कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مراٹھواڑا میں بدلتی ہوئی سماجی زندگی

تعلیم بے روزگاری ریزرویشن، مسابقتی امتحانات اور نوجوان نسل کے مسائل۔ ایک تفصیلی جائزہ

از قلم: محمود علی لیکچرر

مراٹھواڑا کا خطہ اپنی تاریخی، تہذیبی اور تعلیمی شناخت کے باوجود آج ایک گہرے سماجی و معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب یہاں کی زندگی سادگی، خاندانی رشتوں اور روایتی اقدار کے گرد گھومتی تھی، مگر اب بدلتے ہوئے معاشی حالات تعلیمی دباؤ، مسابقتی امتحانات، ریزرویشن پالیسی بے روزگاری اور سماجی توقعات نے نوجوان نسل کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔
آج مراٹھواڑا کا نوجوان صرف تعلیم حاصل نہیں کررہا بلکہ ایک غیر یقینی مستقبل، شدید مقابلہ ذہنی دباؤ اور معاشی خوف کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے۔
ریزرویشن اور اوپن کیٹیگری کا احساسِ محرومی ـ:
ریاستی ملازمتوں میں ریزرویشن پالیسی نے سماج کے پسماندہ طبقات کو آگے بڑھنے کا موقع ضرور دیا، مگر اوپن کیٹیگری کے غریب اور متوسط طبقے میں ایک احساسِ محرومی بھی بڑھا ہے۔
خصوصاً مراٹھواڑا کے شہروں اور قصبوں میں یہ شکایت عام ہے کہ
تیسرے اور چوتھے گریڈ کی نوکریاں بھی آسانی سے دستیاب نہیں رہیں
معمولی سرکاری اسامیوں کے لیے بھی ہزاروں امیدوار مقابلے میں ہوتے ہیں
اوپن کیٹیگری کے امیدواروں کو زیادہ نمبر حاصل کرنے کے باوجود ملازمت نہیں ملتی
اس صورتِ حال نے نوجوانوں میں بے چینی اور مایوسی پیدا کی ہے۔ کئی تعلیم یافتہ نوجوان برسوں تیاری کرتے رہتے ہیں مگر کامیابی نہیں ملتی۔
مسابقتی امتحانات کا بڑھتا ہوا دباؤ:
آج پورے مراٹھواڑا میں ایک نئی Exam Culture جیسا ماحول ہے۔
ہر گھر میں
MPSC
UPSC
NEET
JEE
Police Bharti
Talathi
Railway
جیسے امتحانات کی تیاری کا ماحول نظر آتا ہے۔
معاشرہ اب صرف انہی نوجوانوں کو کامیاب سمجھتا ہے جو مسابقتی امتحان پاس کرکے سرکاری نوکری حاصل کریں۔
نتیجہ یہ ہے کہ:
ہزاروں نوجوان برسوں کوچنگ سینٹروں میں وقت گزارتے ہیں
عمر کا بہترین حصہ امتحانات کی تیاری میں گزر جاتا ہے
ناکامی کی صورت میں شدید ذہنی دباؤ پیدا ہوتا ہے
اورنگ آباد، لاتور اور ناندیڑ جیسے شہروں میں کوچنگ انڈسٹری ایک بڑی معیشت بن چکی ہے۔
مراٹھی زبان اور پولیس بھرتی کا مسئلہ:
مراٹھواڑا کے اردو میڈیم یا دکنی پس منظر رکھنے والے کئی طلبہ کو پولیس بھرتی اور دیگر سرکاری امتحانات میں مراٹھی زبان ایک بڑی رکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔
دیہی علاقوں کے طلبہ:
گھر میں اردو یا دکنی بولتے ہیں
اسکولوں میں بنیادی زبان کی تربیت کمزور ہوتی ہے
مسابقتی مراٹھی زبان میں مشکل محسوس ہوتی ہے
نتیجتاً جسمانی صلاحیت رکھنے کے باوجود کئی نوجوان تحریری امتحانات میں ناکام ہوجاتے ہیں
ضرورت اس بات کی ہے کہ:
اردو میڈیم طلبہ کے لیے خصوصی مراٹھی تربیتی مراکز قائم ہوں
سرکاری سطح پر لسانی معاونت فراہم کی جائے
اسکول کے ابتدائی مرحلے سے زبان پر توجہ دی جائے
ڈگریاں بڑھ رہی ہیں، روزگار کم ہورہا ہے
ایک زمانہ تھا جب B.A. یا B.Com کی ڈگری روزگار کی ضمانت سمجھی جاتی تھی، مگر آج
B.Sc
BCA
BE
MBA
جیسے کورسز کرنے والے نوجوان بھی بے روزگار نظر آتے ہیں۔
خصوصاً BCA اور کمپیوٹر تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کو “Work From Home” یا آئی ٹی روزگار بڑی مشکل سے ملتا ہے۔
اس کی اہم وجوہات:
کمزور انگلش کمیونیکیشن
عملی مہارت کی کمی
انڈسٹری کے مطابق تربیت نہ ہونا
صرف ڈگری پر انحصار
بہت سے نوجوان کمپیوٹر کورس مکمل کرنے کے باوجود:
فری لانسنگ نہیں جانتے
آن لائن کام کے پلیٹ فارم استعمال نہیں کرسکتے
انٹرویو میں اعتماد کھودیتے ہیں
کم عمری کی شادیاں اور معاشی دباؤ
مراٹھواڑا کے محنت کش اور مزدور طبقے میں آج بھی 18 سے 21 سال کی عمر میں شادیاں عام ہیں۔
کم تعلیم اور محدود آمدنی کے باوجود:
جلد شادی
جلد خاندانی ذمہ داریاں
کم عمری میں بچوں کی پرورش
نوجوانوں پر اضافی دباؤ ڈالتی ہیں۔
اس کے بعد:
تعلیم ادھوری رہ جاتی ہے
مسابقتی امتحانات کا خواب ختم ہوجاتا ہے
نوجوان جلد معاشی بحران میں پھنس جاتے ہیں
یہی وجہ ہے کہ کئی خاندان غربت کے دائرے سے باہر نہیں نکل پاتے۔
پانچویں جماعت سے MPSC کی تیاری ایک نیا رجحان
مراٹھواڑا میں اب ایک نیا رجحان پیدا ہورہا ہے جہاں والدین اور بعض اسکول پانچویں جماعت ہی سے بچوں کو MPSC یا سرکاری امتحانات کے ذہن کے ساتھ تیار کرنے لگے ہیں۔
اساتذہ پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ:
طلبہ کو جنرل نالج سکھائیں
مسابقتی ذہن پیدا کریں
ابتدائی مرحلے سے امتحانی تیاری کروائیں
یہ رجحان ایک طرف شعور کی علامت ہے مگر دوسری طرف بچپن پر تعلیمی دباؤ بھی بڑھا رہا ہے۔
بچوں کی
تخلیقی صلاحیت
مطالعے کا شوق
کھیل کود
فطری ذہنی نشوونما
متاثر ہورہی ہے۔
سائنس کا غیر ضروری رجحان:
آج مراٹھواڑا میں یہ سوچ عام ہوگئی ہے کہ ذہین طالب علم ہی نہیں بلکہ کمزور طلبہ بھی گیارہویں اور بارہویں میں سائنس لے لیں تاکہ عزت برقرار رہے۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ:
کئی طلبہ بنیادی مضامین نہیں سمجھ پاتے
صرف Practical نمبر کے سہارے کامیاب ہوجاتے ہیں
30 میں سے زیادہ نمبر Practical میں ملنے سے تھیوری میں کم نمبر کے باوجود پاس ہوجاتے ہیں
اس ناقص تعلیمی بنیاد کی وجہ سے:
NEET
JEE
CET
جیسے امتحانات میں کامیابی مشکل ہوجاتی ہے۔
طلبہ کو اپنی صلاحیت کے مطابق:
Arts
Commerce
Vocational Education
Polytechnic
Skill Courses
کی طرف بھی رہنمائی دی جانی چاہیے۔
تعلیم کا مقصد صرف نوکری نہیں
موجودہ سماج کی ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ تعلیم کو صرف سرکاری نوکری کے حصول کا ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے۔
جبکہ تعلیم کا اصل مقصد:
شعور
مہارت
شخصیت سازی
سماجی ترقی
اور بہتر انسانی اقدار پیدا کرنا ہے۔
ہر نوجوان سرکاری افسر نہیں بن سکتا، مگر ہر نوجوان ایک باعزت اور ہنرمند شہری ضرور بن سکتا ہے۔
لائحۂ عمل کیا کیا جانا چاہیے؟
مراٹھواڑا کی بدلتی ہوئی سماجی صورتِ حال میں چند عملی اقدامات نہایت ضروری ہیں
1. اسکل بیسڈ تعلیم
اسکول اور کالج سطح پر:
کمپیوٹر اسکل
ڈیجیٹل مارکیٹنگ
فری لانسنگ
AI Tools
Spoken English
Communication Skills
سکھائی جائیں۔
2. کیریئر کونسلنگ
ہر کالج میں Career Guidance Cell ہونا چاہیے تاکہ طلبہ اپنی صلاحیت کے مطابق میدان منتخب کریں۔
3. Vocational Education کو فروغ
صرف ڈاکٹر اور انجینئرنگ کے خواب کے بجائے:
Electrician
Technician
Agriculture Technology
Graphic Design
Mobile Repairing
Small Business Training
پر توجہ دی جائے۔
ذہنی صحت پر توجہ:
مسابقتی امتحانات کی ناکامی سے نوجوان ذہنی دباؤ کا شکار ہورہے ہیں۔
اسکول اور کالجوں میں Counselling System ضروری ہے۔
اردو اور مراٹھی کے درمیان توازن:
اردو میڈیم طلبہ کے لیے مضبوط مراٹھی اور انگلش تربیت فراہم کی جائے تاکہ وہ ریاستی امتحانات میں بہتر کارکردگی دکھاسکیں
تعلیم میں معیار بہتر بنانا:
صرف پاس کروانے کے بجائے Concept Based Teaching پر زور دیا جائے تاکہ طلبہ واقعی علم حاصل کریں۔
مراٹھواڑا اس وقت ایک بڑے سماجی موڑ پر کھڑا ہے۔
ایک طرف تعلیم کا شعور بڑھ رہا ہے دوسری طرف بے روزگاری امتحانی دباؤ اور معاشی مشکلات نوجوان نسل کو پریشان کررہی ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ:
تعلیم کو حقیقت پسندانہ بنایا جائے
نوجوانوں کو صرف سرکاری نوکری کے خواب تک محدود نہ رکھا جائے
ہنر کاروبار اور عملی زندگی کی تربیت دی جائے
سماج میں ذہنی توازن اور امید پیدا کی جائے
اگر صحیح منصوبہ بندی معیاری تعلیم اور معاشی مواقع فراہم کیے جائیں تو مراٹھواڑا کی یہی نوجوان نسل مستقبل میں اس خطے کی سب سے بڑی طاقت بن سکتی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے