कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

خاموش ارتقاء یا ڈوبتا ہوا مستقبل۔۔۔ خلیلِ وقت! تری خاموشی دیکھی نہیں جاتی

Silent decline or a sinking future… O Khalil of the age! Your silence can no longer be endured

تحریر:ڈاکٹر اسد اللہ خان (ممبئی)
09967893333

تعلیم صرف کتاب، کلاس روم اور امتحان کا نام نہیں؛ تعلیم وہ چراغ ہے جس سے قومیں اپنا راستہ پہچانتی ہیں، وہ آئینہ ہے جس میں تہذیب اپنا چہرہ دیکھتی ہے، اور وہ ترازو ہے جس پر معاشرے کے شعور، کردار اور مستقبل کا وزن کیا جاتا ہے۔
امتحانی نتائج محض نمبر نہیں ہوتے،یہ نسلوں کی سمت، گھروں کی ترجیحات، والدین کی فکر، بچوں کی نفسیات اور سماج کی خاموش تبدیلیوں کا اعلان ہوتے ہیں۔ مارک شیٹ ایک کاغذ ضرور ہے، مگر کبھی کبھی یہی کاغذ پوری تہذیب کا سماجی ایکسرے بن جاتا ہے۔
آج ہندوستان کے تعلیمی افق پر ایک نہایت معنی خیز منظر ابھر رہا ہے۔ ہماری بیٹیاں مسلسل آگے بڑھ رہی ہیں، کامیابی کے زینے طے کر رہی ہیں، بورڈ امتحانات میں نمایاں مقام حاصل کر رہی ہیں، اور اپنی محنت، نظم و ضبط، استقامت اور خود اعتمادی سے یہ ثابت کر رہی ہیں کہ جب لڑکی کو موقع ملتا ہے تو وہ صرف اپنا نہیں، پورے خاندان اور معاشرے کا مستقبل روشن کر سکتی ہے۔
لیکن اسی روشن منظر کے پس منظر میں ایک گہرا سوال بھی سر اٹھا رہا ہے: ہمارے بیٹے کہاں جا رہے ہیں؟
کیا وہ تعلیم سے دور ہو رہے ہیں؟
کیا وہ ڈیجیٹل دنیا کے شور میں اپنی حقیقی منزل کھو رہے ہیں؟
کیا ہمارا سماج ایک خاموش تعلیمی عدم توازن کی طرف بڑھ رہا ہے؟
یہ سوال معمولی نہیں۔ یہ سوال وقت کا سوال ہے۔ یہ سوال خاندانوں کا سوال ہے۔ یہ سوال قوم کے مستقبل کا سوال ہے۔
کیا آپ نے ان نتائج کو غور سے دیکھا ہے؟
کیا آپ نے کبھی ان اعداد و شمار کی خاموش چیخ کو سننے کی کوشش کی ہے؟
یہ صرف فیصد نہیں، یہ ایک بدلتے ہوئے سماج کی دھڑکن ہیں۔
یہ صرف کامیابی کے اعداد نہیں، یہ آنے والے کل کی تہذیبی سمت کا اعلان ہیں۔
مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ ہو یا CBSE، SSC ہو یا HSC، گزشتہ چند برسوں کے نتائج مسلسل ایک ہی حقیقت دہرا رہے ہیں۔ مجموعی تناسبِ کامیابی اگرچہ 90 سے 95 فیصد کے درمیان گردش کر رہا ہے، مگر ان اعداد کے پردے کے پیچھے ایک اور داستان بھی لکھی جا رہی ہے — ایک خاموش مگر مسلسل بڑھتی ہوئی خلیج کی داستان۔
ہر سال طالبات، طلبہ سے آگے نکل رہی ہیں۔کبھی تین فیصد، کبھی چار، کبھی چھ فیصد۔یہ فرق معمولی نہیں۔یہ محض امتحانی برتری نہیں، بلکہ نفسیاتی، سماجی، تہذیبی اور فکری تبدیلی کا استعارہ ہے۔
یہ نتائج اپنی زبانِ حال سے پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ ہماری بیٹیاں وقت کی رفتار کو سمجھ چکی ہیں۔وہ جان چکی ہیں کہ تعلیم صرف نمبر لینے کا عمل نہیں بلکہ اپنی شناخت، خودمختاری، عزت اور مستقبل کی جنگ ہے۔اسی لیے وہ خاموشی سے محنت کر رہی ہیں، مسلسل آگے بڑھ رہی ہیں، اور ہر سال کامیابی کے افق پر اپنا نام مزید روشن کر رہی ہیں۔
اور دوسری طرف…
ہمارے بہت سے بیٹے ڈیجیٹل خلفشار، بے مقصد مصروفیات، فوری لذتوں اور ذہنی انتشار کے ایسے جنگل میں بھٹک رہے ہیں جہاں راستے کم اور سراب زیادہ ہیں۔
یہ اعداد و شمار ہمیں صرف نتائج نہیں بتا رہے، بلکہ ہمیں آئینہ دکھا رہے ہیں۔
وہ آئینہ جس میں ایک طرف بیٹیوں کی بیدار آنکھیں ہیں، اور دوسری طرف بیٹوں کی بکھرتی ہوئی توجہ۔
یہ خاموش فرق اگر اسی رفتار سے بڑھتا رہا تو آنے والے برسوں میں یہ صرف کلاس روم کا فرق نہیں رہے گا، بلکہ خاندان، شادی، معیشت، قیادت اور پورے سماجی توازن کو متاثر کرے گا۔
سوال یہ نہیں کہ لڑکیاں آگے کیوں بڑھ رہی ہیں؛
اصل سوال یہ ہے کہ ہمارے لڑکے پیچھے کیوں رہتے جا رہے ہیں؟
اور شاید وقت ہم سے یہی پوچھ رہا ہے،کیا ہم صرف بیٹیوں کی کامیابی پر تالیاں بجاتے رہیں گے، یا بیٹوں کی خاموش شکست کو بھی سمجھنے کی کوشش کریں گے؟
مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ ہو یا CBSE، SSC ہو یا HSC، نتائج بار بار یہی کہانی سنا رہے ہیں کہ طالبات طلبہ سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں۔ یہ صرف ایک تعلیمی فرق نہیں، یہ ایک تہذیبی پیغام ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ بیٹیاں اب صرف گھروں کی زینت نہیں رہیں، وہ علم کی امین، شعور کی سفیر اور مستقبل کی معمار بن رہی ہیں۔
لڑکیوں کی یہ کامیابی کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں۔ اس کے پیچھے محنت ہے، خاموش قربانی ہے، مسلسل مطالعہ ہے، وقت کی پابندی ہے، ذمہ داری کا احساس ہے، اور وہ اندرونی آگ ہے جو انہیں محدود دائروں سے نکل کرعزت، خودمختاری اور پہچان کی طرف لے جاتی ہے۔
لڑکیاں تعلیم کو صرف ڈگری نہیں سمجھتیں؛ وہ اسے آزادی کا راستہ، عزت کا ذریعہ، مالی خودمختاری کا دروازہ اور سماجی وقار کی ضمانت سمجھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اندر ایک گہری اندرونی تحریک پیدا ہوتی ہے۔ وہ جانتی ہیں کہ کتاب ان کے ہاتھ میں آئے تو قسمت بدل سکتی ہے، قلم ان کے ہاتھ میں آئے تو نسلیں سنور سکتی ہیں، اور تعلیم ان کے حصے میں آئے تو گھر، خاندان اور معاشرہ سب بدل سکتے ہیں۔
دوسری طرف ہمارے بہت سے لڑکے فوری معاشی فائدے، خاندانی کاروبار، جلد روزگار، آن لائن گیمنگ، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل فراریت کے بھنور میں الجھتے جا رہے ہیں۔ وہ لمبی تعلیمی جدوجہد سے اکتا جاتے ہیں، فوری نتیجہ چاہتے ہیں، مگر علم کا سفر فوری تالیاں نہیں دیتا؛ وہ صبر، محنت، تسلسل اور مقصد مانگتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں رک کر سوچنا ہوگا۔
کیا ہم نے لڑکوں کو مقصد دیا؟
کیا ہم نے ان کے لیے مضبوط تعلیمی رول ماڈلز تیار کیے؟
کیا ہم نے انہیں بتایا کہ مردانگی صرف کمانے کا نام نہیں، بلکہ شعور، کردار، ذمہ داری اور علم کا نام بھی ہے؟
آج لڑکیوں کی تعلیمی ترقی خوش آئند ہے، قابلِ فخر ہے، قابلِ تحسین ہے۔ لیکن اگر اسی کے ساتھ لڑکوں کی علمی بیزاری بڑھتی رہی تو یہ عدم توازن کل خاندان، شادی، معیشت، سماجی قیادت اور قومی ترقی کے لیے ایک بڑا بحران بن سکتا ہے۔
اعلیٰ تعلیم میں لڑکیوں کی نمائندگی بڑھ رہی ہے۔ میڈیکل، انجینئرنگ، قانون، مینجمنٹ اور دیگر پیشہ ورانہ میدانوں میں وہ اپنا مقام بنا رہی ہیں۔ مگر دوسری طرف نوجوان مردوں میں Drop-out کا رجحان، کمزور تعلیمی وابستگی اور فوری روزگار کی طرف جھکاؤ بڑھ رہا ہے۔ یہ صورتِ حال مستقبل کے سماجی ڈھانچے کو بدل دے گی۔
شادی کے میدان میں بھی تعلیمی عدم مطابقت پیدا ہو رہی ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین کو اپنے تعلیمی معیار کے مطابق شریکِ حیات تلاش کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ گھر کے اندر فیصلوں کا توازن بدل رہا ہے۔ مالی، تعلیمی اور تربیتی امور میں خواتین کا کردار بڑھ رہا ہے۔ یہ تبدیلی فطری بھی ہے اور ضروری بھی، مگر اسے حکمت، شعور اور توازن کے ساتھ سنبھالنا ہوگا۔
ہمیں یہ بات پوری قوت سے ماننی ہوگی کہ لڑکیوں کی تعلیم کسی قوم پر احسان نہیں، بلکہ قوم کی بقا کی شرط ہے۔ ایک تعلیم یافتہ عورت صرف خود نہیں سنورتی؛ وہ گھر سنوارتی ہے، نسل سنوارتی ہے، معاشرہ سنوارتی ہے۔ ایک باشعور ماں آنے والی نسلوں کی پہلی درس گاہ ہوتی ہے۔ اگر ماں تعلیم یافتہ ہو تو گھر کا ماحول بدلتا ہے، بچوں کی زبان بدلتی ہے، سوچ بدلتی ہے، اخلاق بدلتے ہیں اور مستقبل بدلتا ہے۔
لیکن اسی کے ساتھ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ بیٹیوں کو آگے بڑھانا اور بیٹوں کو پیچھے چھوڑ دینا ترقی نہیں، عدم توازن ہے۔ قومیں تب مضبوط ہوتی ہیں جب ان کی بیٹیاں بھی تعلیم یافتہ ہوں اور بیٹے بھی مقصد شناس ہوں۔ اگر بیٹیاں علم کی بلندیوں پر ہوں اور بیٹے بے سمتی، لت، بیزاری اور کم حوصلگی کا شکار ہوں تو یہ ترقی نہیں، ایک ادھورا انقلاب ہے۔
آج ضرورت ہے کہ ہم لڑکیوں کی تعلیم کو مزید مضبوط کریں، ان کے لیے محفوظ تعلیمی ماحول بنائیں، انہیں اعلیٰ تعلیم اور عملی زندگی میں آگے بڑھنے کے مواقع دیں۔ ساتھ ہی لڑکوں کے لیے Mentorship Programs، Vocational Integration، Digital Discipline اور Purpose-based Education کو تعلیمی نظام کا لازمی حصہ بنائیں۔
ہمارے اسکول صرف نمبر دینے والی مشینیں نہ رہیں۔ وہ کردار سازی کے مراکز بنیں، فکر و شعور کی پناہ گاہیں بنیں، مقصدیت کے کارخانے بنیں، اور ایسی نسل تیار کریں جو صرف کامیاب نہیں بلکہ بامعنی زندگی گزارنے والی ہو۔
آج کا سوال یہ نہیں کہ لڑکیاں آگے کیوں بڑھ رہی ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہم ان کی پرواز کو مزید کیسے بلند کریں، اور ساتھ ہی لڑکوں کو زمین پر گرنے سے کیسے بچائیں؟
یہ وقت تالیاں بجانے کا بھی ہے، اور خطرے کی گھنٹی سننے کا بھی۔
یہ وقت بیٹیوں کی کامیابی کا جشن منانے کا بھی ہے، اور بیٹوں کی خاموش شکست کو سمجھنے کا بھی۔
یہ وقت فخر کا بھی ہے، فکر کا بھی ہے، اور فیصلے کا بھی ہے۔
اگر ہم نے آج تعلیم کو صرف نتیجوں کی فائلوں میں بند رکھا تو کل سماج اپنی سمت کھو دے گا۔
اگر ہم نے آج بیٹیوں کو علم دیا مگر بیٹوں کو مقصد نہ دیا تو کل گھر روشن بھی ہوں گے اور بے چین بھی۔
اگر ہم نے آج کلاس روم کو انسان سازی کا مرکز نہ بنایا تو کل ڈگریاں ہوں گی، مگر کردار کمزور ہوگا؛ نوکریاں ہوں گی، مگر مقصد غائب ہوگا؛ کامیابی ہوگی، مگر سکون نہیں ہوگا۔
اس لیے ہمیں آج ہی عہد کرنا ہوگا کہ تعلیم کو صرف امتحان نہیں رہنے دیں گے، اسے تحریک بنائیں گے؛ اسے صرف روزگار نہیں رہنے دیں گے، اسے کردار بنائیں گے؛ اسے صرف ڈگری نہیں رہنے دیں گے، اسے تہذیب کی تعمیر کا ذریعہ بنائیں گے۔
قومیں اُس وقت ترقی کرتی ہیں جب وہ اپنی بیٹیوں کو تعلیم دیتی ہیں،
مگر تہذیبیں اُس وقت محفوظ رہتی ہیں جب وہ اپنے بیٹوں کو بھی گم ہونے نہیں دیتیں۔
بھارت کا مستقبل کسی دفتر کی فائل میں نہیں، کسی پالیسی کے صفحے پر نہیں، کسی تقریر کے نعرے میں نہیں؛ بھارت کا مستقبل اس کے کلاس روم میں بیٹھے بچوں کی آنکھوں میں لکھا جا رہا ہے۔
اور خلیلِ وقت!
اگر ہم نے اس تحریر کو آج نہ پڑھا،تو کل تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے