कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

فرائض کے ساتھ ہرنیک کام کی ادائیگی میں جان،مال اور دماغ کی قوت صرف کرنا جہاد ہے

جہاد کا مفہوم بہت وسیع ہے،جامع مسجد ہرنتھ میں معروف صحافی مولاناسرفرازاحمدقاسمی کا فکرانگیز خطاب

بھاگلپور 16مئی (پریس ریلیز)اسلام میں جہاد کی اہمیت کیا ہے؟یہ کسے کہتے ہیں؟جہاد کیوں فرض ہوا؟لفظ جہاد دراصل جہد سے ماخوذ ہے،جسکے معنی جدوجہد اور کوشش کے آتے ہیں،اصطلاحی معنی بھی تقریبا یہی ہیں،یعنی حق کی بلندی اوراسکی اشاعت وحفاظت کےلئے ہرقسم کی سعی،قربانی،ایثار کےعلاوہ ان تمام جسمانی و مالی اور دماغی قوتوں کو جو اللہ کی جانب سے بندوں کو ملی ہیں،اس راہ میں صرف کرنا،یہاں تک کہ اس کے لیے اپنی،اپنے عزیز و اقارب،اہل و عیال،خاندان اور قوم کی جان تک کو قربان کردینا،حق کے مخالفوں اور دشمنوں کی کوششوں کو ناکام بنانا،ان کی تدبیروں کو رائیگاں کرنا،ان کے حملوں کو روکنا اور اس کے لیے اگر میدان جنگ میں ان سے لڑنا پڑے تو اس کے لیے بھی پوری طرح تیار رہنا یہی جہاد ہے،یہ اسلام کا ایک اہم رکن اور بہت بڑی عبادت ہے”ان خیالات کا اظہار حیدرآباد دکن سے تشریف لائے،ملک کے نامور عالم دین اور ممتاز صحافی مولاناسرفرازاحمدقاسمی نے جامع مسجد ہرنتھ،بھاگلپور میں اپنے ایک فکرانگیز خطاب کے دوران کیا،انہوں نے کہا کہ اسلام میں عبادات کے سلسلے میں عام طور پر جہاد کا نام فقہاء کی تحریروں میں نہیں ملتا مگرقران کریم اور احادیث نبوی میں اس کی فرضیت و اہمیت دوسرے فقہی احکام اورعبادات سے بدرجہا زیادہ ہے،جہاد کے معنی عموما قتال اور لڑائی کے سمجھے جاتے ہیں مگر مفہوم کی یہ تنگی اور تحدید قطعا منشا شریعت کے خلاف ہے۔جب جہاد کے معنی محنت،سعی بلیغ اورجدوجہد کے ہیں تو پھر ہر نیک کام اس کے تحت آئے گا،انہوں نے کہا کہ اہل تصوف کے یہاں جہاد کی سب سے اعلی قسم خود اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرنا ہے اور اسی کا نام ان کے یہاں جہاد اکبر ہے،خطیب بغدادی اپنی تاریخ میں حضرت جابر سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ان صحابہ سے جو میدان جہاد سے واپس آئے تھے،فرمایا تمہارا آنا مبارک ہو!تم چھوٹے جہاد یعنی غزوہ سے بڑے جہاد کی طرف لوٹ کرآئے ہو،واضح رہے کہ بڑا جہاد بندے کا اپنے نفس کی خواہشوں سے لڑنا ہے،حدیث میں اس مضمون کی اور بھی بہت سی روایات ہیں،چنانچہ ابن نجار نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا بہترین جہاد یہ ہے کہ تم خدا کے لیے اپنے نفس اور اپنی خواہش سے جہاد کرو،قران کریم میں جگہ جگہ مسلمانوں کو حق کے لیے ہرمصیبت و تکلیف میں ثابت قدم اور بے خوف رہنے کی تعلیم دی گئی ہے اوراگلے پیغمبروں کے کارناموں کا ذکر کیا گیا ہے کہ مشکلات کے وقت وہ کیسے ثابت قدم رہے بالآخر خدا نے ان کو کامیاب اور ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا،مولانا قاسمی جن کا شمار ملک کے ممتاز مفکروں میں ہوتا ہے،انہوں نے کہا کہ اللہ کی ذات کے حصول میں محنت اور جہدوجہد کرنا جہاد اکبر ہے،جس پر ملت ابراہیمی کی بنیاد ہے یعنی حق کی راہ میں عیش وآرام،اہل و عیال اور جان و مال ہر چیز کو قربان کردینا اصل جہاد ہے،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار صحابہ سے فرمایا کہ مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس سے جہاد کرے،ایک دوسری ایک حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے صحابہ سے پوچھا کہ تم پہلوان کس کو کہتے ہو تو جواب دیا گیا جس کو لوگ نہ پچھاڑ سکیں،آپ نے فرمایا نہیں!اصل پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس کو قابو میں رکھے۔انہوں نے کہا کہ جہاد کی کئی قسمیں ہیں جہاد بالعلم،جہاد باللسان،جہاد بالمال اورجہاد بالنفس وغیرہ،دنیا کا تمام شر و فساد جہالت کا نتیجہ ہے،اس کا دور کرنا ہر حق طلب کے لیے ضروری ہے،ایک انسان کے پاس اگر عقل و معرفت اور علم و دانش کی روشنی ہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ اس سے دوسرے تاریک دلوں کو فائدہ پہنچائے،تلوار کی دلیل سے قلب میں وہ طمانیت پیدا نہیں ہوسکتی جو دلیل و برہان کی قوت سے لوگوں کے سینوں میں پیدا ہوتی ہے۔امام ابوبکررازی حنفی نے احکام القران میں اس پر لطیف بحث کی ہے اور لکھا ہے کہ جہاد بالعلم کا درجہ جہاد بالنفس اور جہاد بالمال ان دونوں سے بڑھ کر ہے،ایک مسلمان کا فرض ہے کہ حق کی حمایت اور دین کی نصرت کے لیے عقل و فہم،علم و بصیرت حاصل کرے اور وہ تمام علوم جو اس راہ میں کام آسکتے ہوں،ان کو اس لیے حاصل کرے کہ ان سے حق کی اشاعت اور دین کی مدافعت کا فریضہ انجام دے گا یہ علم کا جہاد ہے جواہل علم پرفرض ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ انسان کو اللہ تعالی نے جو مال و دولت عطا کی ہے،اس کا منشا بھی یہ ہے کہ اس کو خدا کی مرضی کے راستوں میں خرچ کیا جائے،یہاں تک کہ اس کو اپنے اور اپنے اہل وعیال کے آرام و آسائش کے لیے بھی خرچ کیاجائے تو اسی کی رضا کے حصول کے لیے ہو،دنیا کا ہر کام،سرمایہ کا محتاج ہوتاہے،چنانچہ حق کی حمایت اور نصرت کے کام بھی اکثر مالی سرمایے پر موقوف ہیں،اس لیے جہاد بالمال کی اہمیت بھی کچھ کم نہیں ہے،دوسری اجتماعی تحریکوں کی طرح اسلام کو بھی اپنی ہرقسم کی تحریکات اور جدوجہد میں سرمایہ کی ضرورت ہے،اس سرمایہ کا فراہم کرنا اور اس کے لیے مسلمانوں کا اپنے اوپر ہرطرح کا ایثار گوارا کرنا جہاد بالمال ہے،نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت و برکت سے صحابہ کرام نے اپنی عام غربت اور ناداری کے باوجود اسلام کی سخت گھڑیوں میں جس طرح مالی جہاد کیا ہے وہ اسلام کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے،اسی لیے اسلام میں صحابہ کا بہت بڑا مقام ہے۔مولانا قاسمی جو روز نامہ منصف حیدرآباد کے کالم نگار ہیں،تقریبا آدھے گھنٹے کے خطاب میں انہوں نے کہا کہ جہاد بالمال کو جہاد بالنفس پر مقدم کرنے کے کئی اسباب اور مصلحتیں ہیں،میدان جنگ میں ذاتی اور جسمانی شرکت ہر شخص کے لیے ممکن نہیں لیکن مالی شرکت ہر ایک کے لیے آسان ہے،جسمانی جہاد کی ضرورت ہر وقت پیش نہیں آئی لیکن مالی جہاد کی ضرورت ہروقت اور ہر آن ہوئی ہے،انسانی کمزوری یہ ہے کہ مال کی محبت اس کی جان کی محبت پر غالب آجاتی ہے اس لیے جان پر مال کو مقدم رکھ کر ہر قدم پر انسان کو اس کی کمزوری پر مطلع کیا گیا ہے۔جہاد کے ان اقسام کے علاوہ ہر نیک کام اور ہر فرض کی ادائیگی میں جان و مال اور دماغ کی قوت صرف کرنے کا نام بھی جہاد ہے،خواتین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر عرض کرتیں کہ یا رسول اللہ! ہم کو غزوات کے جہاد میں شرکت کی اجازت دی جائے تو ارشاد ہوتا کہ تمہارا جہاد نیک حج ہے کہ اس مقدس سفر کے لیے سفر کی تمام صحبتوں کو برداشت کرنا صنف نازک کا ایک قسم کا جہاد ہی ہے،ایسے ہی یمن سے چل کر ایک صحابی خدمت اقدس میں اس لیے حاضر ہوتے ہیں کہ کسی غزوہ اور کسی جنگ میں شرکت کرسکیں،آپ نے ان سے دریافت فرمایا کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟ تو انہوں نے عرض کیا جی ہاں! آپ نے فرمایا تب تو تم انہی کی خدمت میں رہ کرجہاد کرو،یعنی ماں باپ کی خدمت کرنا بھی جہاد ہے،اسی طرح خطرناک سے خطرناک مواقع پر حق کے اظہار میں بے باک ہونا بھی جہاد ہے،چنانچہ ایک موقع پر آپ نے ارشاد فرمایا ایک بڑا جہاد کسی ظالم قوت کے سامنے انصاف کی بات کہہ دینا ہے،اس سے معلوم ہوا کہ جہاد بالنفس یعنی اپنی جسم وجان سے جہاد کرنا ان تمام اقسام میں داخل ہے،جن میں انسان کی کوئی جسمانی محنت صرف ہوئی ہو اور اس کی آخری حدخطرات سے بے پرواہ ہو کر اپنی زندگی کو بھی خدا کی راہ میں نثار کردینا ہے،نیز دشمنان دین سے اگر مقابلہ آپڑے اور وہ حق کی مخالفت پرتل جائے تو ان کو راستے سے ہٹانا اور اس صورت میں ان کی جان لینا یا اپنی جان دینا جہاد بالنفس کا انتہائی اعلی درجہ ہے،انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک اور ہمارے معاشرے میں ایک منظم پلاننگ کے تحت جہاد کی غلط تصویر پیش کی جاتی ہے اور جہاد کا نام لیکر اسلام کو بدنام کیا جاتاہے،جہاد کے کئی معنی ہیں لیکن ایک ہی معنی عام کرنے اور بعض گوشوں سے اسکو پھیلایاجاتاہے،بہت سے پڑھے لکھے لوگ بھی جہاد کا مطلب صرف ایک ہی سمجھتے ہیں اور پروپیگنڈہ کا شکار ہوجاتے ہیں یعنی میدان میں دشمنوں سے مقابلہ کرنا اور جنگ کرنا جبکہ یہ درست نہیں ہے،حق کی راہ میں دائمی جہاد وہ جہاد ہے،جو ہر مسلمان کو ہروقت پیش آسکتا ہے،اس لیے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر امتی اور ہرمسلمان پر فرض ہے کہ وہ دین کی حمایت،علم دین کی اشاعت،حق کی نصرت،غریبوں کی مدد،تنگ دستوں کی امداد،امر بالمعروف اور نہی عن المنکر،اقامت عدل،رد ظلم اور احکام الہی کی تعمیل میں ہمہ وقت اور ہمہ تن لگا رہے،یہاں تک کہ اس کی زندگی کی ہرجنبش اورنقل وحرکت ایک جہاد بن جائے اور اس کی پوری زندگی جہاد کا ایک غیر منقطع سلسلہ نظرآئے،اللہ تعالی ہم سب کو اپنی مرضیات پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائے مولانا کی دعاء پر اجتماع ختم ہوا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے