कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

انسانی دماغ کی کیمیا اور جذبات

ڈوپامین سیروٹونن اور انسانی احساسات میں مضمر کیمائی اجزا کا سائنسی و نفسیاتی مطالعہ

از قلم :محمود علی لیکچرر
8055402819

برج نارائن چکپست نے کیا خوب کہا تھا
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے انہی اجزا کا پریشاں ہونا
انسانی جسم مختلف کیمیائی عناصر (Chemical Elements) سے مل کر بنا ہے۔ یہ عناصر جسم کے خلیات، خون ہڈیوں عضلات اور دماغ کی ساخت اور کارکردگی کے لیے ضروری ہوتے ہیں
انسانی زندگی احساسات جذبات اور نفسیاتی کیفیات کا ایک حسین مگر پیچیدہ مجموعہ ہے خوشی غم محبت خوف امید مایوسی سکون اور بے چینی جیسی کیفیتیں انسانی شخصیت کو تشکیل دیتی ہیں۔ قدیم زمانے میں ان جذبات کو صرف روحانی یا قلبی معاملات سمجھا جاتا تھا مگر جدید سائنس اور نیوروسائنس نے ثابت کیا ہے کہ انسانی جذبات کے پیچھے دماغ میں موجود مخصوص کیمیائی مادّے اور اعصابی نظام اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی کیمیائی عناصر انسان کے رویّوں سوچ، عادات اور نفسیاتی کیفیتوں کو متاثر کرتے ہیں۔
ماہرینِ نفسیات کے مطابق انسانی دماغ اربوں عصبی خلیات (Neurons) پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ خلیات آپس میں کیمیائی پیغامات کے ذریعے رابطہ قائم کرتے ہیں۔ ان پیغامات کو “نیورو ٹرانسمیٹرز کہا جاتا ہے۔ یہی نیورو ٹرانسمیٹرز انسانی جذبات اور احساسات کی بنیاد بنتے ہیں۔
ڈوپامین، خوشی اور کامیابی کا کیمیکل:
ڈوپامین انسانی دماغ کا ایک اہم نیورو ٹرانسمیٹر ہے جسے عموماً خوشی کا کیمیکل کہا جاتا ہے۔ جب انسان کوئی کامیابی حاصل کرتا ہے، تعریف سنتا ہے، پسندیدہ غذا کھاتا ہے یا محبت کا احساس محسوس کرتا ہے تو دماغ میں ڈوپامین کی مقدار بڑھ جاتی ہے
ڈوپامین انسان میں تحریک جوش امید اور کامیابی کی خواہش پیدا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان بار بار اُن کاموں کی طرف مائل ہوتا ہے جن سے اسے خوشی محسوس ہو۔ سوشل میڈیا پر لائکس، تعریف اور توجہ بھی ڈوپامین کو متحرک کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق موبائل فون اور انٹرنیٹ کی بعض عادتیں اسی وجہ سے لت (Addiction) کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔
عاشق و معشوق ایک دوسرے سے منفی یا مثبت اپنے رویوں سے ڈپامین گھٹا یا بڑھا سکتے ہیں
تاہم ڈوپامین کا غیر متوازن ہونا انسان کو بے چینی ذہنی دباؤ اور غیر ضروری خواہشات کی طرف بھی لے جا سکتا ہے۔
سیروٹونن، ذہنی سکون اور توازن:
سیروٹونن ایک ایسا کیمیائی مادّہ ہے جو ذہنی سکون، جذباتی توازن اور خوشگوار احساسات سے تعلق رکھتا ہے۔ اگر دماغ میں اس کی مقدار کم ہو جائے تو انسان ڈپریشن بے خوابی بے چینی اور چڑچڑے پن کا شکار ہو سکتا ہے۔
قدرتی روشنی ورزش اچھی غذا، مثبت سوچ اور سماجی تعلقات سیروٹونن کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرینِ نفسیات ذہنی سکون کے لیے متوازن طرزِ زندگی اختیار کرنے پر زور دیتے ہیں۔
آکسیٹوسن ،محبت اور اعتماد کا ہارمون:
آکسیٹوسن کو محبت کا ہارمون بھی کہا جاتا ہے۔ یہ انسان میں جذباتی وابستگی اعتماد اور قربت پیدا کرتا ہے۔ ماں اور بچے کے تعلق دوستی خلوص اور ہمدردی میں اس کا اہم کردار ہوتا ہے۔
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ مثبت تعلقات اور محبت بھرے رویّے انسان کی ذہنی صحت کو بہتر بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تنہائی اور معاشرتی دوری انسان کو نفسیاتی مسائل کی طرف دھکیل سکتی ہے۔پہلی بیوی ہوتے ہوے دوسری شادی بھی مسائل کو بڑھاتی ہے قدیم یہودی روایات اور تورات میں بعض انبیاء اور شخصیات کی ایک سے زیادہ بیویاں ہونے کا ذکر ملتا ہے اس لیے ابتدائی دور میں کثیر الزوجی مکمل طور پر ممنوع نہیں تھی۔
لیکن تقریباً گیارہویں صدی میں ایک مشہور یہودی عالم ربی گیرشوم نے یورپی یہودیوں (Ashkenazi Jews) کے لیے ایک سے زیادہ شادیوں پر پابندی عائد کی۔ اس فیصلے کی وجہ
خاندانی تنازعات
عورتوں کے حقوق
سماجی استحکام
اور معاشرتی نظم
اینڈورفنز، قدرتی سکون آور نظام
اینڈورفنز جسم کے قدرتی درد کم کرنے والے کیمیائی مادّے ہیں۔ ورزش ہنسی خوشگوار گفتگو اور مثبت سرگرمیوں کے دوران یہ خارج ہوتے ہیں۔ یہ انسان کو سکون، تازگی اور خوشی کا احساس دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق جسمانی ورزش نہ صرف جسم بلکہ ذہنی صحت کے لیے بھی بے حد مفید ہے کیونکہ یہ دماغ میں مثبت کیمیکل پیدا کرتی ہے۔
کورٹیسول اور ذہنی دباؤ:
کورٹیسول کو اسٹریس ہارمون کہا جاتا ہے۔ جب انسان خوف پریشانی یا ذہنی دباؤ کا شکار ہوتا ہے تو جسم میں کورٹیسول بڑھ جاتا ہے۔ اگر یہ کیفیت مسلسل برقرار رہے تو انسان بے خوابی غصے، تھکن اور ذہنی کمزوری کا شکار ہو سکتا ہے۔
جدید دور کی تیز رفتار زندگی معاشی مسائل خاندانی دباؤ اور سماجی مقابلہ بازی نے انسان میں ذہنی دباؤ کو بڑھا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نفسیاتی بیماریوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
دماغ اور انسانی رویّے:
نیوروسائنس کے مطابق انسانی دماغ کے مختلف حصے جذبات کو کنٹرول کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر:
Amygdala خوف اور جذبات سے متعلق ہے
Hippocampus یادداشت سے وابستہ ہے
Prefrontal Cortex سوچ، فیصلہ سازی اور شعور کا مرکز سمجھا جاتا ہے
یہ تمام حصے ایک مربوط نظام کے تحت کام کرتے ہیں اور انسانی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مذہب، روحانیت اور ذہنی سکون:
اسلامی تعلیمات انسان کو صبر، شکر، امید اور اعتدال کا درس دیتی ہیں۔ عبادت دعا، ذکر اور روحانی وابستگی انسان کے ذہنی سکون میں اضافہ کرتی ہے۔ جدید تحقیقات بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ روحانی وابستگی اور مثبت سوچ ذہنی دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
انسانی جذبات محض خیالات یا جذباتی کیفیتوں کا نام نہیں بلکہ ان کے پیچھے دماغ کی ایک مکمل کیمیائی اور اعصابی دنیا موجود ہے۔ ڈوپامین سیروٹونن آکسیٹوسن اور دیگر نیورو ٹرانسمیٹرز انسانی خوشی غم محبت اور سکون میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھے متوازن زندگی اپنائے مثبت تعلقات قائم کرے اور روحانی و اخلاقی اقدار کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔ کیونکہ ایک صحت مند دماغ ہی ایک متوازن پُرسکون اور کامیاب معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
کبھی کبھی جناب غالب کا ڈپامین بڑھ جاتا تو وہ یہ شعر کہتے
باغ شگفتہ تیرا بساطِ نشاطِ دل
ابرِ بہار خم کدۂ کس کے دماغ کا
ختم شد

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے