कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

شادی بیاہ کے رسم و رواج اور ڈرامائی ثقافت کے مضر اثرات

The Harmful Effects of Wedding Customs and Dramatic Culture

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

انفرادی معاملات ہوں یا اجتماعی، معاشرتی نظام ہو یا خاندانی زندگی،اسلام نے ہر پہلو کو اعتدال، سادگی اور پاکیزگی کے اصولوں کے تحت منظم کیا ہے۔ انہی اہم شعبوں میں سے ایک نکاح کا مقدّس ادارہ بھی ہے، جسے اسلام نے نہ صرف انسانی فطرت کے عین مطابق قرار دیا بلکہ اسے عبادت کا درجہ دے کر اس کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا ہے۔ نکاح محض ایک سماجی معاہدہ نہیں بلکہ دو افراد، دو خاندانوں اور بسا اوقات دو نسلوں کے درمیان ایک پاکیزہ رشتہ ہے، جس کی بنیاد محبت، رحمت اور ذمّہ داری پر رکھی گئی ہے۔ اسلام نے اس رشتے کو آسان، باوقار اور بابرکت بنانے کے لیے واضح اصول عطا کیے ہیں، تاکہ معاشرہ پاکیزگی، استحکام اور اخلاقی توازن کا مظہر بن سکے۔
افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس سادہ اور بابرکت نظام میں مختلف غیر ضروری رسومات، ثقافتی اثرات اور مصنوعی تقاضے شامل ہوتے گئے، جنہوں نے نکاح کو ایک مشکل اور بوجھل عمل بنا دیا ہے۔ خصوصاً موجودہ دور میں میڈیا اور ڈرامائی ثقافت نے ان رجحانات کو مزید تقویت دی ہے، جس کے نتیجے میں شادی بیاہ کی اصل روح متاثر ہو رہی ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں انہی رسم و رواج اور ڈرامائی ثقافت کے مضر اثرات کا جائزہ لیا جائے گا، اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک متوازن اور اصلاحی نقطۂ نظر پیش کیا جائے گا۔
شادی انسانی معاشرے کی ایک بنیادی اور ناگزیر ضرورت ہے۔ یہ نہ صرف نسلِ انسانی کے تسلسل کا ذریعہ ہے بلکہ ایک پاکیزہ، باوقار اور متوازن معاشرتی نظام کی بنیاد بھی ہے۔ ہر مذہب اور ہر تہذیب نے اس اہم عمل کے لیے اپنے اپنے اصول و ضوابط اور رسوم مقرر کیے ہیں۔ ان رسوم کی نوعیت اور حدود میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ بعض معاشروں میں یہ رسوم سادگی، فطرت اور اخلاقی اقدار کے قریب ہیں، جب کہ بعض میں یہ حد سے بڑھی ہوئی پیچیدگیوں، فضول اخراجات اور غیر ضروری تکلفات کا مجموعہ بن چکی ہیں۔
اسلام نے شادی کو ایک مقدّس عبادت اور سماجی معاہدہ قرار دیا ہے۔ دورِ نبوت میں نکاح کی تقریب نہایت سادہ، بامقصد اور برکتوں سے بھرپور ہوا کرتی تھی۔ نہ وہاں نمود و نمائش کا شوق تھا، نہ ہی فضول رسومات کا بوجھ۔ نکاح ایک مسجد یا سادہ مقام پر چند گواہوں کی موجودگی میں انجام پاتا، خطبۂ نکاح پڑھا جاتا، مہر مقرر کیا جاتا اور اس کے بعد ایک سادہ ولیمہ کے ذریعے خوشی کا اظہار کیا جاتا۔ اس پورے عمل میں نہ کوئی غیر ضروری رسم تھی اور نہ ہی کسی قسم کی مالی یا جسمانی مشقت۔ اصل توجہ اس بات پر ہوتی تھی کہ دو افراد ایک پاکیزہ رشتے میں بندھ کر ایک نئی زندگی کا آغاز کریں۔
اسلام نے نکاح کو نہ صرف ایک سماجی ضرورت بلکہ ایک دینی فریضہ قرار دیا ہے، اور اس کے آسان بنانے کی بھرپور تلقین کی ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہوتا ہے: "وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنكُمْ…” (سورۂ نور: 32)۔ یعنی تم میں سے جو لوگ بے نکاح ہیں، ان کے نکاح کر دیا کرو۔ اس آیت میں نکاح کو عام کرنے اور معاشرے میں اس کے فروغ کی واضح ہدایت دی گئی ہے، تاکہ پاکیزہ اور منظم معاشرہ قائم ہو سکے۔ اسی قرآنی حکم کی عملی تشریح ہمیں رسول اکرمﷺ کی تعلیمات میں ملتی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: "أَعْظَمُ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مَؤُونَةً” یعنی سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہے جو کم خرچ اور آسان ہو۔ گویا قرآن نکاح کے قیام اور اس کے فروغ کا حکم دیتا ہے، جب کہ حدیث اس کے طریقۂ کار کو سادگی، آسانی اور اعتدال کے ساتھ وابستہ کرتی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں نکاح کو مشکل اور بوجھل بنانے کے بجائے اسے سہل اور بابرکت بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
برصغیر کے مسلم معاشرے میں بھی ایک زمانہ ایسا گزرا ہے جب شادی بیاہ نہایت سادگی، وقار اور اعتدال کے ساتھ انجام پاتے تھے۔ ہمارے بزرگوں کے دور میں نہ مہندی، مایوں اور دیگر طویل رسومات کا بوجھ تھا اور نہ ہی بے جا نمود و نمائش کا رجحان۔ نکاح عموماً مسجد یا گھر میں سادگی سے انجام پاتا، چند قریبی عزیز و اقارب شریک ہوتے، مہر مقرر کیا جاتا اور اس کے بعد ایک مختصر اور سادہ ولیمہ کر دیا جاتا۔ اس سارے عمل میں اخلاص، محبت اور برکت کو اصل اہمیت حاصل ہوتی تھی، نہ کہ ظاہری شان و شوکت کو۔ اکثر یہ بھی دیکھنے میں آتا تھا کہ والدین اپنی حیثیت کے مطابق سادہ انداز میں بیٹی کو رخصت کر دیتے تھے، اور اسے باعثِ عزّت و وقار سمجھا جاتا تھا، نہ کہ کسی کمی یا محرومی کا نشان۔ نہ قرض لینے کی نوبت آتی تھی اور نہ ہی شادی ایک معاشی بوجھ بنتی تھی۔ یوں یہ تقریبات خوشی اور آسانی کا ذریعہ ہوتی تھیں، نہ کہ پریشانی اور دکھ کا سبب۔
لیکن افسوس کہ آج کا معاشرہ، خصوصاً برصغیر کا مسلم معاشرہ، اس سادہ اور بابرکت نظام سے بہت دور جا چکا ہے۔ شادی کو ایک مشکل ترین مرحلہ بنا دیا گیا ہے۔ رشتہ طے ہونے سے لے کر رخصتی تک ہر قدم پر ایسی رسومات شامل کر دی گئی ہیں جن کا نہ دین سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی عقلِ سلیم سے۔ مہندی، ہلدی، مایوں، بارات، جہیز، اور دیگر بے شمار تقاریب یہ سب ایک ایسا سلسلہ بن چکی ہیں جس میں وقت، دولت اور توانائی کا بے دریغ ضیاع ہوتا ہے۔
ہلدی اور مہندی کی رسومات میں مخصوص رنگ کے لباس، ناچ گانا، اور مخلوط محافل کا انعقاد، یہ سب ایسے عناصر ہیں جو نہ صرف اسلامی تعلیمات سے متصادم ہیں بلکہ اخلاقی انحطاط کا بھی باعث بنتے ہیں۔ ان رسومات کا جائزہ لینے سے واضح ہوتا ہے کہ ان میں سے اکثر کا تعلق مشرکانہ تہذیب سے ہے، جب کہ کچھ مغربی ثقافت سے مستعار لی گئی ہیں۔ یوں ایک ایسا مرکب کلچر وجود میں آ گیا ہے جو نہ مکمل طور پر مشرقی ہے اور نہ ہی اسلامی، بلکہ ایک بے سمت اور غیر متوازن طرزِ زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ فضول رسومات اور بے جا اخراجات اکثر لوگوں کو اس حد تک مجبور کر دیتے ہیں کہ وہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرنے لگتے ہیں، حتیٰ کہ بعض خاندان شادی جیسی خوشی کی تقریب کے لیے قرض لینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک وقتی سہولت محسوس ہوتی ہے، مگر درحقیقت یہ قرض بعد میں ایک مستقل معاشی بوجھ بن جاتا ہے، جو برسوں تک انسان کو پریشانی اور تنگی میں مبتلا رکھتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر متوسط اور غریب طبقے پر پڑتا ہے، جو پہلے ہی محدود وسائل کے ساتھ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔
معاشرتی دباؤ اور رسم و رواج کی پابندی انہیں مجبور کر دیتی ہے کہ وہ اپنی بساط سے بڑھ کر اخراجات کریں، تاکہ معاشرے میں سبکی یا تنقید کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یوں شادی جیسی آسان اور بابرکت سنّت ایک مشکل اور بوجھل مرحلہ بن جاتی ہے۔ ان غیر ضروری اخراجات اور رسومات کا ایک سنگین نتیجہ تاخیرِ نکاح کی صورت میں بھی سامنے آتا ہے۔ جب شادی کو حد سے زیادہ مہنگا اور پیچیدہ بنا دیا جائے تو بہت سے نوجوان صرف مالی مسائل کی وجہ سے نکاح کو مؤخر کرتے رہتے ہیں۔ اس تاخیر کے نتیجے میں نہ صرف ذہنی و جذباتی مسائل جنم لیتے ہیں بلکہ معاشرتی بے راہ روی اور اخلاقی بگاڑ کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
اس بگاڑ میں ایک اہم کردار پاکستانی ڈراموں نے سب سے زیادہ ادا کیا ہے۔ یہ ڈرامے بظاہر تفریح کا ذریعہ ہیں، مگر درحقیقت یہ معاشرتی اقدار کی تشکیل میں گہرا اثر رکھتے ہیں۔ ان میں دکھائی جانے والی شادیوں کو ایک شاہانہ اور پرتعیش تقریب کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ مہنگے ملبوسات، قیمتی زیورات، شاندار ہالز، اور لمبی چوڑی رسومات یہ سب ایک ایسا معیار قائم کرتے ہیں جو عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتا ہے۔ نتیجتاً، معاشرے میں ایک غیر حقیقی توقع جنم لیتی ہے، اور لوگ اپنی حیثیت سے بڑھ کر اخراجات کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
ان ڈراموں کا ایک اور نقصان یہ ہے کہ یہ محرم و نامحرم کی حدود کو دھندلا دیتے ہیں۔ شادی کی تقریبات کو اس انداز میں دکھایا جاتا ہے جہاں مرد و زن کا آزادانہ اختلاط، موسیقی، رقص اور دیگر غیر اخلاقی سرگرمیاں معمول بن جاتی ہیں۔ ناظرین، خصوصاً نوجوان نسل، ان مناظر کو دیکھ کر انہیں ایک مثالی طرزِ زندگی سمجھنے لگتی ہے، اور یوں آہستہ آہستہ معاشرتی اقدار میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔
ڈراموں اور میڈیا کے ان اثرات کا ایک اہم پہلو نوجوانوں کی نفسیات پر پڑنے والا منفی اثر بھی ہے۔ جب وہ بار بار پرتعیش شادیوں، مہنگے ملبوسات اور غیر معمولی طرزِ زندگی کو دیکھتے ہیں تو ان کے اندر لاشعوری طور پر احساسِ کمتری پیدا ہونے لگتا ہے۔ وہ اپنی سادہ زندگی اور محدود وسائل کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں، جس سے ان کی خود اعتمادی متاثر ہوتی ہے۔ اسی احساسِ کمتری کے نتیجے میں لڑکیوں اور لڑکوں کے ذہنوں میں شادی اور شریکِ حیات کے بارے میں غیر حقیقی معیار قائم ہو جاتے ہیں۔
خوبصورتی، دولت، طرزِ زندگی اور تقریبات کے حوالے سے ایسے تصورات جنم لیتے ہیں جو عملی زندگی میں اکثر ممکن نہیں ہوتے۔ یوں اصل ترجیحات یعنی اخلاق، کردار اور باہمی سمجھ بوجھ پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ ان غیر حقیقی معیاروں کا اثر ازدواجی زندگی پر بھی پڑتا ہے۔ جب نکاح ایسے خوابوں اور توقعات کے ساتھ کیا جائے جو حقیقت سے دور ہوں، تو بعد میں مایوسی، ناچاقی اور تنازعات جنم لیتے ہیں۔ نتیجتاً ازدواجی رشتہ، جو سکون اور رحمت کا ذریعہ ہونا چاہیے، وہ دباؤ اور بے اطمینانی کا شکار ہو جاتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دورِ نبوت کے سادہ اور بابرکت طریقۂ نکاح کو اپنا نمونہ بنائیں۔ شادی کو آسان بنائیں، فضول رسومات سے اجتناب کریں، اور اسے ایک بوجھ کے بجائے ایک خوشگوار اور بابرکت عمل بنائیں۔ والدین اور معاشرے کے ذمّہ دار افراد کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کی رہنمائی کریں اور انہیں اس بات کا شعور دیں کہ اصل خوشی سادگی، اخلاص اور برکت میں ہے، نہ کہ نمود و نمائش اور فضول خرچی میں۔
ان مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے میں اجتماعی اور شعوری سطح پر اصلاحی کوششیں کی جائیں۔ سب سے پہلے سادہ نکاح کی ایک مضبوط تحریک کو فروغ دیا جائے، جو لوگوں کو یہ شعور دے کہ اصل خوشی اور برکت سادگی میں ہے، نہ کہ فضول رسم و رواج میں۔ اسی سلسلے میں اجتماعی نکاح (mass weddings) جیسے اقدامات بھی نہایت مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں، جہاں کم خرچ میں متعدد نکاح انجام پا کر ایک مثبت مثال قائم کرتے ہیں۔ جہیز جیسی فرسودہ رسم کے خلاف بھرپور شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ نہ صرف معاشی بوجھ کا سبب بنتی ہے بلکہ کئی معاشرتی برائیوں کو بھی جنم دیتی ہے۔ اس سلسلے میں علماء کرام، دانشوروں اور سوشل میڈیا کا کردار نہایت اہم ہے، جو اپنی تحریروں، خطبات اور مہمات کے ذریعے عوام کی ذہن سازی کر سکتے ہیں اور سادگی و اعتدال کے پیغام کو عام کر سکتے ہیں۔
عملی طور پر بھی چند واضح اقدامات اختیار کیے جانے چاہئیں۔ نکاح کو مسجد میں عام کیا جائے تاکہ اس کی دینی حیثیت اجاگر ہو اور سادگی کو فروغ ملے۔ ولیمہ کو سنّت کے مطابق سادہ رکھا جائے، تاکہ اس میں نمود و نمائش کے بجائے شکر اور خوشی کا پہلو نمایاں ہو۔ اسی طرح غیر ضروری تقریبات اور رسومات کو بتدریج ختم کیا جائے، تاکہ شادی کو ایک آسان، بابرکت اور باوقار عمل بنایا جا سکے۔ اگر ہم نے اپنی اصلاح نہ کی تو یہ رسومات نہ صرف ہماری معیشت کو کمزور کریں گی بلکہ ہماری دینی و اخلاقی بنیادوں کو بھی کھوکھلا کر دیں گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی تہذیب، اپنی اقدار اور اپنے دین کی طرف رجوع کریں، اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جو سادگی، پاکیزگی اور اعتدال کا مظہر ہو۔
اگر ہم واقعی ایک متوازن، پاکیزہ اور باوقار معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں شادی بیاہ کے معاملے میں سادگی، اعتدال اور دینی تعلیمات کو اپنا شعار بنانا ہوگا۔ فضول رسومات، بے جا اخراجات اور غیر اسلامی روایات سے اجتناب کرتے ہوئے ہمیں نکاح کو آسان اور بابرکت بنانے کی اجتماعی کوشش کرنی چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف ہماری معاشرتی زندگی کو سنوار سکتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک صحت مند اور مضبوط بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں سادگی، اعتدال اور سنّتِ نبویؐ پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔
🗓 (09.05.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے