कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کیاہے تونے متاع غرور کا سودا!

تحریر: قطب اللہ

فلسطین کی مظلومیت اوراسرائیلی جارحیت کا مسئلہ اس وقت پوری دنیامیں پھیل چکاہے اور جنگل کی آگ کی طرح امریکہ سے نکل کر مشرق بعیدکے ممالک کی تعلیم گاہوں میں بھڑک چکی ہے۔ دوسری طرف جنگ بندی کے سلسلے میں گفتگو بھی اسرائیلی اورمغربی ممالک کی ہٹ دھرمیوں کے درمیان گھسٹ گھسٹ کر چل رہی ہے۔ عرب بھائیوں کی جانب سے سرد مہری برقرار ہے، وہ اپنے لہو لعب میں مست اپنے بھائیوں کی لاشوں پر کھڑے اوران پر ظلم وستم ڈھائے جانے کا لطف اٹھارہے ہیں۔ جو لوگ غزہ کے بچوں اورعورتوں وہرلمحہ شہید ہونے والوں پر آنسوں بہانے کے مرتکبین پر ظلم وستم ڈھارہے ہیں۔ اس کے علاوہ صیہونی مظالم وبربیت کے خلاف کھڑے ہوجانے والے ممالک ومزاحمتی تحریک کا گلا گھوٹنے کیلئے کوشاں نظرآرہے ہیں تاکہ صیہونی طاقتیں امریکہ اور مغربی ممالک انہیں اپنی ’’گڈلسٹ‘‘ سے خارج نہ کردیں۔
فلسطینی عوام اورغزہ کے بچوں وعورتوں کے خلاف ہونے والی نسل کشی پر اس وقت دنیا بھرکے طلباء تحریک چلانے پر آمادہ ہوگئے ہیں اوریہ تحریک پوری دنیا میں پھیل چکی ہے۔ اس کی ابتداء امریکہ میں اعلیٰ تعلیمی اداروں سے ہوئی تھی جہاں نیویارک اورجارج واشنگٹن یونیورسٹیوں کے طلباء نے سب سے پہلے صہیونی مظالم کے خلاف آواز بلند کی تھی۔ وہاں طلباء نے نہ صرف جلوس نکالے، نعرے لگائے بلکہ جارج واشنگٹن کے مجسمہ پر فلسطین کاپرچم آویزاں کرکے جمہوریت اورانسانیت کی آواز بلند کرنے والے اپنے لیڈر کو عقیدت کا خراج پیش کیا اور صیہونیت کی مذمت کی۔ نیویارک کے ایک بڑے آڈیٹوریم پر طلباء نے قبضہ کرکے وہاں سے پیام امن فلسطین کی اس پانچ سالہ معصوم شہید بچی کو معنون کیااوراُس ہال کا نام اُسی کے نام پر ’ہند رکھ دیا‘۔کیلیفورنیایونیورسٹی کے علاوہ وہاں کے 145اعلیٰ تعلیمی وتکنیکی اداروں میں طلباء ہڑتال پر ہیں وہاں سے یہ آگ کناڈہ کی یونیورسٹیوں میں پہنچی پھرا سکے بعد برطانیہ اوردوسرے یوروپی ممالک میں پھیل گئی۔ سب کا ایک ہی نعرہ ہے کہ فلسطین میں مکمل جنگ بندی ہو اورانسانیت کا قتل عام روکا جائے۔ یہی تحریک جب آسٹریلیا ،جرمنی اورایٹم بم کا شکار جاپان تک آپہنچی توان کے مطالبات میں یہ بھی اضافہ ہوگیا کہ امریکہ ،یوروپ اوردوسرے وہ ممالک جو اسرائیل کو اسلحہ کی سپلائی کرتے ہیں ،فوراً اس سے باز آجائیں۔ نیز اسرائیل کو انسانیت کا قاتل قرار دیاگیا۔ طلباء نے ان ممالک سے اپیل کی کہ وہ اسرائیل سے ہرقسم کی فوجی اشیاء کا تجارتی معاہدہ ختم کردیں۔ یہ تحریک بالکل اسی طرح کی ہے جس طرح گزشتہ صدی کی چھٹی دہائی میں ویتنام جنگ کے موقع پر اٹھی تھی۔
اس تحریک کے لیڈر طلباء کو سختیوں کا سامنا کرنا پڑا،دوہزار تین سو زائد امریکی طلباء مختلف یونیورسٹیوںمیں گرفتار کئے جاچکے ہیں۔ مظاہرین پر لاٹھی چارج ہورہے ہیں ، وہ زخمی ہوئے لیکن جنگ بندی کے مطالبہ سے پیچھے نہیں ہٹے۔ جرمنی میں سب سے زیادہ طلباء کو تشدد کا سامنا ہے۔ کئی یونیورسٹیوں سے طلباء کا اخراج بھی ہوچکاہے۔
اسی اثنا ء ایران نے ایک بار پھر سامنے آکر ان طلباء سے ہمدردی کا اظہار کیا اور انہیں دعوت دی کہ جن کا اخراج ہوچکاہے وہ ایران آئیں اورہماری یونیورسٹیوں میں مفت داخلہ لیں اورتعلیم حاصل کریں ۔انہیں وظائف دینے کا بھی اعلان کیاگیاہے۔ سعودی عرب نے اس سلسلے میں تو حد پارکرلی جب وہاں اسرائیل کی مخالفت میں نہیں بلکہ حماس کی حمایت میں بات کرنے والوں کی گرفتاری شروع ہوگئی، ایک رپورٹ کے مطابق اس نے اپنے کچھ شہریوں کو اس لئے گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیاہے کیونکہ وہ اسرائیلی کمپنیوں کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کی بات کررہے تھے۔ کچھ اسی قسم کی سختیاں مصر اوردوسرے عرب ممالک میں بھی جاری ہیں۔ چونکہ سعودی عرب متحدہ عراب امارات اوربحرین کی سکیورٹی بالواسطہ طور پر امریکہ ہی سنبھالتاہے۔ اس لئے ان ممالک میں اس کی مرضی کے خلاف کچھ بھی نہیں ہوسکتاہے۔ حرمین شریفین میں ماہ رمضان میں صیہونی مظالم کے خلاف اورامت محمدیہ کے حق میں جودعائیں کی گئی تھیں اس پر بھی امریکہ بہاد ر کو اعتراض ہواتھا۔
دنیابھر کی یونیورسٹی میں جاری اسرائیلی نسل کشی کے خلاف طلباء کی تحریک اب فرانس تک بھی پہنچ گئی ہے ۔۴؍مئی بروز سنیچر فرانسیسی یونیورسٹیوں کے طلباء نے زبردست مظاہرہ کیا اورفرانس حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو جنگ بندی پر مجبور کرے اگر وہ نہیں مانتاہے تو ا س سے سفارتی روابط منقطع کئے جائیں۔ فرانس میں طلباء نے کیمپس سے باہر نکل کر سڑکوں پر بھی مظاہرہ کیا،وہاں کے عوام نے ان کا گرمجوشی سے خیرمقدم کیااور ہاتھ اٹھاکر ان کی ہمت افزائی بھی کی۔
طلباء کی اس تحریک میں لاکھ پابندیوں کے باوجود اس کی لپٹ پاکستان میں بھی محسوس کی گئی اور۴؍مئی کو کراچی میں امامیہ مشن کے تحت طلباء نے سفید کوٹ (ایپرن)پہن کر دنیابھر کے ان طلباء کے ساتھ یکجہتی کا ثبوت دیا جو صیہونی بربیت کے خلاف تحریک چلارہے ہیں ،اس سلسلے میں صحافی رضی طاہر کی رپورٹ میں یہ بات نہیں بتائی گئی کہ امریکی ڈنڈے کے اشارے پر کام کرنے والی پاکستانی حکومت نے ان طلباء کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ ظاہر بات ہے کہ امریکہ کے خوف سے یہ ملک دم نہیں مارسکتاہے اوروہ وہی کرے گا جو اس کے آقا کا حکم ہوگا۔ فی الحال وہاں بھی صیہونیوں کی مخالفت اوران کی مصنوعات کے بائیکاٹ پر پابندی عائد ہے۔
ان حالات میں حکومت قطر پر امریکہ اوراسرائیل کا دباؤ مزید بڑھتاجارہاہے ،دونوں کا کہناہے کہ دوحہ سے حماس کا ہیڈکوارٹر ختم کردیاجائے ،یاپھر حماس لیڈروں کو اسرائیل کی شرط پر جنگ بندی کے لیے راضی کیاجائے۔ حماس کے خلاف اب مغرب کی سختیوں سے قطر بھی گھبرایا ہوانظرآرہاہے اورپہلی بار اس کے اندر وہ ہمت نظرنہیں آرہی ہے جو تیور اس نے 7اکتوبر2024ء کے بعد سے اب تک برقرار تھا۔ اس لئے اس کے خوفزدہ نظرآنے کے بعد حالات بگڑتے نظرآرہے ہیں۔ جسے محسوس کرکے ترکیا آگے بڑھ کر سامنے آیاہے اوراس نے حماس کا ہیڈکوارٹر اپنے یہاں قائم کرنے کی پیشکش کردی ہے۔ اس کے بعد کئی دیگر ممالک مثلاً لبنان اوراُردن بھی آگے بڑھ کر لبیک کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
جب مغربی ایشیاء میں حالات اپنی انتہا کو پہنچ چکے ہیں ، غزہ میں بھکمری عام ہے ،قطر کے خلاف مغرب کھڑا ہوچکاہے تو پھر ایسے میں سعودی عرب اورامریکہ کے درمیان جو مشترکہ جنگی مشقیں ظہران کے علاقہ میں شروع ہوچکی ہیں اس کے کیا معنی ہیں ؟سعودی حکومت اپنے بھائیوں کی لاشوں پر کب تک (’دبکی رقص‘) کرتارہے گا۔ امریکہ اوراسرائیل کی حاشیہ برداری کب تک جاری رہے گی آخر کیا سوچ کر اس نے مئی کے پہلے ہفتہ میں یمن پردومیزائل ماردئے تھے۔ حالانکہ اس سے یمن کو کوئی نقصان نہیں پہنچا لیکن اس شرارت کے پیچھے کون سی سازش کار فرماتھی؟
یمن نے پھرایک بار بہادری اوجواں مردی کا ثبوت دیتے ہوئے اعلان کردیاہے کہ صہیونیوں ،امریکہ اوربرطانیہ کے چھکے چھڑانے کے لیے اب ہم پورے بحیرۂ عرب اوربحرہند سے ایسے جہازوں کو گزرنے نہیں دیں گے جو اسرائیل کے حامی ہیں۔ ان میرین کمپنیوں کے جہاز بھی نہیں جانے دیں گے جواسرائیل سے تجارت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اب ہم بحیرۂ روم کی بھی ناکہ بندی کریں گے اوراگر صہیونیوںنے رفح باڈر پر حملہ کیاتو ہم کسی سے بھی اسرائیل بندرگاہ کو تباہ کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔ نیز بحراحمر مکمل طور پر بند کردیں گے۔ اسرائیل نے مصرمیں ہونے والی اس جنگ بندی کی حالیہ کانفرنس میں شرکت پر شرط لگادی ہے اس کا کہناہے کہ حماس پہلے ہمارے منصوبے کو تسلیم کرے اس کے بعد کوئی گفتگو ہوگی۔ لیکن اس شرط کی امریکہ بہادر کو چھوڑ کر پوری دنیا مذاق اڑارہی ہے۔ اسی اثناء حوثیوں ، حزب اللہ اورجہاداسلامی نے اپنے حملے تیز کردئے ہیں ،۴؍مئی کی شب میں جنوبی غزہ میں حماس نے اسرائیل کا ایک ڈرون مارگرایا ہے تودوسری جانب بحرین سے دومزاحمتی کے گروپوں کے سرگرم ہوجانے کی خبریں ملی ہیں۔ انہوں نے اپنے حملہ کی پہل کرتے ہوئے بحرین میں واقع امریکہ اوردواسرائیلی فوجی اڈوں کو نشانہ بناکر مغرب کو نیا پیغام بھیج دیاہے جس پر بحرینی عوام میں خوشی کی لہر ہے توحکمراں طبقہ ماتم منارہاہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے