कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ممتازِ دہر، ممتازِ وفا:جناب ممتاز ہاشمی کی یاد میں

تحریر:رغیب الرّحمٰن انعامدار

اللہ تعالیٰ، وہ ذات جو انسان کی رگِ جاں سے بھی زیادہ قریب ہے، جب اپنے کسی مخلص بندے کو اس عارضی دنیا کے قفس سے آزاد کر کے اپنے پاس بلاتی ہے، تو پیچھے یادوں کا ایک ایسا مہیب طوفان چھوڑ جاتی ہے جو سانسوں کی ترتیب الٹ دیتا ہے۔ میں ابھی ابھی ہاشمی سر کو منوں مٹی کے سپرد کر کے لوٹا ہوں، لیکن میرا وجود اب بھی وہیں ان کی لحد کے پاس کھڑا ہے۔ وہ مٹی، جو اب بھی میرے ہاتھوں کی لکیروں میں پیوست ہے، دراصل اس عظیم وجود کا آخری لمس ہے جس نے مجھے ہمیشہ *برادر* کہہ کر پکارا اور جس کی پکار میں ایسی مخلصی تھی جو اب اس قحطُ الرجال کے دور میں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملے گی۔
اکثر و بیشتر میرے حلقہ احباب میں یہ طنزیہ جملہ دہرایا جاتا ہے کہ "اب مخلصین نہیں رہے”، لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ خلوص مانگنے سے نہیں، مخلص ہونے سے ملتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ مخلصی مرتی نہیں، بس ہاشمی سر جیسے لوگوں کے ساتھ پیوندِ خاک ہو کر ہم جیسے تشنہ لبوں کو یتیم کر جاتی ہے۔ جہاں آج کل کے تعلقات مصلحتوں کی ترازو میں تولے جاتے ہوں اور مفادات کی بنیاد پر رشتے استوار ہوں، وہاں ممتاز ہاشمی سر کا ہونا کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ وہ ایک ایسے بے لوث مسافر تھے جن کا خلوص کسی ستائش یا صلے کا محتاج نہ تھا۔ ان کا رخصت ہونا صرف ایک فرد کا بچھڑنا نہیں، بلکہ وضع داری اور بے غرضی کے ایک پورے عہد کا دفن ہو جانا ہے۔
میری اور ہاشمی سر کی عمر میں تقریباً چھبیس سال کا فاصلہ تھا، لیکن اس کے باوجود ہمارا رشتہ سڑک کے کنارے کھڑے ہو کر گھنٹوں باتیں کرنے، تجربات سننے اور ایک دوسرے کا حالِ دل بانٹنے کا تھا۔ جب میں اپنے اسکول سے فارغ ہو کر ان کے اسکول (جہاں وہ بطور صدر مدرس تعینات تھے) پہنچتا، تو وہ اپنے دفتر میں بیٹھ کر مجھ سے مسلمانوں کے تعلیمی وقار اور نوجوان نسل کے بگڑتے ہوئے حالات پر اپنی فکر کا اظہار کرتے۔ ان کا چہرہ مجھے دیکھ کر جس طرح کھل اٹھتا تھا، وہ خوشی اب مجھے کہیں اور نہیں ملے گی۔ میں جب بھی انہیں کوئی شعر، لطیفہ یا تحریر سناتا، وہ نہ صرف خوش ہوتے بلکہ ڈھیروں دعاؤں سے میرا دامن بھر دیتے۔
ان کی دعائیں میرے لیے ڈھال تھیں، اور آج میں اس ڈھال کے بغیر خود کو کتنا نہتا محسوس کر رہا ہوں، یہ صرف میرا خدا جانتا ہے۔
ان کی ادبی زندگی بھی اسی خلوص کا حصہ تھی۔ انہوں نے محترم ندیم مرزا، محترم ارشد صدیقی، محترم اعجاز بیگ اور محترم غلام ثاقب جیسے مخلص دوستوں کے ساتھ مل کر ادب کی جو خدمت کی، وہ ہم سب کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان کے لیے ادب معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ تھا۔ ان کا 38 سالہ تدریسی سفر، جو 17 نومبر 1986 سے شروع ہوا، ضلع پریشد اردو پرائمری اسکول طیب نگر، گیورائی کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
آج انہیں *مرحوم* لکھتے ہوئے میرا کلیجہ منہ کو آ رہا ہے۔ وہ اپنے نام کی طرح ہر بات میں ممتاز تھے؛ چاہے وہ ان کی مہمان نوازی ہو، اخلاق ہو، اخلاص ہو، دوستی ہو، ان کی ضد ہو، یا ان کی بے پناہ شفقت۔ وہ بجھے ہوئے دلوں کا سہارا تھے اور ایک ایسے انسان تھے جن کا اخلاص بے داغ تھا۔
​اے ربِ ذوالجلال! ممتاز ہاشمی سر کی لحد کو نورِ محمدی ﷺ سے منور کر دے۔ انہیں جنت الفردوس کے ان باغوں میں جگہ عطا فرما جہاں جدائی کا کوئی تصور نہ ہو۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے، وہ کبھی پُر نہیں ہو سکے گا، سچ تو یہ ہے کہ:
رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی
تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی
الوداع ہاشمی سر! آپ کی مخلصی کی خوشبو میرے وجود کے نہاں خانوں میں تاقیامت رچی بسی رہے گی۔ آپ میرے حرف حرف میں زندہ رہیں گے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے