कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

وقت کی ناقدری زوالِ امت کی ایک بڑی وجہ

تحریر:محمد عادل ارریاوی

اللہ رب العزت نے کائنات کی تمام چیزیں انسان کی خدمت کے لیے پیدا کی ہیں لیکن انسان کو اپنی بندگی اور ایک خاص مقصد کے لیے تخلیق کیا ہے۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے جو سب سے قیمتی سرمایہ ہمیں عطا کیا گیا وہ وقت ہے۔ وقت ایک ایسی دولت ہے جو خرچ تو ہوتی ہے لیکن اسے دوبارہ کمایا نہیں جا سکتا ۔
انسان کی سب سے بڑی نادانی یہ ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ میری عمر بڑھ رہی ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر گزرتا لمحہ عمر کو گھٹا رہا ہے۔ ہماری زندگی کی مثال اس برف فروش کی سی ہے جس کی برف دھوپ میں رکھی ہو وہ بکے یا نہ بکے اس نے پگھلنا ہی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ پانچ چیزوں کو پانچ سے قبل غنیمت سمجھو زندگی کو مرنے سے پہلے اور صحت کو بیماری سے پہلے اور فراغت کو مشغولیت سے پہلے اور جوانی کو بڑھاپے سے پہلے اور مالداری کو فقر سے پہلے۔
دین اسلام نے انسان کو یہ بتلایا کہ اس کا ہر ہر چیز پر حساب ہو گا اس سے ہر چیز کے بارے میں باز پرس ہوگی اور اسے اپنے ہر ہر قول و فعل کا جواب دینا ہو گا کراماً کاتبین اس کے قول و فعل کو لکھ رہے ہیں اور قیامت کے روز اس کے اعمال نامے کو پیش کیا جائے گا ایسا نہ ہو کہ آج خواب غفلت میں پڑے رہو کل یہ کہو کہ ہمیں خبر نہ تھی ہمیں علم نہ تھا دیکھو وقت بڑی قیمتی دولت ہے اس سے جو فائدہ اٹھا سکتے ہو اٹھالو آج فراغت ہے کل اپنے ساتھ بے شمار مشغولیتیں لائے گی آج صحت ہے کل نہ معلوم کس بیماری کا شکار ہو جاؤ آج زندہ ہو کل مٹی تلے مدفون ہوگے آج صحت مند نوجوان ہو کل نہ معلوم ہلنے کے قابل بھی رہو یا نہ رہو آج صاحب حیثیت ہو کل نہ معلوم کس حال میں ہو جاؤ اس لئے جو کرنا ہے کر لو جو کمانا ہے کمالو جو فائدہ اٹھانا ہے اٹھا لو ورنہ وقت دو دھاری تلوار ہے اگر تم نے اسے نہ کاٹا تو وہ تمہیں کاٹ ڈالے گی عقلمندی کا تقاضہ یہ ہے کہ وقت کی قدر کرو۔
ہمارا ہرگزرتا ہوا دن ہمیں قبر کے ایک قدم اور قریب کر دیتا ہے۔ اگر ہم نے اس پکھلتی ہوئی عمر سے نیکیوں کا سرمایہ اکٹھا نہ کیا تو سوائے حسرت کے کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔ ہمیں بحیثیت فرد یہ سوچنا چاہئیے کہ ہم نے زندگی میں کتنی نمازیں قضا کیں؟ کتنے جھوٹ بولے؟ کتنے لوگوں کے حقوق غصب کیے؟ اور کتنا وقت اللہ کی فرمانبرداری میں گزارا ؟
میرے عزیزو اسلام میں وقت محض ایک گزرتا ہوا لمحہ نہیں بلکہ یہ ایک امانت ہے اور اس کا ئنات کی سب سے قیمتی متاع ہے۔
دیکھا جائے تو اس وقت مسلم معاشرہ مجموعی طور پر ضیاع وقت کی آفت کا شکار ہے یورپی معاشرہ اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود وقت کا قدر داں ہے اور زندگی کو ایک نظام کے تحت گزارنے کا پابند ہے علم وفن اور سائنس و ٹیکنالوجی میں ان کی ترقیوں کا ایک بڑا سبب یہی ہے جو قومیں وقت کی قدر کرنا جانتی ہیں وہ صحراؤں کو گلشن میں تبدیل کر سکتی ہیں وہ فضاؤں پر قبضہ کر سکتی ہیں وہ پہاڑوں کے جگر پاش پاش کر سکتی ہیں وہ ستاروں پر کمندیں ڈال سکتی ہیں وہ زمانہ کی زمام قیادت سنبھال سکتی ہیں لیکن جو قومیں وقت کو ضائع کر دیتی ہیں وقت انہیں ضائع کر دیتا ہے ایسی قومیں غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں وہ دین اور دنیا دونوں اعتبار سے خسارے میں رہتی ہیں اگر فضول کاموں سے ہم روزانہ ایک گھنٹہ بچاتے تو کسی بھی سائنس کو اپنے قابو میں لاسکتے تھے اگر روزانہ ایک گھنٹہ حصول علم کے لئے وقف کر لیتے تو دس سال میں ایک حد تک باخبر عالم بن سکتے تھے اگر روزانہ ایک کتاب کے دس صفحات کا مطالعہ کرتے تو سال بھر میں ساڑھے سات ہزار صفحات پڑھ سکتے تھے لیکن ہم نے وقت کی قدر نہ کی ہم نے ناخلف اولاد کی طرح اس بیش بہا دولت کو اندھا دھند لٹا دیا چنانچہ اسے لٹاتے لٹاتے ہم خود لٹ گئے ہماری صحت لٹ گئی ہماری زندگی لٹ گئی لمحات کی قدر نہ کرنے سے منٹوں کا منٹوں کی قدر نہ کرنے سے گھنٹوں کا گھنٹوں کی قدر نہ کرنے سے دنوں کا دنوں کی قدر نہ کرنے سے ہفتوں کا ہفتوں کی قدر نہ کرنے سے مہینوں کا اور مہینوں کی قدر نہ کرنے سے سالوں کا ضائع کرنا ہمارے لئے آسان بن گیا ہے۔
جس امت کو وقت کا سب سے بڑا قدردان ہونا چاہیے تھا آج وہی امت وقت کو سب سے زیادہ بے دردی سے ضائع کرنے والی بن چکی ہے۔ اللہ ربّ العزت نے اسلام کے پورے ڈھانچے کو وقت کی زنجیر سے باندھ رکھا ہے۔ آپ غور کیجیے کہ اگر نماز وقت مقررہ سے ایک منٹ پہلے پڑھیں تو نہیں ہوتی وقت گزر جائے تو قضا ہو جاتی ہے۔ صبح صادق کے ایک سیکنڈ بعد تک کھائیں تو روزہ نہیں ہوتا اور غروب آفتاب سے ایک لمحہ پہلے افطار کر لیں تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اس طرح قربانی ہو یا حج کے افعال زکوۃ کا سالانہ نصاب ہو یا عیدین کی نماز ہر عبادت وقت کے ساتھ جڑی ہے اور ہمیں چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ اے مسلمان وقت کی قدر کر یہ تیرے رب کا مقرر کردہ میزان ہے۔
لیکن افسوس کہ آج وقت گزاری ہماری زندگی کا سب سے بڑا مشغلہ بن چکا ہے۔ ہوٹل بازی بے مقصد سیر و تفریح سوشل میڈیا کی بے ہودہ ویڈیوز اور موبائل اسکرین پر گھنٹوں ضائع کرنا ہماری پہچان بنتی جارہی ہے۔ ہماری شادی بیاہ کی تقریبات میں جس طرح راتوں کو بے دردی سے ضائع کیا جاتا ہے وہ کسی المیے سے کم نہیں۔ یہاں تک کہ ہماری دینی مجالس اور جلسوں میں بھی وقت کی پابندی کا خیال نہیں رکھا جاتا ۔ پروگراموں کا دیر سے شروع ہونا اور بے مقصد طوالت اختیار کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ ہم سے احترام وقت کا جذبہ رخصت ہو چکا ہے۔ حکماء فرماتے ہیں کہ وقت ضائع کرنا خودکشی سے زیادہ برا ہے کیونکہ خود کشی تمہیں دنیا سے کاٹتی ہے جبکہ وقت کا ضائع کرنا تمہیں اللہ سے کاٹ دیتا ہے۔
اللہ ربّ العزت ہمیں وقت کی قدر کرنے اپنی زندگی کے ہر لمحے کو اپنی رضا کے مطابق گزارنے نیک اعمال کرنے اور وقت ضائع کرنے سے محفوظ رکھے اور اپنی قیمتی عمر کو دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے