کی روشنی آخرکار طلوع ہو کر رہتی ہے۔
مجاہدینِ آزادی نے اپنی عملی زندگی سے یہ سبق دیا کہ حب الوطنی کا تقاضا صرف قومی ترانہ پڑھنا یا قومی دن منانا نہیں بلکہ اپنے وطن کی ترقی، تعلیم، تحقیق، سماجی ہم آہنگی، اخلاقی اصلاح، دیانت داری، قانون کی پاسداری اور انسانیت کی خدمت میں اپنا کردار ادا کرنا بھی ہے۔ آج کے دور میں جب دنیا نئی فکری، تہذیبی اور سائنسی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے تو ہماری ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے کہ ہم آزادی کے ان عظیم مقاصد کو زندہ رکھیں جن کے لیے ہمارے اسلاف نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
آج کی نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ مجاہدینِ آزادی کی زندگیوں کو محض امتحانی نصاب کا حصہ نہ سمجھے بلکہ ان کے کردار، ان کی دیانت، ان کے اخلاص، ان کی علمی جستجو، ان کی سماجی خدمات اور ان کے ادبی ذوق کو اپنی عملی زندگی کا نمونہ بنائے۔ جب نوجوان اپنے ماضی سے رشتہ مضبوط کریں گے، اپنی زبان و ادب سے محبت کریں گے، علم کو اپنا ہتھیار بنائیں گے اور اخلاق کو اپنی شناخت بنائیں گے تو یہی حقیقی معنوں میں آزادی کا تحفظ ہوگا۔
علامہ اقبال نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا۔
یہ شعر آج بھی ہر نوجوان کے لیے منشورِ عمل ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ مجاہدینِ آزادی کی سماجی و ادبی خدمات ہماری قومی تاریخ کا ایسا درخشاں سرمایہ ہیں جس کی قدر و قیمت کا صحیح اندازہ شاید آنے والی صدیاں بھی پوری طرح نہ کر سکیں۔ ان کی قربانیاں صرف ماضی کا قصہ نہیں بلکہ حال کی رہنمائی اور مستقبل کی ضمانت ہیں۔ انہوں نے ہمیں یہ سکھایا کہ قلم اور کردار، علم اور عمل، اخلاص اور قربانی، اتحاد اور محبت ہی کسی قوم کی حقیقی طاقت ہیں۔ اگر ہم ان اصولوں کو اپنی اجتماعی زندگی کا حصہ بنا لیں تو نہ صرف آزادی محفوظ رہے گی بلکہ ہمارا معاشرہ امن، ترقی، انصاف، رواداری اور علم و حکمت کا گہوارہ بن جائے گا۔
ڈاکٹر محمد اقبال کے یہ اشعار اس مضمون کا بہترین اختتام ہیں:
یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
اور:
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی، جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مجاہدینِ آزادی کی سماجی و ادبی خدمات دراصل آزادی کی روح ہیں۔ اگر ان کی قربانیوں نے ہمیں آزاد وطن عطا کیا تو ان کے افکار، ان کی تحریریں، ان کی شاعری، ان کی سماجی اصلاح اور ان کا علمی سرمایہ ہماری قومی زندگی کی وہ امانت ہے جسے محفوظ رکھنا، فروغ دینا اور نئی نسل تک منتقل کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ یہی ان عظیم شخصیات کے لیے سچا خراجِ عقیدت اور حقیقی وفاداری کا اظہار ہوگا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے