कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

قرآن، سائنس اور خلا کا حیرت انگیز سفر

از قلم : عارف محمد خان، جلگاؤں

انسان کا خلائی سفر اور زمین کی کششِ ثقل:
اللہ تعالیٰ نے اس وسیع و عریض کائنات کو بے شمار رازوں اور حکمتوں سے بھر دیا ہے۔ انسان جب سے زمین پر آیا، اس نے آسمان کی وسعتوں کو حیرت اور تجسس کی نگاہ سے دیکھا۔ چمکتے ہوئے ستارے، گردش کرتے سیارے، سورج اور چاند ہمیشہ انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتے رہے۔ جدید سائنس نے جب ترقی کی تو انسان نے صرف آسمان کو دیکھنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ خلا میں سفر کرنے کا خواب بھی پورا کر دکھایا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ قرآنِ مجید نے چودہ سو سال پہلے ہی انسان کو کائنات پر غور و فکر کی دعوت دی اور ایسی حقیقتوں کی طرف اشارہ کیا جنہیں آج سائنس دریافت کر رہی ہے۔
انسان کا خلائی سفر:
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَن تَنفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ فَانفُذُوا ۚ لَا تَنفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَانٍ
(سورۃ الرحمن: 33)
ترجمہ:
“اے گروہِ جنّات اور انسان! اگر تم آسمانوں اور زمین کی حدود سے نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ، لیکن تم قوت اور علم کے بغیر ایسا نہیں کر سکتے۔”
اس آیتِ مبارکہ میں “سلطان” کا لفظ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ مفسرین نے اس کے معنی قوت، اقتدار، علم اور دلیل کے بیان کیے ہیں۔ آج کی جدید سائنس، ٹیکنالوجی اور راکٹ سائنس اسی “سلطان” کی عملی شکل ہے جس کی مدد سے انسان نے خلا تک رسائی حاصل کی۔
خلائی تحقیق کی ابتدا:
انسان نے بیسویں صدی میں خلائی سفر کا باقاعدہ آغاز کیا۔ 4 اکتوبر 1957ء کو سابق سوویت یونین نے دنیا کا پہلا مصنوعی سیارہ “اسپوتنک” خلا میں بھیجا۔ یہ واقعہ انسانی تاریخ میں ایک عظیم انقلاب ثابت ہوا۔ اس کے بعد خلائی تحقیق میں تیزی آگئی۔
12 اپریل 1961ء کو روسی خلا باز یوری گاگارین خلا میں جانے والا پہلا انسان بنا۔ اس نے “ووسٹوک-1” نامی خلائی جہاز کے ذریعے زمین کا چکر لگایا۔ یہ کامیابی انسان کے خوابوں کی تعبیر تھی۔
پھر 20 جولائی 1969ء کو امریکہ کے خلائی ادارے ناسا کے خلا باز نیل آرمسٹرانگ نے چاند پر قدم رکھ کر تاریخ رقم کردی۔ اس موقع پر اس کے مشہور الفاظ تھے:
“یہ انسان کا ایک چھوٹا قدم لیکن انسانیت کی ایک بہت بڑی جست ہے۔”
یہ کامیابیاں دراصل علم، تحقیق اور مسلسل محنت کا نتیجہ تھیں، جن کی طرف قرآن نے صدیوں پہلے توجہ دلائی تھی۔
زمین کی کششِ ثقل:
زمین اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ اس پر زندگی کا قائم رہنا کئی قدرتی نظاموں کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ ان میں سب سے اہم نظام “کششِ ثقل” ہے۔
کششِ ثقل وہ قوت ہے جو ہر چیز کو زمین کی طرف کھینچتی ہے۔ اگر یہ قوت نہ ہوتی تو انسان، جانور، درخت، سمندر حتیٰ کہ فضا بھی زمین پر قائم نہ رہتی۔
قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
أَمَّنْ جَعَلَ الْأَرْضَ قَرَارًا وَجَعَلَ خِلَالَهَا أَنْهَارًا وَجَعَلَ لَهَا رَوَاسِيَ
(سورۃ النمل: 61)
ترجمہ:
“بھلا وہ کون ہے جس نے زمین کو جائے قرار بنایا، اس میں ندیاں جاری کیں اور اس کے لیے پہاڑ بنائے؟”
اس آیت میں زمین کو “قرار” یعنی سکون و استحکام کی جگہ قرار دیا گیا۔ جدید سائنس بتاتی ہے کہ زمین کی کششِ ثقل ہی ہر چیز کو متوازن رکھتی ہے۔ اگر کششِ ثقل کم ہوجائے تو انسان ہوا میں معلق ہوجائے اور اگر زیادہ ہوجائے تو زندگی مشکل ہوجائے۔
کششِ ثقل اور سائنسی حقیقت:
مشہور سائنس دان آئزک نیوٹن نے کششِ ثقل کا قانون پیش کیا۔ اس کے مطابق کائنات کی ہر چیز دوسری چیز کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ زمین چونکہ بہت بڑی ہے اس لیے اس کی کشش بھی زیادہ ہے۔
زمین کی کششِ ثقل کی اوسط رفتار تقریباً 9.8 میٹر فی سیکنڈ ہے۔ یہی قوت ہمیں زمین پر قائم رکھتی ہے۔ جب کوئی راکٹ خلا میں جاتا ہے تو اسے زمین کی کشش سے نکلنے کے لیے بہت زیادہ رفتار حاصل کرنا پڑتی ہے، جسے “Escape Velocity” کہا جاتا ہے۔ یہ رفتار تقریباً 11.2 کلومیٹر فی سیکنڈ ہوتی ہے۔
خلا میں بے وزنی کی کیفیت:
جب خلا باز زمین کی کشش سے دور چلے جاتے ہیں تو وہاں “بے وزنی” کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس حالت میں انسان ہوا میں تیرنے لگتا ہے۔ خلا بازوں کی تصاویر میں انہیں فضا میں معلق دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ سب زمین کی کششِ ثقل کے کمزور ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔
قرآن اور سائنس کا حسین امتزاج:
قرآنِ کریم سائنس کی کتاب نہیں، بلکہ ہدایت کی کتاب ہے۔ تاہم اس میں ایسی بے شمار نشانیاں موجود ہیں جو انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں۔ قرآن نے انسان کو کائنات کے راز جاننے کی ترغیب دی، اور آج سائنس انہی رازوں کو دریافت کر رہی ہے۔
خلائی سفر، زمین کی کششِ ثقل، سیاروں کی گردش اور کائنات کی وسعت — یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کے عظیم مظاہر ہیں۔ انسان جتنا زیادہ علم حاصل کرتا ہے اتنا ہی اسے خالقِ کائنات کی عظمت کا احساس ہوتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے