कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

حضرت ابراہیمؑ: آتشِ نمرود سے فتنۂ عصر تک، ایمان، قربانی اور استقامت کا ابدی چراغ

Prophet Ibrahim: From the Fire of Nimrod to the Trials of the Modern Age — An Eternal Beacon of Faith, Sacrifice, and Steadfastness

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

تمام تعریفیں اُس ربِّ کریم کے لیے ہیں جس نے انسانیت کی ہدایت کے لیے انبیائے کرامؑ کا مقدّس سلسلہ قائم فرمایا، تاکہ بھٹکی ہوئی انسانیت کو نورِ ہدایت عطاء ہو، دلوں کو ایمان کی حرارت نصیب ہو اور زندگی کو بندگیِ ربّ کا شعور حاصل ہو۔ درود و سلام ہوں تاجدارِ مدینہ، حضرت محمد مصطفیٰﷺ پر، جو تمام انبیاء کے سردار، رحمتِ عالم اور ملّتِ ابراہیمی کے کامل ترجمان بن کر تشریف لائے۔ اسلام صرف چند عبادات یا رسمی عقائد کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جو انسان کو فکری، روحانی، اخلاقی اور اجتماعی زندگی کے ہر میدان میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید نے انبیائے کرامؑ کی مبارک زندگیاں محض تاریخی تذکرے کے طور پر بیان نہیں کیں بلکہ انہیں "اسوۂ حسنہ” بنا کر پیش کیا، تاکہ ہر دور کا انسان ان کے کردار و عمل سے روشنی حاصل کرے۔
آتشِ نمرود سے لے کر فتنۂ عصرِ رواں
رہنما ہے آج بھی کردارِ خلیلِ مہرباں
ان عظیم المرتبت ہستیوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مقام نہایت بلند اور منفرد ہے۔ آپؑ توحید کے داعی، صبر و استقامت کے پیکر، اخلاص و وفا کے علمبردار اور قربانی و ایثار کی عظیم علامت ہیں۔ قرآنِ کریم نے آپؑ کو "اُمّت” قرار دیا، کیونکہ آپ کی ذات میں ایک کامل اُمّت کی تمام خوبیاں جمع تھیں۔ آپؑ نے ایسے دور میں توحید کا پرچم بلند کیا جب پوری دنیا شرک، جاہلیت اور باطل پرستی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ آپؑ نے نہ صرف باطل نظریات کو للکارا بلکہ اپنی پوری زندگی اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کے لیے وقف کردی۔ آج کا مسلمان جن فکری انتشار، اخلاقی زوال، مادہ پرستی، دینی کمزوری، تہذیبی یلغار اور روحانی بحرانوں کا شکار ہے، اُن کا مؤثر علاج حضرت ابراہیمؑ کی حیاتِ طیبہ میں موجود ہے۔
موجودہ دور میں جب کہ ایمان آزمائشوں کی زد میں ہے، نوجوان بے راہ روی کا شکار ہیں، دین کو محض رسم سمجھا جانے لگا ہے اور دنیا کی چمک انسان کو اپنے ربّ سے غافل کر رہی ہے، ایسے حالات میں ابراہیمی کردار ایک زندہ پیغام بن کر سامنے آتا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کی مبارک زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ: حق کے لیے تنہا کھڑا ہونا ہی اصل کامیابی ہے، اللّٰہ پر کامل بھروسہ ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے، اور دینِ حق کی سربلندی کے لیے قربانی، صبر اور استقامت ناگزیر ہیں۔ زیرِ نظر مضمون میں حضرت ابراہیمؑ کی حیاتِ مبارکہ کی روشنی میں عصرِ حاضر کے مسلمانوں کو درپیش فتنوں، آزمائشوں اور کمزوریوں کا جائزہ لیا گیا ہے، تاکہ ہم اپنی زندگیوں کو ابراہیمی تعلیمات کے نور سے منور کرسکیں اور اپنے ایمان و کردار کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرسکیں۔
انسانی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو صرف اپنے زمانے تک محدود نہیں رہتیں بلکہ رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مینارۂ نور بن جاتی ہیں۔ ان ہی عظیم اور برگزیدہ ہستیوں میں ایک نام حضرت ابراہیمؑ کا ہے، جنہیں قرآنِ کریم نے خلیلُ اللّٰہ یعنی اللّٰہ کا دوست قرار دیا۔ آپؑ کی مبارک زندگی محض چند تاریخی واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایمان، توحید، قربانی، صبر، عزیمت اور کامل اطاعتِ الٰہی کا ایسا عملی نمونہ ہے جو قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے کامل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ آج کا مسلمان جن فتنوں، فکری یلغاروں، اخلاقی کمزوریوں اور روحانی بحرانوں سے دوچار ہے، ان کا حل حضرت ابراہیمؑ کی حیاتِ طیبہ میں پوری وضاحت کے ساتھ موجود ہے۔ اگر اُمّتِ مسلمہ ابراہیمی کردار کو اپنالے تو نہ صرف انفرادی زندگی سنور سکتی ہے بلکہ اجتماعی زوال بھی عروج میں بدل سکتا ہے۔
حضرت ابراہیمؑ کی پوری زندگی حق اور باطل کی کشمکش کی ایک روشن داستان ہے۔ آپؑ نے ایسے معاشرے میں آنکھ کھولی جہاں بت پرستی، شرک، جاہلیت اور بادشاہت کا غرور اپنے عروج پر تھا۔ ہر طرف جھوٹے معبودوں کی پرستش ہو رہی تھی، لیکن ایک نوجوان ابراہیمؑ نے پوری جرأت کے ساتھ اعلان کیا: "میں اُن چیزوں سے بیزار ہوں جنہیں تم اللّٰہ کے ساتھ شریک کرتے ہو”۔ یہ اعلان صرف زبان کا نہیں تھا بلکہ عمل کا بھی تھا۔ آپؑ نے بتوں کو توڑا، مشرکانہ عقائد کی تردید کی اور ظالم بادشاہ نمرود کے سامنے کلمۂ حق بلند کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آپؑ کو آگ میں ڈال دیا گیا، مگر ایمان کی حرارت نے دنیا کی آگ کو بھی ٹھنڈا کر دیا۔ آج کا مسلمان بھی مختلف قسم کے نمرودوں کے درمیان زندگی گزار رہا ہے۔ کہیں مادہ پرستی کا فتنہ ہے، کہیں لبرل ازم کے نام پر دین سے بغاوت، کہیں طاقتور قوتوں کے سامنے حق چھپانے کا رجحان۔ ایسے ماحول میں حضرت ابراہیمؑ ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ مومن کا سر صرف اللّٰہ کے سامنے جھکتا ہے، باطل کے سامنے نہیں۔
حضرت ابراہیمؑ نے صرف بتوں کو نہیں توڑا بلکہ شرک کے ہر مظہر کو رد کیا۔ آپؑ نے قوم کی ان رسومات، تہواروں اور عقائد سے بھی براءت اختیار کی جو توحید کے خلاف تھے۔ آج مسلمانوں کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ غیر اسلامی رسم و رواج، توہمات، بدعات اور مشرکانہ اعمال کو دین سمجھ بیٹھے ہیں۔ شادی بیاہ سے لے کر تہواروں تک، قبروں سے لے کر قسمت کے جعلی تصورات تک، کئی ایسے امور معاشرے میں شامل ہو چکے ہیں جو خالص ابراہیمی توحید کے منافی ہیں۔ حضرت ابراہیمؑ کی زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ مسلمان کی شناخت صرف اللّٰہ کی بندگی ہے۔ عقیدہ، عبادت، تہذیب اور طرزِ زندگی!!! ہر معاملے میں خالص توحید کا رنگ نمایاں ہونا چاہیے۔
قرآنِ کریم نے حضرت ابراہیمؑ کو "فَتًی” یعنی نوجوان کے لقب سے یاد کیا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ حق کی سب سے بڑی قوت نوجوان ہوتے ہیں۔ ابراہیمؑ نے جوانی میں وہ کارنامہ انجام دیا جو پوری قوم نہ کرسکی۔
آج کے نوجوان کو جن فتنوں نے گھیر رکھا ہے، ان میں بے راہ روی، سوشل میڈیا کی اخلاقی تباہ کاری، مادیت، بے مقصد تفریح، فحاشی اور دینی بے حسی نمایاں ہیں۔ نوجوان اپنی صلاحیتیں اُمّت کی تعمیر کے بجائے وقتی خواہشات میں ضائع کر رہا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کا کردار نوجوانوں کو یہ دعوت دیتا ہے کہ:
اپنے ایمان پر فخر کرو۔
حق بات کہنے کی جرأت پیدا کرو۔
کردار کی پاکیزگی اختیار کرو۔
علم اور شعور کے ذریعے باطل کا مقابلہ کرو۔
اپنی جوانی اللّٰہ کی رضا کے لیے وقف کرو۔
دنیا ہمیشہ اُنہی نوجوانوں کو یاد رکھتی ہے جو مقصد کے ساتھ جیتے ہیں، اور ابراہیمؑ اس کی سب سے روشن مثال ہیں۔
جب حضرت ابراہیمؑ کو آگ میں پھینکا جا رہا تھا تو ظاہری اسباب ختم ہو چکے تھے۔ نہ کوئی لشکر، نہ کوئی مددگار، نہ بچاؤ کی کوئی صورت۔ مگر اُس وقت بھی آپؑ کی زبان پر یقین اور توکل تھا۔ یہی کامل اعتماد تھا جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اے آگ! ابراہیمؑ پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا”۔ اسی طرح جب آپؑ اپنی اہلیہ حضرت ہاجرہؑ اور شیر خوار بیٹے حضرت اسماعیلؑ کو بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ کر آئے تو یہ عمل انسانی عقل سے بالاتر تھا، مگر اللّٰہ پر یقین کامل نے ناممکن کو ممکن بنا دیا اور وہی وادی بعد میں مکّہ معظمہ بن گئی۔ آج مسلمان مایوسی، خوف، معاشی پریشانی اور مستقبل کی بے یقینی کا شکار ہے۔ حضرت ابراہیمؑ ہمیں سکھاتے ہیں کہ جو شخص اللّٰہ پر بھروسہ کرتا ہے، اللّٰہ اس کے لیے غیب سے راستے پیدا فرما دیتا ہے۔
حضرت ابراہیمؑ کی زندگی کا سب سے عظیم منظر وہ ہے جب انہیں اپنے لختِ جگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللّٰہ کی راہ میں قربان کرنے کا حکم ملا۔ یہ محض جانور ذبح کرنے کا واقعہ نہیں بلکہ خواہشات، محبتوں اور نفس کی قربانی کا درس ہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بھی کہا: "ابا جان! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے وہ کر گزریں، ان شاء اللّٰہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے”۔ یہ باپ اور بیٹے دونوں کی کامل اطاعت تھی۔ اسی اخلاص کی یاد میں قیامت تک قربانی کی سنّت جاری کردی گئی۔ آج قربانی اکثر صرف رسم بن کر رہ گئی ہے، جب کہ اصل مقصد یہ تھا کہ انسان اپنے اندر کے غرور، حرص، حسد، خود غرضی اور گناہوں کو ذبح کرے۔ ابراہیمی قربانی ہمیں یہ شعور دیتی ہے کہ اللّٰہ کے راستے میں ہر محبوب چیز قربان کرنے کا جذبہ پیدا کیا جائے۔
یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیلؑ کو آدابِ فرزندی
حضرت ابراہیمؑ نے زندگی بھر آزمائشیں جھیلیں۔ کبھی قوم کی مخالفت، کبھی ہجرت، کبھی آگ، کبھی اولاد کی قربانی! مگر ہر مرحلے میں استقامت اختیار کی۔ آج کا مسلمان معمولی مشکلات میں دین سے دور ہونے لگتا ہے۔ کچھ لوگ معاشرے کے دباؤ سے نماز چھوڑ دیتے ہیں، کچھ دنیاوی مفاد کے لیے حرام و حلال کی تمیز بھلا دیتے ہیں، اور کچھ جدید فکری حملوں کے سامنے مرعوب ہو جاتے ہیں۔ حضرت ابراہیمؑ کی زندگی اعلان کرتی ہے کہ سچا ایمان آزمائش کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ استقامت ہی وہ قوت ہے جو مومن کو دنیا و آخرت میں کامیاب بناتی ہے۔
موجودہ دور فتنوں کا دور ہے۔ فکری انتشار، اخلاقی زوال، الحاد، دین سے دوری، خاندانی نظام کی تباہی، سوشل میڈیا کی یلغار اور مادہ پرستی نے اُمّت کو کمزور کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں ابراہیمی تعلیمات ایک جامع حل پیش کرتی ہیں:
1- توحید کو مضبوط کیا جائے
اللہ کے ساتھ تعلق مضبوط ہوگا تو دل ہر خوف سے آزاد ہو جائے گا۔
2- قرآن و سنّت کی طرف رجوع کیا جائے
ابراہیمی راستہ وحی کے تابع زندگی گزارنے کا نام ہے۔
3- نوجوانوں کی دینی و اخلاقی تربیت کی جائے
اُمّت کی بقاء نوجوان نسل کے ایمان اور کردار سے وابستہ ہے۔
4- قربانی اور ایثار کا جذبہ پیدا کیا جائے
قومیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ قربانیوں سے بنتی ہیں۔
5- اتحاد اور اخلاص کو فروغ دیا جائے
حضرت ابراہیمؑ نے ہمیشہ اُمّت سازی کا پیغام دیا۔
اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی
نہ ہو تو مردِ مسلماں بھی کافر و زندیق
حضرت ابراہیمؑ کی مبارک زندگی دراصل ایمان کی ایک زندہ تفسیر ہے۔ آپؑ نے دنیا کو سکھایا کہ حق کی راہ میں تنہائی، مخالفت، آزمائش اور قربانی سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ جو شخص اللّٰہ کا ہوجاتا ہے، اللّٰہ پوری کائنات کو اس کا مددگار بنا دیتا ہے۔ آج اُمّتِ مسلمہ کو اگر عزّت، سکون، اتحاد اور کامیابی درکار ہے تو اسے دوبارہ ابراہیمی راستہ اپنانا ہوگا؛ وہ راستہ جو توحید، اخلاص، قربانی، صبر، توکل اور استقامت سے روشن ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نقشِ قدم پر چلنے، ان کے ایمان و یقین کو اپنانے اور اپنی زندگیوں کو حقیقی معنوں میں ابراہیمی کردار کا آئینہ بنانے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین۔
🗓 (16.05.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے