कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کائنات میں دخل اندازی

از قلم : عارف محمد خان، جلگاؤں

اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو نہایت حسین توازن، نظم اور حکمت کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ زمین، آسمان، پہاڑ، دریا، سمندر، درخت، جانور اور انسان سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر اس نظام کے کسی ایک حصے میں بگاڑ پیدا ہو تو پورا ماحول متاثر ہوتا ہے۔ انسان کو عقل اور شعور دے کر زمین پر خلیفہ بنایا گیا تاکہ وہ اس دنیا کی حفاظت کرے، مگر افسوس کہ آج انسان اپنی خواہشات، لالچ اور ترقی کی اندھی دوڑ میں قدرتی نظام کو تباہ کر رہا ہے۔ یہی بے جا مداخلت “کائنات میں دخل اندازی” کہلاتی ہے۔
آج دنیا ماحولیاتی آلودگی، جنگلات کی کٹائی، پانی کی قلت، موسمی تبدیلیوں اور قدرتی آفات جیسے مسائل کا شکار ہے۔ فیکٹریوں کا دھواں فضا کو آلودہ کر رہا ہے، گاڑیوں سے نکلنے والی زہریلی گیسیں انسانی صحت کے لیے خطرہ بن چکی ہیں، جبکہ صنعتی فضلہ دریاؤں اور سمندروں کو تباہ کر رہا ہے۔ انسان نے اپنے آرام اور فائدے کے لیے قدرتی وسائل کا اس قدر بے دریغ استعمال کیا ہے کہ زمین کا توازن بگڑنے لگا ہے۔
قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:”ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ”
خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا، انسانوں کے اپنے اعمال کی وجہ سے۔(سورۃ الروم: 41)
یہ آیت آج کے حالات کی مکمل عکاسی کرتی ہے۔ انسان کے غلط اعمال کے باعث زمین پر فساد بڑھ رہا ہے۔ کبھی سیلاب آتے ہیں، کبھی زلزلے، کبھی شدید گرمی اور کبھی خشک سالی انسان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ یہ سب قدرتی توازن بگڑنے کے نتائج ہیں۔
جنگلات کی بے دریغ کٹائی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ درخت ماحول کو صاف رکھتے ہیں، بارشوں کے نظام کو متوازن بناتے ہیں اور انسان کو آکسیجن فراہم کرتے ہیں۔ لیکن انسان اپنے مفادات کے لیے جنگلات ختم کر رہا ہے، جس کے باعث موسموں میں تبدیلی اور زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ اسی طرح جانوروں اور پرندوں کی نسلیں بھی ختم ہوتی جا رہی ہیں، کیونکہ ان کے قدرتی مسکن تباہ کیے جا رہے ہیں۔
اسلام ہمیں میانہ روی اور ذمہ داری کا درس دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔”وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ”
اور فضول خرچی نہ کرو، بے شک اللہ فضول خرچوں کو پسند نہیں کرتا۔( سورۃ الاعراف: 31)
مگر آج انسان پانی، بجلی، گیس اور دیگر وسائل کو بے جا ضائع کر رہا ہے۔ گھروں، کارخانوں اور بڑی بڑی صنعتوں میں وسائل کا غلط استعمال ماحول کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو آنے والی نسلیں صاف پانی، خالص ہوا اور محفوظ ماحول سے محروم ہو جائیں گی۔
قرآنِ مجید میں ایک اور مقام پر ارشاد ہے۔”وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا”
اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلاؤ۔
(سورۃ الاعراف: 56)
یہ آیت انسان کو واضح ہدایت دیتی ہے کہ زمین کے امن اور حسن کو خراب نہ کرے۔ افسوس کہ آج انسان نے زمین کو آلودگی، شور، دھوئیں اور کچرے سے بھر دیا ہے۔ پلاسٹک کے استعمال نے سمندری حیات کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور کیمیائی مادے زمین کی زرخیزی کو ختم کر رہے ہیں۔
ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ زمین صرف ہماری ملکیت نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی امانت بھی ہے۔ اگر ہم نے آج ماحول کی حفاظت نہ کی تو مستقبل میں انسانیت کو ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اس لیے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ درخت لگائے، پانی اور بجلی کی بچت کرے، صفائی کا خیال رکھے اور آلودگی پھیلانے سے گریز کرے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ انسان کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ قدرتی نظام کے مطابق زندگی گزارے اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کی حفاظت کرے۔ اگر ہم نے اپنی روش نہ بدلی تو کائنات میں یہ بے جا دخل اندازی انسان کے اپنے لیے تباہی کا سبب بن جائے گی۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ماحول کے تحفظ کو اپنی دینی، اخلاقی اور قومی ذمہ داری سمجھیں تاکہ ایک صاف، خوبصورت اور محفوظ دنیا آنے والی نسلوں کے لیے باقی رہ سکے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے