कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

خود احتسابی بیداریِ ضمیر سے تعمیرِ کردار تک

خامہ بکف محمد عادل ارریاوی

اصلاح و فلاح کا سفر ہمیشہ انسان کے اپنے باطن سے شروع ہوتا ہے نہ کہ صرف دوسروں کی نگرانی سے جب تک انسان اپنے اعمال کا محاسبہ خود کرنے کا عادی نہیں بنتا اس وقت تک نہ اس کی شخصیت سنور سکتی ہے اور نہ ہی معاشرہ درست سمت اختیار کر سکتا ہے۔ خود احتسابی شعورِ ذمہ داری کی وہ اعلیٰ شکل ہے جو انسان کو اپنی کمزوریوں کا ادراک دلا کر بہتری کی راہ دکھاتی ہے اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک صالح فرد اور ایک مہذب معاشرہ قائم ہوتا ہے۔
انسان اگر سنجیدگی سے غور کرے تو محسوس ہوگا کہ اس کی زندگی کے بیشتر مسائل کی جڑ دوسروں کی اصلاح میں مشغول رہنا اور اپنی اصلاح سے غفلت برتنا ہے۔ حالانکہ اصل دانش مندی یہ ہے کہ انسان سب سے پہلے اپنے نفس کا محاسبہ کرے اپنے اعمال کو پرکھے اور اپنی کوتاہیوں کو تسلیم کر کے انہیں دور کرنے کی کوشش کرے۔ یہی طرزِ فکر انسان کو غرور و خود پسندی سے بچاتا ہے اور عاجزی دیانت اور ذمہ داری کا شعور پیدا کرتا ہے۔
کسی بھی معاشرے اور شعبے بلکہ فرد کی اصلاح و ترقی کے لیے اس کا احتساب ضروری ہے اور سب سے اعلیٰ و عمدہ احتساب یہ ہے کہ ہر معاشرہ ہر شعبہ اور ہر فرد اپنا خود سے احتساب کرے جس کو خود احتسابی کہا جاتا ہے اس سے پہلے کہ دوسرے کی طرف سے اس کا احتساب کیا جائے۔
اس سلسلے میں دوسرے خلیفہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یہ قول یاد رکھنے کے قابل ہے کہ تم اپنے آپ کا حساب کر لو اس سے پہلے کہ تمھارا حساب کیا جائے اور تم اپنا وزن کر لو اس سے پہلے کہ تمھارا وزن کیا جائے کیوں کہ کل تم میں سب سے آسان حساب اس کا ہوگا جو اپنا حساب اور اپنا وزن کر چکا ہوگا اس سے پہلے کہ جس دن سب سے بڑے حساب کے لیے پیش کیا جائے گا اور اس دن کے حساب میں کوئی چیز ڈھکی چھپی نہیں رہ سکے گی۔
مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن ہر ایک کا پورا پورا اور ٹھیک ٹھیک حساب اور ہر چیز کی پوری طرح سے ناپ تول ہو گی اور اس دن کسی کی کوئی چیز حساب اور وزن ہونے سے چھپی نہیں رہ سکے گی اس وقت کے آنے سے پہلے ہر شخص خود احتسابی کرے۔ پس ہر ایک مسلمان کو چاہیے کہ اس دن کے آنے سے پہلے ہی اپنا حساب اور وزن کرے اور اپنے کھرے کھوٹے کو پرکھ لے اور اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھ لے۔
آج تقریباً ہر معاشرے اور ہر شعبے بلکہ ہر فرد میں اس بات کی بہت زیادہ کمی بلکہ فقدان پایا جاتا ہے کہ کوئی خود سے اپنا احتساب کرنے یا بالفاظ دیگر خود احتسابی کے لیے تیار نہیں ہے اور پھر جب کسی دوسرے کی طرف سے احتساب کیا جاتا ہے تو ناگواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور برا منایا جاتا ہے احتساب کرنے والے کو اپنا مخالف اور دشمن اور نہ جانے کیا کیا قرار دیا جاتا ہے دنیا کے تقریباً ہر شعبے میں روزمرہ ان چیزوں کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔
چنانچہ ہر سیاسی پارٹی دوسری پارٹی کو قابلِ احتساب سمجھتی ہے ہر ادارہ دوسرے کو قابلِ احتساب سمجھتا ہے یہی حال دوسرے شعبوں کا بھی ہے۔
اس طرز عمل کا نتیجہ ہے کہ تقریبا ہر شعبے میں فساد بگاڑ اور تنزلی کی کثرت ہے اور معاشرے کا مزاج کچھ اس طرح کا ہو گیا ہے کہ ہر شخص دوسرے کو تو قابل اصلاح سمجھتا ہے لیکن اپنے آپ کو قابل اصلاح نہیں سمجھتا۔
اس صورت حال سے دنیا کے شعبے تو کیا بچتے اہل علم اور دینی مدارس اور معاشرے کی اصلاح کا بیڑا اٹھانے والے مختلف شعبے بھی محفوظ نہیں رہے جو انتہائی افسوسناک صورت حال ہے۔ چنانچہ بہت سے اہلِ علم اور دینی خدمات انجام دینے والے شعبے کے پیش تر حضرات بھی اپنے آپ کو قابل اصلاح سمجھنے کے لیے تیار نہیں بلکہ وہ ہمیشہ دوسروں کو قابل اصلاح سمجھتے ہیں۔
اس لیے جب کبھی ان کے کسی طرز عمل پر نکیر کی جاتی ہے تو وہ اپنا احتساب کرنے اور اپنے اندر کوئی بات قابل اصلاح خیال کرنے کے بجائے فورا نکیر کرنے والوں کو اسلام دشمن اور نہ جانے کیا کیا الزامات دینے بیٹھ جاتے ہیں۔
حالانکہ دوسروں کی طرف سے کسی تنقید کا ہونا انسان کی اصلاح کا بہت بڑا ذریعہ ہوتا ہے کیوں کہ عام طور پر انسان کو خود سے اپنے اندر کمی کوتاہی نظر نہیں آتی اور اسی طرح عقیدت مندوں کی آنکھوں پر بھی پردہ پڑا ہوا ہوتا ہے انھیں بھی عقیدت کی وجہ سے کمی کوتاہی کا احساس نہیں ہوتا لیکن جو لوگ عقیدت سے خالی بلکہ مخالف ہوتے ہیں ان کی نظر بہت جلدی قابل اصلاح چیز کی طرف پہنچ جاتی ہے اور اس کی وجہ سے قابل اصلاح چیز کی تعیین بہت آسان ہو جاتی ہے۔
دین کے شعبوں کے ساتھ وابستہ حضرات کو تو اس بات کی زیادہ ضرورت ہے کہ وہ خود سے اپنا احتساب کریں یعنی خود احتسابی سے کام لیں۔
اگر وہ خود سے اپنا احتساب ترک کر کے دوسروں کے احتساب پر بھی اعتراض کریں گے تو پھر اصلاح کا کون سا راستہ ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ ایک عرصے سے آہستہ آہستہ دینی شعبوں کے اندر بھی روز بروز تنزلی دیکھنے میں آ رہی ہے اور معیار کم زور ہوتا جا رہا ہے اور دینی شعبوں کے ساتھ ایسے افراد وابستہ ہوتے جارہے ہیں کہ جو ان شعبوں کے لیے بڑی بدنامی کا باعث بنتے ہیں اور مختلف طریقوں سے دنیا و آخرت کے نقصان کا سبب بنتے ہیں۔
ایسے حالات میں ان اداروں کی قیادت و سیادت سنبھالنے والے حضرات پر بھاری ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ وہ اپنی ماتحتی و نگرانی میں چلنے والے اداروں اور شعبوں کے احتساب و اصلاح کی طرف اپنی تو جہات کو مبذول فرمائیں اور متعصبانہ رویہ کو ترک کریں۔
ان اداروں اور شعبوں سے وابستہ افراد کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنا خود سے احتساب کریں اور اپنے اندر پائی جانے والی قابل اصلاح چیزوں کی اصلاح کریں اس کے بغیر اصلاح اور ترقی کی راہوں اور دروازوں کا کھلنا بلکہ آخرت کے کڑے اور کٹھن حساب سے بچنا بہت مشکل ہے۔
اے اللّٰہ ربّ العزت ہمیں اپنے نفس کا غلام نہ بنا ہماری کوتاہیوں کو معاف فرما اور ہمیں سیدھے راستے پر چلنے والا بنا دے۔ آمین یارب العالمین ۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے