कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

گم ناموں کو اجاگر کرو

تحریر : محمد حسان عظیم الدین واعظ دہلوی

دانشوروں کا کہنا ہے کہ کسی قوم کو اگر تنزلی اور پستی میں ڈال کر تباہ کرنا ہو تو اس قوم کا رشتہ ان کے اسلاف اور ان کے ماضی سے کاٹ دیا جائے پھر اس قوم کو برباد کرنے کے لیے نہ ان پر میزائل داغنے کی ضرورت ہے نہ توپ چلانے کی، اس قوم کا خود بخود اپنی حقیقت ، شناخت اور اصلیت کو فراموش کردینا ان کو اپاہج کر دیتا ہے،
ایسا ہی برتاؤ آج اس ملک میں اقلیتوں کے ساتھ کیا جارہا ہے خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ. پہلے یہ کام انگریزوں نے کیا پھر اسی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے برادران وطن کے مخصوص طبقے کے ان لوگوں نے کیا جن کا حکومت میں اثر و سوخ تھا ، ان کارناموں میں تشدد اور تعصب سے کام لیتے ہوئے زخم پر مزید نمک پاشی کی، اس کے بعد انہوں نے جھوٹ کو اتنا دہرایا کہ جھوٹ نے سچ کی جگہ لے لی.ہندوستان کی تاریخ کو حقیقتوں سے چھپا کر من گھڑت موضوعات کو اس کی جگہ کھڑا کر دیا گیا اور تاریخ کے سنہرے اوراق کی مکمل طور پر غلط تصویر کشی کی گئی ، محمود غزنوی کو قوم پرست بے رحم پیش کیا گیا ، سلطان ٹیپو کی شکل اور حلیے تک کو مسخ کر دیا گیا ،
یہاں تک کہ ان ظالموں نے اسکولوں کے کورس میں جہاں پہلے ایسے سیدھے سادھے مضامین شائع ہوا کرتے تھے جو کمالات کے افق پر لے جاتے ،مگر افسوس کے ان کی جگہ ایسے مضامین شائع کیے گئے جن میں منافرت نے اپنا بڑا حصہ بنا لیا. غور کرنے والی بات یہاں آتی ہے کہ جب بھی یوم جمہوریہ اور یوم آزادی کا دن آتا ہے تو ہمارے یہاں بچوں کو تقریر دی جاتی ہے مگر افسوس کہ ان لیکچروں میں چار پانچ مشہور مجاہدین پر ہی ان کا قلم بند اور زبان گونگی ہو جاتی ہے اور دوسری سمت سر فہرست بڑے بڑے القاب سے گاندھی، بوس، نہرو اور ٹیگور وغیرہ کے ناموں کو پیش کیا جاتا ہے، یہ طرز عمل اگر سرکاری محکموں ، سرکاری اسکولوں میں ہوتا تو تعجب نہ تھا، لیکن غضب تو یہ ہے کہ ہمارے اسلامی مدارس میں بھی اسی طرح رٹی رٹائی زبان ہے ، عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ 1857ء سے اس ملک میں انگریزوں کے خلاف محاذ آرائی کا سلسلہ شروع ہوا لیکن حقیقت کچھ اور ہے مسلمان اس ملک میں انگریزوں کے خلاف میدان عمل میں صدیوں پہلے آچکے تھے ، مگر افسوس کہ 1947ء کے مجاہدین کے نام تک سے واقفیت نہیں ہے،اس لیے عالم اسلام خصوصاً ہندوستانی مسلمانوں کے مستقبل کو دیکھتے ہوئے اور دشمنوں کے ناپاک منصوبوں پر نظر کرتے ہوئے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہندوستان کی جنگ آزادی کی حقیقی سنہری تاریخ کو تفصیلی طور پر پیش کیا جائے اور کچھ کتابیں ہیں جن میں آپ کو تفصیلات کا جماؤ مل سکتا مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ ان سے استفادہ حاصل کیا جائے۔
(فقط والسلام)

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے