कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

یاد وصال مرشدی مولائی حضرت پیر چشتی سید ولی اللہ حسینیؒ

حیدرآباد۔24/مئی(راست)پیکر اسرار بالغرائیب، ناموس شریعت،آبروئے معرفت، فخر حقیقت، تاجدارِ حکمت، وارث کنز العرفان اعلیٰ حضرت سیدنا محمد افتخار علی شاہ وطنؒ حضرت پیر چشتی سید شاہ ولی اللہ حسینیؒ سجادہ نشین درگاہ چشتی چمن ایک ایسی برگزیدہ روحانی ہمہ اوصاف ہمہ جہت ہمہ رنگ شخصیت تھی جو کسی خاص تعارف کی محتاج نہیں بلکہ تعارف خود ان کا محتاج تھا۔ حضرت پیر سید افتخار علی شاہ وطنؒ آپ کے جداعلیٰ اور لسان العرفان حضرت پیر سید معین اللہ حسینی مدنی ؒ آپ کے والد گرامی قدر تھے، ان دونوں پیران عظام و پیرانِ طریق کی اعلیٰ و ارفع روحانی و جسمانی خصوصیات علم وفضل کشف و کرامات طریق رشد و ہدایت طرز تعلیم خانقاہی طرز تدریس گویا حضرت پیرچشتیؒ کی گھٹی میں شامل تھی۔ آپ اپنی خانقاہ میں دکھی انسانیت کی خدمت ان کی فلاح بہبود و روحانی مطالعہ میں شب و روز مصروف رہے، خصوصی دعاؤں کے ذریعہ بھی فیضان جاری رہا۔ نئی نسل کو خانقاہی نظام سے مربوط کرنے اسلامی آداب سے واقف کروانے کے مقصد سے خانقاہ میں درس فرمایا کرتے تھے۔ حق تعالیٰ آپ کی دعاؤں میں اثر اور آپ کے دست مبارک میں شفا بخشی تھی، سینکڑوں پریشان حال اللہ کی مخلوق آپ کے دست سے شفا و فیض پاتے تھے۔ حضرت پیر چشتی کی شام وسحرخدمت خلق کے لیے وقف تھی، آپ کی اخلاص و محبت مہرومروت شفقت و حکمت مزاج کا خاصہ تھے۔ خانقاہی نظام کا اعادہ اصلاح معاشرہ اور حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ آپ کی تعلیمات آپ کے معمولات آپ کے افکار و اذکار کو عام کرنا حضرت پیر چشتی کے حیات کا مقصد تھا، آپ حضرت پیر چشتی ؒشعر و سخن کے بھی شائق تھے، آپ کے کہے شعر آپ نے کبھی قلم بند نہیں کئے یہ کام آپ کے چاہنے والے مریدین و معتقدین کیا کرتے تھے جو ہر ہر بات ہر ہر اشعار کو ذہن نشین کرلیتے تھے۔ انہی کے مریدین نے موادات کو اکھٹا کرکے ایک کتاب کی شکل دی اور ان کے یوم پیدائش و یوم وصال پر پڑھ کر انہیں خراج عقیدت پیش کیا کرتے ہیں، یہ سلسلہ کئی سالوں سے آج تک یوں ہی چلتا آرہا ہے، ان کی ایک حمد کے کچھ سطر پیش نظر کررہا ہوں:
کلمہ کی صداقت ہے میرے سینے میں
تصدیق رسالتؐ ہے میرے سینے میں
اے قبر ادب سے مجھے آغوش میں لے
اللہ کی امانت ہے میرے سینے میں
آج اُن کے یوم وصال کے موقع پر وابستگان سلسلہ چشتیہ افتخاریہ سنجریہ کے مریدین و معتقدین اور اہل خانہ حضرت پیر چشتیؒ کے لیے یادِ ماضی کے چند اوراق میرے دادا حضرت کی یادیں تحریر کی بطور خراج عقیدت اور اپنی رہنمائی کے لئے پیش کررہا ہوں کہ بروز محشر میں اپنے جدامجد مولائی مرشدی کنزالعرفان حضرت سید محمد افتخار علی شاہ وطن المدنی قدس سرہ العزیز و دادا حضرت قبلہ پیکر عرفان مرشدی سید ولی اللہ حسینیؒ المعروف ”حضرت پیر چشتی“ اور میرے والد گرامی افتخار المشائخ والدی مرشدی پیر سید قادری محی الدین حسین سنجریؒ کا سربلند واعلیٰ دیکھنا چاہوں گا۔ ایک آمدِ خیال گوش گزار کررہا ہوں:
میں عکس ہوں اُن کا رگ رگ میں وہ میرے بستے ہیں
جارہا ہے اُن کا پوتا دیکھ مجھے یہ لوگ کہتے ہیں
آخر میں بس اتنا کہ کہنے لگوں میں پِیا کے بارے میں دن، رات، ہفتے، مہینے، سال، صدیاں لگے کم اسوائے چشتی بتانے میں‘۔
ازقلم: گدی نشین مولانا پیرزادہ سید کاشف اللہ حسینی بختیار عربی خلیفہ سوم افتخارالمشائخ حضرت پیر افتخاری سید قادری محی الدین حسین سنجریؒ،سنجری اسٹیٹ،چشتی چمن،حیدرآباد

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے