कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ریلوے اسٹیشن پر دیکھا گیا ایک دل سوز منظر

خامہ بکف محمد عادل ارریاوی

آج میں ایک ریلوے اسٹیشن پر بیٹھا ٹرین کا انتظار کررہا تھا۔ اردگرد لوگوں کی بھیڑ شور و ہنگامہ آتی جاتی ٹرینوں کی آوازیں مسافروں کی بھاگ دوڑ ہر طرف ایک عجیب سا ماحول تھا۔ اسی دوران میری نظر اپنے سے کچھ فاصلے پر بیٹھی ہوئی ایک برقع پوش لڑکی پر پڑی اس کے ساتھ ایک غیر مسلم لڑکا بیٹھا ہوا تھا۔ اس کی شکل و صورت دیکھ کر اندازہ ہورہا تھا کہ وہ ہندو مذہب سے تعلق رکھتا ہے ہاتھ میں لال دھاگا بندھا ہوا ماتھے پر تلک کا نشان بڑی بڑی مونچھیں اور ایک عجیب سا انداز۔
میرا ہرگز یہ ارادہ نہیں تھا کہ میں ان کی باتیں سنوں یا ان کے معاملات میں دخل دوں لیکن جب کوئی انسان قریب بیٹھا ہو تو بعض اوقات گفتگو کانوں تک خود بخود پہنچ ہی جاتی ہے۔ دونوں آپس میں بڑی بےتکلفی اور خوشی کے ساتھ گفتگو کررہے تھے۔ کبھی ہنسنا کبھی ایک دوسرے کی تعریف کرنا کبھی گزرے ہوئے لمحوں کو یاد کرنا۔
ان کی باتوں میں ایسے جملے سنائی دے رہے تھے ۔ آج وہاں کتنا مزہ آیا وہ جگہ کتنی خوبصورت تھی وہ کھانا کتنا لذیذ تھا ہم ایسے ہی ہمیشہ ملتے رہیں گے میں ہمیشہ آپ کے ساتھ رہوں گی وغیرہ وغیرہ اور نہ جانے کیسی کیسی بےمحابا اور بےتکلف باتیں ان کی گفتگو سے محسوس ہورہا تھا کہ دونوں تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان ہیں اور ان کے درمیان تعلق بھی معمولی نوعیت کا نہیں جب یہ منظر دیکھا تو دل کے اندر ایک عجیب سی بےچینی اور غم کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ دل خود سے سوال کرنے لگا کہاں ہیں وہ ماں باپ؟ کہاں ہے وہ نگرانی؟ کہاں ہے وہ فکرِ اولاد؟
جو اپنی اولاد کو صبح گھر سے اسکول اور کالج کے نام پر روانہ تو کردیتے ہیں مگر کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے کہ ان کے بچے کن صحبتوں میں ہیں؟ کس کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں؟ کن جگہوں پر جارہے ہیں؟ کس ماحول میں زندگی بسر کررہے ہیں؟ وہ کس کے ساتھ اٹھتی بیٹھتی ہے؟ کس کے ساتھ گھنٹوں گفتگو کرتی ہے؟ کن پارکوں بازاروں یا تنہائی کی جگہوں میں وقت گزارتی ہے؟
بہت سے والدین صرف یہ سمجھ کر مطمئن ہوجاتے ہیں کہ ہماری اولاد تعلیم حاصل کررہی ہے لیکن تعلیم کے نام پر نوجوان نسل کے عقائد کردار حیا اور اخلاق کس تیزی سے بدل رہے ہیں اس کی طرف کم ہی توجہ دی جاتی ہے۔
اس وقت میرا دل چاہ رہا تھا کہ کچھ کہوں کوئی نصیحت کروں کوئی بات سمجھاؤں مگر میں خاموش تھا۔ اس لیے نہیں کہ احساس ختم ہوگیا تھا بلکہ اس لیے کہ میرے اردگرد مختلف مذاہب اور مختلف ذہنوں کے لوگ موجود تھے اور حالات ایسے نہیں تھے کہ میں کوئی قدم اٹھا سکتا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ منظر دیکھ کر دل واقعی بہت غمگین ہوگیا۔ آج احساس ہوا کہ ہماری نئی نسل کس رخ پر چل پڑی ہے اور ہم بحیثیتِ معاشرہ کتنے بےبس اور غافل ہوتے جارہے ہیں۔
آخر کون انہیں صحیح راستہ دکھائے گا؟ کون محبت حیا دین اور اخلاق کی اہمیت سمجھائے گا؟ کون ان کے دلوں میں اللہ کا خوف اور زندگی کا صحیح مقصد پیدا کرے گا؟۔
اے میرے اللہ تو ہی دلوں کا مالک ہے تو ہی ہدایت دینے والا ہے۔
ہماری نسلوں کی حفاظت فرما ہمارے نوجوانوں کو صحیح راستہ عطا فرم والدین کو اپنی اولاد کی صحیح تربیت اور نگرانی کی توفیق عطا فرما۔
یا اللہ ہم یہ مناظر دیکھ کر دل گرفتہ اور عاجز آگئے ہیں تو اپنی رحمت سے ہماری قوم ہماری نسل اور ہمارے معاشرے کی اصلاح فرما۔ آمین یارب العالمین ۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے